Friday, 1 July 2016

’’غیر تربیت یافتہ‘‘ اور ’’اَن پڑھ‘‘پولیس

’’غیر تربیت یافتہ‘‘ اور ’’اَن پڑھ‘‘پولیس...

عراق پر خلیفہ مامون الرشید کی موت کے بعد اُسکا بھائی (معتصم بااللہ)38سال کی عمر میں تخت نشیں ہو ا۔رعایا میں کسی کو بھی یہ اُمید نہ تھی کہ وہ نوجوان اِتنی بڑی سلطنت کا خلیفہ بن جائے گا۔لیکن!(معتصم بااللہ) بہادر ،بڑا منتظم،ذمہ دار، محبِ و طن ،عوام دوست اور نرم مزاج ثابت ہوا۔معتصم خوش قسمت نکلا کہ اُسکو ایک اعلیٰ، عقلمند اور سمجھدار وزیر(محمد بن عبدالمالک) مل گیا۔جس نے خلیفہ کے ساتھ مل کر رعایا کی زندگی میں انقلاب برپا کر دیا۔خلیفہ نے اپنے بھائی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ایسے کارنامے سر انجام دیئے کہ رعایا اُس سے راضی ہو گئی۔
1۔سب سے پہلے زراعت پر زور دیا۔ وہ جانتا تھا یہی شعبہ ملک کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے۔
2۔صنعتوں کو فروغ دیا۔مسائل کم کر کے وسائل پیدا کیے۔ نوکریوں کے مواقع پیدا کیے جس سے نوجوان خوش ہو گئے۔
3۔مہنگائی پر قابو پایا جس سے رعایا خوشحال ہو گئی۔
4۔قانون کو سب کے لیے برابر کیا۔چھوٹا،بڑا،امیر،غریب سب کو انصاف ملتا۔کسی کے ساتھ ذرا برابر بھی بے انصافی نہ ہوتی۔
5۔سرکاری اداروں میں پڑھے ،لکھے محبِ وطن اور ذمہ دار نوجوان بھرتی کیے۔
6۔رعایا کی جان و مال اور حفاظت کو یقینی بنایا۔وغیرہ
میرے ہم وطنو! اُس نوجوان سے ایک غلطی سر زد ہوئی جس سے ملک میں ہماری طرح لوٹ مار ،بے انصافی،قتل و غارت وغیرہ جیسی فضا قائم ہو گئی۔اُس نے ترک سے ’’غیر تربیت یافتہ‘‘ اور ’’اَن پڑھ‘‘پولیس کی بھرتی کر لی اور خود اپنے محافظ دستے میں بھی چار ہزار(تُرک) بھرتی کر لیے۔وہ (تُرک) سپاہی بڑے منہ چڑھے،باتمیز اور غیر مہذب تھے۔ جب وہ سپاہی محل سے اپنی نوکری سے فارغ ہوتے تو شہروں،دیہاتوں میں نکل جاتے۔بازاروں میں عوام کو تنگ کرتے،چھیڑ تے،خرمستیاں کرتے اور گھوڑے دوڑاتے۔ جس سے چھوٹے ،چھوٹے بچے نیچے آکر زخمی ہو جاتے یا مر جاتے۔شروع شروع میں تو( اہلِ بغداد) نے اِن نا زیبا حرکتوں کو برداشت کیا۔لیکن!جب پانی سر سے گزر گیا توعوام نے اُن سپاہیوں کو گھیرے میں لے کر گھوڑوں سے اُتار کر سزائیں دینا شروع کر دیااور خود کو پولیس سسٹم کا غلام بننے سے بچا لیا (جیسے آج میرے دیس کے لوگ غلامانہ اور بے بسی کی زندگی جی رہے ہیں)۔
سپاہیوں نے محل میں جا کر( خلیفہ )کو شکایتیں لگانا شروع کردیں کہ عوام ہمیں تنگ کرتے ہیں۔لیکن! خلیفہ نے سپاہیوں کی ایک نا سُنی اور اپنے کام میں مشغول رہتے۔پھر کیا ہوا کہ (تُرک)سپاہوں نے بھی عوام کو تنگ کرنا شروع کر دیا۔ بچے ،خواتین اور نوجوان لڑکیوں کوجب مر ضی اُٹھا کر لے جاتے اور اُنکے ساتھ بُرائی کرکے اپنی ہوس پوری کرتے۔جب جس چوراہے پر مرضی عوام کو لُو ٹ کھسوٹ لیتے۔جب مرضی کسی کو ڈرا دھمکا کر اپنی مرضی کے کام کروا کر اپنی شیطانی خواہشات پوری کرواتے۔لیکن! خود خلیفہ اِن واقعات سے ناواقف تھے۔(جیسے آج ہمارے ادارے عوام کو ذلیل و خوار کر رہے اور ہمارے حکمران بے فکر اور لاپرواہ ہیں...)۔
