Wednesday, 10 August 2016
اگست اور نوجوانوں کا رویہ؟
اگست اور نوجوانوں کا رویہ؟
وہ جو در بدر خاک بسر ہوئے
وہ جو لٹ گئے بے گھر ہوئے
1947کی آزادی کے بعد ہمارے آباؤ اجداد اور مسلمانوں نے جو صعوبتیں سہیں، جو قربانیاں دیں، جن مصیبتوں کا سامنا کیااور ہندوؤں، سکھوں کے جس جبر کو اپنے سینوں پر برداشت کیا تاریخ میں ایسی مثال نہیں ملتی۔ لاکھوں فرزندان توحید نے بے سروسامانی کی حالت میں اپنے بھرے پرے آبائی گھروں، زمینوں اور کھیتوں کو دشمنانِ اسلام کے رحم و کرم پر چھوڑ کر پاک دھرتی کا رخ کیا۔ ان مہاجروں کے آباؤ اجداد کی قبریں، بزرگان دین کے مزار، مسجدیں، خانقاہیں سب کی سب ہندوستان میں ہی رہ گئیں۔ ہجرت کے دوران لاکھوں مسلمان مرد، عورتیں اور بچے ہندوؤں اور سکھوں کے ظلم و ستم کی بلی چڑھ گئے۔ نوجوان مسلمان لڑکیوں نے کنوؤں میں کود کر اپنی جانیں گنوا دیں تاکہ ہندوؤں اور سکھوں سے اپنی عصمت کو محفوظ رکھ سکیں مگر اس کے باوجود لاتعداد لڑکیاں اور عورتیں اغوا ہو گئیں۔جنکا نام و نشان بھی نہ مل سکا ۔اُنکو آج بھی ہماری نگاہیں دیکھنے کو ترستی ہیں...
وہ کڑا وقت، وہ تلخیاں، وہ گردشیں، وہ بجلیاں
وہ کیا تھا ؟وہ تھا ہمارے رب کا امتحاں
دوستو! 14 اگست تو ہر سال ہی آتا ہے ۔ سارے پاکستان میں چراغاں ہوتا ہے۔ گلی،کوچوں، محلوں ،سرکاری و پرائیویٹ دفاتر اور عمارتوں کو بجلی کے قمقموں سے دلہن کی طر ح سجایا جاتا ہے اور ملک کے طول و عرض میں پرچم لہرائے جاتے ہیں۔ لاہور تو خیر ہر لحاظ سے تعلیم، کاروبار، سیاست اور سیاسی تحریکوں کا گڑھ ہے ۔ اس لیے ملک کے طول و عرض سے لوگ جشن آزادی منانے اور آزادی کی تقریبات میں حصہ لینے کے لیے جوق در جوق یہاں آتے ہیں۔
میں ہر سال اِس رات کو اپنی آنکھوں سے مناظر دیکھتا ہوں ۔ویگنوں، بسوں، موٹر سائیکلوں پر اور پیدل ہر سمت ہجوم ہی ہجوم نظر آ تاہے ۔کاروں، بسوں کی چھتوں او ر موٹر سائیکلوں پر بہت بڑی تعداد میں نوجوان ہوتے تھے۔ جنہوں نے موٹر سائیکلوں کے سائلنسر نکالے ہوئے تھے اور موٹر سائیکلوں کی گڑگڑاہٹ اور نعروں کی آوا زیں مل کر کچھ ایسا سماں پیدا کر رہی تھیں کہ اِرد گرد کوئی بھی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ قریب بیٹھے لوگ بھی بات کرنے کے لیے ایک دوسرے کے کان سے منہ لگا کر بات کرنے پر مجبور ہوتے۔ ایک ، ایک موٹر سائیکل پرچار ، چار نوجوان بھی براجمان تھے اوربعض پر تو پانچ یا چھے بھی دکھائی دیئے ۔ ٹریفک کا ہجوم توبے تحاشا تھا اور موٹر سائیکلوں کے پھٹے ہوئے سائلنسروں سے نکلنے والا کثیف دھواں بھی فضائی آلودگی میں اس قدر اضافہ کر رہا تھا کہ سانس لینا بھی دشوار تھا۔کچھ نوجوان تو جب خواتین کے پاس سے گزرتے تو مزید پر جوش انداز میں کرتب اور فن دکھاتے، عجیب و غریب اشارے کرتے اور تنگ کرتے تھے۔
میرے ہم وطنو!ہماری نوجوان نسل کو اس امر کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ خواتین ہم سب کے لیے یکساں قابل احترام ہوتی ہیں اور بعض با پردہ گھرانوں کی خواتین کو تو صرف اس طرح کے خاص موقعوں پر ہی زندگی کی روانی سے لطف اندوز ہونے کے لیے گھروں سے نکلنے کا موقع ملتا ہے۔ ان سے چھیڑ چھاڑ اور بدتمیزی کر کے انہیں یہ تاثر نہ دیں کہ انگریزوں اور ہندوؤں سے آزادی حاصل کرنے کے بعد وہ پاکستان میں اپنی ہی نوجوان نسل کے ہاتھوں میں یرغمال ہیں۔
