Saturday, 30 July 2016
ہاتھوں میں کشکول تھام لیے... ؟
ہاتھوں میں کشکول تھام لیے... ؟
جس زمانے میں مصر کا حکمران ( مقوقس ) تھا تو اُس وقت (ٹیونس) مصر کا صوبہ تھا۔جسکا گورنر ابو ثوب تھا ۔ ایک وقت ایسا آیا کہ مقوقس کے بیٹے نے اپنے باپ کو قتل کر دیا اور مصر کی حکمرانی کا تاج اپنے سر سجا لیا تو اُدھر ابو ثوب نے بھی اِس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے صوبہ ٹیونس میں خود مختاری کا اعلان کر دیا اور شان و شوکت سے حکمرانی کرنے لگا۔کچھ عرصہ بعد( 641 ء ) میں ایک اِسلامی لشکر حضرت عمر بن العاصؓ کی سرپرستی میں اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرتے ہوئے مصر پر چڑھ دوڑا اور مقوقس کے بیٹے سے اقتدار چھین کر اِسلام کا الم بلند کر دیا۔اور اسلامی قانون نافذ کر دیا۔
اُدھر ٹیونس کے حکمران ابو ثوب نے بہت تیزی سے رعایا کی دیکھ بھال اور بحالی کے لیے اقدامات شروع کر دیے تھے ۔ اُسنے زراعت کا نظام مضبوط کرنے کے لیے بہت بڑے بڑے اور گہرے تالاب غیرہ بنا رکھے تھے۔ جو بارشوں کے موسم میں بھر جاتے اور خشک موسم میں زراعت کے کام آتے تھے ۔اُن تالابوں سے ابو ثوب اپنی رعایا کے کھیتوں اور مال مویشیوں کو سیراب کرتا تھا۔
لیکن! ایک دفعہ ایسا ہوا کہ قدرت نے بارشیں نہ برسائیں اور تمام تالاب وغیرہ خشک پڑ گئے ۔ جس سے ابو ثوب اور رعایا سبھی بہت سخت پریشانی میں مبتلا ہو گئے۔ اور اِس امید پر آسمانوں کی طرف اپنی نظریں جما لیں کہ شائد قدرت اُنہیں بارش عطا کر دے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ اِنہی دنوں( حضرت یزید بن عامرؓ )ابو ثوب کے پاس خیرات وصول کرنے چلے آئے ۔ابنِ عامرؓ نے جونہی ابو ثوب کو امداد کا کہا تو ابو کے چہرے پر سخت غصہ آ گیا ۔ اور طیش میں آ کر بول اُٹھے!(تم میرے صوبہ کی حالت نہیں دیکھتے ؟اور چلے آئے ہو خیرات وصول کرنے ...افسوس کہ تم کیسے مسلمان ہو جو بھیک مانگنے لگ گئے ہو ۔ اگر تم مسلمان سچے اور ایماندار ہو اور تمہارا رسولﷺ بھی سچا ہے تو اُسکے وسیلہ سے دعا کرو کہ بارش آ جائے )
میرے مسلمان بھا ئیو ! ابنِ عامر کے لیے یہ بہت بڑا امتحان تھا تو اُنہوں نے نہایت ہی عاجز ی و انکساری سے اک کونے میں جانماز بچھایا اور خشو ع و خضو کے ساتھ دو رکعت نماز نفل پڑھ کر خدا کے حضور سچے دل سے دعا کی۔ دعا ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ اُدھر تیز دھار بارش شروع ہو گئی ۔ یہ واقعہ دیکھ کر ٹیونس کے باشندوں نے اِسلام قبول کر لیا اور وہاں اِسلامی حکومت قائم ہو گئی ۔واہ! سبحان اللہ !
شائد اِسے ہی کہتے ہیں !
