چلو اب کارکردگی دکھاؤچوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔03424652269

سب جماعتوں و سیاسی پارٹیوں میں جو وفاقی یا صوبائی حکومتوں میں ہیں ’چلو اب کارکردگی دکھاؤ‘ مہم کا آغاز ہو گیا ہے۔آپ سب جانتے ہیں کہ موجودہ حکومتی مدت میں صرف بائیس ماہ کا وقت باقی بچا ہے۔اور سب کی کارکردگی بھی آپ کے سامنے ہے کوئی بھی پارٹی کرپشن اور دوسری بدعنوانیوں سے پاک نہیں۔سب کے سب اپنے اپنے منشور و وعدوں سے خاصے دور نظر آئے۔بعض نے تو اپنے مفادات کی خاطر موقع کی مناسبت سے منشور ہی بدل ڈالے۔2013سے اب تک کوئی بھی پارٹی اپنے حامیوں کے علاوہ باقی عوام کو متاثر نہ کر سکی بلکہ عوام کے دل نہ جیت سکی۔اس گزرے وقت میں سیاسی پارٹیوں کے کچھ اپنے حامی بھی نالاں نظر آئے۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ عوام کی ناراضگی کے باوجود بھی سیاسی پارٹیاں اور انکے وزراء صرف اپنے مشن میں ہی مگن رہے عوام کو صرف وقفوں میں ٹرخاتے رہے۔اب حکومتی مدت میں تھوڑا عرصہ باقی ہے اور سیاسی سربراہ جانتے ہیں کہ عوام انکی کتنی قدر کرتی ہے اس لئے اب2018 کے الیکشنزکی تیاریوں اور عوام کی حمایت کے لئے سب پارٹیوں کے سربراہان نے اپنے اپنے نمائندوں کو حکم جاری کر دیا ہے کہ چلو اب کارکردگی دکھاؤ۔سوچنے کی بات ہے کہ 2013 سے اب تک اس مہم کا آغاز کیوں نہیں کیا گیا۔دوستو آپ ذرا اس پر سوچئے گا۔پاکستان 14 اگست 1947 کو آزاد ہوا۔آج پاکستان کو آزاد ہوئے67 سال کے قریب کا عرصہ ہو گیا ہے۔مگراپنے وطن کی حالت آپ کے سامنے ہے۔جب پاکستان آزاد ہوا تو پاکستان کی شرح خواندگی بہت کم تھی۔مگر لوگوں میں آگے بڑھنے کی ہمت و جذبہ تھا۔کام کرنے کی لگن تھی۔پاکستان نے آزادی کے کچھ عرصہ بعد ہی ترقی کی راہ چن لی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے حالات بہتر ہوئے لوگوں نے پڑھنا لکھنا شروع کیا اور پاکستان کو دنیا نے تسلیم کرلیا۔مگر پتہ نہیں کیوں اور کس کی نظر پاکستان کو لگی اور اکسویں صدی میں پاکستان بدعنوانیوں کا شکار رہا۔ملک میں کرپشن لوٹ مار اور دہشتگردی جیسی جڑوں نے مظبوطی پکڑ لی۔افسوس کے اکیسویں صدی میں شرح خواندگی میں اضافہ ہوا مگر لوگوں کے ولولے اور ہمت دم توڑ گئی۔لوگوں میں کام کرنے کی لگن ختم ہوگئی۔آج بھی پاکستان میں غربت کا خاتمہ نہ ہو سکا۔ملک دشمن غربت سے ستائے لوگوں کو استعمال کرنے لگے۔دیہاتوں میں غربت کی شرح 60فیصداور شہروں میں 10فیصد ہے۔گزشتہ سیلابوں نے دیہاتوں اور دیہاتیوں کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔افسوس کے ہر سال سیلاب کی روک تھام کے لئے تعلیم کے لئے صحت کے لئے رقم مختص ہوتی ہے مگر صرف کاغذی کاروائی تک ۔گزشتہ کئی حکومتوں نے دیہاتیوں کے روپے کھائے ہیں۔حکومتی کرپشنز کی وجہ سے بہت سی بد عنوانیوں نے جنم لیا ہے۔میں دیہاتیوں کی پسماندگی کی وجہ کرپٹ سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ پڑھے لکھے با شعور لوگوں کو بھی ٹھہراتا ہوں جو دیہاتیوں کی آواز نہیں بنتے۔پاکستان میں جتنی بھی حکومتیں آئیں سب پر کرپشن کے الزامات ہیں۔مگر افسوس کے ہم پھر بار بار انہیں لوگوں کو اقتتدار میں لاتے ہیں۔کیا ہم بے حس ہیں؟