Monday, 4 July 2016

کیا آپ حج پر جانے کا ارادہ رکھتے ہیں؟

کیا آپ حج پر جانے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ 

حج کا مہینہ قریب آرہا ہے اور دل میں حج کی تڑپ رکھنے والے حج کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ اللہ تعا لیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے وارنا مناسکنا (البقرہ) ترجمہ : اور ہمیں ہمارے حج کے احکام بتادیجئے اور حضور نبی کریم ﷺ کا ارشادگرامی ہے خذواعنی مناسککم۔ ترجمہ: مجھ سے حج کے مناسک سیکھ لو:حج اورعمرہ کے مناسک سیکھنا قرآن و حدیث سے ثابت ہے تو پھر حج اور عمرہ سیکھ کر جانا ہمارے لیے فرض اور واجب ہو جاتا ہے ۔حج ا سلام کے پا نچ بنیادی ارکان میں شامل ہے لیکن ہمارے نصاب تعلیم میں اس بارے میں کوئی مضمون وغیرہ نہیں رکھا جاتا ۔ حالانکہ چاہیے تو یہ کہ جس طرح ابتدا ئی تعلیم سے ہی کلمہ ، نماز ، روزہ اور زکوٰۃ کے بارے میں بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے اسی طرح حج و عمرہ کے بارے میں آگاہی ہونی چاہیے۔حج اور عمرہ پر جانے والے اللہ تعالیٰ کے مہمان ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کے حج اور عمرہ کے لیے میرے گھر آؤ پچھلے گنا ہوں کی توبہ اور معافی مانگو اور آئندہ زندگی اللہ اور اسکے رسولﷺ کی تعلیمات پر چلنے کا وعدہ کرو تو میں تم کو اسی وقت ایسے واپس بھیجوں گا جیسے بچہ با لکل معصوم اور گناہوں سے پاک پیدا ہو تا ہے اللہ تعالیٰ نے ہماری زندگی میں ہی اپنے گناہ معا ف کروانے کا موقع دے دیا ہے اور ہمیں اس کا بھرپور فائدہ اٹھا نا چاہیے جب آپ حج کر کے واپس آئیں تو آپکو اپنے اندر اور دیکھنے والوں کو بھی آپکے اندر ایک واضح تبدیلی نظر آنی چاہیے کہ یہ اللہ کا بندہ حج کر کے آیا ہے تو یہ پہلے جیسا نہیں ہے اسکے قول و فعل میں کچھ تبدیلی نظر آرہی ہے اور یہی آپکے حج کی قبولیت کی نشانی ہے لیکن اگر بندہ جس طرح گیا تھا ویسا ہی واپس آگیا جو کام پہلے کرتا تھا واپس آکر بھی وہی کام کر رہا ہے تو پھر ایسے حج کا کوئی فائدہ نہیں ۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی باقی ماندہ زندگی میں اللہ اور اسکے رسولﷺ کی تعلیمات پرعمل کریں اور انکی خوشنودی حاصل کریں اور اپنے حج کوحج مبروربنایں۔
حج کی عبادت روز مرہ کی عبادت نہیں ہے اس لیے عام طور پر لوگوں کو اس بارے میں کوئی علم نہیں ہوتا روز مرہ کی عبادات نماز ، روزہ اور زکوٰۃہے اس کے بارے میں سب کو علم ہوتا ہے لیکن حج ہزاروں کلو میٹر دور سعودی عرب میں جا کر ہوتا ہے اس لیے عام طور پر لوگو ں کو اس بارے میں زیا دہ پتہ نہیں ہوتا ۔ حج پر جانے سے پہلے دنیاوی اغراض اور مباہات سے دور رہیں۔ نما زپنجگانہ بروقت اور با جماعت اداکریں اور لوگوں کے ساتھ اخلاق حسنہ سے پیش آئیں۔ گناہوں اور نافرمانیوں سے توبہ کریں جو گناہ سر زد ہو چکے ہوں ان پر شرمسارہوں اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا وعدہ کریں۔ لوگوں کے حقوق لوٹا دیں ، ناراض لوگوں کو راضی کرلیں،دل کی کدورتیں اور نفرتیں صاف کر لیں۔ کسی کا دل دکھایا ہو تو اس سے معافی طلب کریں تمام گناہوں سے دور رہیں۔ اپنے حج کیلئے حلال اور پاک مال میں سے خرچ کریں۔ کہ اللہ تعالیٰ پاک چیزوں کو پسند فرماتا ہے اور قبول فرماتاہے۔ جھوٹ سے پرہیز کریں ،غیبت سے بچیں اور بغیر علم کے کوئی دینی بات نہ کہیں اور یہ سوچیں کہ آپ کس کے در پر حاضری دینے جا رہے ہیں آپ کو اپنے گھر کس نے بلایا ہے ۔حج کرنے والوں پر لازم ہے کہ وہ حج پر جانے سے قبل اللہ تعالیٰ کے گھر کی حاضری کیلئے مکمل تیاری کریں اپنا ذہن تیار کریں حج کے احکامات اور مناسک سیکھیں۔ حج کے متعلق لٹریچر کا مطالعہ کریں۔حج تربیتی پروگراموں میں زیادہ سے ز یادہ شرکت کریں۔ پیدل چلنے کی عادت ڈالیں کیونکہ دوران حج بہت زیادہ پیدل چلنا پڑتا ہے اور اگرپیدل چلنے کی عادت نہ ہوگی تو وہاں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔۔ حج پر جانے کے لیے احرام ، کپڑے ، جوتے اور بیگ وغیرہ خریدنا کوئی تیا ری نہیں ہے اصل تیاری وہ ہے کہ جو عبادت آپ نے وہاں جاکراداکرنی ہے اسکے متعلق آپکو مکمل معلومات اور آگاہی ہونی چاہیے حج کے فرض اورواجبات کا علم ہونا چاہیے۔ اگر باقی کاموں مثلا رہائش، سفر ، اور کھانے پینے میں کچھ کسر رہ جائے تو اس کا کوئی حرج نہیں ہے لیکن حج کے منا سک کی ادا یگی میں کوئی کمی نہیں ہونی چاہیے۔ عمر رسیدہ،بیمار اور معذور افراد اپنے ساتھ کسی معاون کو ضرور لیکر جائیں اور اولاد اپنے بوڑھے والدین کو ہرگز اکیلے حج پر روانہ نہ کریں ایسے لوگ دوران سفر اور دوران حج خود بھی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں اور اپنے گروپ کے دیگر افراد کیلئے بھی پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔ہمارے ہاں یہ رواج عام ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد اولاد اپنے والدین کو حج کیلئے اکیلے ہی روانہ کر دیتی ہے اور ایسے لوگ حج کے مناسک اور ارکان بھی صیحح طورپر ادا نہیں کر پاتے اور اسطرح انکا حج ناقص رہ جاتا ہے اور حج کا فریضہ بھی ادا نہیں ہوتا۔

No comments:

Post a Comment