قومیں تعلیم سے بنتی ہیں...
سچ تو یہ ہے کہ( قومیں تعلیم سے بنتی ہیں ) جس قوم کو تعلیم نہیں دی جاتی وہ بھٹک جاتی ہے،گمراہ ہو جاتی ہے،زندگی کے حقیقی مقصد سے اوجھل ہو جاتی ہے ۔ ذہنی و جسمانی طور پر مفلوج،اپاہج ،بے عقل ،جاہل اور غلام قوم بن جاتی ہے۔جیسے آج ہم ہیں۔ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ پاکستان آزاد ہوتے ہی نا اِہل ،اَن پڑھ اور ظالم حکمرانوں کے ہتھے چڑھ گیا جس وجہ سے یہاں کا نظم و ضبط اور سارا نظام تباہ و برباد ہو گیا۔ اَن پڑھ لوگوں کو تمام سرکاری اداروں میں بھرتی کر کے ملک کا سارا نظام چند عیاش ترین لوگوں نے اپنے قبضے میں لے لیا او ر ملک کو حقیقی راہ سے ہٹا دیا۔جس ملک کا صدر،وزیرِ اعظم تمام کابینہ اور وزیرِ تعلیم خود اَن پڑھ اور جعلی ڈگری یافتہ ہو اور جس ملک کا تعلیمی بجٹ ہی صرف (ایک،دو فیصد) رکھا ہوا ہو تو ایسا ملک کیا خاک ایک قوم بنے گا جسکو تعلیم جیسے قیمتی زیور سے ہی کوسوں دور پیچھے ہٹا دیا گیا ہو؟؟؟
میرے ہم وطنو!آپ اپنا موازنہ دنیا کی تعلیم یافتہ، ترقی یافتہ اور مہذب قوموں سے کر کے دیکھ لیں۔دور نہ جائیں اپنے پڑوسی (چین)ہی کو دیکھ لیجئے۔جسکو قوم کو ساری دنیا افیمی،چرسی،سگریٹ نوشی اور پاگل قوم کے نام سے پکارتی تھی تو آج آپ دیکھیں وہ قوم کہاں کھڑی ہے۔دنیا کی سپر پاور طاقتیں بھی اُسکی محتاج ہیں۔وہ کیوں؟کیونکہ اُس قوم کو( اعلیٰ لیڈر )مِل گئے جنہوں نے اپنے دیس کو (اعلیٰ تعلیم) سے لیس کر کے ایک سکول ،ایک تعلیم،ایک زبان،ایک رنگ،ایک لباس، اور ایک قانون دے کر اپنے دیس کے لوگوں کو ایک یکجا، مضبوط اور محبِ وطن قوم بنا دیا اور ہمیں اعلیٰ لیڈر کی بجائے (اعلیٰ گیدڑ) مِل گئے جنہوں نے اِس ملک کی غیور اور محبِ وطن عوام کو ایک سازش کے تحت تعلیم سے دور رکھ کر گمراہ کر کے تفرقوں میں بانٹ کر غیر ذمہ دار ،کاہل اور ست قوم بنا کر اپنا غلام بنا لیا ۔
قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
جذبِ باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیں
(جاپان)کو دیکھیں جو جنگی تباہی سے نکل کر کیسے دنیا کا ترقی یافتہ اور محفوظ ملک بن گیا؟اُسنے اپنی بربادی کے بعد صرف اور صرف ایک ہی ہتھیار اپنایا جس سے وہ ملک دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو گیا اور وہ ہتھیار تھا (اپنی زبان)۔جاپان نے اپنی زبان کو ترک نہیں کیا اور خود کو تعلیم سے لیس کر کے دنیا میں اپنا نام روشن کیا۔ آج جاپان نے سو سال کی ایڈوانس ترقی کر لی ہے ۔(برطانیہ) کو دیکھ لیجئے۔تعلیم یافتہ ،تہذیب یافتہ اور مہذب قوم کیسے بنا؟کیونکہ اُنہیں اعلیٰ لیڈر مِلے۔ جنہوں نے تعلیم پر کام کیا اور اپنے لوگوں کو ایک قوم بنایا۔ایک سکول ،ایک قانون،ایک رنگ،ایک لباس،ایک زبان پر یکجا کیا۔