کیا ہمارے اندر شعور نہیں؟یا پھر ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں؟کب پاکستان ان بدعنوانیوں سے چھٹکارا حاصل کر سکے گا؟کون سچائی کی مشعل لے کر آگ بڑھے گا؟آخر کون!؟کیا ہماری عوام میں کسی چیز کی کمی ہے؟آخر کس چیز کی کمی ہے!ہمیں سوچنا ہوگا۔جی قارئین آپ نے گزشتہ دنوں سے دیکھا ہوگا کہ سندھ حکومت میں اچانک ایک تبدیلی لائی گئی ۔سابق وزیر اعلی قائم علی شاہ کو اقتدار سے الگ کر کے مراد علی شاہ کو نیا وزیر اعلی سندھ مقرر کر دیا گیا۔اس کے ساتھ ساتھ صوبائی کابینہ میں صوبائی وزارتوں میں بھی تبدیلیاں کر دی گئیں۔اور ہمیشہ کی طرح سندھ حکومت میں اس تبدیلی کا فیصلہ بھی آصف علی زرداری نے کیا۔عوام کو اچانک کی تبدیلی سمجھ میں نہ آئی۔مگر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ’ چلو اب کارکردگی دکھاؤ‘ مہم کا ہی ایک شاخسانہ ہے۔ورنہ اس سے قبل یہ تبدیلی یاد نہ آ جاتی۔کچھ کے نزدیک مراد علی شاہ بھی گزشتہ کرپشنز کی ری ہیسلز کر چکے ہیں اور انکے خیال میں مراد علی شاہ کو وزیر اعلی تعین کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اپنے مفادات بھی حاصل ہوتے رہیں اور لوگوں کو بھی کچھ تبدیلی نظر آتی رہے۔یعنی زرداری صاحب پھر ایک تیر سے دو شکار کھیلنے کے لئے میدان میں ہیں۔جی قارئین اسی طرح وفاق صوبہ پنجاب اور صوبہ بلوچستان میں بر سر اقتتدار پارٹی مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد نواز شریف صاحب کی گزشتہ مری میں بریفنگ سے پتہ چل ہی گیا ہو گا کہ ’چلو اب کار کردگی دکھاؤ‘ مہم کا حکم مسلم لیگ ن کے سربراہان و وزراء کو بھی جاری کر دیا گیا ہے۔اور ساتھ میں یہ اشارہ بھی کیا گیا ہے کہ جو کار کردگی نہیں دکھائے گا اس کا حال بھی قائم علی شاہ جیسا ہوگا۔اور حکم جاری کیا کہ زیر تکمیل پرجیکٹس عین انتخابات سے قبل مکمل ہو جانے چا ہیے۔اور اب ان پراجیکٹس کی نگرانی خود میاں نواز شریف کریں گے۔اسی طرح خیبر پختونخوا میں زیر اقتدار تحریک انصاف میں بھی کار کردگی دکھاؤ مہم کے اثرات نظر آرہے ہیں۔ِ عمران خان نے باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ اب کارکردگی میں تاخیر برداشت نہیں ہوگی۔اور خیبر پختونخوا حکومت میں بھی تبدیلیاں متوقع ہیں۔لوگ حکومتوں کی کار کردگی میں تیزی پر انہیں سراہ رہے ہیں سراہنا بھی چاہئے۔دیر آئے درست آئے کچھ نہ کرنے سے تو بہتر ہے کہ باقی بائیس مہینوں میں ہی اپنے وطن کے لئے کچھ کرنے کا ارادہ تو کیا۔اور یہ صرف عوام کی بدولت ہے یعنی اب عوام کو پیسے سے خریدنے کا دور ختم اثر و رسوخ سے ووٹ ختم۔اب کار کردگی کی بنا پر ووٹ ملیں گے۔ مگر افسوس کے کار کردگی الیکشنز کے قریب آنے پر ہی کیوں یاد آتی ہے۔میں ایک بار پھر کہہ رہا ہوں جب تک تمام ادارے آزادانہ سیاسی مداخلت کے بغیر کا م نہیں کر سکیں گے تب تک یہ لوگ نت نئے طریقوں سے ہمیں اور ہمارے وطن کو لوٹتے رہیں گے۔اب انہیں عوامی خدمت یاد آ گئی ہے صرف اور صرف ووٹ کی خاطر ۔ذرا سوچئے جو لوگ انکی کرپشن کی وجہ سے بد عنوانیوں کا شکار ہوئے انکا ذمہ دار کون ہے؟ جن کے گھر غربت سے اجڑ گئے انکا ذمہ دار کون ہے ۔؟
پیسے کی ہوس قومیں اُجاڑدیتی ہے...
