Sunday, 31 July 2016

چلو اب کارکردگی دکھاؤ

چلو اب کارکردگی دکھاؤ
چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔03424652269

سب جماعتوں و سیاسی پارٹیوں میں جو وفاقی یا صوبائی حکومتوں میں ہیں ’چلو اب کارکردگی دکھاؤ‘ مہم کا آغاز ہو گیا ہے۔آپ سب جانتے ہیں کہ موجودہ حکومتی مدت میں صرف بائیس ماہ کا وقت باقی بچا ہے۔اور سب کی کارکردگی بھی آپ کے سامنے ہے کوئی بھی پارٹی کرپشن اور دوسری بدعنوانیوں سے پاک نہیں۔سب کے سب اپنے اپنے منشور و وعدوں سے خاصے دور نظر آئے۔بعض نے تو اپنے مفادات کی خاطر موقع کی مناسبت سے منشور ہی بدل ڈالے۔2013سے اب تک کوئی بھی پارٹی اپنے حامیوں کے علاوہ باقی عوام کو متاثر نہ کر سکی بلکہ عوام کے دل نہ جیت سکی۔اس گزرے وقت میں سیاسی پارٹیوں کے کچھ اپنے حامی بھی نالاں نظر آئے۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ عوام کی ناراضگی کے باوجود بھی سیاسی پارٹیاں اور انکے وزراء صرف اپنے مشن میں ہی مگن رہے عوام کو صرف وقفوں میں ٹرخاتے رہے۔اب حکومتی مدت میں تھوڑا عرصہ باقی ہے اور سیاسی سربراہ جانتے ہیں کہ عوام انکی کتنی قدر کرتی ہے اس لئے اب2018 کے الیکشنزکی تیاریوں اور عوام کی حمایت کے لئے سب پارٹیوں کے سربراہان نے اپنے اپنے نمائندوں کو حکم جاری کر دیا ہے کہ چلو اب کارکردگی دکھاؤ۔سوچنے کی بات ہے کہ 2013 سے اب تک اس مہم کا آغاز کیوں نہیں کیا گیا۔دوستو آپ ذرا اس پر سوچئے گا۔پاکستان 14 اگست 1947 کو آزاد ہوا۔آج پاکستان کو آزاد ہوئے67 سال کے قریب کا عرصہ ہو گیا ہے۔مگراپنے وطن کی حالت آپ کے سامنے ہے۔جب پاکستان آزاد ہوا تو پاکستان کی شرح خواندگی بہت کم تھی۔مگر لوگوں میں آگے بڑھنے کی ہمت و جذبہ تھا۔کام کرنے کی لگن تھی۔پاکستان نے آزادی کے کچھ عرصہ بعد ہی ترقی کی راہ چن لی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے حالات بہتر ہوئے لوگوں نے پڑھنا لکھنا شروع کیا اور پاکستان کو دنیا نے تسلیم کرلیا۔مگر پتہ نہیں کیوں اور کس کی نظر پاکستان کو لگی اور اکسویں صدی میں پاکستان بدعنوانیوں کا شکار رہا۔ملک میں کرپشن لوٹ مار اور دہشتگردی جیسی جڑوں نے مظبوطی پکڑ لی۔افسوس کے اکیسویں صدی میں شرح خواندگی میں اضافہ ہوا مگر لوگوں کے ولولے اور ہمت دم توڑ گئی۔لوگوں میں کام کرنے کی لگن ختم ہوگئی۔آج بھی پاکستان میں غربت کا خاتمہ نہ ہو سکا۔ملک دشمن غربت سے ستائے لوگوں کو استعمال کرنے لگے۔دیہاتوں میں غربت کی شرح 60فیصداور شہروں میں 10فیصد ہے۔گزشتہ سیلابوں نے دیہاتوں اور دیہاتیوں کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔افسوس کے ہر سال سیلاب کی روک تھام کے لئے تعلیم کے لئے صحت کے لئے رقم مختص ہوتی ہے مگر صرف کاغذی کاروائی تک ۔گزشتہ کئی حکومتوں نے دیہاتیوں کے روپے کھائے ہیں۔حکومتی کرپشنز کی وجہ سے بہت سی بد عنوانیوں نے جنم لیا ہے۔میں دیہاتیوں کی پسماندگی کی وجہ کرپٹ سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ پڑھے لکھے با شعور لوگوں کو بھی ٹھہراتا ہوں جو دیہاتیوں کی آواز نہیں بنتے۔پاکستان میں جتنی بھی حکومتیں آئیں سب پر کرپشن کے الزامات ہیں۔مگر افسوس کے ہم پھر بار بار انہیں لوگوں کو اقتتدار میں لاتے ہیں۔کیا ہم بے حس ہیں؟کیا ہمارے اندر شعور نہیں؟یا پھر ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں؟کب پاکستان ان بدعنوانیوں سے چھٹکارا حاصل کر سکے گا؟کون سچائی کی مشعل لے کر آگ بڑھے گا؟آخر کون!؟کیا ہماری عوام میں کسی چیز کی کمی ہے؟آخر کس چیز کی کمی ہے!ہمیں سوچنا ہوگا۔جی قارئین آپ نے گزشتہ دنوں سے دیکھا ہوگا کہ سندھ حکومت میں اچانک ایک تبدیلی لائی گئی ۔سابق وزیر اعلی قائم علی شاہ کو اقتدار سے الگ کر کے مراد علی شاہ کو نیا وزیر اعلی سندھ مقرر کر دیا گیا۔اس کے ساتھ ساتھ صوبائی کابینہ میں صوبائی وزارتوں میں بھی تبدیلیاں کر دی گئیں۔اور ہمیشہ کی طرح سندھ حکومت میں اس تبدیلی کا فیصلہ بھی آصف علی زرداری نے کیا۔عوام کو اچانک کی تبدیلی سمجھ میں نہ آئی۔مگر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ’ چلو اب کارکردگی دکھاؤ‘ مہم کا ہی ایک شاخسانہ ہے۔ورنہ اس سے قبل یہ تبدیلی یاد نہ آ جاتی۔کچھ کے نزدیک مراد علی شاہ بھی گزشتہ کرپشنز کی ری ہیسلز کر چکے ہیں اور انکے خیال میں مراد علی شاہ کو وزیر اعلی تعین کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اپنے مفادات بھی حاصل ہوتے رہیں اور لوگوں کو بھی کچھ تبدیلی نظر آتی رہے۔یعنی زرداری صاحب پھر ایک تیر سے دو شکار کھیلنے کے لئے میدان میں ہیں۔جی قارئین اسی طرح وفاق صوبہ پنجاب اور صوبہ بلوچستان میں بر سر اقتتدار پارٹی مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد نواز شریف صاحب کی گزشتہ مری میں بریفنگ سے پتہ چل ہی گیا ہو گا کہ ’چلو اب کار کردگی دکھاؤ‘ مہم کا حکم مسلم لیگ ن کے سربراہان و وزراء کو بھی جاری کر دیا گیا ہے۔اور ساتھ میں یہ اشارہ بھی کیا گیا ہے کہ جو کار کردگی نہیں دکھائے گا اس کا حال بھی قائم علی شاہ جیسا ہوگا۔اور حکم جاری کیا کہ زیر تکمیل پرجیکٹس عین انتخابات سے قبل مکمل ہو جانے چا ہیے۔اور اب ان پراجیکٹس کی نگرانی خود میاں نواز شریف کریں گے۔اسی طرح خیبر پختونخوا میں زیر اقتدار تحریک انصاف میں بھی کار کردگی دکھاؤ مہم کے اثرات نظر آرہے ہیں۔ِ عمران خان نے باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ اب کارکردگی میں تاخیر برداشت نہیں ہوگی۔اور خیبر پختونخوا حکومت میں بھی تبدیلیاں متوقع ہیں۔لوگ حکومتوں کی کار کردگی میں تیزی پر انہیں سراہ رہے ہیں سراہنا بھی چاہئے۔دیر آئے درست آئے کچھ نہ کرنے سے تو بہتر ہے کہ باقی بائیس مہینوں میں ہی اپنے وطن کے لئے کچھ کرنے کا ارادہ تو کیا۔اور یہ صرف عوام کی بدولت ہے یعنی اب عوام کو پیسے سے خریدنے کا دور ختم اثر و رسوخ سے ووٹ ختم۔اب کار کردگی کی بنا پر ووٹ ملیں گے۔ مگر افسوس کے کار کردگی الیکشنز کے قریب آنے پر ہی کیوں یاد آتی ہے۔میں ایک بار پھر کہہ رہا ہوں جب تک تمام ادارے آزادانہ سیاسی مداخلت کے بغیر کا م نہیں کر سکیں گے تب تک یہ لوگ نت نئے طریقوں سے ہمیں اور ہمارے وطن کو لوٹتے رہیں گے۔اب انہیں عوامی خدمت یاد آ گئی ہے صرف اور صرف ووٹ کی خاطر ۔ذرا سوچئے جو لوگ انکی کرپشن کی وجہ سے بد عنوانیوں کا شکار ہوئے انکا ذمہ دار کون ہے؟ جن کے گھر غربت سے اجڑ گئے انکا ذمہ دار کون ہے ۔؟

Saturday, 30 July 2016

پیسے کی ہوس قومیں اُجاڑدیتی ہے...

پیسے کی ہوس قومیں اُجاڑدیتی ہے...

