پیسے کی ہوس قومیں اُجاڑدیتی ہے...
میرے پاکستانیو! قانون، دولت ،طاقت،پیسہ اور قلم کے ناجائز اور غلط استعمال سے قوموں کا تشخص بگڑ جاتا ہے۔معاشرے میں افرا تفری مچ جاتی ہے۔ مال و دولت اور روپے،پیسے کی ہوس قومیں اُجاڑ دیتی ہے۔جس طرح آج میری قوم کا شیرازہ بکھرا پڑا ہے ۔یہاں کا نظام درہم برہم اور تہس نہس ہو کر رہ گیاہے۔ رشوت اور کرپشن کا سے معاشرے میں لاقانونیت ، نقص، بگاڑ، خرابی، بد چلنی، فساد، گمراہی، بد عنوانی، اخلاقی گمراہی ، بے ایمانی و بد دیانتی پیدا ہو جاتی ہے ۔اب ذرا ہم خود ہی سوچیں کہ جس معاشرے میں اتنی خرابیاں ہوں وہ معاشرہ کیسے چل سکتا ہے؟
رشوت اور کرپشن کا مطلب ہے لاقانونیت ، نقص، بگاڑ، خرابی، بد چلنی، فساد، گمراہی، بد عنوانی، اخلاقی گمراہی ، بے ایمانی و بد دیانتی کے ہیں ۔اب ذرا ہم خود ہی سوچیں کہ جس معاشرے میں اتنی خرابیاں ہوں وہ معاشرہ کیسے زند ہ رہ سکتا ہے؟قرآ ن پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ رشوت دینے والا اور لینے والا دونوں جہنمی ہیں ۔اب ذ را ہم خود ہی اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ ہم میں سے کون غلط راہ پر گامزن ہے اور کون درست سمت پر؟بد قسمتی سے آج ہم سبھی مال و دولت اور روپے ، پیسے کی ہوس میں رشوت اور کرپشن کے بازار سجا کر بیٹھ گئے۔ صرف پیسہ اکٹھا کرنے کی غرض اور لالچ میں ہمارے معاشرے میں بے انتہا انسانیت کی تذلیل ہو رہی ہے۔ ایک دوسرے کو لوٹ کھسوٹ کر اپنے اپنے کٹورے بھرنے کی دوڑ لگی ہے۔ہمارے سرکاری و پرائیویٹ اداروں میں انتہا کی کرپشن اور رشوت کا کاروبار ہو رہا ہے۔لیکن ! اپنے اعمال اور قبر کے حساب و کتاب سے غافل ہیں۔میرے دیس میں یہ چیزیں انسان کی پیدائش سے قبر میں دفنانے تک ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔
1۔باالفرض کوئی آدمی بیمار ہو گیا اور ہسپتال لے جائیں تو جب تک وہاں کسی نرس یا ڈاکٹر کو چند روپے نہ تھما دیئے جائیں تو تب تک کوئی بھی ڈاکٹر مریض کا علاج نہیں کرے گا ، نہ ہی سرکاری دوائی ملے گی۔اور اگر کوئی مریض سسک، سسک کر تڑپ ،تڑپ کر مر بھی جائے تو پھر بھی ان انسانیت کے مسیحاؤں کو ذرا بھر بھی فکر اور پرواہ نہیں کیونکہ ان کو تو صرف پیسے سے غرض ہے۔اور اگر کوئی خدا ترس ڈکٹر ہے بھی تو وہ مریض کو دیکھ کر پرچیوں کا پلندہ لواحقین کے ہاتھ میں تھما کر کہے گا یہ فلاں ٹیسٹ فلاں لیبارٹری سے کروانا اور فلاں دوائی فلاں ڈاکٹر سے اور فلاں سیرپ فلاں میڈیکل سٹور سے لانا اور مزید یہ کہ دوائی کے خالص ہونے کی گانٹی نہیں۔