کوئی اندازاہ کر سکتا ہے اُنکے زورِ بازو کا ؟
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
میرے پاکستانیو! میں اکثر سوچتا ہوں کہ آج ہماری تقدیر کیوں نہیں بدلتی ؟؟؟جبکہ میرا دیس دنیا کی تمام تر نعمتوں سے مالا مال اور نہایت حسین و جمیل ہے ۔
1۔ بلند و بالا، خوبصورت اور دلکش پہاڑی سلسلے ہیں ، جن کا شمار دنیا کی بہترین چوٹیوں میں ہوتا ہے ۔
2۔ دنیا کا ساتواں بڑا ملک اور ایٹمی طاقت ہے ۔ 3 ۔ فوج دنیا کی بہترین دس افواج میں شامل ہے ۔
4۔ کوئلہ جس سے بجلی پیدا کر کے صرف اپنی ضرورت ہی نہیں بلکہ دنیا کو فروخت بھی کر سکتے ہیں ۔
5۔ نمک کی بہت بڑی کانیں ہیں ۔
6۔ پہاڑوں میں سونا ، چاندی ، ہیرے ، لعل و جواہرات اور ان گنت خزانے ا ور معدنیات دفن ہیں ۔
7۔ دریاؤ ں کا وسیع پانی اور پہاڑوں سے بہتے ان گنت چشمے ہیں۔
8۔اِس ملک کا نہری اور آبپاشی نظام دنیا کا بہترین نظام ہے۔ یہاں نہروں کا جال بچھاہوا ہے ۔
9۔یہاں کی مٹی بہت ہی نرم اور ذرخیز ہے جس میں فصلوں کی پیداوار بہت اچھی ہے ۔
10۔پھل اور سبزیاں بہت زیادہ مقدار میں پائی جاتیں ہیں ۔
11۔ یہاں گنا ، مکئی ، کپاس، گندم اور چاول کی کاشت وسیع پیمانے پر ہوتی ہے ۔
12۔مِلوں اور کار خانوں سے بہترین اور معیاری کپڑا تیا ر ہوتا ہے ۔
13 ۔ اِس پاک دھرتی پر بسنے والی عوام غیور ، بہادر ، محنت کش اور محبِ وطن ہے ۔ وغیرہ ، وغیرہ
لیکن !پھربھی ہم ترقی پذیر؟پھر بھی پسماندہ قوم ؟پھر بھی ہم بھوکے اور برہنہ؟ پھر بھی یوں ذلت کی زندگی جینے پر مجبور ؟ پھر بھی ہم سسک ،سسک کر بلک ،بلک کر زندگی کے دن کاٹنے پر مجبور ؟پھر بھی بھکاری قوم ؟؟؟ہاہ! ہائے !!!آج بھی میرے دیس کی سر زمیں پر کروڑوں غریب بیچارے ایسے ہیں جو میری طرح فاقوں پر زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ لاکھوں ایسے ہیں جنہیں رات کا کھانا بھی نصیب نہیں ہوتا اور بیچارے خالی پیٹ سو جاتے ہیں ۔ لاکھوں ایسے ہیں جو بھوک ، پیاس سے نڈھال ہو کر ڈھانچوں کی شکل اختیار کر گئے ۔ لاکھوں ایسے ہیں جنہیں جان توڑ محنت کے باوجود بھی مناسب معاوضہ نہیں ملتا ۔ آج بھی میرے دیس کی مائیں بس خواب ہی دیکھتی ہیں اور اِس اُمید کے سہارے جیتی ہیں کہ شائد کوئی مسیحا آئے اور اُنکے بھوکے بچوں کو بھوک اور افلاس سے نجات دلا دے... شائد کوئی آئے ؟ شائد کوئی آئے ؟مگر کوئی نہیں آتا ... میرے دیس کی سر زمیں پر نجانے اور کتنے لاکھو ں انسان ایسے ہونگے جو مجبور اور بے بس ہو کر روزانہ میری طرح یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ آج ہماری تقدیر کیوں نہیں بدلتی ؟؟؟شائد اِسی وجہ سے کہ ہم نے ہاتھوں میں کشکول تھام لیے اور وطنِ عزیز کو (آئی ایم ایف )کا مقروض اور غلام بنا ڈلا ...افسوس ! ذرا سوچنا ؟
گدائی میں بھی تھے وہ اللہ والے غیور اتنے
کہ منعم کو گدا کے ڈر سے بخشش کا نہ تھا یارا
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

No comments:
Post a Comment