(تُرکی ،ایران اور ملائشیاء ) کا نظام اعلیٰ ،صاف،شفاف،مضبوط اور اِنصاف پر مبنی ہے۔وہاں نہ جھوٹ کی عادت،نہ ہیرا پھیری،نہ ملاوٹ کی عادت،نہ ٹیکس چوری،نہ فضول رسم و رواج نہ فضول خرچی۔ ہمیں بھیَ (ستر)برس ہو گئے آزاد ہوئے لیکن!ہم نے(بحیثیت پاکستانی) عملی نمونہ بن کر آگے بڑھنے کی بجائے خود کو پہلے سے بھی زیادہ تر گمراہ قوم بنا کر دنیا میں بدنام کر لیا۔ دنیا جہان کی تمام گھٹیا اور کمینی حرکتیں آج ہم نے خود میں پیدا کر لی ہیں۔
ایسا کیوں ہوا ؟کیونکہ ہمارے حکمرانو ں نے (اقتدار پرقابض رہنے کی خاطر )ہمارے ساتھ بھلا کیا چال چلی؟ہمیں جاگ پنجابیجاگ،سندھو دیش،پختونستان اور عظیم بلوچستان کا نعرہ دے کر ٹکڑو ں ،ٹکڑوں میں بانٹ کے رکھ دیا اورصوبوں پر اپنی،اپنی اجارہ داری قائم کر لی۔ دنیا کے عظیم لیڈر ،عظیم انسان ہمارے نبی پاک ﷺ ، خلفائے راشدینؓ ،قائدِ اعظم ؒ اور علامہ اقبالؒ کی پختہ سوچ ،حقیقی تعلیمات ،حقیقی نظریات ہمارے سلیبس سے نکال کر عا شقانہ شاعری، پرانے قصے ،کہانیاں ڈال کر خالی ڈھا نچہ کھڑا کر کے قوم کو کھوکھلا تعلیمی سلیبس دے دیا بس۔ جس وجہ سے آج ہم ایک قوم نہ بن سکے اور ذات،پات،نسل پرستی،رنگ،لباس اور زبانوں کی تقسیم میں بٹ گئے۔ہم ایک (کلمہ) کی بنیاد پر معرض وجود میں آئے ۔لیکن!اپنی ،اپنی،ذات اور اپنے،اپنے مسلکوں میں کھو گئے۔کوئی سُنی بن گیا تو کوئی شیعہ،کوئی وہابی تو کوئی بریلوی،کوئی سید تو کوئی اور کچھ ۔لیکن! ایک قوم...؟؟؟
یوں تو سید بھی ہو ،مرزا بھی ہو، افغاں بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو ،بتاؤ تو مسلماں بھی ہو؟
پاکستانیو!یاد رکھو! تعلیم کی مثال ایک زیور کی سی ہے ۔(جیسے کوئی دلہن زیور کو اپنے بدن پر سجا لیتی ہے تو وہ خوبصورت بن جاتی ہے) اِسی طرح تعلیم جس قوم کو مل جاتی ہے تو وہ ایک عظیم قوم بن جاتی ہے اور جس قوم کو تعلیم نہیں ملتی تو وہ بھٹک جاتی ہے ... گمراہ ہو جاتی ہے ... راہِ راست سے ہٹ جاتی ہے ... اپنے مذہب سے بھی کوسوں دور چلی جاتی ہے ...ایسی قوم ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں مسائل، فتنے اور بیماریوں کا شکار ہو کر مکمل طور پر اپاہج، لنگڑی ،لولی اور بیکار ہو کر رہ جاتی ہے (جیسے آج ہم ہیں)۔تو معلوم ہوا کہ قومیں تعلیم سے بنتی ہیں...نہ کہ غربت ،بھوک،افلاس،بیروزگاری،بمباری،دہشتگردی ،خوف و ہراس پھیلا نے سے ۔
جس قوم کو تعلیم نہیں دی جاتی تو اُس پر جتنے مرضی ظلم و ستم کر لو ، اُس قوم کے افراد کبھی سر نہیں اُٹھائیں گے ۔(جیسے آج ہم ہیں)کیونکہ ہمیں سر اُٹھا کر جینا سکھایا ہی نہیں گیا۔جب کوئی قوم بھٹک جاتی ہے،گمراہ ہو جاتی ہے تو پھر ایسے وقت میں ایسی قوم کو ظلم کے نظام سے محفوظ کرنے کے لیے کسی (فلسفی یا دانشور) کی ضرورت ہوتی ہے۔لیکن!ایسے مرحلے میں ایک المیہ یہ بھی ہے کہ جب کوئی ایسی اعلیٰ صفات کا مالک اپنی قوم کو جگانے نکل پڑتا ہے تو وہ شخص اُس قوم کے افراد کو( زہر کی مانند) دکھائی دینے لگ جاتا ہے۔