جس رزق سے پرواز میں کوتاہی کا ڈر ہو
وہ رزق اب بڑے شوق سے کھاتے ہیں ہم
2۔ا گر آپ ڈلیوری کیس میں کسی ہسپتال چلے جائیں تو وہاں اِس سے بھی زیادہ انسانیت کی تذلیل کی جا رہی ہے۔کسی سے بھاری رقم لے کر آپکا لڑکا اُن کو تھما کر اُنکی لڑکی آپکی گود میں ڈال دی جائیگی اور آپکا کا زندہ بچہ کسی کو تھما کر آپکو مردہ بچہ تھما دیا جائے گا ۔قابلِ افسوس بات ہے یہ ہمارے لیے کہ ہم لوگ مسلمان ہو کر انسانوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں اور یہ سارا کھیل تماشا دنیا والے دیکھ کر ہمارے بارے کیا سوچتے ہونگے؟3۔ڈاکٹری شعبہ سے ذرا باہر نکلیں تو آپکی رہی سہی کسر وہ ہمارے قبرستان میں بیٹھے گورکن نکال کے رکھ دیں گے ۔ہم تو مر کر بھی اپنے نعرۂ کرپشن کے ہاتھ مضبوط کر جاتے ہیں۔پہلے تو گورکن قبرستان سے نعش نکال کے میڈیکل کالجوں کو بیچ دیں گے اور اگر ان پیسوں سے بھی اُنکا پیٹ نہیں بھرے گا تو کسی کی قبر کھودنے پر لاکھوں کی ڈیمانڈ کر دی جائیگی اور اگر آپ نے پیسے کم دے د یے تو کسی دوسری قبر کا مردہ ٹھکانے لگا کر وہ قبر آپکے نام کر دی جائیگی۔
ہونکو نام جو قبروں کی تجارت کر کے
کیا نہ بیچو گے اگر جو مل جائیں صنم پتھر کے
4۔علم کی دولت پھیلانے والے اب علم بیچ کر پیسہ اکٹھا اور جہالت پھیلا رہے ہیں۔اگر کوئی اپنا بچہ کسی انگلش میڈیم سکول میں داخل کرانے جائے تو اُسے یہ کہا جائے گا کہ یہ کلاس زیادہ فیس اور یہ تھوڑی فیس ادا کرنے والوں کی ہے اور یہ کلاس متوسط طبقہ کے چشم و چراغ کے لیے ہے۔ایسی جگہ پر (میرے جیسے ) غریب آدمی کی کیا مجال کہ وہ پھٹک بھی جائے۔اور سرکاری سکول تو اب ویسے ہی گاؤں بھینسوں کے لیے رہ گئے ہیں اور جس سکول میں ایسی سہولت میسر نہیں تو وہاں گاؤں کے نمبر دار نے اپنا بھُس بھرا ہو گا۔
میرے دیس کے لوگ ایک طرف مہنگائی و بیروزگاری سے تنگ ہیں تو دوسری طرف پرائیویٹ سکولوں کی انتظامیہ نے اِن کی زندگی اور بھی اجیرن بنا دی ہے۔ (سٹی رینالہ خورد)ایک انگلش سکول کے سربراہ نے بچوں کی فیس خود جمع کرنے کی بجائے بچوں کے والدین کو بینک کا رستہ دکھایا ہوا ہے۔غریب عورتیں بیچاری صبح سویرے شہر سےkm 20د ور گاؤں ،دیہاتو ں سے لمبی مسافت طے کر کے وہاں بینک ذلیل ہوتی میں نے خود دیکھی ہیں ۔افسوس...
خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کر دے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تُو
کتاب خواں تو ہے مگر صاحبِ کتاب نہیں
5۔آپ اپنے گھرکے لیے بجلی کا میٹر لگوانے کی غرض سے واپڈا دفتر چلے جائیں تو وہ آپکو اضافی چارجز ،جرمانے،لیٹ فیس اور نجانے کتنے اضافی چارجز سنا کر آپکو وہیں پر ہی بیہوش کر ڈالیں گے ۔ میٹر ریڈر آپکے گھر کے باہر آپکی آنکھوں کے سامنے میٹر کے ہندسے پیچھے گھما کر آپ کو ہزاروں روپے کا جرمانہ کر ڈالیں گے۔پھر آپ میٹر لگوانا ہی بھول جائیں گے۔
6۔۔سوشل سکیورٹی یا ایل ڈی اے کے آفیسر آپکی تیار رہائشی یا کاروباری بلڈنگ کو کسی نہ کسی بہانہ سے تالا لگا دیں گے۔ پھر آپکو زندہ رہنے کی خاطر اضافی ٹیکس و جرمانے بھر نے پر مجبور کر دیں گے اور آپ اپنا تن،من ،دھن سب کچھ بیچ ،بچا کے اُن سے اپنی جان چھڑوائیں گے۔ یہ حال ہے ہمارے سرکاری اداروں میں ملازمت کرنے والوں کا جنکی اولادوں کو بھی علم نہیں یا پھر ہونے کے باوجود بھی وہ نسلیں حرام کھا ،کھا کر پل رہی ہیں اور بے ضمیر ہوچکے ہیں۔ ایسے افراد کی وجہ سے معاشرہ تباہ ہوچکا ہے۔7۔اگر(ہماری طرح) آپ کے ساتھ کوئی فراڈ ہو گیا ہے تو آپ اپنی سچائی پیش کرنے اور اپنا نقصان پورا کرانے کی خاطر کسی تھانے ،عدالت، کسی،جج یا وکیل کے پاس جائیں تو وہاں آپکی خیر نہیں۔آپکی رہی سہی کسر اور عزت بھی چھن جائیگی اور آپکا مکان بھی داؤ پر لگ جائے گا۔وہاں کے منشی،اردلی،چپڑاسی مشوروں اور دھمکیوں سے ہی آپکے ہاتھوں آپکی جیب خالی کروا لیں گے۔اگر آپ نے اُن کی ایک نہ سُنی تو آپکے کپڑے بھی اتر جائیں گے اورآپکی عزتِ نفس سلاخوں کے پیچھے شرمندہ ہوتی ہوئی نظر آئیگی صر ف چند ٹکوں کی خاطر... ہاہ! ہائے ...
8۔mpa,mna,sاور تمام بڑے بڑے سرکاری عہدوں پر فائز حکام اور ذمہ داران کو حکومت کی طرف سے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے جو( بھاری رقم) نازل ہوتی ہے تو یہ سارا پیسہ (قوم کی امانت)یہ لوگ ہڑپ کر جاتے ہیں اور نچلے طبقے تک ذرا بھی سہولت نہیں پہنچتی اور عوام بیچاری ان اداروں کے پیدا کردہ مسائل کی وجہ سے نفسیاتی مریض بن گئی۔
مجھے دکھ ہوتا ہے دیکھ کر دیس کے ویرانوں کو
مجھے دکھ ہوتا ہے دیکھ کر بیچارے پاکستانیو ں کو
الغرض!ہمارے تمام سرکاری و پرائیویٹ اداروں میں جتنی انسانیت کی تذلیل اور بے حُرمتی ہو رہی ہے ایسا اور کہیں بھی نہیں ہوتا۔ہم لوگ صرف پیسے کی ہوس میں قوانین و ضوابط کی دھجیاں اُڑا رہے ہیں۔ہم بغیر پیسے کسی بھی فرد کا کوئی بھی کام کرنے کو تیار نہیں۔ اگر ہماری آنکھوں کے سامنے کسی بیچارے کی تڑپ ،تڑپ کر جان بھی نکل جائے تو ہم تب بھی اُس کی مدد کرنے کو تیار نہیں ہوتے جب تک ہماری جیب گرم نہیں ہو جاتی۔افسوس!...ہم کیسے بے حس اور بے عقل لوگ ہیں ۔
ہمارے حکمران، منتظمین اور سرکاری و پرائیویٹ ادارے اپنی عیش پرستیوں ور اپنی ا تھارٹیوں کے اضافوں میں مشغول ہیں ،ہر سو افرا تفری کا عالم ہے، نوجوانوں نے کتابوں کی جگہ کلاشنکوف تھام لی ، ہر آنکھ اندھی ہو چکی ، ہر کان بہرا ہو چکا ، ہر زبان گونگی ہو چکی ، ہر دماغ ماؤف ہو چکا ، ہر دل نے دھڑکنا چھوڑ دیا ،ہر ضمیر بے ضمیر ہو چکا ، غیرت ختم ہو چکی...تو بقایا ہمارے پاس کیا بچا؟آج ہم سب نے پیسے کی ہوس و لالچ میں اپنا معاشرہ بے پناہ برائیوں سے بھر لیا....کیا ہم دنیا کو منہ دکھانے کے قابل ہیں؟لہٰذا! آج ہمیں اپنی اِس ناقص سوچ اور لالچی ہوس پر قابو پانے کی اشد ضرورت ہے۔فیصلہ آپکا؟
نابینا جنم لیتی ہے اولاد بھی اُس کی
قوم جو دیا کرتی ہے تاوان میں آنکھیں

No comments:
Post a Comment