میرے پاکستانیو! قانون، دولت ،طاقت،پیسہ اور قلم کے ناجائز اور غلط استعمال سے قوموں کا تشخص بگڑ جاتا ہے۔معاشرے میں افرا تفری مچ جاتی ہے۔ مال و دولت اور روپے،پیسے کی ہوس قومیں اُجاڑ دیتی ہے۔جس طرح آج میری قوم کا شیرازہ بکھرا پڑا ہے ۔یہاں کا نظام درہم برہم اور تہس نہس ہو کر رہ گیاہے۔ رشوت اور کرپشن کا سے معاشرے میں لاقانونیت ، نقص، بگاڑ، خرابی، بد چلنی، فساد، گمراہی، بد عنوانی، اخلاقی گمراہی ، بے ایمانی و بد دیانتی پیدا ہو جاتی ہے ۔اب ذرا ہم خود ہی سوچیں کہ جس معاشرے میں اتنی خرابیاں ہوں وہ معاشرہ کیسے چل سکتا ہے؟رشوت اور کرپشن کا مطلب ہے لاقانونیت ، نقص، بگاڑ، خرابی، بد چلنی، فساد، گمراہی، بد عنوانی، اخلاقی گمراہی ، بے ایمانی و بد دیانتی کے ہیں ۔اب ذرا ہم خود ہی سوچیں کہ جس معاشرے میں اتنی خرابیاں ہوں وہ معاشرہ کیسے زند ہ رہ سکتا ہے؟قرآ ن پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ رشوت دینے والا اور لینے والا دونوں جہنمی ہیں ۔اب ذ را ہم خود ہی اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ ہم میں سے کون غلط راہ پر گامزن ہے اور کون درست سمت پر؟بد قسمتی سے آج ہم سبھی مال و دولت اور روپے ، پیسے کی ہوس میں رشوت اور کرپشن کے بازار سجا کر بیٹھ گئے۔ صرف پیسہ اکٹھا کرنے کی غرض اور لالچ میں ہمارے معاشرے میں بے انتہا انسانیت کی تذلیل ہو رہی ہے۔ ایک دوسرے کو لوٹ کھسوٹ کر اپنے اپنے کٹورے بھرنے کی دوڑ لگی ہے۔ہمارے سرکاری و پرائیویٹ اداروں میں انتہا کی کرپشن اور رشوت کا کاروبار ہو رہا ہے۔لیکن ! اپنے اعمال اور قبر کے حساب و کتاب سے غافل ہیں۔میرے دیس میں یہ چیزیں انسان کی پیدائش سے قبر میں دفنانے تک ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔1۔باالفرض کوئی آدمی بیمار ہو گیا اور ہسپتال لے جائیں تو جب تک وہاں کسی نرس یا ڈاکٹر کو چند روپے نہ تھما دیئے جائیں تو تب تک کوئی بھی ڈاکٹر مریض کا علاج نہیں کرے گا ، نہ ہی سرکاری دوائی ملے گی۔اور اگر کوئی مریض سسک، سسک کر تڑپ ،تڑپ کر مر بھی جائے تو پھر بھی ان انسانیت کے مسیحاؤں کو ذرا بھر بھی فکر اور پرواہ نہیں کیونکہ ان کو تو صرف پیسے سے غرض ہے۔اور اگر کوئی خدا ترس ڈکٹر ہے بھی تو وہ مریض کو دیکھ کر پرچیوں کا پلندہ لواحقین کے ہاتھ میں تھما کر کہے گا یہ فلاں ٹیسٹ فلاں لیبارٹری سے کروانا اور فلاں دوائی فلاں ڈاکٹر سے اور فلاں سیرپ فلاں میڈیکل سٹور سے لانا اور مزید یہ کہ دوائی کے خالص ہونے کی گانٹی نہیں۔جس رزق سے پرواز میں کوتاہی کا ڈر ہووہ رزق اب بڑے شوق سے کھاتے ہیں ہم2۔ا گر آپ ڈلیوری کیس میں کسی ہسپتال چلے جائیں تو وہاں اِس سے بھی زیادہ انسانیت کی تذلیل کی جا رہی ہے۔کسی سے بھاری رقم لے کر آپکا لڑکا اُن کو تھما کر اُنکی لڑکی آپکی گود میں ڈال دی جائیگی اور آپکا کا زندہ بچہ کسی کو تھما کر آپکو مردہ بچہ تھما دیا جائے گا ۔قابلِ افسوس بات ہے یہ ہمارے لیے کہ ہم لوگ مسلمان ہو کر انسانوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں اور یہ سارا کھیل تماشا دنیا والے دیکھ کر ہمارے بارے کیا سوچتے ہونگے؟3۔ڈاکٹری شعبہ سے ذرا باہر نکلیں تو آپکی رہی سہی کسر وہ ہمارے قبرستان میں بیٹھے گورکن نکال کے رکھ دیں گے ۔ہم تو مر کر بھی اپنے نعرۂ کرپشن کے ہاتھ مضبوط کر جاتے ہیں۔پہلے تو گورکن قبرستان سے نعش نکال کے میڈیکل کالجوں کو بیچ دیں گے اور اگر ان پیسوں سے بھی اُنکا پیٹ نہیں بھرے گا تو کسی کی قبر کھودنے پر لاکھوں کی ڈیمانڈ کر دی جائیگی اور اگر آپ نے پیسے کم دے د یے تو کسی دوسری قبر کا مردہ ٹھکانے لگا کر وہ قبر آپکے نام کر دی جائیگی۔
ہونکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچو گے اگر جو مل جائیں صنم پتھر کے4۔علم کی دولت پھیلانے والے اب علم بیچ کر پیسہ اکٹھا اور جہالت پھیلا رہے ہیں۔اگر کوئی اپنا بچہ کسی انگلش میڈیم سکول میں داخل کرانے جائے تو اُسے یہ کہا جائے گا کہ یہ کلاس زیادہ فیس اور یہ تھوڑی فیس ادا کرنے والوں کی ہے اور یہ کلاس متوسط طبقہ کے چشم و چراغ کے لیے ہے۔ایسی جگہ پر (میرے جیسے ) غریب آدمی کی کیا مجال کہ وہ پھٹک بھی جائے۔اور سرکاری سکول تو اب ویسے ہی گاؤں بھینسوں کے لیے رہ گئے ہیں اور جس سکول میں ایسی سہولت میسر نہیں تو وہاں گاؤں کے نمبر دار نے اپنا بھُس بھرا ہو گا۔میرے دیس کے لوگ ایک طرف مہنگائی و بیروزگاری سے تنگ ہیں تو دوسری طرف پرائیویٹ سکولوں کی انتظامیہ نے اِن کی زندگی اور بھی اجیرن بنا دی ہے۔ (سٹی رینالہ خورد)ایک انگلش سکول کے سربراہ نے بچوں کی فیس خود جمع کرنے کی بجائے بچوں کے والدین کو بینک کا رستہ دکھایا ہوا ہے۔غریب عورتیں بیچاری صبح سویرے شہر سےkm 20د ور گاؤں ،دیہاتو ں سے لمبی مسافت طے کر کے وہاں بینک ذلیل ہوتی میں نے خود دیکھی ہیں ۔افسوس...خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کر دےکہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیںتجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تُوکتاب خواں تو ہے مگر صاحبِ کتاب نہیں5۔آپ اپنے گھرکے لیے بجلی کا میٹر لگوانے کی غرض سے واپڈا دفتر چلے جائیں تو وہ آپکو اضافی چارجز ،جرمانے،لیٹ فیس اور نجانے کتنے اضافی چارجز سنا کر آپکو وہیں پر ہی بیہوش کر ڈالیں گے ۔ میٹر ریڈر آپکے گھر کے باہر آپکی آنکھوں کے سامنے میٹر کے ہندسے پیچھے گھما کر آپ کو ہزاروں روپے کا جرمانہ کر ڈالیں گے۔پھر آپ میٹر لگوانا ہی بھول جائیں گے۔6۔۔سوشل سکیورٹی یا ایل ڈی اے کے آفیسر آپکی تیار رہائشی یا کاروباری بلڈنگ کو کسی نہ کسی بہانہ سے تالا لگا دیں گے۔ پھر آپکو زندہ رہنے کی خاطر اضافی ٹیکس و جرمانے بھر نے پر مجبور کر دیں گے اور آپ اپنا تن،من ،دھن سب کچھ بیچ ،بچا کے اُن سے اپنی جان چھڑوائیں گے۔ یہ حال ہے ہمارے سرکاری اداروں میں ملازمت کرنے والوں کا جنکی اولادوں کو بھی علم نہیں یا پھر ہونے کے باوجود بھی وہ نسلیں حرام کھا ،کھا کر پل رہی ہیں اور بے ضمیر ہوچکے ہیں۔ ایسے افراد کی وجہ سے معاشرہ تباہ ہوچکا ہے۔7۔اگر(ہماری طرح) آپ کے ساتھ کوئی فراڈ ہو گیا ہے تو آپ اپنی سچائی پیش کرنے اور اپنا نقصان پورا کرانے کی خاطر کسی تھانے ،عدالت، کسی،جج یا وکیل کے پاس جائیں تو وہاں آپکی خیر نہیں۔آپکی رہی سہی کسر اور عزت بھی چھن جائیگی اور آپکا مکان بھی داؤ پر لگ جائے گا۔وہاں کے منشی،اردلی،چپڑاسی مشوروں اور دھمکیوں سے ہی آپکے ہاتھوں آپکی جیب خالی کروا لیں گے۔اگر آپ نے اُن کی ایک نہ سُنی تو آپکے کپڑے بھی اتر جائیں گے اورآپکی عزتِ نفس سلاخوں کے پیچھے شرمندہ ہوتی ہوئی نظر آئیگی صر ف چند ٹکوں کی خاطر... ہاہ! ہائے ...8۔mpa,mna,sاور تمام بڑے بڑے سرکاری عہدوں پر فائز حکام اور ذمہ داران کو حکومت کی طرف سے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے جو( بھاری رقم) نازل ہوتی ہے تو یہ سارا پیسہ (قوم کی امانت)یہ لوگ ہڑپ کر جاتے ہیں اور نچلے طبقے تک ذرا بھی سہولت نہیں پہنچتی اور عوام بیچاری ان اداروں کے پیدا کردہ مسائل کی وجہ سے نفسیاتی مریض بن گئی۔مجھے دکھ ہوتا ہے دیکھ کر دیس کے ویرانوں کومجھے دکھ ہوتا ہے دیکھ کر بیچارے پاکستانیو ں کوالغرض!ہمارے تمام سرکاری و پرائیویٹ اداروں میں جتنی انسانیت کی تذلیل اور بے حُرمتی ہو رہی ہے ایسا اور کہیں بھی نہیں ہوتا۔ہم لوگ صرف پیسے کی ہوس میں قوانین و ضوابط کی دھجیاں اُڑا رہے ہیں۔ہم بغیر پیسے کسی بھی فرد کا کوئی بھی کام کرنے کو تیار نہیں۔ اگر ہماری آنکھوں کے سامنے کسی بیچارے کی تڑپ ،تڑپ کر جان بھی نکل جائے تو ہم تب بھی اُس کی مدد کرنے کو تیار نہیں ہوتے جب تک ہماری جیب گرم نہیں ہو جاتی۔افسوس!...ہم کیسے بے حس اور بے عقل لوگ ہیں ۔