میرے پاکستانیو! قانون، دولت ،طاقت،پیسہ اور قلم کے ناجائز اور غلط استعمال سے قوموں کا تشخص بگڑ جاتا ہے۔معاشرے میں افرا تفری مچ جاتی ہے۔ مال و دولت اور روپے،پیسے کی ہوس قومیں اُجاڑ دیتی ہے۔جس طرح آج میری قوم کا شیرازہ بکھرا پڑا ہے ۔یہاں کا نظام درہم برہم اور تہس نہس ہو کر رہ گیاہے۔ رشوت اور کرپشن کا سے معاشرے میں لاقانونیت ، نقص، بگاڑ، خرابی، بد چلنی، فساد، گمراہی، بد عنوانی، اخلاقی گمراہی ، بے ایمانی و بد دیانتی پیدا ہو جاتی ہے ۔اب ذرا ہم خود ہی سوچیں کہ جس معاشرے میں اتنی خرابیاں ہوں وہ معاشرہ کیسے چل سکتا ہے؟
رشوت اور کرپشن کا مطلب ہے لاقانونیت ، نقص، بگاڑ، خرابی، بد چلنی، فساد، گمراہی، بد عنوانی، اخلاقی گمراہی ، بے ایمانی و بد دیانتی کے ہیں ۔اب ذرا ہم خود ہی سوچیں کہ جس معاشرے میں اتنی خرابیاں ہوں وہ معاشرہ کیسے زند ہ رہ سکتا ہے؟قرآ ن پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ رشوت دینے والا اور لینے والا دونوں جہنمی ہیں ۔اب ذ را ہم خود ہی اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ ہم میں سے کون غلط راہ پر گامزن ہے اور کون درست سمت پر؟بد قسمتی سے آج ہم سبھی مال و دولت اور روپے ، پیسے کی ہوس میں رشوت اور کرپشن کے بازار سجا کر بیٹھ گئے۔ صرف پیسہ اکٹھا کرنے کی غرض اور لالچ میں ہمارے معاشرے میں بے انتہا انسانیت کی تذلیل ہو رہی ہے۔ ایک دوسرے کو لوٹ کھسوٹ کر اپنے اپنے کٹورے بھرنے کی دوڑ لگی ہے۔ہمارے سرکاری و پرائیویٹ اداروں میں انتہا کی کرپشن اور رشوت کا کاروبار ہو رہا ہے۔لیکن ! اپنے اعمال اور قبر کے حساب و کتاب سے غافل ہیں۔میرے دیس میں یہ چیزیں انسان کی پیدائش سے قبر میں دفنانے تک ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔
1۔باالفرض کوئی آدمی بیمار ہو گیا اور ہسپتال لے جائیں تو جب تک وہاں کسی نرس یا ڈاکٹر کو چند روپے نہ تھما دیئے جائیں تو تب تک کوئی بھی ڈاکٹر مریض کا علاج نہیں کرے گا ، نہ ہی سرکاری دوائی ملے گی۔اور اگر کوئی مریض سسک، سسک کر تڑپ ،تڑپ کر مر بھی جائے تو پھر بھی ان انسانیت کے مسیحاؤں کو ذرا بھر بھی فکر اور پرواہ نہیں کیونکہ ان کو تو صرف پیسے سے غرض ہے۔اور اگر کوئی خدا ترس ڈکٹر ہے بھی تو وہ مریض کو دیکھ کر پرچیوں کا پلندہ لواحقین کے ہاتھ میں تھما کر کہے گا یہ فلاں ٹیسٹ فلاں لیبارٹری سے کروانا اور فلاں دوائی فلاں ڈاکٹر سے اور فلاں سیرپ فلاں میڈیکل سٹور سے لانا اور مزید یہ کہ دوائی کے خالص ہونے کی گانٹی نہیں۔
جس رزق سے پرواز میں کوتاہی کا ڈر ہو
وہ رزق اب بڑے شوق سے کھاتے ہیں ہم
2۔ا گر آپ ڈلیوری کیس میں کسی ہسپتال چلے جائیں تو وہاں اِس سے بھی زیادہ انسانیت کی تذلیل کی جا رہی ہے۔کسی سے بھاری رقم لے کر آپکا لڑکا اُن کو تھما کر اُنکی لڑکی آپکی گود میں ڈال دی جائیگی اور آپکا کا زندہ بچہ کسی کو تھما کر آپکو مردہ بچہ تھما دیا جائے گا ۔قابلِ افسوس بات ہے یہ ہمارے لیے کہ ہم لوگ مسلمان ہو کر انسانوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں اور یہ سارا کھیل تماشا دنیا والے دیکھ کر ہمارے بارے کیا سوچتے ہونگے؟3۔ڈاکٹری شعبہ سے ذرا باہر نکلیں تو آپکی رہی سہی کسر وہ ہمارے قبرستان میں بیٹھے گورکن نکال کے رکھ دیں گے ۔ہم تو مر کر بھی اپنے نعرۂ کرپشن کے ہاتھ مضبوط کر جاتے ہیں۔پہلے تو گورکن قبرستان سے نعش نکال کے میڈیکل کالجوں کو بیچ دیں گے اور اگر ان پیسوں سے بھی اُنکا پیٹ نہیں بھرے گا تو کسی کی قبر کھودنے پر لاکھوں کی ڈیمانڈ کر دی جائیگی اور اگر آپ نے پیسے کم دے د یے تو کسی دوسری قبر کا مردہ ٹھکانے لگا کر وہ قبر آپکے نام کر دی جائیگی۔
ہونکو نام جو قبروں کی تجارت کر کے
کیا نہ بیچو گے اگر جو مل جائیں صنم پتھر کے
4۔علم کی دولت پھیلانے والے اب علم بیچ کر پیسہ اکٹھا اور جہالت پھیلا رہے ہیں۔اگر کوئی اپنا بچہ کسی انگلش میڈیم سکول میں داخل کرانے جائے تو اُسے یہ کہا جائے گا کہ یہ کلاس زیادہ فیس اور یہ تھوڑی فیس ادا کرنے والوں کی ہے اور یہ کلاس متوسط طبقہ کے چشم و چراغ کے لیے ہے۔ایسی جگہ پر (میرے جیسے ) غریب آدمی کی کیا مجال کہ وہ پھٹک بھی جائے۔اور سرکاری سکول تو اب ویسے ہی گاؤں بھینسوں کے لیے رہ گئے ہیں اور جس سکول میں ایسی سہولت میسر نہیں تو وہاں گاؤں کے نمبر دار نے اپنا بھُس بھرا ہو گا۔
میرے دیس کے لوگ ایک طرف مہنگائی و بیروزگاری سے تنگ ہیں تو دوسری طرف پرائیویٹ سکولوں کی انتظامیہ نے اِن کی زندگی اور بھی اجیرن بنا دی ہے۔ (سٹی رینالہ خورد)ایک انگلش سکول کے سربراہ نے بچوں کی فیس خود جمع کرنے کی بجائے بچوں کے والدین کو بینک کا رستہ دکھایا ہوا ہے۔غریب عورتیں بیچاری صبح سویرے شہر سےkm 20د ور گاؤں ،دیہاتو ں سے لمبی مسافت طے کر کے وہاں بینک ذلیل ہوتی میں نے خود دیکھی ہیں ۔افسوس...
خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کر دے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تُو
کتاب خواں تو ہے مگر صاحبِ کتاب نہیں
5۔آپ اپنے گھرکے لیے بجلی کا میٹر لگوانے کی غرض سے واپڈا دفتر چلے جائیں تو وہ آپکو اضافی چارجز ،جرمانے،لیٹ فیس اور نجانے کتنے اضافی چارجز سنا کر آپکو وہیں پر ہی بیہوش کر ڈالیں گے ۔ میٹر ریڈر آپکے گھر کے باہر آپکی آنکھوں کے سامنے میٹر کے ہندسے پیچھے گھما کر آپ کو ہزاروں روپے کا جرمانہ کر ڈالیں گے۔پھر آپ میٹر لگوانا ہی بھول جائیں گے۔
6۔۔سوشل سکیورٹی یا ایل ڈی اے کے آفیسر آپکی تیار رہائشی یا کاروباری بلڈنگ کو کسی نہ کسی بہانہ سے تالا لگا دیں گے۔ پھر آپکو زندہ رہنے کی خاطر اضافی ٹیکس و جرمانے بھر نے پر مجبور کر دیں گے اور آپ اپنا تن،من ،دھن سب کچھ بیچ ،بچا کے اُن سے اپنی جان چھڑوائیں گے۔ یہ حال ہے ہمارے سرکاری اداروں میں ملازمت کرنے والوں کا جنکی اولادوں کو بھی علم نہیں یا پھر ہونے کے باوجود بھی وہ نسلیں حرام کھا ،کھا کر پل رہی ہیں اور بے ضمیر ہوچکے ہیں۔ ایسے افراد کی وجہ سے معاشرہ تباہ ہوچکا ہے۔7۔اگر(ہماری طرح) آپ کے ساتھ کوئی فراڈ ہو گیا ہے تو آپ اپنی سچائی پیش کرنے اور اپنا نقصان پورا کرانے کی خاطر کسی تھانے ،عدالت، کسی،جج یا وکیل کے پاس جائیں تو وہاں آپکی خیر نہیں۔آپکی رہی سہی کسر اور عزت بھی چھن جائیگی اور آپکا مکان بھی داؤ پر لگ جائے گا۔وہاں کے منشی،اردلی،چپڑاسی مشوروں اور دھمکیوں سے ہی آپکے ہاتھوں آپکی جیب خالی کروا لیں گے۔اگر آپ نے اُن کی ایک نہ سُنی تو آپکے کپڑے بھی اتر جائیں گے اورآپکی عزتِ نفس سلاخوں کے پیچھے شرمندہ ہوتی ہوئی نظر آئیگی صر ف چند ٹکوں کی خاطر... ہاہ! ہائے ...
8۔mpa,mna,sاور تمام بڑے بڑے سرکاری عہدوں پر فائز حکام اور ذمہ داران کو حکومت کی طرف سے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے جو( بھاری رقم) نازل ہوتی ہے تو یہ سارا پیسہ (قوم کی امانت)یہ لوگ ہڑپ کر جاتے ہیں اور نچلے طبقے تک ذرا بھی سہولت نہیں پہنچتی اور عوام بیچاری ان اداروں کے پیدا کردہ مسائل کی وجہ سے نفسیاتی مریض بن گئی۔
مجھے دکھ ہوتا ہے دیکھ کر دیس کے ویرانوں کو
مجھے دکھ ہوتا ہے دیکھ کر بیچارے پاکستانیو ں کو
الغرض!ہمارے تمام سرکاری و پرائیویٹ اداروں میں جتنی انسانیت کی تذلیل اور بے حُرمتی ہو رہی ہے ایسا اور کہیں بھی نہیں ہوتا۔ہم لوگ صرف پیسے کی ہوس میں قوانین و ضوابط کی دھجیاں اُڑا رہے ہیں۔ہم بغیر پیسے کسی بھی فرد کا کوئی بھی کام کرنے کو تیار نہیں۔ اگر ہماری آنکھوں کے سامنے کسی بیچارے کی تڑپ ،تڑپ کر جان بھی نکل جائے تو ہم تب بھی اُس کی مدد کرنے کو تیار نہیں ہوتے جب تک ہماری جیب گرم نہیں ہو جاتی۔افسوس!...ہم کیسے بے حس اور بے عقل لوگ ہیں ۔
ہمارے حکمران، منتظمین اور سرکاری و پرائیویٹ ادارے اپنی عیش پرستیوں ور اپنی ا تھارٹیوں کے اضافوں میں مشغول ہیں ،ہر سو افرا تفری کا عالم ہے، نوجوانوں نے کتابوں کی جگہ کلاشنکوف تھام لی ، ہر آنکھ اندھی ہو چکی ، ہر کان بہرا ہو چکا ، ہر زبان گونگی ہو چکی ، ہر دماغ ماؤف ہو چکا ، ہر دل نے دھڑکنا چھوڑ دیا ،ہر ضمیر بے ضمیر ہو چکا ، غیرت ختم ہو چکی...تو بقایا ہمارے پاس کیا بچا؟آج ہم سب نے پیسے کی ہوس و لالچ میں اپنا معاشرہ بے پناہ برائیوں سے بھر لیا....کیا ہم دنیا کو منہ دکھانے کے قابل ہیں؟لہٰذا! آج ہمیں اپنی اِس ناقص سوچ اور لالچی ہوس پر قابو پانے کی اشد ضرورت ہے۔فیصلہ آپکا؟
نابینا جنم لیتی ہے اولاد بھی اُس کی
قوم جو دیا کرتی ہے تاوان میں آنکھیں

ہاتھوں میں کشکول تھام لیے... ؟


ہاتھوں میں کشکول تھام لیے... ؟

جس زمانے میں مصر کا حکمران ( مقوقس ) تھا تو اُس وقت (ٹیونس) مصر کا صوبہ تھا۔جسکا گورنر ابو ثوب تھا ۔ ایک وقت ایسا آیا کہ مقوقس کے بیٹے نے اپنے باپ کو قتل کر دیا اور مصر کی حکمرانی کا تاج اپنے سر سجا لیا تو اُدھر ابو ثوب نے بھی اِس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے صوبہ ٹیونس میں خود مختاری کا اعلان کر دیا اور شان و شوکت سے حکمرانی کرنے لگا۔کچھ عرصہ بعد( 641 ء ) میں ایک اِسلامی لشکر حضرت عمر بن العاصؓ کی سرپرستی میں اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرتے ہوئے مصر پر چڑھ دوڑا اور مقوقس کے بیٹے سے اقتدار چھین کر اِسلام کا الم بلند کر دیا۔اور اسلامی قانون نافذ کر دیا۔
اُدھر ٹیونس کے حکمران ابو ثوب نے بہت تیزی سے رعایا کی دیکھ بھال اور بحالی کے لیے اقدامات شروع کر دیے تھے ۔ اُسنے زراعت کا نظام مضبوط کرنے کے لیے بہت بڑے بڑے اور گہرے تالاب غیرہ بنا رکھے تھے۔ جو بارشوں کے موسم میں بھر جاتے اور خشک موسم میں زراعت کے کام آتے تھے ۔اُن تالابوں سے ابو ثوب اپنی رعایا کے کھیتوں اور مال مویشیوں کو سیراب کرتا تھا۔ 
لیکن! ایک دفعہ ایسا ہوا کہ قدرت نے بارشیں نہ برسائیں اور تمام تالاب وغیرہ خشک پڑ گئے ۔ جس سے ابو ثوب اور رعایا سبھی بہت سخت پریشانی میں مبتلا ہو گئے۔ اور اِس امید پر آسمانوں کی طرف اپنی نظریں جما لیں کہ شائد قدرت اُنہیں بارش عطا کر دے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ اِنہی دنوں( حضرت یزید بن عامرؓ )ابو ثوب کے پاس خیرات وصول کرنے چلے آئے ۔ابنِ عامرؓ نے جونہی ابو ثوب کو امداد کا کہا تو ابو کے چہرے پر سخت غصہ آ گیا ۔ اور طیش میں آ کر بول اُٹھے!(تم میرے صوبہ کی حالت نہیں دیکھتے ؟اور چلے آئے ہو خیرات وصول کرنے ...افسوس کہ تم کیسے مسلمان ہو جو بھیک مانگنے لگ گئے ہو ۔ اگر تم مسلمان سچے اور ایماندار ہو اور تمہارا رسولﷺ بھی سچا ہے تو اُسکے وسیلہ سے دعا کرو کہ بارش آ جائے )
میرے مسلمان بھا ئیو ! ابنِ عامر کے لیے یہ بہت بڑا امتحان تھا تو اُنہوں نے نہایت ہی عاجز ی و انکساری سے اک کونے میں جانماز بچھایا اور خشو ع و خضو کے ساتھ دو رکعت نماز نفل پڑھ کر خدا کے حضور سچے دل سے دعا کی۔ دعا ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ اُدھر تیز دھار بارش شروع ہو گئی ۔ یہ واقعہ دیکھ کر ٹیونس کے باشندوں نے اِسلام قبول کر لیا اور وہاں اِسلامی حکومت قائم ہو گئی ۔واہ! سبحان اللہ ! 
شائد اِسے ہی کہتے ہیں ! 
کوئی اندازاہ کر سکتا ہے اُنکے زورِ بازو کا ؟
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں 
میرے پاکستانیو! میں اکثر سوچتا ہوں کہ آج ہماری تقدیر کیوں نہیں بدلتی ؟؟؟جبکہ میرا دیس دنیا کی تمام تر نعمتوں سے مالا مال اور نہایت حسین و جمیل ہے ۔ 
1۔ بلند و بالا، خوبصورت اور دلکش پہاڑی سلسلے ہیں ، جن کا شمار دنیا کی بہترین چوٹیوں میں ہوتا ہے ۔
2۔ دنیا کا ساتواں بڑا ملک اور ایٹمی طاقت ہے ۔ 3 ۔ فوج دنیا کی بہترین دس افواج میں شامل ہے ۔ 
4۔ کوئلہ جس سے بجلی پیدا کر کے صرف اپنی ضرورت ہی نہیں بلکہ دنیا کو فروخت بھی کر سکتے ہیں ۔
5۔ نمک کی بہت بڑی کانیں ہیں ۔ 
6۔ پہاڑوں میں سونا ، چاندی ، ہیرے ، لعل و جواہرات اور ان گنت خزانے ا ور معدنیات دفن ہیں ۔
7۔ دریاؤ ں کا وسیع پانی اور پہاڑوں سے بہتے ان گنت چشمے ہیں۔ 
8۔اِس ملک کا نہری اور آبپاشی نظام دنیا کا بہترین نظام ہے۔ یہاں نہروں کا جال بچھاہوا ہے ۔ 
9۔یہاں کی مٹی بہت ہی نرم اور ذرخیز ہے جس میں فصلوں کی پیداوار بہت اچھی ہے ۔
10۔پھل اور سبزیاں بہت زیادہ مقدار میں پائی جاتیں ہیں ۔ 
11۔ یہاں گنا ، مکئی ، کپاس، گندم اور چاول کی کاشت وسیع پیمانے پر ہوتی ہے ۔
12۔مِلوں اور کار خانوں سے بہترین اور معیاری کپڑا تیا ر ہوتا ہے ۔
13 ۔ اِس پاک دھرتی پر بسنے والی عوام غیور ، بہادر ، محنت کش اور محبِ وطن ہے ۔ وغیرہ ، وغیرہ 
لیکن !پھربھی ہم ترقی پذیر؟پھر بھی پسماندہ قوم ؟پھر بھی ہم بھوکے اور برہنہ؟ پھر بھی یوں ذلت کی زندگی جینے پر مجبور ؟ پھر بھی ہم سسک ،سسک کر بلک ،بلک کر زندگی کے دن کاٹنے پر مجبور ؟پھر بھی بھکاری قوم ؟؟؟ہاہ! ہائے !!!آج بھی میرے دیس کی سر زمیں پر کروڑوں غریب بیچارے ایسے ہیں جو میری طرح فاقوں پر زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ لاکھوں ایسے ہیں جنہیں رات کا کھانا بھی نصیب نہیں ہوتا اور بیچارے خالی پیٹ سو جاتے ہیں ۔ لاکھوں ایسے ہیں جو بھوک ، پیاس سے نڈھال ہو کر ڈھانچوں کی شکل اختیار کر گئے ۔ لاکھوں ایسے ہیں جنہیں جان توڑ محنت کے باوجود بھی مناسب معاوضہ نہیں ملتا ۔ آج بھی میرے دیس کی مائیں بس خواب ہی دیکھتی ہیں اور اِس اُمید کے سہارے جیتی ہیں کہ شائد کوئی مسیحا آئے اور اُنکے بھوکے بچوں کو بھوک اور افلاس سے نجات دلا دے... شائد کوئی آئے ؟ شائد کوئی آئے ؟مگر کوئی نہیں آتا ... میرے دیس کی سر زمیں پر نجانے اور کتنے لاکھو ں انسان ایسے ہونگے جو مجبور اور بے بس ہو کر روزانہ میری طرح یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ آج ہماری تقدیر کیوں نہیں بدلتی ؟؟؟شائد اِسی وجہ سے کہ ہم نے ہاتھوں میں کشکول تھام لیے اور وطنِ عزیز کو (آئی ایم ایف )کا مقروض اور غلام بنا ڈلا ...افسوس ! ذرا سوچنا ؟
گدائی میں بھی تھے وہ اللہ والے غیور اتنے 
کہ منعم کو گدا کے ڈر سے بخشش کا نہ تھا یارا 

Friday, 29 July 2016

دلیوالی قریشیاں کا قبرستان چاردیواری سے محروم،تجاوزات قائم

دلیوالی قریشیاں کا قبرستان چاردیواری سے محروم،تجاوزات قائم
جرائم پیشہ عناصرنے قبرستان کواپنی پناہ گاہیں بنارکھاہواہے۔ نشیؤں نے ڈیرے جمالیے اورمویشی بھی قبروں کی بے حرمتی کرنے لگے ۔
قبضہ مافیانے قبرستان کی جگہ پرتجاوزات کھڑی کررکھی ہیں۔انتظامیہ نے کاروائی کے بجائے چُپ سادھ رکھی ہے۔ ڈی سی اونوٹس لیں