ایک دفعہ عید کا دن تھا۔خلیفہ( معتصم بااللہ) نمازِ عید سے فارغ ہو کر (محل) کی طرف جا رہے تھے کہ عوام کے ایک بڑے ہجوم نے اُنکا رستہ روک لیا۔(ترک)سپاہی آگے بڑھ کر عوام کو بھگانے لگے (جیسے ہمارے ہاں ہوتا ہے)تو خلیفہ نے اُنکو روک دیا اور خود عوام کے درمیانچلے گئے۔ہجوم سے ایک بوڑھا شخص آگے نکلا اور خلیفہ کو مخاطب کرتے ہوئے زور دار الفاظ میں بولا۔
(خلیفہ!آپ نے اِن درندوں اور ظالم وحشیوں کو ہمارے بیچ لا بسایا۔جبکہ ہمیں اِن کی ضرورت نہیں۔اِنکی وجہ سے ہمارا معاشرہ مسائل کا شکار ہو کر رہ گیا ہے۔ہمارے کئی بچے یتیم اور عورتیں بیوہ ہو گئی ہیں۔ہماری نوجوان بیٹیاں،دوشیزائیں اغواہ ہو گئی ہیں۔یہ ظالم درندے اُنکے جسموں سے کھیلتے ہیں۔ہمارے گھروں سے سامانِ ضرورت لُوٹ کھسوٹ کر لے جاتے ہیں۔جب سے آپ نے یہ (جاہل سپاہی) بھرتی کیے ہیں ہماری زندگیاں عذاب بن گئی ہی۔ہم اپنے اصل مقصدِ زندگی سے ہٹ کر رہ گئے ہیں۔ آپ کیسے خلیفہ ہیں کہ آپکو رعایا کا احساس تک بھی نہیں۔خلیفہ کی ہمسائیگی تو رعایا کے لیے’’ باعثِ رحمت ‘‘ہوتی ہے،مگر آپکی ہمسائیگی تو ہمارے لیے’’ باعثِ زحمت ‘‘بن کر رہ گئی۔)
(خلیفہ )بزرگ کی باتیں سُن کر سناٹے میں آگئے اور اُن پر لرزہ طاری ہو گیا۔اگر خلیفہ چاہتے تو (ہمارے بے حِس حکمرانوں کی طرح ایک معمولی سا اِشارہ کر کے اُس بزرگ کا سر قلم کروا دیتے)لیکن!کیا تھا کہ خوفِ خد ااُن مسلمان حکمرانوں کی رَگ رَگ میں بسا تھا۔وہ حکمران خود کو عوام کے سامنے عدالت میں پیش کر دیتے تھے ۔ خلیفہ نے اُس بزرگ سے معافی مانگی اور فوراََ اُن سپاہوں کو سخت سزائیں دیں اور کسی کو نوکریوں سے فارغ کر دیاتو کسی کو دور دراز خالی علاقوں کی چھاونیوں میں منتقل کر دیا۔تو اِس طرح ہر طرف امن وسکون قائم ہو گیا اور رعایا نے سکھ کا سانس لیا۔ 
تقدیر کے پابند نبادات و جمادات
مومن فقط احکامِ الٰہی کا پابند
میرے پاکستانی بھائیو!آج ہمارے معاشرے میں امن کیوں نہیں ...؟کیونکہ ہمارے حکمرانوں کو اقتدار کا نشہ...مال و دولت اور پیسے کی گھٹیا ہوس.. . نے اِس قدر بے حِس اور مُردہ ضمیر بنا دیا ہے کہ اِنہیں تو اپنی آخرت کے بھیانک ترین انجام کی بھی ذرا بھر پرواہ نہیں رہی ...تو یہ رعایا کی کیا خبر لیں گے ؟ ؟ ؟ ہمارے حکمرانوں کی اِس بے حِسی کی وجہ سے ہمارا پولیس کا نظام صحیح نہیں ہے۔ اقتدار کی کرسی پر قابض حکمرانوں نے’’غیر تربیت یافتہ ‘‘اور ’’اَن پڑھ ‘‘ پولیس فورس تیار کر لی ۔ کالی وردیاں پہنا کر ،ہاتھوں میں ڈنڈے اور بندوقیں تھما کر سارا نظام اپنے قبضے میں لے لیا۔ کسی بیچاروں کو سڑکوں پہ دھوپ میں خوار ہونے کے لیے کھڑا کر دیا تو کسی سے قتل کروا کر اُن بیچاروں کو گنہگار ٹھہرا دیا اور خود بری الذمہ ... ایک طرف پولیس کا سیاسی اِستعمال ہے تو دوسری طرف جانوروں کی طرح کھلم کھُلا چھوڑ دیا کہ جاؤ’’ بندوق اور ڈنڈے کے زور‘‘ پر عوام کی جان ومال لُوٹ کھسوٹ کر لاؤ... خود بھی مال بناؤ...ہمیں بھی دو ...خود بھی حرام کھاؤ...ہمیں بھی کھلاؤ...خود بھی گناہ کماؤ...ہمیں بھی گناہ کا مرتکب ٹھہراؤ...خود بھی رعایا کی بددعائیں لو...ہمیں بھی لینے دو...خود بھی خدا و رسول ﷺ کی نا راضگی اور عذاب حاصل کرو...ہمیں بھی حاصل کرنے دو... 