ہمارے حکمران، منتظمین اور سرکاری و پرائیویٹ ادارے اپنی عیش پرستیوں ور اپنی ا تھارٹیوں کے اضافوں میں مشغول ہیں ،ہر سو افرا تفری کا عالم ہے، نوجوانوں نے کتابوں کی جگہ کلاشنکوف تھام لی ، ہر آنکھ اندھی ہو چکی ، ہر کان بہرا ہو چکا ، ہر زبان گونگی ہو چکی ، ہر دماغ ماؤف ہو چکا ، ہر دل نے دھڑکنا چھوڑ دیا ،ہر ضمیر بے ضمیر ہو چکا ، غیرت ختم ہو چکی...تو بقایا ہمارے پاس کیا بچا؟آج ہم سب نے پیسے کی ہوس و لالچ میں اپنا معاشرہ بے پناہ برائیوں سے بھر لیا....کیا ہم دنیا کو منہ دکھانے کے قابل ہیں؟لہٰذا! آج ہمیں اپنی اِس ناقص سوچ اور لالچی ہوس پر قابو پانے کی اشد ضرورت ہے۔فیصلہ آپکا؟نابینا جنم لیتی ہے اولاد بھی اُس کیقوم جو دیا کرتی ہے تاوان میں آنکھیں
ہاتھوں میں کشکول تھام لیے... ؟
جس زمانے میں مصر کا حکمران ( مقوقس ) تھا تو اُس وقت (ٹیونس) مصر کا صوبہ تھا۔جسکا گورنر ابو ثوب تھا ۔ ایک وقت ایسا آیا کہ مقوقس کے بیٹے نے اپنے باپ کو قتل کر دیا اور مصر کی حکمرانی کا تاج اپنے سر سجا لیا تو اُدھر ابو ثوب نے بھی اِس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے صوبہ ٹیونس میں خود مختاری کا اعلان کر دیا اور شان و شوکت سے حکمرانی کرنے لگا۔کچھ عرصہ بعد( 641 ء ) میں ایک اِسلامی لشکر حضرت عمر بن العاصؓ کی سرپرستی میں اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرتے ہوئے مصر پر چڑھ دوڑا اور مقوقس کے بیٹے سے اقتدار چھین کر اِسلام کا الم بلند کر دیا۔اور اسلامی قانون نافذ کر دیا۔اُدھر ٹیونس کے حکمران ابو ثوب نے بہت تیزی سے رعایا کی دیکھ بھال اور بحالی کے لیے اقدامات شروع کر دیے تھے ۔ اُسنے زراعت کا نظام مضبوط کرنے کے لیے بہت بڑے بڑے اور گہرے تالاب غیرہ بنا رکھے تھے۔ جو بارشوں کے موسم میں بھر جاتے اور خشک موسم میں زراعت کے کام آتے تھے ۔اُن تالابوں سے ابو ثوب اپنی رعایا کے کھیتوں اور مال مویشیوں کو سیراب کرتا تھا۔ لیکن! ایک دفعہ ایسا ہوا کہ قدرت نے بارشیں نہ برسائیں اور تمام تالاب وغیرہ خشک پڑ گئے ۔ جس سے ابو ثوب اور رعایا سبھی بہت سخت پریشانی میں مبتلا ہو گئے۔ اور اِس امید پر آسمانوں کی طرف اپنی نظریں جما لیں کہ شائد قدرت اُنہیں بارش عطا کر دے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ اِنہی دنوں( حضرت یزید بن عامرؓ )ابو ثوب کے پاس خیرات وصول کرنے چلے آئے ۔ابنِ عامرؓ نے جونہی ابو ثوب کو امداد کا کہا تو ابو کے چہرے پر سخت غصہ آ گیا ۔ اور طیش میں آ کر بول اُٹھے!(تم میرے صوبہ کی حالت نہیں دیکھتے ؟اور چلے آئے ہو خیرات وصول کرنے ...افسوس کہ تم کیسے مسلمان ہو جو بھیک مانگنے لگ گئے ہو ۔ اگر تم مسلمان سچے اور ایماندار ہو اور تمہارا رسولﷺ بھی سچا ہے تو اُسکے وسیلہ سے دعا کرو کہ بارش آ جائے )میرے مسلمان بھا ئیو ! ابنِ عامر کے لیے یہ بہت بڑا امتحان تھا تو اُنہوں نے نہایت ہی عاجز ی و انکساری سے اک کونے میں جانماز بچھایا اور خشو ع و خضو کے ساتھ دو رکعت نماز نفل پڑھ کر خدا کے حضور سچے دل سے دعا کی۔ دعا ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ اُدھر تیز دھار بارش شروع ہو گئی ۔ یہ واقعہ دیکھ کر ٹیونس کے باشندوں نے اِسلام قبول کر لیا اور وہاں اِسلامی حکومت قائم ہو گئی ۔واہ! سبحان اللہ ! شائد اِسے ہی کہتے ہیں ! کوئی اندازاہ کر سکتا ہے اُنکے زورِ بازو کا ؟نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں میرے پاکستانیو! میں اکثر سوچتا ہوں کہ آج ہماری تقدیر کیوں نہیں بدلتی ؟؟؟جبکہ میرا دیس دنیا کی تمام تر نعمتوں سے مالا مال اور نہایت حسین و جمیل ہے ۔ 1۔ بلند و بالا، خوبصورت اور دلکش پہاڑی سلسلے ہیں ، جن کا شمار دنیا کی بہترین چوٹیوں میں ہوتا ہے ۔2۔ دنیا کا ساتواں بڑا ملک اور ایٹمی طاقت ہے ۔ 3 ۔ فوج دنیا کی بہترین دس افواج میں شامل ہے ۔
