بے بسی اور بے حسی کی انتہا ؟؟؟
میرے ہم وطنو!میرے دیس میں انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے غربت ،بھوک،افلاس،بیروزگاری،قتل و غارت اور دہشتگردی عروج پر ہے ۔ عوام نفسیاتی مریض بن کر رہ گئی۔ہر طرف افرا تفری کا سماں ہے،کسی شخص کو کسی دوسرے کی خبر نہیں،بلکہ ہر شخص اپنے آپ سے بھی ناواقف و اجنبی بن چکا ہے۔ آج کے اِس مشینی دور میں صنعتی انقلاب نے انسانیت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ سماجی ڈھانچے بدل گئے۔ انسان اپنے اعلیٰ جوہر یعنی خلوص و محبت اور مہرو وفا سے رشتہ توڑ کر مادہ پرست بن گیا۔پیسے کی ہوس اور مادی ترقی نے اس کی آنکھیں اس طرح چندھیا دی ہیں کہ انسانیت کا احساس و احترام ختم ہو کر رہ گیاہے ۔مصروفیت اِس قدر بڑھ گئی کہ ایک انسان دوسرے انسان سے بہت جلد دور ہو گیا... جس کی وجہ سے انسانی زندگی میں مایو سی و بے چینی اور بے اطمینانی سے بھر گئی اور بیکاری پھیل گئی ہے جس نے انسان سے جینے کا حق چھین لیا ہے۔ صرف مادی ترقی کا دیوانہ انسان خوش نہیں رہ سکتا۔ خوشی ایک ایسی کیفیت ہے جسے دولت سے خریدا نہیں جا سکتابلکہ سچی خوشی تو یہ ہے کہ انسان آپس میں سچی محبت سے پیش آئیں۔سچی خوشی کسی کو خوش کر کے بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔
آج ہمارے سرکاری و پرائیویٹ ادارے اپنی عیش پرستیوں ور اپنی ا تھارٹیوں کے اضافوں میں مشغول ہیں ،ہر سو افرا تفری کا عالم ہے، نوجوانوں نے کتابوں کی جگہ کلاشنکوف تھام لی ، ہر آنکھ اندھی ہو چکی ، ہر کان بہرا ہو چکا ، ہر زبان گونگی ہو چکی ، ہر دماغ ماؤف ہو چکا ، ہر دل نے دھڑکنا چھوڑ دیا ،ہر ضمیر بے ضمیر ہو چکا ، غیرت ختم ہو چکی...تو بقایا ہمارے پاس کیا بچا؟
دورِ جدید کی روشنی نے کر دکھائے دو کام
گھر کو روشن ، دل میں اندھیراکر دیا
ہمارے منتظمین نے اِس ملکِ پاکستان کو تمام تر سہولیات سے نوازنے اور اِسے اسلامی دنیا کی عظیم ریاست بنانے کی بجائے اپنی جنت بنا لیا...اور رعایا بیچا ی کو مسائل میں جکڑ دیا ۔ آ ج میں اپنے ارد گرد کیا دیکھتا ہُوں کہ میرے دیس میں بجلی،گیس کی لوڈ شیڈنگ ہے، پٹرول اور اشیائے ضرورت سستے داموں دستیاب نہیں ہیں اور بیروزگاری انتہا کو ہے ۔ہر شخص پریشان حال دکھائی دیتا ہے۔کسی کو ملازمت نہیں ملتی تو کسی کا اپنا کاروبار نہیں چل رہا۔ہر شخص مسائل میں جکڑا ہوا ہے۔ہر کوئی اپنی دو وقت کی روٹی کے چکروں میں دن رات اپنے اپنے کام میں مشغول ہو کر رہ گیا ۔لیکن! کسی کو ذرا بھی فرصت نہیں کہ کوئی اپنے آس پاس بھی کچھ دیکھ سکے کہ معاشرے میں کیا ہو رہا ہے؟کس غریب بیچارے کے ساتھ کیابیت رہی ہے ...؟کون کس کو لُوٹ کھسوٹ رہا ہے...؟کون کس کی بے بسی کو اپنا ہتھیار بنا کر مزے کے دن گزار رہا ہے...؟کون پیسے کی ہوس میں دوسروں کی گردنیں کاٹ رہا ہے...؟کسی کو کچھ معلوم نہیں۔
اور کوئی بیچارہ میری طرح (خاندان کا بوجھ )لیے ہر رات بھوکے پیٹ ہی سو جاتا ہے... (2012) میں اک شخص ہمیں اعتماد میں لے کر ہمارالاکھوں کا کاروبار تباہ کر گیا... فیملی اپنے گھر سے محروم ہو کر کرائے کے مکانوں میں خوار ہو رہی ہے ... بڑے بھا ئی کو ( جیل)ہو گئی .. .ہمارے سر پہ لاکھوں کا قرضہ ہے ... اپنے ذاتی کاروبار سے محروم ہو کر تعلیم چھوڑ کر پرائیویٹ ملازمت کر کے (لاکھوں کا قرضہ) اُتار نے کی کوشش کر رہے ہیں .. . لیکن! پھر بھی ایک سچے اور پکے مسلمان کی حیثیت سے صبر و شکر کے ساتھ دن گزاررہے ہیں...