پائی خیل(نامہ نگار)دلیوالی قریشیاں کا قدیم مرکزی اوربڑا قبرستان چاردیواری سے محروم،قبرستان کی جگہ قبضہ مافیانے تجاوزات کھڑی اورمویشی قبروں کی بے حرمتی کرنے لگے۔ تفصیلات کے مطابق نواحی علاقہ دلیوالی قریشاں کا قدیم مرکزی اور بڑا قبرستان چاردیواری سے محروم ہے ۔قبضہ مافیانے قبرستان کی جگہ پرتجاوزات کھڑی کررکھی ہیں۔انتظامیہ نے کاروائی کے بجائے چُپ سادھ رکھی ہے۔ مقامی لوگوں نے قبرستان میں بھیڑبکریوں اورمویشیوں کے ریوڑچھوڑرکھے ہیں جوقبروں پرگندگی اورغلاظت پھیلارہے ہیں۔جبکہ نشہ بازوں نے قبرستان میں اپنے ڈیرے جمارکھے ہیں۔جرائم پیشہ عناصرنے قبرستان کواپنی پناہ گاہیں بنارکھاہواہے۔ جس سے قبروں کی بے حرمتی ہورہی ہے ۔اس قبرستان میں اولیاء کرام عوامی حلقوں کے علاوہ 1965,1971کی جنگ آزادی کے علاوہ ضرب عضب کے فوجی شہداء کی قبروں پرپاکستانی پرچم لہرارہے ہیں۔قبرستان کے تقدس کی پامالی کے ساتھ ،پاکستانی پرچم کاتقدس بھی بے رحمی،بے دردی سے کیاجانے لگاہے ۔عوامی وسماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمدشہبازشریف،ڈی سی اومیانوالی سے قبرستان کی چاردیواری تعمیرکرانے ،قبضہ مافیاکے خلاف کاروائی کامطالبہ کیاہے ۔

پائی خیل(نامہ نگار)صحافی ملک محمدارشدندیم کواللہ تعالیٰ نے چاندسابیٹاعطاکیاہے۔جس پرڈسٹرکٹ پریس کلب موچھ کے صدررحمت اللہ خان ہزارے خیل،پائی خیل پریس کلب کے صدراحمدنوازخان نیازی،حافظ کریم اللہ چشتی،قاری آصف عنایت اللہ چشتی ودیگرنے صحافی وسماجی شخصیات نے ملک ارشدندیم کوبیٹے کی پیدائش پردل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکبادپیش کی اوربچے کی درازی عمربالخیرکے لئے دعاکی۔

Sunday, 24 July 2016

مقبوضہ جموں کشمیر؟؟

مقبوضہ جموں کشمیر؟؟

چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ
آخر بے چارے کشمیریوں کو کب آزادی ملے گی؟۔کب تک وہ بھارتی ظلم و ستم کا شکار بنتے رہیں گے؟۔کیوں کشمیریوں کا کوئی درد بھانٹنے والا نہیں کیوں؟۔کیوں کشمیریوں کو انسان نہیں سمجھا جاتا؟۔آخر کب کشمیری اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزار سکیں گے؟۔آخر کب ؟کشمیر کو عرصہ دراز سے بلکہ کئی دہائیوں سے ہی سوالیہ نشان بنایا گیا ہے۔ کوئی بھی صدق دل سے کشمیر کے معاملات کو حل کرنے کے لئے تیار نہیں۔انگریز حکومت کے دور میں انگریزوں نے کشمیر کو چند لاکھوں کے عوض ایک سکھ راجہ کو فروخت کر دیا ایک عرصہ تک سکھوں نے وہاں حکومت کی اور کشمیری مسلمانوں پر ظلم و جبر کی کئی تاریخیں قائم کیں۔کشمیر آبادی کے لحاظ سے ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست تھی اور جغرافیائی لحاظ سے بھی سب سے زیادہ اہمیت کی حامل۔1947 کی تقسیم سے پہلے ہی کشمیر کو حاصل کرنے کے لئے گاندھی اور جناح نے کوششیں شروع کر دیں۔کشمیر میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی تھی۔اسی لئے کشمیریوں نے پاکستان کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا۔مگر سکھ راجہ نے بھارت کے ساتھ مل کر کشمیریوں کی آواز کچلنے کی کوشش کی ۔بھارت جعلی الحاق کی دستاویزات بنا کر اپنی فوجیں کشمیر میں بھیجنے لگا جو دن بدن بڑھتی ہی گئیں۔کشمیری مسلمانوں نے متعدد بار بھارتی مظالم کے خلاف آوازیں بلند کیں مگر ہمیشہ ہی انہیں کچلنے کی کوشش کی گئی ۔کشمیری مجاہدین نے اپنی جدوجہد کی بدولت بھارتی فوج کے ساتھ جنگ لڑی اور کشمیر کا کچھ علاقہ و حصہ آزاد کروا لیا۔جسے آج آزاد کشمیر کہا جاتا ہے۔یہ دیکھ کر بھارت کے اوسان خطا ہو گئے اور بھارت اقوام متحدہ میں پہنچ گیا۔اقوام متحدہ میں رو کر بھارت نے جنگ بندی تو کروا لی مگر اپنے وعدوں سے مکر گیا نہ ہی ریفرنڈم کروایا نہ ہی اپنی فوجیں واپس بلائیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر بھارت بھاگتا ہوا اقوام متحدہ تک نہ جاتا تو آج پورا کا پورا کشمیر آزاد ہوتا۔کشمیر کا جو حصہ بھارتی قبضہ میں ہے اسے مقبوضہ کشمیر کہتے ہیں۔بھارتی فوج اس علاقہ میں ظلم و ستم کی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔معصوم بچوں عورتوں اور بوڑھوں پر بھی ظلم کیا جاتا ہے۔بھارت کی اس ہٹ دھرمی و گیم میں لاکھوں کی تعداد میں کشمیریوں کے گھر اجڑ چکے ہیں۔کئی یتیم بے آسراء اور بے سہارا ہوئے ہیں۔واقعی میں عرصہ سے مقبوضہ کشمیر کو سوالیہ نشان بنا کر رکھ دیا ہے اور بنایا جا رہا ہے۔اور اس میں شامل بھارت کے ساتھ اقوام متحدہ بھی ہے۔اقوام متحدہ نے کئی بار کشمیر میں استصواب رائے یعنی ریفرینڈم کروانے پر قرار دادیں منظور کیں مگر اقوام متحدہ ایسا کروانے میں ناکام رہا ۔بھارت کی ہٹ دھرمیوں کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ نے بھی ماضی میں اپنی ہٹ دھرمی کے کئی ثبوت پیش کئے ہیں۔بہت افسوس کی بات ہے کہ عالمی طاقتوں کو یورپ میں ایک قتل پر ایک عرصہ افسوس رہتا ہے مگر کشمیر میں ہر گزرتے دن کئی زندگیاں بج رہی ہیں مگر عالمی طاقتیں خاموشی سادھے ہوئے ہیں۔آخر یہ دہرا معیار کیوں؟کیا کشمیری بے جان ہیں؟ مقبوضہ کشمیر میں انسان نہیں رہتے؟بھارتی اور اقوام متحدہ کی ہٹ دھرمی سے لگتا ہے کہ کشمیری ان کے نزدیک انسان نہیں بلکہ بے جان ہیں۔وہ بھی انسان ہیں۔انسانیت کی پامالی کی جا رہی ہے اور اس میں کہیں نہ کہیں انسانیت کے نمبردار بھی ملوث ہیں۔گزشتہ روز میاں محمد نواز شریف نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا اس اجلاس میں کہا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں کشیدہ صورتحال کو وہاں کی حکومت کی طرف سے اندرونی معاملات قرار دینا بین الاقوامی قوانین اور کشمیر کے معاملات پر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی شدید خلاف ورزی ہے۔اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ بھارت کا یہ دعوی کہ یہ اس کا اندرونی معاملہ ہے دراصل حقائق کے برعکس ہے۔اجلاس میں حریت پسند رہنما برہان وانی کی شہادت اور اس کے بعد احتجاج کرنے والوں پر بھارتی فوج کے مظالم کی شدید مذمت کی گئی۔اور اجلاس میں یہ کہا گیا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل سے رابطے کر کے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں فیکٹ فائینڈنگ کمیٹی بھجوانے کا کہے گا۔ تاکہ وہ کشمیریوں کے قتل عام اور ان پر ظلم و جبر کے واقعات کی تحقیقات کرے۔اور اجلاس میں بین الاقوامی برادری پر زور دیا کے وہ بھارتی مظالم کی مذمت کرے اور کشمیری عوام سے وعدے کے مطابق انہیں استصواب رائے کا حق دینے پر زور دے۔بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے اسلام آباد کو آزاد کشمیر خالی کرنے کی گیدڑ بھبھکی اس بات کی علامت ہے کہ وہ بو کھلا چکا ہے۔آزاد کشمیر میں آج بھی کوئی پاکستانی باشندہ جائیداد نہیں خرید سکتا البتہ بھارت دن بدن مقبوضہ کشمیر میں اپنے فوجیوں کے گھر بسا رہا ہے۔بھارت مقبوضہ کشمیر میں انتہا پسند ہندؤں اور ایسے کئی عناصر اور پنڈتوں سمیت سابق فوجیوں کے گھر اور بستیاں بسا رہا ہے۔جوکہ سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی خلاف ورزی ہے۔متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کی ہیئت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا نہ ہی وہاں غیر کشمیریوں کو بسایا جا سکتا ہے۔کیونکہ رائے شماری میں صرف ریاستی باشندے ہی حصہ لے سکتے ہیں۔بھارت جانتا ہے کہ کشمیری عوام پاکستان کے حق میں ووٹ دے گی اسی لئے بھارت ایسے اقدامات کرکے اپنا اسر و رسوخ بڑھانے کی سازشیں کر رہا ہے زبردستی اپنی فوجیں اتار کر مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنے پنجے گاڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔اس سب کے باوجود دن بدن بھارت کشمیریوں کے دلوں میں اپنی نفرت میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔مکروہ بھارت آزاد کشمیر کے الیکشن دیکھ کر اندازہ لگا لے کہ کیسے منظم انتخابت تھے اور دوسری طرف مقبوضہ جموں و کشمیر میں زبردستی ڈنڈے کے زور پر کٹھ پتلی حکومت کا قیام بھارتی ظلم کا منہ برلتا ثبوت ہے۔بھارت اور اقوام متحدہ مزید کشمیریوں کو سوالیہ نشان بنانا بند کرے۔سن لو بھارتی سورمو۔ اگر اپنی ہٹ دھرمیوں سے باز نہ آئے تو اللہ رب العزت ایک دن تمہارے ٹکڑ ٹکڑے کر دے گا۔کشمیر کی اس ظلم و ستم کی تاریخ میں ہم پاکستانی بھی اپنا کردار ادا نہیں کرسکے ہم کشمیر کی آواز صحیح طریقے سے دنیا تک نہیں پہنچا رہے ہمیں یہ کرنا ہوگا ۔روز قیامت کیا کہیں گے کہ ہمارے سامنے ہی ہمارے مسلمان بھائیوں بہنوں پر ظلم کیا جاتا رہا اور ہم اپنے ہی کاموں اپنی ہی موج مستیوں میں مگن رہے۔پاکستان حکومت کو بین الاقوامی طاقتوں کوبھارت کی اصل سازشوں سے آگاہ کرنا چاہئے ۔صرف مذمت کے بیانات سے کچھ نہیں ہونے والا ہمیں اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں پر کشمیر کے حل کے لئے پریشر ڈالنا ہوگا۔

Friday, 22 July 2016

گوجرانوالہ: عالمی امن تحریک عہدیداران کی تقریب حلف برداری

فائل فوٹو
گوجرانوالہ: عالمی امن تحریک میں شامل ہونے والے نئے عہدیداران کی تقریب حلف برداری جی مگنولیہ ہاؤسنگ سوسائٹی میں عالمی امن تحریک کے وائس چئیرمین عتیق انور راجہ (کالم نگار روزنامہ نوائے وقت)کی رہائش پر منعقد کی گئی, جس میں تحریک کت تمام عہدیداران نے بھر پور شرکت کی تقریب حلف برداری سے پہلے تحریک کے چئیرمین محمد ادریس ناز, صدر ملک محمد اشرف نے شرکاء سے خطاب کرے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں یر شخص امن چاہتا ہے اس عالمی طاقتیں امن کے لیے اپنا کردار ادا کریں کشمیر, فلسطین, عراق,شام, بھارت اور جہاں بھی دنیا میں امن کو تباہ کرنے کے لیے جنگیں مسلط کی گئی ہیں وہاں جنگ بندی کے بعد پائیدار امن کو فروغ جائے. چئیرمین عالمی امن تحریک ادریس ناز نے تحریک میں شامل ہونے والے نئے عہدیداران نائب صدر صابر جاوید, نائب صدر عباس زیدی اور کلیم گوندل سے حلف لیا. وائس چئیرمین عتیق انور راجہ نے آئے شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور اس بات پر زور دیا کہ تمام عہدیداران تحریک کو مضبوط کرنے میں اپنا کردار ادا کریں. اس موقع پر نائب صدر عرفان نواز رانجھا (کالم نگار), سینئر نائب صدر اعجاز بیگ, سیکرٹری جنرل زبیر مغل, نائب صدر دلدار احمد ناصر, ڈاکٹر افتخار چوہدری, چیف آرگنائزر میاں تنظیم.حسین, نائب صدر حافظ عبدالقادر کے علاوہ محمد طیب اور معروف کالم نگارو تجزیہ کار چوہدری زولقرنین ہندل نے تقریب کو چار چاند لگائے..وائس آف سوسائٹی نیوز ویب 
فائل فوٹو


فائل فوٹو


فائل فوٹو


فائل فوٹو


فائل فوٹو

Thursday, 21 July 2016

Adds Policy

Voice Of Society Is A Project Of Hundal Brothers 
Advertise With Us
Website Adds Policy
1.Side Bar Right Top
Per Day: 500   Per Week: 2000   Per Month: 8000
2.Footer 1 Main
Per Day: 500   Per Week: 2000   Per Month: 8000
3.Footer 2-2 Right
Per Day: 300   Per Week: 1500   Per Month: 5000
4.Footer 2-1 Left
Per Day: 300   Per Week: 1500   Per Month: 5000
For More Info Contact
voiceofsociety1@gmail.com
03077271776