4۔ کوئلہ جس سے بجلی پیدا کر کے صرف اپنی ضرورت ہی نہیں بلکہ دنیا کو فروخت بھی کر سکتے ہیں ۔5۔ نمک کی بہت بڑی کانیں ہیں ۔ 6۔ پہاڑوں میں سونا ، چاندی ، ہیرے ، لعل و جواہرات اور ان گنت خزانے ا ور معدنیات دفن ہیں ۔7۔ دریاؤ ں کا وسیع پانی اور پہاڑوں سے بہتے ان گنت چشمے ہیں۔ 8۔اِس ملک کا نہری اور آبپاشی نظام دنیا کا بہترین نظام ہے۔ یہاں نہروں کا جال بچھاہوا ہے ۔ 9۔یہاں کی مٹی بہت ہی نرم اور ذرخیز ہے جس میں فصلوں کی پیداوار بہت اچھی ہے ۔10۔پھل اور سبزیاں بہت زیادہ مقدار میں پائی جاتیں ہیں ۔ 11۔ یہاں گنا ، مکئی ، کپاس، گندم اور چاول کی کاشت وسیع پیمانے پر ہوتی ہے ۔12۔مِلوں اور کار خانوں سے بہترین اور معیاری کپڑا تیا ر ہوتا ہے ۔13 ۔ اِس پاک دھرتی پر بسنے والی عوام غیور ، بہادر ، محنت کش اور محبِ وطن ہے ۔ وغیرہ ، وغیرہ لیکن !پھربھی ہم ترقی پذیر؟پھر بھی پسماندہ قوم ؟پھر بھی ہم بھوکے اور برہنہ؟ پھر بھی یوں ذلت کی زندگی جینے پر مجبور ؟ پھر بھی ہم سسک ،سسک کر بلک ،بلک کر زندگی کے دن کاٹنے پر مجبور ؟پھر بھی بھکاری قوم ؟؟؟ہاہ! ہائے !!!آج بھی میرے دیس کی سر زمیں پر کروڑوں غریب بیچارے ایسے ہیں جو میری طرح فاقوں پر زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ لاکھوں ایسے ہیں جنہیں رات کا کھانا بھی نصیب نہیں ہوتا اور بیچارے خالی پیٹ سو جاتے ہیں ۔ لاکھوں ایسے ہیں جو بھوک ، پیاس سے نڈھال ہو کر ڈھانچوں کی شکل اختیار کر گئے ۔ لاکھوں ایسے ہیں جنہیں جان توڑ محنت کے باوجود بھی مناسب معاوضہ نہیں ملتا ۔ آج بھی میرے دیس کی مائیں بس خواب ہی دیکھتی ہیں اور اِس اُمید کے سہارے جیتی ہیں کہ شائد کوئی مسیحا آئے اور اُنکے بھوکے بچوں کو بھوک اور افلاس سے نجات دلا دے... شائد کوئی آئے ؟ شائد کوئی آئے ؟مگر کوئی نہیں آتا ... میرے دیس کی سر زمیں پر نجانے اور کتنے لاکھو ں انسان ایسے ہونگے جو مجبور اور بے بس ہو کر روزانہ میری طرح یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ آج ہماری تقدیر کیوں نہیں بدلتی ؟؟؟شائد اِسی وجہ سے کہ ہم نے ہاتھوں میں کشکول تھام لیے اور وطنِ عزیز کو (آئی ایم ایف )کا مقروض اور غلام بنا ڈلا ...افسوس ! ذرا سوچنا ؟گدائی میں بھی تھے وہ اللہ والے غیور اتنے کہ منعم کو گدا کے ڈر سے بخشش کا نہ تھا یارا
دلیوالی قریشیاں کا قبرستان چاردیواری سے محروم،تجاوزات قائمجرائم پیشہ عناصرنے قبرستان کواپنی پناہ گاہیں بنارکھاہواہے۔ نشیؤں نے ڈیرے جمالیے اورمویشی بھی قبروں کی بے حرمتی کرنے لگے ۔
قبضہ مافیانے قبرستان کی جگہ پرتجاوزات کھڑی کررکھی ہیں۔انتظامیہ نے کاروائی کے بجائے چُپ سادھ رکھی ہے۔ ڈی سی اونوٹس لیں

پائی خیل(نامہ نگار)دلیوالی قریشیاں کا قدیم مرکزی اوربڑا قبرستان چاردیواری سے محروم،قبرستان کی جگہ قبضہ مافیانے تجاوزات کھڑی اورمویشی قبروں کی بے حرمتی کرنے لگے۔ تفصیلات کے مطابق نواحی علاقہ دلیوالی قریشاں کا قدیم مرکزی اور بڑا قبرستان چاردیواری سے محروم ہے ۔قبضہ مافیانے قبرستان کی جگہ پرتجاوزات کھڑی کررکھی ہیں۔انتظامیہ نے کاروائی کے بجائے چُپ سادھ رکھی ہے۔ مقامی لوگوں نے قبرستان میں بھیڑبکریوں اورمویشیوں کے ریوڑچھوڑرکھے ہیں جوقبروں پرگندگی اورغلاظت پھیلارہے ہیں۔جبکہ نشہ بازوں نے قبرستان میں اپنے ڈیرے جمارکھے ہیں۔جرائم پیشہ عناصرنے قبرستان کواپنی پناہ گاہیں بنارکھاہواہے۔ جس سے قبروں کی بے حرمتی ہورہی ہے ۔اس قبرستان میں اولیاء کرام عوامی حلقوں کے علاوہ 1965,1971کی جنگ آزادی کے علاوہ ضرب عضب کے فوجی شہداء کی قبروں پرپاکستانی پرچم لہرارہے ہیں۔قبرستان کے تقدس کی پامالی کے ساتھ ،پاکستانی پرچم کاتقدس بھی بے رحمی،بے دردی سے کیاجانے لگاہے ۔عوامی وسماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمدشہبازشریف،ڈی سی اومیانوالی سے قبرستان کی چاردیواری تعمیرکرانے ،قبضہ مافیاکے خلاف کاروائی کامطالبہ کیاہے ۔پائی خیل(نامہ نگار)صحافی ملک محمدارشدندیم کواللہ تعالیٰ نے چاندسابیٹاعطاکیاہے۔جس پرڈسٹرکٹ پریس کلب موچھ کے صدررحمت اللہ خان ہزارے خیل،پائی خیل پریس کلب کے صدراحمدنوازخان نیازی،حافظ کریم اللہ چشتی،قاری آصف عنایت اللہ چشتی ودیگرنے صحافی وسماجی شخصیات نے ملک ارشدندیم کوبیٹے کی پیدائش پردل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکبادپیش کی اوربچے کی درازی عمربالخیرکے لئے دعاکی۔