باغبان نے جب ہوا دی آشیانے کو میرے!
جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے...پاکستانیو ! یاد رکھو! جس ملک پر کرپٹ، بے ضمیر حکمران قابض ہو جائیں تو وہاں کا نظا م کبھی درست نہیں ہو سکتا ۔جیسے آج ہمارے اُوپر قابض حکمرانوں نے پولیس کے کندھوں پر بندوق تان کر اپنی من مانی کے کام کروا کر سارا کا سا را نظام درہم برہم کر دیا۔اِن حکمرانوں نے پہلے دن سے قانون،دولت،طاقت،پیسہ اور قلم کاہیر ،پھیر ،ناجائز اور غلط اِستعمال اور اوپر سے لے کر نیچے تک شاہانہ پروٹوکول کا کلچر پیدا کر کے ملک کا تمام نظام تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔جس وجہ سے آج میرے دیس میں ہر طرف لوٹ مار...ہلچل ...بے چینی وبے سکونی ...اُکتاہٹ ...بیزاری... مایوسی ...پریشانی... اور افراتفری کا عالم ہے۔اِنکو اقتدار پہ قابض رہنے کا بہت شوق ہے۔من مانے حکم جاری کرنا...مخالفین کو زیر کرنے کی گھٹیا... اور ناپاک کوشش کرنا...اپنے ہی دیس کے لوگوں کی موت کا تماشہ دیکھنا ...مخالفین کو جیلوں میں پھینک کر اُنکی غیر موجودگی میں اپنے بُرے دھندوں کو پروان چڑھانا تو ہمارے حکمرانوں کا شیوہ اور آبائی پیشہ ہے...؟
تمہیں آباء سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی
کہ تُو گفتار ،وہ کردار،تُو ثابت وہ سیارہ
ہمارے ملک میں محکمہ پولیس کا نظام دیکھ کر رشوت،کرپشن،سود،بھتہ و حرام خوری کا زہر بھرا چسکہ باقی بھی تمام اداروں کے تمام ملازمین کے جسموں کو دیمک کی طرح لگ چکا ہے ... تمام اداروں میں’ اَن پڑھ اور بے عقل ‘افراد آرام دہ کرسیوں پر بڑے مزے سے خراٹے لے رہے ہیں۔ اِس وجہ سے تمام اداروں نے ملک کا تمام نظم و نسق تباہ و برباد کر کے رکھ دیا اور رعایا بیچاری در، در کے دھکے، ٹھڈے کھانے پر مجبور ہے۔ اوپر بیٹھے منتظمین لاپرواہ اور غافل ہو کر اپنی آخرت تباہ کیے بیٹھے ہیں۔ ذرا ا ک لمحہ کے لیے سوچیں تو ؟کیا ہم رہتی دنیا تک ایسے ہی غلیظ اور ناپاک زندگی گزاریں گے؟کیا ہم نے مرنا نہیں؟کیاہم نے اپنی ،اپنی قبر میں اپنے کرتوتوں کا حساب چکانا نہیں ؟کیا ہم ایسے ہی بغیر حساب کتاب کے بخشے جائیں گے؟نہیں میرے بھائیو!ایسا نہیں !آپ اِس دنیا میں جو کچھ بو ئیں گے، وہی آخرت میں کاٹیں گے...جس نے دنیا میں کسی پر ظلم و ستم کیے ، ناجائز کو جائز کیا،امانت میں خیانت کی تو اُسے روزِ قیامت سخت حساب چکانا پڑے گا.. . لہٰذا!بہتر یہی ہے کہ ہم اپنے گریبان میں جھانکھیں اوربحیثیت مسلمان اپنی، اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں؟
آج ہم سب کو بحیثیت مسلمان اور پاکستانی شہری اپنی ،اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنے اور باالخصوص محکمہ پولیس کے گلے سڑے نظام کو جڑ سے درست کر نے ،پڑھے،لکھے،ذمہ دار،باشعور،سلجھے ہوئے افراد کو بھرتی کرنے اور رعایا کے لیے امن وسکون برپا کر کے دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔فیصلہ آپکا؟
اُسکی تقدیر میں محکومی و مظلومی ہے
قوم جو کر نہ سکی اپنی خودی سے انصاف

No comments:

Post a Comment