غزوہ اُحدحق وباطل کااہم ترین معرکہ

غزوہ اُحدحق وباطل کااہم ترین معرکہ

مدینہ منورہ کے شمال میں تین میل کے فاصلہ پرایک پہاڑہے جسے اُحدکہتے ہیں ۔یہ پہاڑشرقاًغرباًپھیلاہواہے کوہ احدکے دامن میں مسلمان اورکفارکے درمیان ایک جنگ ہوئی جوتاریخ اسلام میں غزوہ احدکے نام سے مشہورہے ۔
غزوہ بدرمیں مشرکین مکہ کومسلمانوں کے ہاتھوں سخت نقصان پہنچاتھاان کے بڑے بڑے سردارمارے گئے تھے اورپورے عرب میں ان کی رسوائی ہوئی تھی۔اس طرح ذلت آمیزشکست کازخم یوں توہرشخص کے دل میں تھالیکن جن لوگوں کے باپ ،بیٹے ،بھائی،بھتیجے،خویش اوراقارب جنگ بدرمیں مارے گئے تھے ان کورہ رہ کرجوش آتاتھاجذبہ انتقام سے ہرشخص کاسینہ لبریزتھاہجرت کاتیسراسال تھا۔ مکے کے کافرجنگ بدرکی شکست کابدلہ لینے کے لئے پورے ایک سال سے تیاریوں میں تھے۔ مشرکین مکہ نے چندے اکٹھے کیے اورسارامال جوابوسفیان بن حرب شام سے لایاتھامسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے کے لئے وقف کردیالڑائی کا سامان اکٹھاکیاتین ہزارکابھاری لشکرترتیب دیاگیالشکرکے ساتھ تین ہزاراونٹ اوردوسوگھوڑے تھے ۔اس لشکرکاسپہ سالارابوسفیان تھا۔ آپﷺکے چچاحضرت عباسؓ مکے میں تھے جوں ہی کفارکالشکرمدینے پرحملہ کرنے کے لئے روانہ ہواحضرت عباسؓ نے ایک قاصدکے ذریعے آپﷺکواطلاع دی۔مکے کے قریش ابوسفیان کی بیوی ہندہ کی سرکردگی میں عورتوں کوبھی ساتھ لے آئے تھے کہ وہ میدانِ جنگ میں مردوں کوغیرت دلاتی رہیں کافروں کے لشکرنے اُحدکے مقام پرجومدینہ منورہ سے شمال کی طرف تین میل پرایک پہاڑہے ڈیرہ ڈال دیاانہوں نے آتے ہی ہرے بھرے کھیت اجاڑدیے اورچراگاہیں اپنے قبضے میں کرلیں۔ آپﷺنے مشورہ کرنے کے لئے ایک اجلاس طلب کیاآپﷺکی رائے تھی کہ مدینہ منورہ کے اندررہ کرہی مقابلہ کیاجائے لیکن کچھ جانثاروں نے شہرسے باہرنکل کرمیدان میں جنگ کرنے کامشورہ دیا۔ رسول اللہﷺنے صحابہ کرام علہیم الرضوان کامشورہ قبول فرمالیا آپﷺایک ہزارکالشکرلیکر3ہجری شوال المکرم کے مہینہ جمعۃ المبارک کے دن نمازعصرکے بعدمدینہ سے روانہ ہوئے تھوڑی دورگئے تھے کہ منافقوں کے سردارعبداللہ بن اُبیّ نے حسبِ معمول اس موقع پرغداری کی اپنے تین سوساتھیوں کے ساتھ مدینہ واپس ہوگیا۔کیونکہ یہ شخص حضورﷺکے آنے سے پہلے مدینے کابادشاہ بننے کے خواب دیکھ رہاتھا۔لیکن اسلام کی وجہ سے اسکی ساری امیدوں پرپانی پھرگیا۔اس وجہ سے یہ ہمیشہ منافقت کرتارہتاتھااس موقع پربھی اس نے یہ حرکت کی ۔اب مسلمان لشکرکی تعدادصرف سات سو700رہ گئی ۔ہرطرف سے خطرہ ہی خطرہ تھادشمن کی طاقت بہت زیادہ تھی لیکن مسلمانوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔آقاﷺآگے بڑھے اوراُحدپہاڑکی گھاٹی کے قریب اترنے کاحکم دیا۔آپﷺنے لشکراسلام کومختلف حصوں میں تقسیم کیااوراُحدپہاڑکو پیچھے رکھ کر صفیں درست کیں۔لشکراسلام کی پشت کی طرف ایک درّہ تھاجہاں سے دشمن کے حملے کاخطرہ تھا۔ آپﷺنے حضرت عبداللہ بن جبیرؓ کی کمان میں پچاس تیراندازوں کواس درّہ پرمقرر فرمایا اورتاکیدفرمائی کہ کچھ بھی ہوجائے اس درّے کونہ چھوڑنا۔اُحدکی جنگ میں بھی کافروں نے پہل کی کافروں کے لشکرکے عَلم بردارطلحہ نے آگے بڑھ کرمسلمانوں کوللکارااسکے جواب میں سیدناعلی المرتضٰیؓ میدان میں اترے اوراسے زمین پرگراکرقتل کردیااسکے بعداسکابیٹانکلاجسے حضرت حمزہؓ نے قتل کردیااسی طرح مشرکین باری باری جھنڈااٹھاتے اورمارے جاتے رہے ۔حضرت حمزہؓ ،حضرت علیؓ اورحضرت ابودجانہ انصاریؓ دونوں ہاتھوں میں تلوارلیے دشمن کی لاشوں کے ڈھیرلگاتے رہے ۔کافروں نے پہل کی مسلمانوں کاجواب اس قدرسخت تھاکہ کافرمیدان جنگ سے بھاگ نکلے وہ مسلمان تیراندازجنہیں آقاﷺنے تاکیدفرمائی تھی کہ کسی حال میں بھی درہ نہ چھوڑیں اس خیال سے کہ

اب فتح ہوچکی ہے توانہوں نے اپنی جگہ چھوڑی دی ۔ان کے سردارنے کتناہی ان کوروکامگروہ یہ سمجھ کرکہ لڑائی ختم ہوچکی ہے درّے سے ہٹ گئے اورمال غنیمت سمیٹنے لگے ۔ درّے پراب صرف دس آدمی رہ گئے تھے۔ادھرخالدبن ولیدجوابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے دوسوآدمیوں کادستہ لیکردرّہ کی طرف سے گزرے درّ ہ کوخالی دیکھ کرلوٹ آئے اورحضرت عبداللہ بن جبیرؓ کوساتھیوں سمیت شہیدکرکے لشکرِاسلام پراچانک حملہ کردیا۔جنگ کانقشہ ہی پلٹ گیا۔کافرفتح مندنظرآنے لگے ۔حضرت مُصعب بن عمیرؓ کی شکل آپﷺسے ملتی جلتی تھی وہ آپﷺکوبچانے کی کوشش میں شہیدہوگئے کافروں نے یہ افواہ پھیلادی کہ (معاذاللہ )محمدﷺ!شہیدہوگئے ہیں اس سے مسلمانوں کے ہوش اڑگئے ۔مسلمانوں کالشکربکھرگیا۔حضرت ابوبکرؓ،حضرت علیؓ،حضرت سعدبن ابی وقاصؓ،حضرت زبیرؓ ،حضرت طلحہؓ اورحضرت ابودجانہؓ آپﷺکے گردجمع ہوگئے۔ کفارنے پتھرپھینکے تیربرسائے آپﷺکی پیشانی اوربازوزخمی ہوگئے اورآپﷺکے دودانت مبارک بھی شہیدہوئے تھے۔ بعض صحابہ کرام علہیم الرضوان نے آپﷺسے عرض کی کہ یارسول اللہﷺان مشرکین کے لئے بددعافرمائیں ۔ آپﷺنے فرمایا"میں لعنت کرنے کے لئے نبی نہیں بنایاگیامجھے تواللہ پاک کی طرف بلانے والااورسراپارحمت بنایاگیاہے ۔اے اللہ!میری قوم کوہدایت فرماکیونکہ وہ مجھے نہیں جانتی "۔حضرت عائشہؓ ،حضرت اُمِّ سُلیمؓ،حضرت اُمِّ عمارہؓ انصاری اوردیگرمسلمان خواتین پانی بھرکرلاتیں اورزخمیوں کوپلاتی تھیں۔حضرت ابودجانہؓ اورحضرت طلحہؓ ڈھال بن کرحضورﷺکے سامنے کھڑے تھے جوتیرآتاان صحابہ کرام علہیم الرضوان کے جسم مبارک میں پیوست ہوجاتا۔حضرت سعدؓ بن ابی وقاص سرکارِدوعالم نورِ مجسمﷺکے پہلومیں کھڑے ہوکردشمنوں پرتیرچلاتے رہے ۔حضورﷺخوداپنے ہاتھوں سے انہیں تیردے رہے تھے اورفرماتے جاتے "سعدتجھ پرمیرے ماں باپ قربان اورتیرچلاؤ"حضرت فاطمۃ الزہرانے آپﷺکے زخموں کودھویا۔حضرت علی المرتضیؓ اس وقت ڈھال میں پانی بھربھرکرلاتے تھے۔اس جنگ میں ستر70صحابہ کرام علہیم الرضوان شہیدہوئے تھے۔جن میں آپﷺکے پیارے چچاسیدالشہداء حضرت حمزہؓ بن عبدالمطلب بھی شامل تھے ۔چونکہ آپؓ نے جنگ بدرمیں چن چن کراکثرصنادیدقریش کوتہ تیغ کیاتھااس لئے تمام مشرکین قریش سب سے زیادہ آپؓ کے خون کے پیاسے تھے چنانچہ جبیربن مطعم نے ایک غلام کوجس کانام وحشی تھااپنے چچاطعیمہ بن عدی کے انتقام کے لئے خاص طورسے تیارکیاتھااور اس صلہ میں اسے آزادی کالالچ دلایاتھاغرض وہ جنگ احدکے موقع پرایک چٹان کے پیچھے گھات میں بیٹھاہواحضرت حمزہؓ کاانتظارکررہا تھااتفاقاًوہ ایک دفعہ قریب سے گزرے تواس نے اچانک اس زورسے اپناحربہ پھینک کرماراکہ آپؓ شہیدہوئے۔آپؓ کی شہادت پرکفارکی عورتوں نے خوشی ومسرت کے ترانے گائے۔کافروں نے آپؓ کے کان ،ناک اوردیگراعضاء کاٹ لیے یہاں تک کہ شکم چاک کرکے جگرنکالااورابوسفیان کی بیوی ہندہ نے اُسے چباڈالا۔لڑائی کے اختتام پرآپﷺاورصحابہ کرامؓ دوسرے شہیدصحابہ کرام علہیم الرضوان کی لاشیں تلاش فرماکران کی تجہیزوتکفین کاانتظام فرمارہے تھے کہ حضرت حمزہؓ کواس حالت میں دیکھاتونہایت صدمہ ہوااورایک چادرسے ان کوڈھانپ دیاآپﷺنے پوچھاکہ کیااس نے کچھ کھایابھی ہے صحابہ کرام علہیم الرضوان نے عرض کی نہیں آپﷺنے فرمایا!اے اللہ حمزہؓ کے کسی جزوکوجہنم میں داخل ہونے نہ دینا۔اتنے میں سیدالشہداء حضرت حمزہؓ کی حقیقی بہن حضرت صفیہ تشریف لائیں تاکہ اپنے بھائی کی حالت کودیکھیں آقاﷺنے اس خیال سے کہ آخروہ عورت ہیں اورایسے ظلم کوبرداشت نہ کرسکیں گی اورتحمل مشکل ہوگاان کے صاحبزادے حضرت زبیرؓ سے فرمایااپنی والدہ کودیکھنے سے منع کروانہوں نے والدہ سے عرض کی کہ آقاﷺنے دیکھنے سے منع فرمادیاانہوں نے کہامیں نے یہ سناہے کہ میرے بھائی کے کان اورناک کاٹ دیے گئے ہیں ہم اس پرراضی ہیں میں اللہ پاک سے ثواب کی نیت رکھتی ہوں اوران شاء اللہ صبرکروں گی حضرت زبیرؓ نے جاکرآقاﷺسے ذکرکیاتوآپﷺنے جواب سن کراجازت فرمادی ۔ ایک روایت میں ہے کہ غزوہ احدمیں جہاں نعشیں رکھی تھیں وہاں ایک عورت تیزی سے آرہی تھی آپﷺنے فرمایااس عورت کوروکو حضرت زبیرؓ کہتے ہیں کہ میں نے پہچان لیاکہ میری والدہ ہیں میں جلدی سے روکنے کے لئے بڑھامگرانہوں نے مجھے ایکگھونسامارااورکہاپیچھے ہٹ میں نے کہاکہ آقاﷺنے منع فرمایاہے توفوراًکھڑی ہوگئیں اسکے بعدانہوں نے دوکپڑے نکالے اورفرمایامیں اسے اپنے بھائی کے کفن کے لئے لائی تھی۔حضرت حمزہؓ کوکفن پہننانے لگے کہ برابرمیں ایک انصاری صحابیؓ کی میت پڑی تھی جن کانام حضرت سہیلؓ تھااورکفارنے ان کاحال بھی حضرت حمزہؓ جیساکررکھاتھاہمیں اس بات سے شرم آئی کہ حضرت حمزہؓ کودوکپڑوں کاکفن پہنایاجائے لیکن ساتھ انصاری کے پاس ایک بھی نہ ہوہم نے دونوں کے لئے ایک ایک کپڑاتجویزکیامگرایک کپڑابڑااورایک چھوٹاتھاہم نے قرعہ نکالنے کافیصلہ کیاتاکہ جوکپڑاجس کے حصے میں آئے اسے کفن پہنادیاجائے قرعہ میں چھوٹاکپڑاحضرت حمزہؓ کے حصے میں آیاجوان کے قدکے مطابق چھوٹاتھااگرسرڈھانپاجاتاتوپاؤں کھل جاتے اورپاؤں کی طرف کیاجاتاتوسرکیطرف سے کھل جاتاآقاﷺنے ارشادفرمایاسرکوکپڑے سے ڈھانپ دواورپاؤں پرپتے وغیرہ ڈال دواس طرح ایک ایک کپڑے میں دونوں صحابہؓ کودفن کیاگیا۔
ایک انصاری خاتون گھرسے آپﷺکے بارے میں معلوم کرنے نکلی لوگوں نے اسکوبتایاکہ اسکابھائی شہیدہوگیاہے اس نے کہاکہ رسول اللہﷺتوسلامت ہیں ؟پھراسے اسکے بیٹے کی شہادت کی خبردی گئی تواس نے پھروہی سوال کیاکہ رسول اللہﷺتوخیریت سے ہیں ؟پھر اسے اسکے شوہرکی موت کی خبرسنائی دی گئی توبھی اس نے رسول اللہﷺکے متعلق دریافت کیالوگوں نے کہاآقاﷺاللہ پاک کے فضل وکرم سے خیریت سے ہیں اس نے کہامجھے دکھاؤجب دورسے آپﷺکاچہرہ دیکھ لیاتوبے اختیارکہہ اٹھی "آقاﷺکے ہوتے ہوئے ہرایک مصیبت برداشت ہوسکتی ہے"
قریش کے واپس جانے کے بعدمسلمان بھی مدینہ لوٹ آئے ۔اس وقت مدینہ میں کہرام بپاتھا۔ہرگھرسے رونے کی آوازیں آرہی تھیں۔آقاﷺکادل بھرآیاکہ سب کے لئے رویاجارہاہے لیکن آپﷺکے چچاحضرت حمزہؓ کاکوئی رونے والانہیں ۔یہ انسانی فطرت تھی ۔چنانچہ انصارنے آپﷺکاتاثردیکھ کراپنی عورتوں کوحضرت حمزہؓ کاسوگ منانے کے لئے بھیجالیکن آپﷺنے شکریہ کے ساتھ واپس کردیاکہ مردوں پرنوحہ کرناجائزنہیں ۔(مسنداحمدبن حنبل جلد۳صفحہ۱۸۴)
غزوہ احددراصل ایک فیصلہ کن جنگ نہ تھی ۔جانی اعتبارسے ضرورمسلمانوں کوکفارکے مقابلہ میں زیادہ نقصان اٹھاناپڑاکیونکہ ۲۲کفارکے مقابلہ میں سترصحابہ کرام علہیم الرضوان شہیدہوئے ۔مگرکفارکویہ ہمت نہ ہوئی کہ وہ مدینہ پرحملہ کرکے اس پرقبضہ کرتے ۔اس جنگ میں مسلمانوں کویہ سبق مل گیاکہ رسول اللہﷺکی اطاعت نہ کرنے سے تائیدغیبی بھی ان کاساتھ چھوڑدیتی ہے اوروہ اپنی دنیوی زندگی میں بھی کامیاب نہیں ہوسکتے ۔آج بھی مسلمانوں کے زوال کاواحدسبب اللہ اوراس کے رسول ﷺکے احکامات پرعمل نہ کرنے کی وجہ سے ہے ۔ 
اللہ پاک ہم سب آقاﷺکے اسوہ حسنہ پرچلنے اوراسکے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطافرمائے ۔ہمارے تمام وہ گناہ جوہم نے اعلانیہ یاچُھپ کرکیے سب کومعاف فرمائے ۔بروزقیامت اپنے محبوبﷺکی شفاعت نصیب فرمائے۔مسلمان کوآپس میں اتفاق واتحادنصیب فرمائے ۔ملک پاکستان کوامن وسلامتی کاگہوارہ بنائے ۔آقاﷺکے غلاموں کوہرجہان میں کامیابی عطافرمائے اوردشمنانِ اسلام کونیست ونابودفرمائے اورملکِ پاکستان میں نظام مصطفیﷺلاگوفرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین 

Sunday, 17 July 2016

سب سے بڑی طاقت عوام مگر!