مقبوضہ جموں کشمیر؟؟
چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہآخر بے چارے کشمیریوں کو کب آزادی ملے گی؟۔کب تک وہ بھارتی ظلم و ستم کا شکار بنتے رہیں گے؟۔کیوں کشمیریوں کا کوئی درد بھانٹنے والا نہیں کیوں؟۔کیوں کشمیریوں کو انسان نہیں سمجھا جاتا؟۔آخر کب کشمیری اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزار سکیں گے؟۔آخر کب ؟کشمیر کو عرصہ دراز سے بلکہ کئی دہائیوں سے ہی سوالیہ نشان بنایا گیا ہے۔ کوئی بھی صدق دل سے کشمیر کے معاملات کو حل کرنے کے لئے تیار نہیں۔انگریز حکومت کے دور میں انگریزوں نے کشمیر کو چند لاکھوں کے عوض ایک سکھ راجہ کو فروخت کر دیا ایک عرصہ تک سکھوں نے وہاں حکومت کی اور کشمیری مسلمانوں پر ظلم و جبر کی کئی تاریخیں قائم کیں۔کشمیر آبادی کے لحاظ سے ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست تھی اور جغرافیائی لحاظ سے بھی سب سے زیادہ اہمیت کی حامل۔1947 کی تقسیم سے پہلے ہی کشمیر کو حاصل کرنے کے لئے گاندھی اور جناح نے کوششیں شروع کر دیں۔کشمیر میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی تھی۔اسی لئے کشمیریوں نے پاکستان کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا۔مگر سکھ راجہ نے بھارت کے ساتھ مل کر کشمیریوں کی آواز کچلنے کی کوشش کی ۔بھارت جعلی الحاق کی دستاویزات بنا کر اپنی فوجیں کشمیر میں بھیجنے لگا جو دن بدن بڑھتی ہی گئیں۔کشمیری مسلمانوں نے متعدد بار بھارتی مظالم کے خلاف آوازیں بلند کیں مگر ہمیشہ ہی انہیں کچلنے کی کوشش کی گئی ۔کشمیری مجاہدین نے اپنی جدوجہد کی بدولت بھارتی فوج کے ساتھ جنگ لڑی اور کشمیر کا کچھ علاقہ و حصہ آزاد کروا لیا۔جسے آج آزاد کشمیر کہا جاتا ہے۔یہ دیکھ کر بھارت کے اوسان خطا ہو گئے اور بھارت اقوام متحدہ میں پہنچ گیا۔اقوام متحدہ میں رو کر بھارت نے جنگ بندی تو کروا لی مگر اپنے وعدوں سے مکر گیا نہ ہی ریفرنڈم کروایا نہ ہی اپنی فوجیں واپس بلائیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر بھارت بھاگتا ہوا اقوام متحدہ تک نہ جاتا تو آج پورا کا پورا کشمیر آزاد ہوتا۔کشمیر کا جو حصہ بھارتی قبضہ میں ہے اسے مقبوضہ کشمیر کہتے ہیں۔بھارتی فوج اس علاقہ میں ظلم و ستم کی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔معصوم بچوں عورتوں اور بوڑھوں پر بھی ظلم کیا جاتا ہے۔بھارت کی اس ہٹ دھرمی و گیم میں لاکھوں کی تعداد میں کشمیریوں کے گھر اجڑ چکے ہیں۔کئی یتیم بے آسراء اور بے سہارا ہوئے ہیں۔واقعی میں عرصہ سے مقبوضہ کشمیر کو سوالیہ نشان بنا کر رکھ دیا ہے اور بنایا جا رہا ہے۔اور اس میں شامل بھارت کے ساتھ اقوام متحدہ بھی ہے۔اقوام متحدہ نے کئی بار کشمیر میں استصواب رائے یعنی ریفرینڈم کروانے پر قرار دادیں منظور کیں مگر اقوام متحدہ ایسا کروانے میں ناکام رہا ۔بھارت کی ہٹ دھرمیوں کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ نے بھی ماضی میں اپنی ہٹ دھرمی کے کئی ثبوت پیش کئے ہیں۔بہت افسوس کی بات ہے کہ عالمی طاقتوں کو یورپ میں ایک قتل پر ایک عرصہ افسوس رہتا ہے مگر کشمیر میں ہر گزرتے دن کئی زندگیاں بج رہی ہیں مگر عالمی طاقتیں خاموشی سادھے ہوئے ہیں۔آخر یہ دہرا معیار کیوں؟کیا کشمیری بے جان ہیں؟ مقبوضہ کشمیر میں انسان نہیں رہتے؟بھارتی اور اقوام متحدہ کی ہٹ دھرمی سے لگتا ہے کہ کشمیری ان کے نزدیک انسان نہیں بلکہ بے جان ہیں۔وہ بھی انسان ہیں۔انسانیت کی پامالی کی جا رہی ہے اور اس میں کہیں نہ کہیں انسانیت کے نمبردار بھی ملوث ہیں۔گزشتہ روز میاں محمد نواز شریف نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا اس اجلاس میں کہا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں کشیدہ صورتحال کو وہاں کی حکومت کی طرف سے اندرونی معاملات قرار دینا بین الاقوامی قوانین اور کشمیر کے معاملات پر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی شدید خلاف ورزی ہے۔اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ بھارت کا یہ دعوی کہ یہ اس کا اندرونی معاملہ ہے دراصل حقائق کے برعکس ہے۔اجلاس میں حریت پسند رہنما برہان وانی کی شہادت اور اس کے بعد احتجاج کرنے والوں پر بھارتی فوج کے مظالم کی شدید مذمت کی گئی۔اور اجلاس میں یہ کہا گیا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل سے رابطے کر کے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں فیکٹ فائینڈنگ کمیٹی بھجوانے کا کہے گا۔ تاکہ وہ کشمیریوں کے قتل عام اور ان پر ظلم و جبر کے واقعات کی تحقیقات کرے۔اور اجلاس میں بین الاقوامی برادری پر زور دیا کے وہ بھارتی مظالم کی مذمت کرے اور کشمیری عوام سے وعدے کے مطابق انہیں استصواب رائے کا حق دینے پر زور دے۔بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے اسلام آباد کو آزاد کشمیر خالی کرنے کی گیدڑ بھبھکی اس بات کی علامت ہے کہ وہ بو کھلا چکا ہے۔آزاد کشمیر میں آج بھی کوئی پاکستانی باشندہ جائیداد نہیں خرید سکتا البتہ بھارت دن بدن مقبوضہ کشمیر میں اپنے فوجیوں کے گھر بسا رہا ہے۔بھارت مقبوضہ کشمیر میں انتہا پسند ہندؤں اور ایسے کئی عناصر اور پنڈتوں سمیت سابق فوجیوں کے گھر اور بستیاں بسا رہا ہے۔جوکہ سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی خلاف ورزی ہے۔متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کی ہیئت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا نہ ہی وہاں غیر کشمیریوں کو بسایا جا سکتا ہے۔کیونکہ رائے شماری میں صرف ریاستی باشندے ہی حصہ لے سکتے ہیں۔بھارت جانتا ہے کہ کشمیری عوام پاکستان کے حق میں ووٹ دے گی اسی لئے بھارت ایسے اقدامات کرکے اپنا اسر و رسوخ بڑھانے کی سازشیں کر رہا ہے زبردستی اپنی فوجیں اتار کر مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنے پنجے گاڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔اس سب کے باوجود دن بدن بھارت کشمیریوں کے دلوں میں اپنی نفرت میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔مکروہ بھارت آزاد کشمیر کے الیکشن دیکھ کر اندازہ لگا لے کہ کیسے منظم انتخابت تھے اور دوسری طرف مقبوضہ جموں و کشمیر میں زبردستی ڈنڈے کے زور پر کٹھ پتلی حکومت کا قیام بھارتی ظلم کا منہ برلتا ثبوت ہے۔بھارت اور اقوام متحدہ مزید کشمیریوں کو سوالیہ نشان بنانا بند کرے۔سن لو بھارتی سورمو۔ اگر اپنی ہٹ دھرمیوں سے باز نہ آئے تو اللہ رب العزت ایک دن تمہارے ٹکڑ ٹکڑے کر دے گا۔کشمیر کی اس ظلم و ستم کی تاریخ میں ہم پاکستانی بھی اپنا کردار ادا نہیں کرسکے ہم کشمیر کی آواز صحیح طریقے سے دنیا تک نہیں پہنچا رہے ہمیں یہ کرنا ہوگا ۔روز قیامت کیا کہیں گے کہ ہمارے سامنے ہی ہمارے مسلمان بھائیوں بہنوں پر ظلم کیا جاتا رہا اور ہم اپنے ہی کاموں اپنی ہی موج مستیوں میں مگن رہے۔پاکستان حکومت کو بین الاقوامی طاقتوں کوبھارت کی اصل سازشوں سے آگاہ کرنا چاہئے ۔صرف مذمت کے بیانات سے کچھ نہیں ہونے والا ہمیں اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں پر کشمیر کے حل کے لئے پریشر ڈالنا ہوگا۔