Thursday, 30 June 2016

باہمت نوجوان کی داستان...؟؟؟

باہمت نوجوان کی داستان...؟؟؟
نامناسب ما حول ،ما یوسی ،نا امیدی اور احساسِ کمتری کے سائے تلے پل کر جوان ہونے والا محبِ وطن پاکستانی جسکی میٹرک (پانچ مقامات)پر ہوئی، (چھے سال بعد )ایف،اے کیا ۔ چھٹی سے دسویں تک اپنی کلاس کا (سیکند مانیٹر ،خزانچی اور سٹیج سیکرٹر ی ) بھی رہا۔ لکھنے ،پڑھنے کا بے حد شوق تھا۔جب نویں کلاس میں پہنچا تو دل میں اک خواہش نے جنم لیا کہ پڑھ ،لکھ کر ذمہ دار،بہادر اور محبِ وطن پولیس افسر بن کر محکمہ پولیس میں ایک بہت ہی اچھا اور احسن نظام متعارف کرا کر عوام کو امن و سکون بخشے گا۔ لیکن!اعلیٰ تعلیم حاصل نہ کر سکا اور مجبوری نے (کالم نگار) بنا دیا۔
تعارف: فرض کریں اُسکا نام (م)ہے۔ (راجپوت خاندان)سے وابستہ (کامیانہ برادری) کے نام سے پہچانا جاتا ہے ۔ 1988قصبہ نور شاہ کے قریب ضلع ساہیوال میں واقع ہے۔
2005(سٹی رینالہ خورد )اوکاڑہ سے میٹرک کر کے اپنی فیملی کے پاس لا ہورہجرت کر گیا۔ (ٹیکسٹائل ڈیزائیننگ )کا کورس کر کے فیکٹری میں جاب کر لی۔ ساتھ اپنا (مبشر انسٹیٹیوٹ آف ڈیئزائیننگ )سنٹر بنا لیا ۔
2006 تعلیم کی کمی محسوس کی تو اپنا انسٹیٹیوٹ بند کر دیا اور (ایکسپریس اخبار) لگوا لیا۔ (اوپن یو نیورسٹی )ایف،اے کا داخلہ بھیج دیا۔کتابیں آ گئیں۔مشقیں وغیرہ لکھ کر رکھ لیں اور (ٹیوٹر) کا لیٹر نہ پہنچ سکا۔آس پاس کو ئی مدد گار بھی نہ ملا تو اِس طرح یہ سال ضائع ہو گیا۔
2007دوسری دفعہ پھر داخلہ بھیج دیا ۔ چونکہ گھریلو رہائش کرائے کی تھی اور (جاب) بھی گھر سے بہت دور تھی تو تعلیم کی خاطر جاب چھوڑ کر گھر کے قریب اک فیکٹری میں جاب کر لی تو پھر گھر کی رہائش بدلنا پڑی تو اِس طرح اُسکا تعلیم حاصل کرنے کا خواب اک دفعہ پھر ادھورا رہ گیا ۔لیکن!ا ردو بازار کیساتھ جڑا رہا اورر اچھی، اچھی کتابیں لا کر مطالعہ کرتا رہتا۔
2008 (مبشر انسٹیٹیوٹ آف ڈیئزائیننگ سنٹر) بنا لیا ۔ ماہانہ (60 تا 80ہزار )روپے کمانے لگ پڑا ۔ساتھ(تیس ہزار ) کی جاب بھی تھی اور انکم (ایک لاکھ )تک پہنچ گئی۔وہ ہزاروں روپے میں کھیل رہا تھا۔حقیقت میں اتنا پیسہ کما کر بھی اُس کو سکون محسوس نہ ہوا تو اُس نے(چند ماہ بعد ) خود ہی اپنا انسٹیٹیو ٹ بند کرکے پھر سے تعلیمی میدان میں اُتر نے کا عزم کر لیا اور پاکستان کے لیے کچھ کر دکھانے کو من چاہا۔
2009چونکہ (ایکسپریس اخبار)بالخصوص (صفحہ ایڈیٹیورل )شوق سے پڑھتا تھا ۔ جس وجہ سے اُسے (نئی جدت، نئی سوچ )ملی۔ ملکی حالات دیکھ کر وطن کی سر زمین اور پاکستانیوں سے حقیقی پیار اور عشق ہو گیا اور(ایک عظیم ادیب و مصنف ،کالم نگار اور ڈرامہ نگار ) بننے کا عزم کر لیا۔ حتمی شکل دینے کے لیے عملی طور پہ جدو جہد شروع کر دی (اُردو بازار) سے بڑی،بڑی ڈائریاں خریدلایااور(2005تا 2009) تک کی تمام اخباریں اکٹھی کر کے(نوازشریف ،شہبازشریف صاحب اور جسٹس افتخار چوہدری کی نا اہلی سے بحالی تک ،سیاسی خبریں بمعہ تصاویر، دہشتگردی، بم دھماکے ،سیلاب ،زلزلے ،غربت،بھوک،افلاس اور سبق آموز کالم) کاٹ کر( ملکی )حالات پہ بہت بڑی (4ڈائریاں) بنالیں ۔ساتھ ( ٹھوکرنیاز بیگ ) ادیبوں کی صحبت اختیار کر لی ۔ اک سال تک جاتا رہا ۔
2010 تیسری دفعہ پھر لاہور بورڈ سے (ایف ،اے)کرنے کا مشورہ ملا۔ (دونوں پارٹ )کی (تین ماہ) میں تیاری کر کے سالانہ امتحان