سب سے بڑی طاقت عوام مگر!

چوہدری ذوالقرنین ہندل .گوجرانوالہ
افسوس سب سے بڑی طاقت عوام ہے مگر ہم عوام ہیں یا بھیڑ بکریاں؟کوئی نہیں جانتا۔گزشتہ جمعہ کی شب ترکی ساری رات فوجی بغاوت کی وجہ سے متشدد کاروائیوں کا شکار رہا۔ترکی فوج کے ایک مخصوص گروہ نے حکومتی تختہ الٹنے کی کوشش کی۔ترکی کی بہادر عوام اپنے صدر طیب اردوان کے کہنے پر گھروں سے باہر نکل آئی اور باغیوں کے راستے کی رکاوٹ بننا شروع کر دیا۔ترک عوام نے اپنی حکومت اور اپنے صدر رجب طیب اردوان کے خلاف فوجی بغاوت کے سامنے سینہ سپر ہو کر قومی شعور اور ملکی آئین اور جمہوری عمل کے ساتھ وابستگی کا مظاہرہ کیا۔ترکی گزشتہ 1960۔1971۔اور1980 میں بھی فوجی انقلاب کا شکار رہا مگر چوتھی دفعہ عوام نے فوج کو مسترد کر دیا۔1932 سے جدید ترکی کا آغاز ہوا مگر ترقی میں ہر حکومت کے ساتھ بدلاؤ آتا گیا۔مگر گزشتہ پندرہ سالوں سے ترکی دنیا کی نظر میں اپنا لوہا منوانے میں کامیاب رہا۔جس میں رجب طیب اردوان اور اسکی حکومت کے اقدامات قابل قدر ہیں۔طیب رجب اردوان تین دفعہ وزیر اعظم منتخب ہوئے اور اب صدر کے عہدے پر فائز ہیں۔یہ شخص شروع ہی سے دین اسلام کی طرف مائل تھا سب س پہلے استنبول کا میئر منتخب ہو کر عوام کی خدمت کی اور استنبول کو ایک بہتر شہر کے تور پر نمودار کیا۔عوام کا بھروسا اور یقین اردوان کے لئے اور بڑھا اور اگلی بار اسے وزیر اعظم منتخب کردیا یہ سب عوامی طاقت کی بدولت ہوا۔اس بہادر لیڈر نے عالمی سطح تک خود کو متعارف کروایا۔پوری دنیا میں مسلمانوں کی مدد کو پہنچا اور دنیا کے ساتھ اپنے وطن میں بھی مخالفین کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور عوامی دلوں پر چھایا رہا۔جی قارئین کہتے ہیں سب سے بڑی طاقت عوام ہے! آپ نے گزشتہ کئی ایسے واقعات بھی دیکھے ہونگے کہ جب عوام یکجا ہو جائے تو پھر صرف اور صرف عوام کا ہی لوہا مانا جاتا ہے۔عوام میں بڑی طاقت ہوتی ہے کیونکہ عوام جب اکٹھی ہوتی ہے تو پورے دل و جان سے اکٹھی ہوتی ہے۔گزشتہ رات ترکی کو مارشل لاء سے بچانے والی عوام ہے۔اردوان کے مخالفین نے عوام کو اردوان کے خلاف کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے اور بلا آخر فوجی بغاوت کے زریعے حکومت کو اقتدار سے علیحدہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر عوام نے اس بغاوت کو یکساں مسترد کر دیا اور اپنے لیڈر کی آواز پر لبیک کہا۔ اردوان کی عوام میں مقبولیت صرف اور صرف اس کے حقیقی لیڈر ہونے کی وجہ سے ہے نہ کبھی اردوان پر کرپشن کا کوئی کیس ثابت ہوا نہ کبھی کسی بدعنوانی میں نام آیا۔اور سب سے بڑی بات وہ عوامی نمائندہ ہے اردوان اور اسکی حکومت عوامی سطح تک تعلقات استوار کئے ہوئے ہے۔بلدیاتی ادارے بہت مضبوط ہیں۔لیڈرشپ براہ راست عوام سے منسلک ہے تبھی تو عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اپنے صدر کے کہنے پر بغاوت کو کچل گیا۔وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف ترک صدر کو اپناہم منصب سمجھتے ہیں۔مگر میرے خیال سے ان دونوں میں بہت سی چیزیں مختلف ہیں۔میاں محمد نواز شریف عوام میں اپنی مقبولیت کھو چکے ہیں مگر اردوان کی مقبولیت کا اندازہ آپکو ہو چکا ہے۔ہمارے ہاں عوام اور حکمران جمہوریت کے بڑے بڑے راگ الاپتے ہیں۔مگر حقیقت اس کے برعکس اور تکلیف دہ ہے۔میرے خیال میں پاکستان میں حقیقی معنوں میں ابھی تک کوئی جمہوری پارٹی نمودار نہیں ہوئی۔سب کے سب جمہوریت کی ایک اپنی ہی تعریف بنائے ہوئے ہیں۔اور اس میں موقعے کی مناسبت سے تبدیلیاں کرتے ہیں۔بلا شبہ گزشتہ شب ترک عوام اور حکومت کے لئے ایک کڑا امتحان تھا مگر ان کے حوصلے پست نہیں نہ ہی کسی کے دل میں باغیوں کے لئے کوئی سافٹ کارنر موجود تھا نہ ہی کوئی باغیوں کی حمایت میں نکلا کیونکہ ان کے دل صاف تھے کسی کے دل میں ذاتی مفاد اور کھوٹ موجود نہیں تھی وہ لوگ ون یونٹ تھے۔ اور ملکی مفاد کی خاطر گھروں سے باہر نکلے۔ادھر پاکستان میں سارے کا سارا آوا ہی بگھڑا ہے۔ہر پارٹی کا اپنا مفاد ہے اپنے ذاتی مفادات کے لئے قوم کو توڑتے ہیں کبھی وطن کی عوام کو ون یونٹ نہیں رہنے دیا۔عوام کو اسٹیبلشمنٹ بیروکریسی سیاسی پارٹیوں عدلیہ دوسرے اداروں کا اور اپنا باخوبی علم ہے کہ ملک کی بقاء کے لئے کسی نے کیا کردار ادا کیا ہے۔اگر کسی کو اپنی وطن کے ساتھ بے وفائی پر شک ہے تو ذرا خود کو پرکھو اور دیکھو کے ہمارے اندر اور ترکی کے عوام کے اندر کیا فرق ہے۔کیوں ہماری عوام ون یونٹ نہیں ہوتی؟ کیونکہ ہمارے ہاں اردوان جیسے لیڈر موجود نہیں؟۔کیوں ہم بار بار کرپٹ لوگوں کے جال میں پھنس جاتے ہیں؟۔کیوں ہماری افواج اپنے کام سے ہٹ کر سیاست میں دخل اندازی کرتی ہے؟۔کیوں ہماری عدلیہ انصاف کے علاوہ باقی سب کاموں میں ماہر؟ کیوں ہمارے وزیر نا اہل؟ کیوں ہماری اپوزیشن جماعتیں اپنے مفادات کی خاطر کسی بھی حد کو جانے کو تیار ہیں چاہے ملکی نقصان ہی کیوں نہ ہو؟ ۔کیوں ہم سب صرف اپنے مفادات کا سوچتے ہیں اور دوسروں کے مفادات کو کچلنے کی کوشش کرتے ہیں؟۔کیوں ہمارے اندر ہٹ دھرمی آچکی ہے؟۔کیا ہم مسلمان ہیں؟۔کیا ہم عوام ہیں یا بھیڑ بکریاں؟۔کیوں ہم باتوں میں تو دنیا فتح کرلیتے ہیں مگر حقیقت میں ناہل ہیں ؟کیوں آخر کیوں؟ ۔ذرا سوچئے۔ترکی پر جو گزشتہ شب قیامت ٹوٹی اس سے با خوبی نمٹنے کے لئے ترک عوام کی عظمت کو سلام بلا شبہ دنیا کی تاریخ کا یہ بہت بڑا واقع ہے ترکیوں نے ثابت کر دیا کہ انہیں اپنے اچھے برے کی تمیز ہے انہوں نے اپنے لئے اچھے لیڈروں کو چنا۔ انہوں نے بیرونی سازشوں کو بے نقاب کیا اور مسترد کیا۔ترک عوام ہماری عوام کے لئے مشعل راہ ہے۔ کچھ سیکھئے۔سیاستدانوں سے گزارش ہے کہ عوام کو سمجھیں عوام کو پرکھیں اور عوامی فلاح و بہبود کے لئے کام کریں اگر عوام آپ کے ساتھ ہے تو سمجھ لو تم بڑے مضبوط ہو کیوں کہ عوام سب سے بڑی طاقت ہے۔

Saturday, 16 July 2016

ماہِ شوال کے روزوں کی فضیلت


ماہِ شوال کے روزوں کی فضیلت

رمضان المبارک کامقدس مہینہ ختم ہوگیاہے۔یہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں ہماری گواہی دے گا۔جس نے اس مقد س مہینہ کاحق اداکیاقیامت کے دن یہ مقدس مہینہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں اس شخص کے لئے عزت ووقارکے تاج پہننانے کی درخواست کرے گا۔اس مقد س مہینہ کی درخواست قبول ہوگی خوش نصیب انسان کوعزت ووقارکاتاج پہنادیاجائے گا۔جس نے اس مقد س مہینہ کاحق ادانہیں کیاجیسے اس کی عزت ہم پرواجب تھی ؟وہ پچھتائے گازندگی کاکوئی بھروسہ نہیں شایدآئندہ یہ ماہِ مقدس ہمارے نصیب میں نہ ہواگر موت نے غافل کومہلت نہ دی توانسان نادم ہوگاپَراس دن صرف ندامت ہی ہوگی اورتوکچھ فائدہ نہیں ہوگا۔میرے مسلمان بھائیو!زندگی کوغنیمت جانوگناہوں سے بازآجاؤغفلت چھوڑدوکہیں ایسانہ ہوکہ قیامت کے دن افسوس کرناپڑجائے ۔
منقول ہے کہ جب رمضان المبارک کامقدس مہینہ آتاہے توجنت کوایک کنارے سے دوسرے کنارے تک سجایاجاتاہے یہاں تک کہ جب اسکی پہلی رات آتی ہے توعرش کے نیچے تیزہواچلتی ہے توجنتی درختوں کے پتے پھڑپھڑاتے ہوئے جنت کے دروازوں پرلگتے ہیں توان کی ایسی آوازسنائی دیتی ہے کہ کسی سننے والے نے اس سے زیادہ دلکش آوازکبھی نہ سنی ہوپھرزینت سے آراستہ بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں جنت کے بالاخانوں میں کھڑی ہوکرپکارتی ہیں کیاکوئی خوش نصیب ہے جواللہ پاک کوہمارے نکاح کاپیغام دے تاکہ اللہ پاک ہمارانکاح اس سے کردے پھردربان جنت سے پوچھتی ہے اے رضوان یہ کون سی رات ہے تووہ ان کولبیک کہتے ہوئے جواب دیتاہے یہ ماہ رمضان المبارک کی پہلی رات ہے اوراللہ پاک نے فرمایاہے کہ اے رضوان میرے محبوب ﷺکے امت کے روزہ داروں کے لئے جنت کے دروازے کھول دے ۔اے جبرائیل امینؑ زمین کی طرف جاؤمردو دشیاطین کوزنجیروں میں جکڑدواوران کے گلے میں طوق ڈال کرسمندرکی گہرائی میں پھینک دوتاکہ میرے محبوبﷺکی امت کے روزے فاسدکرنے کی کوشش نہ کریں اللہ پاک ماہ رمضان کی ہررات تین مرتبہ ارشادفرماتاہے ہے کوئی توبہ کرنیوالاکہ میں اسکی توبہ قبول کروں ہے کوئی مغفرت طلب کرنیوالاکہ میں اسے معاف کروں ہے کوئی سوال کرنیوالاکہ میں اس کوعطاکروں ہے کوئی دعاکرنیوالاکہ میں اس کی دعاقبول کروں اللہ پاک رمضان کی ہررات افطارکے وقت دس لاکھ جہنمی کہ جن پرعذاب واجب ہوچکاہوتاہے دوزخ سے آزادفرماتاہے جب ماہِ رمضان کاآخری دن آتاہے تواس دن مہینے کے شروع سے آخرتک آزادکئے ہوؤں کی تعدادکے برابرجہنم سے آزاد فرماتاہے ۔ماہ رمضان المبارک کامہینہ امت محمدیہﷺکو اللہ پاک کی طرف سے ایک خصوصی انعام ملاہواہے ۔ کیونکہ اس ماہِ مقدس میں ایک نفلی عبادت کاثواب فرض کے برابراورفرض کاثواب عام دنوں کے فرضوں سے سترتاسات سوگناتک ملتاہے۔
شوال شول سے ماخوذہے جس کے معنی ہیں باہرنکلنا۔چونکہ اہل عرب اس مہینہ میں سیروسیاحت کے لئے گھروں سے باہرنکل جایاکرتے تھے۔اس لئے اِس ماہ کانام شوال رکھاگیا۔ ماہِ شوال کے مہینے میں جوحرام ومعاصی سے پرہیز کرتاہے وہ جنت کامستحق ہوتاہے ۔حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پران کی بدکاری کی وجہ سے زمین کاجوطبقہ الٹ دیاگیاتھاوہ ہفتہ کادن اورماہِ شوال کی پہلی تاریخ تھی۔ حضرت صالح علیہ السلام کی امت یکم شوال جمعرات کے