(جسکی مثال کچھ ایسے ہے کہ جب کوئی آدمی گہری نیند کے مزے میں مست ہو کر خراٹے لے رہا ہو تو ایسی حالت میں جو شخص اُسکو جگانے آئے گا تو وہ شخص سب سے پہلے جوتے بھی کھائے گا ،گالیاں بھی سنے گا،بے عزتی بھی کرائے گا تو پھرنجانے وہ اُسے جگا پائے یا نہ)۔ بہر حال! سوئی ہُو ئی ،غافل اور ذہنی غلام قوم کو جب تعلیم دی جاتی ہے تو وہ افراد ایسی حقیقی تعلیم کو کوئی عجوبہ سمجھ کر اپنے اُنہی( جاہل حکمرانوں اور چند جاہل صحافیوں) کی باتوں میں آ کر اپنے سوئے مقدر اور نصیبوں کو جگانے کی بجائے پھر سے سُلا دیتے ہیں( جیسے آج ہم ہیں)اور ساتھ یہ بھی بولتے ہیں کہ (بس ٹھیک ہے یار!جو نظام چل رہا ہے یہی ٹھیک ہے،چلنے دو،جیسا بھی لنگڑا لولا ہے)۔سچ تو یہ ہے کہ جس قوم کو غلام بنانا ہو ،اُسکو تعلیم سے دور کر دو۔ وہ قوم گمراہ ہو کر تمہاری تابع اور غلام بن جائے گی( جیسے آج ہم ہیں)۔
میرے پاکستانیو! آج ہمارا تعلیمی نظام کیا ہے؟ ہزاروں دیہات تو ایسے ہیں جہاں سرکاری سکول ابھی تک تعمیر ہی نہیں کیے گئے ۔بلکہ وہاں ابھی تک بجلی بھی نہیں پہنچائی گئی۔ جو تعمیر ہیں وہ بھی ٹوٹی،پھوٹی،کچی دیواروں والے ...جن میں زیادہ تر تو پرائمری اور مڈل تک ہیں...جہاں نہ کوئی کمپیوٹرائیذڈ آلات...نہ کوئی اور جدید سہولیات ... لاکھوں بچے سکول نہیں جاتے۔لاکھوں بچوں کے پاس کتابوں اور فیس کے پیسے نہیں ہوتے۔ اُوپر سے ہمارے لاپرواہ اور عیاش حکمرانوں نے دنیا جہاں کا گھٹیا،ناقص،پھٹا،پُرانا،بوسیدہ،زنگ آلود نصابِ تعلیم میرے دیس کے سرکاری و پرائیویٹ سکولوں میں رائج کر کے عوام کو کُند ذہن اور ذہنی غلام بنا کے رکھ دیا۔
اِس سے بھی بڑھ کر کیا کھیل کھیلا کہ (کو ایجوکیشن) کا نظام مسلط کر کے نوجوان نسل کو تعلیم کی بجائے فحاشی وعیاشی کی طرف دھکیل کر سب کچھ راکھ کر کے رکھ دیا۔نت روز فن میلہ اور آرٹس کے نام پر طلبہ و طالبات کو فحاشی اور سیکس کی تربیت اور نشونما دی جاتی ہے۔ سرکاری سکولوں میں اَن پڑھ ،ناتجربہ کار ،کم عقل،نا اہل افراد کو ٹیچر بنا کر سارا تعلیمی نظام تباہ کر دیا ... نہ ہی ٹیچر قابل ...نہ ذمہ دار،محبِ وطن طالب علم...نہ ٹیچرز اور طلبہ کے لیے علیحدہ ٹرانسپورت کا انعقاد ... سڑکوں پر جہاں بھی دیکھو طالب علم بس ڈرائیور اور کنڈیکٹر کیساتھ ہاتھا پائی کرتے نظر آتے ہیں۔بس یہ نظام ہے ہمارا۔جس ملک میں ایسا نظام مرتب ہو ایسا معاشرہ کیا خاک تعلیم یافتہ بنے گا؟
اُس قوم کی پیشانی پہ لکھی ہے تباہی
جس قوم کے مکتب کی فضا ٹھیک نہیں

No comments:
Post a Comment