تنکا تنکا چُن کر ہم نے ایک آشیاں بنایا تھا!
چھوٹے چھوٹے خوابوں سے اپنا جھونپڑ سجایا تھا!
ہماری کُل کائنات؟؟؟
ایک میلی چادر،کچھ پُرانے کپڑے !
ایک ٹپکتی چھت اور اُکھڑی دیواریں ہیں!آج جن کے پاس دولت ہے وہ بے حس ہو کر جی رہے ہیں اور اپنی عیاشیوں میں مشغول ہیں اور ہمارے حکام اپنے، اپنے کٹورے بھرنے کی دُھن میں دن رات مگن ہیں ... کوئی سُود ،بھتہ خوری، رشوت اور کرپشن کے بازار سجا کر بیٹھ گئے.. .تو کوئی زیادہ سے زیادہ پیسہ اکٹھا کرنے کی خواہش میں (چوبیس گھنٹے) مصروف ہیں... کوئی جگہ ،جگہ کاروبار پھیلانے میں مصروفِ عمل ہیں .. . تو کوئی لوگوں کو لُوٹ کھسوٹ کر راتوں رات امیر بننے کے سہانے خواب دیکھ رہے ہیں ... کوئی دنیا کی رنگینی میں کھو کر بے حسی کی نہج پر زندگی گزار رہے ہیں ...تو کوئی بیچارے فاقوں پر ہی جی کر بے بسی کے دن گزار رہے ہیں...آج میرے دیس میں ایک طرف بے بس لوگ مایوسی ،ناامیدی اور احساسِ کمتری کے سائے تلے پل رہے ہیں تو دوسری طرف بے حس لوگوں کی کھیپ پروان چڑھتی جا رہی ہے...ہاہ!ہائے!
دوستو !صرف پیسہ اکٹھا کرنے کی غرض اور لالچ میں ہم نے اپنا معاشرہ بے انتہا برائیوں سے بھر لیا۔ ہمارے معاشرے میں انسانیت کی تذلیل ہو رہی ہے ۔سرکاری و پرائیویٹ اداروں میں زندگی سے وابستہ تمام شعبوں میں بے حِسی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ میرے دیس میں یہ چیزیں انسان کی پیدائش سے قبر میں دفنانے تک ساتھ ساتھ چل رہی ہیں۔لیکن ! آج کا غافل انسان اپنے اعمال، قبر کے حساب و کتاب اور آخرت کے انجام سے کس قدر غافل ہے ۔
میرے پاکستانی بھائیو !ہمارا دین سلامتی کا دین ہے۔جہاں سب کو مساوی حقوق میسر ہیں۔جو محبت و روادار ی کا درس دیتا ہے۔جہاں حقوق العباد کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔لیکن!افرا تفری ، انتشار ،خود غرضی،ہوس و لالچ اور دولت و اقتدار کے نشے نے ہمیں اپنے فرائض کی ادائیگی سے کوسوں دور کر ڈالاہے ۔اور آج اِنہی جذبات کی موج انسانیت کے پرخچے اُڑا رہی ہے۔لہٰذا!اِن جذبوں کو پھر سے جگانے کی اشد ضرورت ہے۔سسکتی انسانیت کو سہارا دینے کی بھر پُور کوشش کیجئے ، لاچاروں کی داد رسی کیجئے ، خدا کے بندوں کا حق ادا کرنے کی بساط بھر کوشش کیجئے،انسانی جذبوں سے بھر پُور ایک خوبصورت معاشرہ ا پنی حقیقی تعمیر نو کا منتظر ہے۔
زمانہ پھر منتظر ہے نئی شیرازہ بندی کا
بہت ہو چکی اجزائے ہستی کی پریشانی

No comments:
Post a Comment