دن مبتلائے عذاب ہوئی ۔حضرت نوح علیہ السلام کی امت پہلی شوال ہفتہ کے دن طوفان میں غرق ہوئی تھی۔قوم عادعلیہ السلام پریکم شوال بدھ کے دن عذاب صرصرآیاتھا۔
حدیث شریف میں واردہے کہ شوال کی پہلی رات میں جس کوصبح عیدہوتی ہے چندہزارفرشتے نازل ہوتے ہیں اوروہ نداکرتے ہیں کہ اے اللہ پاک کے بندو!خوشخبری ہوتم کواس بات کی اللہ پاک نے تم کواس لئے بخش دیاہے کہ تم نے ماہِ رمضان کے روزے رکھے ۔اگرتم چھ روزے شوال میں بھی رکھوتوتم کواللہ پاک جنت میں ایسابڑامکان دے گاجوکسی کونہ دے گاسوااسکے جوتمہارے موافق عمل کرے ۔
حضرت سیدناابوایوب انصاریؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺنے ارشادفرمایاجس نے رمضان کے روزے رکھے اورپھرشوال کے چھ روزے رکھے گویااس نے سارازمانہ روزے رکھے۔(نسائی)یہ اس وقت ہے کہ جب کہ وہ تمام عمریہ روزے رکھے اگراس نے صرف ایک ہی سال یہ روزے رکھے تواسے سال بھرکے روزوں کاثواب ملے گا۔ماہِ شوال کے چھ روزے اکٹھے یامتفرق رکھنا ہرطرح جائزہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایاکہ جوشخص رمضان شریف کے روزے رکھے اورپھرماہ شوال میں چھ روزے رکھے اس نے گویاپورے سال کے روزے رکھے ۔آپؓ نے اس حدیث پاک کی توضیح میں فرمایاکہ سال بھرکے روزے اس حساب سے ہوتے ہیں کہ رمضان شریف کے تیس روزے تین سوروزوں کے برابرہوئے اورشوال کے چھ روزے ساٹھ کے برابریوں سال کے تین سوساٹھ دنوں کے برابرروزے ہوئے ۔ایک روایت میں ہے کہ جوشخص ماہ شوال کے چھ روزے لگاتارماہِ رمضان سے ملاکررکھے (عیدکے دن کے علاوہ)تواس کے لئے چھ لاکھ برس کی عبادت ،چھ لاکھ اونٹ کی قربانی ،چھ لاکھ غلام آزادکرنے سے بھی افضل ہے 
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺنے ارشادفرمایاجوماہِ شوال کے چھ روزے رکھے گااللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن طوق اور زنجیروں سے بچالے گا۔ایک اورروایت کے مطابق جوشخص ماہِ شوال کے چھ روزے صدق وایمان سے رکھے گااسکے نامہ اعمال میں امت مصطفیﷺ کے برابرثواب لکھاجائے گااوربہشت میں حضرت امیرحمزہؓ ،حضرت عباسؓ ،حضرت امام حسنؓ اورحضرت امام حسینؓ کی ہمسائیگی میں جگہ ملے گی۔ 
حضرت علی المرتضیٰ شیرخداؓ فرماتے ہیں اے مسلمانو!شوال کے مہینے میں چھ روزے ضروررکھ کراپنے جسموں کوپاک وصاف کرلیاکروکیونکہ اللہ تعالیٰ رمضان میں روزہ رکھنے والوں کے اجسام دیکھتاہے لہذاجوشخص اس مہینے میں حرام ومعاصی سے پرہیزرکھے گاوہ جنت کاحقدارہے۔شوال کے پہلے روزے کے بدلے میں اللہ تعالیٰ اس کے چالیس سال کے گناہ بخش دے گاچالیس نبیوں کاثواب عطافرمائے گااوربہشت کی چالیس حوریں اس کی زوجیت میں دے گادوسرے روزے کے بدلے سترغزوات کاثواب اورعذاب قبرسے نجات ملے گی ۔تیسرے روزے کے بدلے میں ایک لاکھ شہیدوں کامرتبہ اورقیامت کی سختی سے محفوظ رہے گا۔چوتھے روزے کے بدلے میں دنیاوآخرت کی سترحاجتیں پوری ہوں گی اوراعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیاجائے گا۔پانچویں روزے کے بدلے میں بہشت کے سترحلے پہنائے جائیں گے اوردعاقبول ہوگی۔چھٹے روزے کے بدلے میں اسے قیامت کے دن ایک لاکھ گناہ گاروں کی شفاعت کاحق ملے گاساٹھ لاکھ برس کی عبادت نامہ اعمال میں لکھی جائے گی ۔ اگراسی سال جس میں روزے رکھے ہیں مرجائے گاتوشہیدہوگااوردیداربھی حاصل ہوگا۔حدیث پاک میں ہے کہ جوآدمی شوال کی پہلی رات یادن میں نمازعیدکے بعدچاررکعت نمازنفل اپنے گھرمیں پڑھے اورہررکعت میں الحمدشریف کے بعدسورۃ الاخلاص اکیس مرتبہ پڑھے اللہ تعالیٰ اس کیلئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیتاہے اوردوزخ کے ساتوں دروازے بندکردیتاہے اتنے تک وہ آدمی نہیں مرے گاجب تک وہ اپنامقام جنت میں نہ دیکھ لے ۔اللہ پاک ہم سب کی تمام جانی مالی عبادتیں اپنی بارگاہ لم یزل میں قبول فرماکربروزقیامت ذریعہ نجات بنائے اوراپنے پیارے محبوب ﷺکی شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین
******** ختم شد ********

پاکستان کی حکومت اور سیاسی قیادت کی ترکی میں فوجی بغاوت کی شدید مذمت

وزیراعظم کےمعاون خصوصی طارق فاطمی نے ترک وزیرخارجہ کو پاکستان کی جانب سے ترکی کے عوام  اور حکومت کو حمایت کا پیغام دیا۔ پاکستان کی سیاسی قیادت نے بھی ترکی میں فوجی بغاوت کی شدید مذمت کی۔وزیراعظم کےمعاون خصوصی طارق فاطمی نے ترک وزیرخارجہ سے رابطہ کیا ۔ طارق فاطمی نے کہا کہ پاکستان ترکی کے عوام اور حکومت کے ساتھ ہے ۔ترک وزیرخارجہ نے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے حمایت کے پیغام پر شکرگزار ہیں ایک دوست ملک سے اسی حمایت کی توقع تھی ۔ ترک وزیرخارجہ کی جانب سے پاکستان کے عوام کی یکجہتی پر بھی شکریہ ادا کیاگیا ۔ ترجمان حکومت پاکستان نے بھی کہا کہ پاکستان ترک عوام اورحکومت کےساتھ ہے ترکی میں جمہوریت کوکمزورکرنےکی کوشش کی مذمت کرتےہیں امیدہےکہ جلدامن قائم ہوگااورصورتحال معمول پرآجائےگی۔وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ترکی میں بغاوت ترکی کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے خلاف ساز ش تھی جسے ترک عوام نے اپنے اتحاد سے ناکام بنا دیا ہے۔ شہبازشریف کا کہنا تھا کہ ترکی نے عوام کی حاکمیت پر مہرتصدیق ثبت کر دی ہے۔ واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوان عظیم عوامی رہنما ہیں۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کا کہنا تھاکہ ترکی میں جمہوریت کا تسلسل اور فوجی ٹولے کی ناکامی خوش ائندہے
۔ترک عوام کی جمہوریت پسندی کا عملی مظاہرہ ساری دنیا کیلئے قابل تقلید ھے۔بغاوت کے خلاف جرات مندانہ اقدام پر ترک عوام اور حکومت مبارک باد کے مستحق ہیں۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت کا تسلسل اور فوجی ٹولے کی بغاوت کی نا کامی خوش آئند ہے۔دوسری جانب امیر جماعت اسلامی نے بھی اپنے بیان میں ترکی میں فوجی بغاوت کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ترک عوام نے طیب اردگان سے محبت اور عقیدت کا شاندار مظاہرہ کیا۔ عالمی سامراج مصر کی طرح ترکی کو بھی عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتا ہے۔ سینیٹرسراج الحق کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام ترکی کی جمہوری حکومت کے ساتھ ہیں۔و۱ئس آف سوسائٹی نیوز ویب

حج اور عمرہ ۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں


حج اور عمرہ ۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں

(ڈاکٹر خالد محمود)
+923335207070
aap.hajj_umrah@yahoo.com
قرآن کریم میں سور ۃ البقرۃ، سورۃ آل عمران،سورۃالما ئدۃ ، سورۃ الانعام، سورۃ الانفال، سور ۃالتو بہ ، سور ۃ ابراہیم ، سورۃ بنی اسرا ئیل، سورۃ الحج، سورۃ العنکبوت، سورۃ النمل، سورۃ القصص، سورۃ الصآفات، سورۃ الشوریٰ، سورۃ الفتح، سورۃ البلد،سورۃ التین اور سورۃ القریش میں مکہ معظمہ اور بیت اللہ کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور حج و عمرہ کے مختلف احکام و افعال کا تذکرہ کیا گیا ہے۔قرآن کریم اور احادیث شریف میں طواف و سعی،قیام منیٰ،وقوف عرفات اور وقوف مزدلفہ کے دوران مانگنے کے لئے بعض جامع دعائیں بھی لکھی ہوئی ملتی ہیں۔
حج کی فرضیت قرآن و سنت کی روشنی میں: قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے اور اللہ تعالیٰ کیلئے ان لوگوں پر (اس خاص) گھر کا حج فرض ہے جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں (آل عمران آیت ۔97) ۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے۔(i) اس بات کی شہادت کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں اور محمدﷺ اللہ کے رسو ل ہیں۔ 
(ii) نماز قائم کرنا۔(iii ) زکوٰۃ ادا کرنا۔ (v i) رمضان کے روزے رکھنا اور(v ) حج ادا کرنا۔ حج بیت اللہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان و فرائض میں سے ایک اہم رکن اور عظیم ستون ہے۔ حج کسی ایک فعل کا نام نہیں بلکہ یہ بہت سے افعال پر مشتمل ایک طویل عبادت ہے۔ حج ساری زندگی میں صرف ایک بار فرض ہے۔ بعثت نبویﷺ کے 21 سال بعد تک یعنی 8 ہجری تک بیت اللہ شرک اور بت پرستی کا مرکز بنا رہا اور طریقہ جاہلیت کے مطابق مشرک حج کرتے رہے۔ سن 8 ہجری میں آپﷺ نے مکہ فتح کیا توبیت اللہ شریف کو بتوں اور تصویروں سے پاک کیا۔ سن 9 ہجری میں حج فرض ہوا تو آپ ﷺ نے اس سال حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو امیر حج بنا کر بھیجا او پہلی مرتبہ فریضہ حج اسلامی شریعت کے مطابق ادا کیا گیا اور رسول اکرمﷺ نے خود اگلے سال سن 10ہجری میں ایک لاکھ بیس ہزار (کم و بیش)صحابہ اکرامؓ کے ساتھ حیات طیبہ کا پہلا اور آخری حج ادا کیااور تاریخی خطبہ حجتہ الوداع ادا فرمایا اور صحابہ اکرا مؓ کو مناسک حج و عمرہ بتائے۔ حج فرض ہے اور عمرہ سنت مؤکدہ ہے۔حج زندگی میں ایک بار کرنا صاحب استطاعت مسلمان پرفرض ہے۔اگر ایک سے زیادہ حج کرے گاتو بعد والے حج، حج بدل یا نفلی حج کہلائیں گے ۔ پوری زندگی میں ایک یا ایک سے زیادہ عمرے ادا کئیے جا سکتے ہیں۔نبی رحمت صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی میں ایک حج (حج قران) اور چار عمرے ادا کئیے تھے۔اللہ اور اس کے رسولﷺ کا کوئی بھی حکم مصلحتوں سے خالی نہیں ہے۔حج کے احکام کے بارے میں جب ہم غور کرتے ہیں توہمیں ان میں بہت سی مصلحتیں اور حکمتیں نظر آتی ہیں جو انسان کی سوچ اور سمجھ سے با لا تر ہوتی ہیں اور پھر بعد میں وقت کے ساتھ ساتھ انکی سمجھ آنی شروع ہو جاتی ہے ۔قرآن کریم فرقان حمید میں تینوں اقسام کے حج کا ذکر آیا ہے۔سورۃ البقرہ میں حج تمتع اور حج قران کے بارے ارشاد باری تعالیٰ ہے۔اور پورا کرو حج اور عمرہ اللہ کیلے ( سورۃ البقر ہ آیت

نمبر۔196)اور حج افراد کے بارے میں سورۃ آل عمران میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔اور لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو شخص بیت اللہ تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے ۔( سورۃ آل عمران آیت نمبر۔97)
عمرہ کی شرعی حیثیّت: عمرہ کا جواز بھی قرآن مجید اور سنت نبوی سے ثابت ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے اور اللہ کی خشنودی کے لیئے جب حج اور عمرہ کی نیت کرو تو اسے پورا کرو۔ (سورۃ البقرہ آیت نمبر۔196) بلا شبہ عمرہ ایک عظیم عبادت ہے اور اسے حج اصغر (چھوٹا حج) بھی کہا جاتا ہے۔ ایام حج کے علاوہ پورا سال کسی بھی وقت عمرہ کیا جا سکتا ہے۔عمرہ کی فضیلت کے بارے میں بے شمار احادیث مبارکہ موجود ہیں ان میں سے چند احادیث مبارکہ کا ترجمہ یہاں پیش کیا جا رہا ہے تا کہ عمرہ کے دوران کی جانے والی عبادات کی اہمیت،عظمت اور اللہ پاک کی طرف سے ان پر اجر عظیم واضح ہو جائے۔ 1 ۔حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا رمضان المبارک میں عمرہ کرنا مستحب اور افضل ہے(بخاری ، مسلم )2۔حضرت ابو داؤدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا رمضان کے عمرہ کا ثواب ایک حج کے برابر اور اس حج کے برابرجو میرے ساتھ کیا ہو( بخاری)3۔حضرت ابن مسعودؓ اور حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا لگاتا ر حج و عمرہ فقراور گناہوں کو ایسے دور کرتے ہیں جیسے آگ کی بھٹی لوہے کی میل کو دور کرتی ہے۔(ترمذی ، نسائی ) 4۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا ایک عمرہ دوسرے عمرے کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے(بخاری ، مسلم) 5۔حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جو شخص احرام کی حالت میں مرے گا وہ روز محشر لبیک پکارتا اُٹھے گا(نسائی )6۔حج اور عمرہ پر جانے والے اللہ تعالیٰ کے خصوصی مہمان ہوتے ہیں(ابن ماجہ)7۔حج اور عمرہ پر جانے والے اللہ سے دعا کریں تو اللہ قبول فرماتا ہے اور اللہ سے مغفرت طلب کریں تو اللہ بخش دیتا ہے(طبرانی)8۔جو شخص حج یا عمرہ کے لئے نکلا اور راستہ میں فوت ہو گیاتو اس کے واسطے قیامت تک حج و عمرہ کا ثواب لکھا جاتا ہے اور روز قیامت نہ اس کے گناہ پیش کئے جائیں گے اور نہ کچھ حساب لیا جائے گابلکہ بغیر روک ٹوک اور بغیر حساب کے حکم ہو گا کہ جنت میں داخل ہو جاؤ (بیہقی) 
مذکورہ بالا آیات اور احادیث سے باسانی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انسان کے نیک اعمال اللہ کے ہاں اسی صورت قبول ہوں گے جب وہ سنت رسولﷺ کے مطابق ہوں گے جو اعمال سنت رسولﷺ سے ہٹ کر ہوں گے وہ اللہ کے ہاں غیرمقبول ہوں گے۔مناسک حج پر ایک نظر ڈالئیے اور غور فرمائیے کہ یہ مناسک شروع سے لیکر آخر تک کس طرح حاجی کو اتباع سنت کی تعلیم دیتے ہیں۔
سیرت اور احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ مالدار لوگوں کو کثرت سے نفلی حج اور عمرے کرنا چاہئیں۔ازواج مطہراتؓ ،صحابہ اکرامؓ، تابعین اور تبع تابعین فقرو فاقہ اور تنگدستی کے باوجود کثرت سے حج کرتے رہے بعض تو مالی کمی کے باوجود ہر سال حج کرتے تھے۔ حج تمام انبیاء کرام ؑ کی سنت ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے خانہ کعبہ کا حج کیا ہے۔
ہمیں کوشش کرنا چاہیے کہ حج اور عمرے کی ادائیگی سے ہمارا مقصد حکم الٰہی کی تعمیل،اللہ کی رضا اور سنت رسول ﷺ کی پیروی کے سوا اور کچھ نہ ہواور حج کے بعد جب اللہ تعالیٰ ہمیں تمام گناہوں سے پاک کر دے تو پھر کوشش یہ کرنا چاہیے کہ ہم اپنے نامہ اعمال میں ازسرنو گناہوں کا
اضافہ نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سبکو حج اور عمرہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔ 
نوٹ:قرآنی آیات اوراحادیث مبارکہ کے ادب اور تقدس کے پیش نظر عربی میں لکھنے سے اجتناب کیا گیا ہے اور صرف اردو ترجمہ لکھنے پر اکتفا کیا گیا ہے۔

Sunday, 10 July 2016

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم


ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم!

چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ
ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں 
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں ہم اپنے سب سے بڑے خدمت گزار سے محروم ہو گئے۔ایسے انسانیت کی خدمت کرنے والے بہت کم ہی ہوتے ہیں جنکی کی کمی انکے جانے کے بعدکبھی ختم نہیں ہو سکتی۔قوم کی مسیحائی کرنے والے بلکہ انسانیت کی مسیحائی کرنے والے عبدالستار ایدھی کراچی آئی ایس ٹی یو میں دوران علاج انتقال کرگئے۔دنیا ایک مسیحا سے محروم ہو گئی۔عبدالستار ایدھی کو پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ایدھی ویلج میں گزشتہ روز سپرد خاک کر دیا گیا۔مرحوم کی نماز جنازہ میں سیاسی سرکاری و عسکری قیادتوں کے ساتھ ساتھ بہت سے نامور وعام لوگوں نے شرکت کی۔بہت بڑا جنازہ تھا۔عبدالستار ایدھی قوم کے لئے عطیہ خداوندی تھے۔انسانوں کی خدمت کے لئے انہوں نے جو میدان منتخب کیا عمر بھر اس میں مصروف عمل رہے۔انسانی خدمت کا روشن ستارہ غروب ہو گیا۔ایدھی ویلج میں انہیں انکی وصیت کے مطابق اس لباس میں دفن کیا گیا جو انہوں نے پہن رکھا تھا۔عظیم شخص جاتے جاتے بھی دو انسانوں کی زندگی کو منور کر گیا۔انکی وصیت کے مطابق انکی آنکھیں عطیہ کی گئیں جو دو مختلف اندھے لوگوں کو لگا دی گئیں۔ہم سب کے ایدھی نے زندگی کا سفر بے سرو سامانی کے عالم میں شروع کیا۔اپنی ماں سے بہت کچھ سیکھا ۔ماں کی خدمت میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ماں کے آخری ایام میں انکی خوب خدمت کی۔ایدھی صاحب کا کہنا ہے کہ جب ماں کو ہسپتال لے جانا چاہتے تھے تو ایمبولینس میسر نہ ہونے پر وہ رکشہ میں بڑی مشکل سے لے کر جاتے اسی لئے انکے دل میں بے لوث خدمت کا جذبہ بڑا اور ایمبولینس سروس جیسا کارنامہ بھی انجام دیا۔تاکہ کسی کو ایسی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔۱۵۹۱ میں ایک چھوٹی سی ڈسپینسری شروع کی۔ہر وقت ڈسپینسری پر بیٹھے رہتے تاکہ کسی کو جب بھی ضرورت پڑے وہ حاضر رہیں۔کبھی بھی مشکل آتی ایدھی صاحب سب سے آگے نظر آتے۔انکے خدمت کے جذبے نے لوگوں کے دل جیت لئے اور لوگوں نے آنکھیں بند کر کے انکا بھروسا کرنا شروع کردیا۔پھر انہوں نے ایدھی فاؤنڈیشن شروع کی ایدھی فاؤنڈیشن وقت کے ساتھ ساتھ اتنی ترقی کر گئی کہ اب پاکستان سے باہر بھی دنیا کے کئی ملکوں میں خدمات انجام دے رہی ہے۔ملک بھر میں انکی بارہ سو ایمبولینس کام کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ ایدھی فاؤنڈیشن کے پاس دو جہاز ہیلی کاپٹر اور سپیڈ بوٹ ہیں۔پاکستان بھر میں تین سو مراکز اور سترہ شیلٹر ہوم بنائے۔انکی بیماری کے دوران حکومت سندھ نے انکا علاج بیرون ملک کرانے کی خواہش ظاہر کی مگر انہوں نے کہا وہ پاکستان سے ہی علاج کروائیں گے حکومت انہیں کراچی میں قبرستان کے لئے جگہ دے دیں۔عبدالستار ایدھی ایک ایسی عظیم ہستی تھے کہ میں بیاں نہیں کر سکتا۔انکے بارے بہت سے بڑے لکھاریوں نے لکھا۔لڑکپن بلکہ بچپن ہی سے وہ خدمت کا جذبہ رکھتے تھے۔انکی خدمات دنیا کی تاریخ میں نا قابل فراموش ہیں۔جتنی انکے لئے عزت ملک پاکستان کے لوگوں کے دلوں میں ہے شاید ہی کسی اور شخصیت کے لئے ایسی عزت ہو۔وہ بے لوث خدمت کرنے والے شخص تھے۔ایدھی فاؤنڈیشن کا کروڑوں کا بجٹ ہوتا مگر ایدھی صاحب کے لئے ان میں سے ایک روپیہ بھی حرام تھا۔بہت سادہ سی زندگی گزاری ہمیشہ ایک ہی جوڑے میں نظر آتے۔دو جوڑوں سے زیادہ کپڑے نہ رکھتے ۔ٹوٹے ہوئے جوتے پہن لیتے۔ساری زندگی دو جوڑوں اور ایک چپل میں گزار دی۔پوری انسانیت کے مسیحا تھے کبھی زندگی میں اپنا فائدہ نہ سوچا بلکہ لوگوں کی بھلائی کے لئے کام کیا۔بہت سے بے سہاروں کو سہارا دیا۔بہت سی بے آسرا میتوں کو غسل دیا کفن دیا اور پھر ایدھی ویلج میں اپنے ہاتھوں سے تدفین کی۔کبھی کسی کام میں عار محسوس نہ کی خود میت کو غسل دیتے اور دفن کرتے۔بے آسراء بچوں کا آسراء تھے۔یتیموں کے وارث تھے۔انہوں نے اپنی ساری زندگی انسانیت کی خدمت میں وقف کر دی۔انکے نزدیک رنگ نسل ذات پات مذہب کوئی اہمیت نہیں رکھتے تھے بلکہ وہ سب کے مسیحا تھے۔نمازی اور تہجد گزار بھی تھے۔اپنی زندگی میں کبھی خدمت سے ہٹ کر کبھی کوئی کا م نہ کیا۔اپنی دنیا کو وقف کر کے اپنی آخرت سنوار لی۔ایدھی صاحب متعدد قومی و بین الاقوامی اعزازات حاصل کر چکے ہیں جنکے باوجود وہ سادہ لوح انسان تھے۔ان اعزازات کی تفصیل درج ذیل ہے۔بین الاقوامی اعزازات۔۔۶۸۹۱ میں عوامی خدمات میں رامون مگسیے اعزاز۔۸۸۹۱ میں لینن امن انعام۔۲۹۹۱ میں پال ہیرس میلوروٹری انٹرنیشنل فاؤنڈیشن۔دنیا کی سب بڑی ایمبولینس سروس گنیز بک ورلڈ ریکارڈ ۰۰۰۲۔ہمدان اعزاز برائے عمومی طبی خدمات ۰۰۰۲۔بین الاقوامی بلزان اعزاز ۰۰۰۲ برائے انسنیت وامن بھائی چارہ۔اطالیہ انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی کی جانب سے اعزازی ڈاکٹریٹ ڈگری ۶۰۰۲۔یونیسکو مدنجیت سنگھ اعزاز ۹۰۰۲۔احمدیہ مسلم امن اعزاز ۰۱۰۲۔قومی اعزازات۔۔کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کی طرف سے سلور جوبلی شیلڈ ۲۶۹۱۔۷۸۹۱۔حکومت سندھ کی جانب سے سماجی خدمتگزار برائے برصغیر کا اعزاز۔۹۸۹۱ نشان امتیاز پاکستان کا ایک اعلی اعزاز۔ حکومت پاکستان کے محکمہ صحت اور سماجی بہبود آبادی کی جانب سے بہترین خدمات کا اعزاز۹۸۹۱۔پاکستان سوک سوسائٹی کی جانب سے پاکستان سوک اعزاز ۲۹۹۱۔پاک فوج کی جانب سے اعزازی شیلڈ۔پاکستان اکیڈمی آف میڈیکل سائسنز کی جانب سے اعزاز خدمت۔پاکستان حقوق معاشرہ کی طرف سے انسانی حقوق اعزاز۔مارچ ۵۰۰۲ عالمی میمن تنظیم کی جانب سے لائف ٹائم اچیومنٹ اعزاز۔ایدھی صاحب کی خدمات ان اعزازات سے کہیں بڑھ کر ہیں نوبل پرائز ایدھی صاحب کو چاہے دیں یا نہ دیں لیکن اللہ کے حضور انشائاللہ انہیں نوبل انعام ضرور ملے گا اللہ انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔آمین۔الوداع خادم اعظم پاکستان
چلے جائیں گے ہم تو ہمیں یاد کرو گے
ڈھونڈنے کو پھر ہمیں سر بازار پھرو گے