لٹ گیا وہ تیرے کوچے میں رکھا جس نے بھی قدم
اِس طرح کی بھی راہ زنی ہوتی ہے کہیں ؟
میرے پاکستانی بھائیو!ہر سال اِس موقع پر لاہور کی تمام سڑکوں پر ہر طرف ٹریفک وارڈن اور پولیس اہلکار تعینات ہوتے ہیں ۔ مگر وہ بھی بے بس۔ موٹر سائیکلوں پر سوار نوجوان سرکاری اہلکاروں کو بھی تنگ کرنے سے باز نہیں آتے۔ کچھ ایسے ’’بہادر ‘‘ نوجوان بھی تھے کہ جو اس رش میں بھی موٹر سائیکلوں پر کرتب دکھانے سے باز نہیں آتے تھے۔ تیز موٹر سائیکل چلاتے ہوئے ون ویلنگ اور ہاتھ چھوڑ کرموٹر سائیکل چلاتے ہوئے مختلف کرتب دکھاتے تھے۔
اے پاکستا نیو! ہاتھ چھوڑ کر موٹر سائیکل چلانا اور ون ویلنگ سے باز آئیں۔ اگر آپ کسی حادثہ کا شکار ہو گئے تو یہی جشن آزادی ہمارے لیے ماتم اور عذاب بھی ہے ۔ آپ کی یہ بے ہنگم ڈرائیونگ دوسرے لوگوں کو بھی غم میں مبتلا کر دے گی۔ موٹر سائیکلوں کے سائلنسر مت نکالیں یہ فضائی آلودگی کے ساتھ ساتھ شور کی آلودگی میں بھی اضافہ ہیں اور صحت و سماعت کے لیے خطرہ ہیں۔اپنی اوردوسروں کی صحت و زندگی کے لیے ایسی منفی حرکتوں سے پرہیز کریں۔
اُس قوم میں ہے شوخی اندیشۂِ خطرناک
ہماری حکومت نے 14 اگست کے موقع پر پولیس کو خاص ہدایات کی ہوتی ہیں کہ عوام الناس کے لیے جشن آزادی کی تقریبات اور خوشی و مسرت منانے کی راہ میں حائل نہ ہوا جائے ۔لیکن !ہمارے کھلنڈرے نوجوان اِس دن بھی پولیس و ٹریفک اہلکاروں کو مفت میں پریشان کرتے ہیں۔حالانکہ اِس دن ہم سب کو ایک دوسرے میں تحائف بانٹنے چاہیں ،ایک دوسرے کے گلے مل کر خوشیاں بانٹنی چاہیں۔ہمیں اِس دن مسجدوں میں جا کر نوافل، قرآن پاک کی تلاوت اور خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہم ایک آزاد وطن میں جی رہے ہیں۔
میرے ہم وطنو !یاد رکھو!پاکستان ہو یا دنیا کا کوئی بھی ملک ہو اُس کی معاشی، معاشرتی، اقتصادی اور سیاسی ترقی میں اہم کردار اور انقلاب برپا کرنے میں سب سے زیادہ اختیار نوجوان نسل کے پاس ہوتا ہے۔ اگر نوجوان ایک اور متحد ہوں ان کی سوچ اور نظریات ایک جیسے ہوں ۔ وقت اور قانون کے پابند ہوں تو وہ ملک نوجوان نسل کی انگلیوں کے اشاروں پر چلتا ہے۔ ایسے نوجوان جب چاہیں اپنے ملک کو پستی سے بلندی پر لے جا کھڑا کریں اور جب چاہیں اک مختصر سے وقت میں ملک میں تباہی و بربادی مچا کے ملک کا بیڑا غرق کر دیں اور ترقی کا پہیہ جام کر کے رکھ دیں۔ تو اب ہماری جوان نسل کے کاندھوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اپنے اس ملکِ پاکستان کے لیے کیا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔پستی یا بلندی؟فیصلہ آ پکا؟
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے مِلت کے مقدر کا ستارہجس قوم کے افراد ہوں ہر بند سے آزاد
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

No comments:
Post a Comment