Wednesday, 6 July 2016

عیدالفطرانعام واکرام کادن

تمام اہل اسلام کوعیدالفطرمبارک ہو
عیدالفطرانعام واکرام کادن 

آج عیدالفطرکادن ہے ۔عیدکی اصل مسرتیں تودوسروں کے چہروں پرخوشیوں کے پھول سجاناہے ۔لفظ عید "عود "سے نکلاہے جسکے معنی لوٹ آنے کے ہیں عیدکادن چونکہ ہرسال لوٹ کرآتاہے اس لئے اسکوعیدکہتے ہیں یہ اسلا م کے ماننے والوں کے لئے شادمانی کادن ہوتاہے ۔عیدالفطرکادن رمضان المبارک کے مہینہ کے فوراً بعدیکم شوال المکرم کوآتاہے ۔رحمتوں اوربرکتوں سے بھرے ہوئے مہینے رمضان المبارک کے آخری دن کی شام کو عیدکاچاندنظرآتاہے جس سے مومنوں کوبے حدخوشی ہوتی ہے کہ رمضان المبارک کے ر وزے پایہ تکمیل تک پہنچے اوران کی ماہ رمضان کے روزوں کی عبادت بارگاہ رب العزت میں قبول ہوئی ۔ ایک مہینہ کی روزہ درانہ زندگی گزارنے کے بعدمسلمان آزادی کے ساتھ کھاتے پیتے ہیں ۔اللہ رب العالمین کاشکربجالاتے ہوئے اجتماعی طورپردورکعت نمازعیدالفطر اداکرتے ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ ملتے ہیں خوشی مناتے ہیں صدقہ خیرات کے ذریعے غریبوں کی مددکرتے ہیں۔یہ سب چیزیں عیدکی روح کوبتاتی ہیں ۔عیدکی اصل روح اللہ کویادکرناہے ۔اپنی خوشیوں کے ساتھ لوگوں کی خوشیوں میں شریک ہوناہے ۔اپنے مقصدکوحاصل کرتے ہوئے دوسرو ں کے حقوق کواداکرناہے ۔رمضان المبارک کامہینہ گویاتیاری اوراحتساب کامہینہ تھا۔اس کے بعدعیدکے دن گویانئے عزم اورنئے شعورکے ساتھ زندگی کے آغازکادن ہے ۔عیدکادن دوبارہ نئے حوصلوں کے ساتھ مستقبل کی طرف اپنے سفرکے آغازکرنے کادن ہے ۔
روزہ ایک اعتبارسے سمٹنے کالمحہ تھااورازسرِنوپھیلنے اورآگے بڑھنے کالمحہ تھا۔روزہ میں آدمی دنیاسے اوردنیاکی چیزوں سے ایک لمحہ کے لئے کٹ گیاتھا۔حتیٰ کہ انسان نے اپنی فطری ضرورتوں تک پابندی لگادی تھی ۔یہ دراصل تیاری کاوقفہ تھا۔اس کامقصدیہ تھاکہ وہ باہردیکھنے کی بجائے اپنے اندرکی طرف دھیان دے ۔اوراپنے آپ میں وہ ضروری اوصاف پیداکرے جوزندگی کی جدوجہدکے دوران اس کے لئے ضروری ہیں ۔جن کے بغیروہ کاروبارحیات میں مفیدطورپراپناحصہ ادانہیں کرسکتا۔مثلاًصبروبرداشت ،اپنی واجبی حدکے اندررہنا،منفی اثرات سے اپنے آپ کوبچانااس قسم کاایک پرمشقت مہینہ گزارکروہ دوبارہ زندگی کے میدان میں واپس آیاہے ۔اورعیدکے تہوارکی صورت میں وہ اپنی زندگی کے اس نئے دورکاافتتاح کررہاہے ۔اس طرح عیدکادن مسلمانوں کے لئے آغازِحیات کادن ہے۔روزہ نے آدمی کے اندرجواعلیٰ صفات پیداکی ہیں اس کانتیجہ یہ ہوتاہے کہ اب وہ سماج کازیادہ بہترممبربن جاتاہے ۔اب وہ اپنے لئے بھی اوردوسروں کے لئے بھی پہلے سے بہترانسان ہوتاہے ۔روزہ میں آدمی نے بھوک،پیاس برداشت کی تھی ۔اب باہرآکروہ لوگوں کی طرف سے پیش آنیوالی ناخوشگواریوں کوبرداشت کرتاہے۔روزہ میں اس نے اپنے سونے اورجاگنے کے معمولات کوبدلاتھا۔اب وہ وسیع ترانسانی مفادکے لئے اپنی خواہشوں کوقربان کرتاہے ۔روزہ میں اس نے عام دنوں سے زیادہ خرچ کیاتھا۔اب باہرآکروہ اپنے واقعی حق سے زیادہ لوگوں کودینے کی کوشش کرتاہے۔
روزہ میں وہ بندوں سے کٹ کراللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہواتھا۔اب باہرآکروہ سطحی چیزوں میں الجھنے کے بجائے بلندمقصدکے لئے متحرک ہوتاہے۔روزہ میں وہ اپنی خواہش کوروکنے پرراضی ہواتھا۔اب باہرکی دنیامیں یہ کوشش کرتاہے کہ وہ اپنے حقوق سے زیادہ اپنی ذمہ داریاں پرنظررکھنے والابن جائے۔روزہ سال کے ایک مہینہ کامعاملہ تھا۔توعیدسال کے گیارہ مہینوں کی علامت ہے ۔روزہ میں صبر،عبادت،تلاوت قرآن اور ذکرالٰہی کے مشاغل تھے ۔اب عیدسے جدوجہدحیات کامرحلہ شروع ہوتاہے ۔روزہ اگرانفرادی سطح پرزندگی کاتجربہ تھاتوعیداجتماعی سطح پرزندگی میں شریک ہوناہے ۔روزہ اگراپنے آپ کواللہ کے نورسے منورکرنے کاوقفہ تھا۔توعیدگویاساری دنیامیں اس روشنی کوپھیلانے کااقدام ہے۔روزہ اگررات کی تنہائیوں کاعمل تھا۔توعید دن کے ہنگاموں کی طرف صحت مندپیش قدم ہے ۔روزہ جس طرح محض بھوک،پیاس نہیں۔اسی طرح عیدمحض کھیل تماشے کانام نہیں ۔دونوں کے پیچھے گہری معنویت چھپی ہوئی ہے ۔روزہ وقتی طورپرعالم مادی سے کٹنااورعیددوبارہ عالم مادی میں واپس آجاناہے ۔روزہ اللہ سے قربت حاصل کرنے کی کوشش ہے اورعیداس زیادہ نئے بہترسال کاآغازہے ۔جوروزہ کے بعدروزہ داروں کے لئے مقدرکیاگیاہے ۔
عیددراصل نئی زندگی شروع کرنے کادن ہے ۔عیدکاپیغام ہے کہ مسلمان ایمانی قوت اورنئے امکانات کی روشنی میں ازسرنوزندگی کی جدوجہدمیں داخل ہوں ۔ان کاسینہ اللہ تعالیٰ کے نورسے روشن ہومسجدیں اللہ کے ذکرسے آبادہوں۔ان کے گھرتواضع کے گھربن جائیں ۔سارے مسلمان آپس میں متحدہوکروہ جدوجہدکریں جس کے نتیجے میں انہیں دنیامیں اللہ کی نصرت اورآخرت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام کے طورپرجنت ملے ۔عیدکی اصل خوشی تویہی ہے کہ انسان کوبقائے دوام حاصل ہوجائے اسکی آخرت سنورجائے اسکی عبادت وریاضت اللہ پاک کی بارگاہ میں مقبول ہوجائے اسکی زندگی کاہرلمحہ اللہ اوراسکے حبیب ﷺ کی اطاعت میں گزرے تاکہ اللہ پاک کی خوشنودی حاصل ہوجب وہ دنیا سے جائے توصاحب ایمان جائے قبرکے سوال وجواب میں آسانی ہوقبرمیں مثلِ جنت راحت نصیب ہوپھریومِ حساب کواسکی نجات ہو۔
اللہ رب العزت اپنی پاک کتاب قرآن مجیدفرقان حمیدمیں ارشادفرماتاہے ۔ترجمہ!’’اوراس لئے کہ تم گنتی پوری کرو۔ا وراللہ کی بڑائی بولو۔ اس پرکہ اس نے تمہیں ہدایت کی اورکہیں تم حق گزارہو‘‘۔(پارہ نمبر2سورۃ البقرہ)
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی خوشی اورفرحت کے لئے سال میں دواہم دن مقررکئے ہیں جن میں سے ایک عیدالاضحی اوردوسراعیدالفطرکادن ہے۔ آقاﷺنے پہلی عیدالفطردوہجری2 ؁ میں ادافرمائی پھراسے کبھی ترک نہ کیااس لئے یہ سنت مؤکدہ ہے ۔ حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ حضورﷺجب مدینہ منورہ تشریف لائے تو(دیکھاکہ) وہاں کے لوگ دودن کھیل تماشے میں گزارتے تھے حضورنبی کریمﷺ نے دریافت فرمایا کہ یہ دن کیاہیں ؟انہوں نے کہاکہ ہم ایام جاہلیت میں ان دودنوں میں کھیل تماشے کیاکرتے تھے رسول ﷺنے فرمایا "اللہ تعالیٰ نے ان ایام کے بدلے میں تمہیں ان سے بہتردو ایام یوم الاضحی اوریوم الفطرعطافرمائے ہیں ۔ (ابوداؤدالسنن کتاب الصلاۃ باب صلاۃ العیدین)حدیث پاک میں ہے کہ جوشخص ماہ رمضان المبارک میں دن کوروزہ رکھے رات کو(قیام )نوافل اداکرے اور عیدکے دن صدقہ فطراداکرکے عید گاہ میں جائے توعیدگاہ سے واپس ہونے تک اس کے تمام گناہ بخش دیے جاتے ہیں ۔
انسان کے لئے ہروہ دن عیدکادن ہے جس دن انسان نے کوئی گناہ نہ کیاہو۔ذکرہے کہ عیدکے دن ایک آدمی حضرت علی المرتضی شیرخداؓ کی خدمت میں حاضرہوااسوقت آپؓ خشک روٹی کھارہے تھے اس شخص نے عرض کیاکہ آج توعیدکادن ہے اورآپؓ سوکھی روٹی چبارہے ہیں آپؓ نے فرمایاکہ آج عیدان لوگوں کی ہے جنکے روزے اللہ پاک کی بارگاہ میں قبول ہوئے اورانکی کوشش مشکورہوئی اوراللہ تعالیٰ نے انکے گناہوں کوبخش دیااورہماری عیدآج بھی ہے اورکل بھی ہماری عیدہے اوراس دن بھی ہماری عیدہے جس دن ہم کوئی گناہ نہ کریں ۔اسلئے ہرعقلمندآدمی کولازم ہے کہوہ اپنی ظاہری آرائش کونہ دیکھے اوراسکاپابندنہ ہوجائے بلکہ عیدکے دن عبرت پکڑے اورآخرت کی فکرکرے اورعیدکوقیامت کانمونہ سمجھے ۔ عیدکوقیامت کانمونہ سمجھنے کامطلب بھی یہی ہے کہ انسان کے دل میں خوف خداپیداہو۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺنے فرمایاکہ رمضان المبارک کی آخری شب میں اس امت کی مغفرت ہوتی ہے صحابہ کرامؓ نے عرض کیا!یارسول اللہ ﷺ وہ شب قدرہے ؟آقاﷺنے فرمایانہیں بلکہ کام کرنیوالے کواسوقت پوری مزدوری دی جاتی ہے جبکہ وہ کام پوراکرلیتاہے ۔(مسنداحمد)اللہ پاک اوراسکے حبیب ﷺکی رضاکے لئے انسان ماہِ رمضان میں دن کو روزہ رکھتاہے اوررات کوقیام کرتاہے ۔دن بھی اللہ پاک کی رضامیں اوررات بھی اللہ پاک کی عبادت میں گزارتاہے ۔جب ماہِ رمضان ختم ہوتاہے توانسان کے گناہ بھی معاف کردیئے جاتے ہیں اوراسے بطورانعام واکرام عیدالفطرعطاکی جاتی ہے ۔ 
حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں کی جانے والی دعاردنہیں ہوتی ۔۱۔شب جمعہ ۲۔ رجب کی پہلی رات ۳۔ شعبان کی پندرہویں شب ۴۔ عیدالفطرکی رات ۵۔ عیدالاضحی کی رات(بیہقی)
حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایااللہ تعالیٰ اس شخص کوجس نے ماہ رمضان میں روزے رکھے عیدالفطرکی رات میں پوراپورااجرفرمادیتاہے اورعیدکی صبح فرشتوں کوحکم دیتاہے کہ زمین پرجاؤاورہرگلی کوچہ اوربازارمیں اعلان کردو(اس آوازکوجن وانس کے علاوہ سب مخلوق سنتی ہے )کہ آقائے دوجہاں ﷺکے امتیو!اپنے رب کی طرف بڑھووہ تمہاری تھوڑی نمازکوقبول کرکے بڑااجرعطا فرماتاہے اوربڑے بڑے گناہوں کوبخش دیتاہے پھرجب لوگ عیدگاہ روانہ ہوجاتے ہیں اوروہاں سے فارغ ہوکردعامانگتے ہیں تواللہ تعالیٰ اسوقت کسی دعااورکسی حاجت کوردنہیں فرماتااورکوئی ایساگناہ نہیں بچتاجسکومعاف نہ کرے۔لوگ اپنے گھروں کومغفورہوکرلوٹتے ہیں ۔ 
حضورعلیہ الصّلوٰۃ والسّلام کارشادپاک ہے کہ عیدکے روزاللہ تعالیٰ زمین پرکچھ فرشتوں کانزول کرتاہے جویہ نداکرتے ہیں !اے محمدﷺ کے امتیو!چلواوراپنے اس پروردگارکے حضورمیں آؤجولازوال بخشتاہے تھوڑے سے تھوڑانیک عمل بھی قبول فرماتاہے اوربڑے سے بڑا گناہ معاف کردیتاہے پھرجب سب لوگ میدان عیدگاہ میں نمازکے لئے جمع ہوتے ہیں تواللہ تعالیٰ خوش ہوکرفرشتوں سے فرماتاہے اے میرے فرشتو !تم نے دیکھاکہ امت محمدیہ ﷺپرمیں نے رمضان کے روزے فرض کئے تھے انہوں نے مہینہ بھرکے روزے رکھے مسجدوں کوآباد کیامیرے کلام پاک کی تلاوت کی اپنی خواہشوں کوروکااوراپنی شرم گاہوں کی حفاظت کی اپنے مال کی زکوٰۃ اداکی اوراب ادب سے اظہار تشکرکے لئے میری بارگاہ میں حاضرہیں میں انکوبہشت میں انکے اعمال کابدلہ دوں گاپھراللہ پاک ارشادفرماتاہے اے محمدﷺکے امتیو! جوچاہومانگومجھے اپنے عزت وجلال کی قسم اس موقع پرمجھ سے جو مانگوگے میں دوں گااورتم عیدگاہ سے پاک وصاف ہوکرنکلوگے تم مجھ سے خوش ہواورمیں تم سے راضی ہوں یہ ارشادات سن کر ملائکہ خوش ہوتے ہیں اورامت محمدیہﷺ کوبشارت دیتے ہیں ۔(تذکرۃ الواعظین)
حضرت ابن عباسؓ کی روایت کردہ حدیث پاک میں ہے کہ شب عیدالفطرکانام شب جائزہ یعنی انعام کی رات رکھاگیااورعیدالفطرکی صبح تمام شہروں کے کوچہ وبازارمیں فرشتے پھیل جاتے ہیں اوراعلان کرتے ہیں ،جسکوجن وانس کے سواتمام مخلوق سنتی ہے کہ اے محمدﷺکی امت!رب کریم کی طرف چلوتاکہ وہ تم کوثواب عظیم عطافرمائے اورتمہارے بڑے بڑے گناہوں کوبخش دے لوگ عیدگاہ کونکل جاتے ہیں تواللہ پاک فرشتوں سے فرماتاہے اے میرے فرشتو!فرشتے لبیک کہتے ہوئے حاضرہوجاتے ہیں اللہ پاک فرماتاہے اس مزدورکی اجرت کیاہے جواپناکام پوراکرے؟فرشتے جواب دیتے ہیں اے ہمارے معبود!اے ہمارے آقااس مزدورکوپوری پوری اجرت دی جائے اللہ پاکارشادفرماتاہے اے میرے فرشتو!میں تم کوگواہ بناتاہوں کہ میں نے انکے نمازاورروزوں سب کااجرخوشنودی اورگناہوں کی مغفرت بنادیاپھرفرماتا ہے اے میرے بندو!مجھ سے مانگومجھے اپنی عزت وجلال کی قسم !آج تم اپنی آخرت کے لئے مجھ سے مانگوگے میں تم کووہ ضروردوں گااورجوکچھ اپنی دنیاکے لئے مانگوگے میں اسکالحاظ رکھوں گامجھے اپنی عزت وجلال کی قسم!جب تک تم میرے احکام کی حفاظت کروگے (بجالاؤگے)میں تمہاری خطاؤں اورلغزشوں کی پردہ پوشی کرتارہوں گااورتم کوان لوگوں کے سامنے جن پرشرعی سزاواجب ہوچکی ہے رسوانہیں کرونگاجاؤتمہاری بخشش ہوگئی تم نے مجھے رضامندکیامیں تم سے راضی ہوگیاحضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ فرشتے یہ ارشاد سن کرخوش ہوجاتے ہیں اورماہِ رمضان کے خاتمے پرامت محمدیہ کویہ خوشخبری پہنچاتے ہیں ۔(غنیۃ الطالبین)
عیدکے دن سات قسم کے گناہ گاربخشش کی نعمت سے محروم رہیں گے ۔گراں بیچنے کے لئے غلہ کوروک کررکھنے والا،ہمیشہ شراب پینے والا،ماں باپ کی نافرمانی کرنیوالا،رشتہ ناطہ توڑنے والا،دل میں کینہ رکھنے والا،زناکار،سودخور
عیدکے دن مندرجہ ذیل اموربجالانامسنون ومستحب ہیں ۔
مسواک کرنا،غسل کرنا،کپڑے نئے ہوں توبہترورنہ دھلے ہوئے پہننا،خوشبولگانا،صبح سویرے اٹھ کرعیدگاہ جانے کی تیاری کرنا، صبح کی نمازاپنے محلہ کی مسجدمیں اداکرنا،نمازعیدالفطرسے پہلے صدقہ فطراداکرنا،عیدگاہ کی طرف پیدل چل کرایک راستے سے جانااوردوسرے راستے سے واپس آنا،گھرسے عیدگاہ کی طرف جاتے ہوئے راستے میں عیدالفطرکے دن تکبیرات پڑھنا،نمازعیدالفطرکوجانے سے پہلے طاق عددکھجوروں یاچھواروں کاکھانایامیٹھی چیزکھالینا،عیدکی نمازکے لئے خطبہ یہ سنت ہے خطبہ نمازکے بعدہوگا،عیدکی نمازکسی بڑے میدان میں اداکرناسنت ہے لیکن بڑے شہریااس جگہ جہاں زیادہ آبادی ہوایک سے زائدمقامات پرعیدین کے اجتماع بھی درست ہیں اورمیدان کی بھی شرط نہیں بڑی مساجدمیں بھی یہ اجتماع صحیح ہیں جیساکہ آج کل ہورہاہے اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ اگرکسی ایک جگہ اجتماع ہوگاتوبہت سے لوگ نمازعیدسے محروم رہ جائیں گے کچھ توحقیقی مشکلات کی وجہ سے اورکچھ اپنی سستی کے باعث۔
اللہ پاک ملک پاکستان کواستحکام اورامن کاگہوارہ بنائے ۔ہماری تمام جانی مالی عبادات کواپنے حبیب کریمﷺکے صدقے اپنی بارگاہ میں قبول فرماکرہمارے لئے ذریعہ نجات بنائے ۔اللہ پاک عالم اسلام کی خیرفرمائے ۔تمام مسلمانوں کوآپس میں اتحادواتفاق کی دولت نصیب فرمائے ۔
آمین بجاہ النبی الامین