دیا تو (پارٹ ٹو ) کی (انگلش،اردو) میں دو ،تین نمبروں سے (فیل)ہو گیا ۔ پھر (مکان)بدلنا پڑا تو نئی جگہ گھریلو مسائل نے گھیر لیا ۔دو مضامین میں ناکامی کا بھی دکھ تھااور اخبار وغیرہ بھی بند ہو گیا ۔ملکی حالات پہ ڈائریاں بنانے کا عمل بھی رُک گیا۔ ( 2ڈائریاں،2 توڑے اخبار،میگزینز )بھی گُم ہو گئے۔ جسکا (تا حال افسوس) ہے۔ اِس دفعہ دلی صدمہ ہوا ۔سخت (سر درد) میں مبتلا ہو کر( 3ماہ)بیمار رہا۔
2011(ایف اے،سی ڈی)پھر (سالانہ امتحان ) میں آخر کار اُسنے (چھے سال ) کی طویل جدوجہد کے بعد (ایف ،اے ) کر لیا ۔ پھر اک نئی ترکیب سوجھی کہ ملکی حالات پہ (شاعری، موسیقی، تصویریں، ویڈیو) وغیرہ( نیٹ) سے ڈاؤن لوڈ کر کے موجودہ حالات پر ( سبق آموز ) (سی،ڈی) تیار کرنے لگ پڑا۔(سی،ڈی)کی تیاری کا مرحلہ شروع ہی تھا کہ کسی( مجبوری )کی بنا پر رہائش نئی جگہ منتقل کرنا پڑ ی جہاں ساری فیملی (ڈینگی بخار) کا شکار ہو گئی تو اِسطرح اِس مقصد میں بھی ناکام ہو گیا۔
2012(کتاب کی اشاعت،سانحہ )ٓپھر (م) نے کچھ بڑا کارنامہ دکھانے کا ذہن بنا یا اور دن رات ایک کر کے بڑی مشکل جھیل کر (24سال کی عمر )میں ایک (کتاب ) (سچ تو یہ ہے) تیار کر لی ۔پہلے کی طرح اِس میں بھی ناکامی نے پیچھا نہ چھوڑا۔کتاب کا سارا مواد ابھی (پریس) پر تھا تو (م) نے اشاعت کا مکمل کام اپنے اک( دوست) کو سونپ دیا ۔کیونکہ ( بڑے بھائی) کے ساتھ اک (عجیب و غریب سانحہ ،بزنس فراڈ ) ہو گیا ۔اپنا کاروبار ،گھر بار،سب کچھ تباہ ہو کر (لاکھوں ،کروڑوں)کا مقروض ہو گیا تو فیملی کو مجبوراََ پیچھے (ساہیوال)منتقل ہونا پڑا اور قرض داروں نے بھائی کو (جیل )بھیجوا کر سب کچھ راکھ کر ڈالا ۔پھر تمام( تعلیمی سرگرمیاں) چھوڑ، چھاڑ کے اک دم (تین فیکٹریوں) میں (جاب)کر کے ا پنی فیملی کے سر سے لاکھوں کا قرضہ اُتارنے کی کوشش میں مجبوراََ مصروف ہو نا پڑا... اور زندگی عذابِ مسلسل بن گئی ۔ہاہ!
تنکا تنکا چُن کرمیں نے ایک آشیاں بنایا تھا...
چھوٹے چھوٹے خوابوں سے اپنا جھونپڑ سجایا تھا...
میری کُل کائنات؟؟؟
ایک میلی چادر،کچھ پُرانے کپڑے ...
ایک ٹپکتی چھت اور اُکھڑی دیواریں ہیں...
2013 (رہنما کی تلاش) اپنے بوسیدہ حالات کو سدھارنے کی خاطر کسی اچھے، کامل (رہنما) اور مسیحا کی تلاش میں اپنی کتاب بمعہ خطوط مختلف (اینکرز،اد بی و سیاسی اور مذہبی )شخصیات کو (tcs) کرانا شروع کر دی تا کہ اُسکی کوشش رنگ لے آ ئے ۔یہ سلسلہ ابھی تک جاری و ساری ہے۔
1۔(اک سیاسی شخصیت) کو (7مرتبہ) اپنی کتاب (tcs)کرائی۔ لیکن!جواب (صفر)...
2۔مختلف (اخباروں )کے (ایڈ یٹرز)کو کتاب (tcs)کرائی۔ جواب(صفر)...کئی بار اُنکے دفاتر بھی گیا۔ لیکن!کسی نے کچھ نہ سُنی...
3۔پھر ہر اتوار مختلف شخصیات سے ملاقاتیں کرنے کا سوچا ۔اپنی (کتاب ،لیپ ٹاپ میں سی ڈی کا ڈیٹا اور ملکی حالات پہ ڈائریوں ) کا بوجھ
اُٹھا ئے کسی نہ کسی کو ملنے چلا جاتا۔ لیکن! ناکامی پہ ناکامی. ..سخت گرمی میں بھوک ،پیاس سے نڈھال ہو کر واپس آ جاتا۔ کسی نے گھر پہ بُلا کر وعدے کر کے ذہن سے نکال دیا تو کسی نے میلوں دور کی مسافت طے کروا کر پھر مصروفیت کا بہانہ لگا کر ٹال دیا۔
4۔دو دفعہ (عمران خان صاحب) کی بیمار پُرسی کرنے شو کت خانم گیا ۔بارش اور عملے نے ملنے نہ دیا اورخالی منہ لٹکائے واپس آ گیا۔
5۔دو دفعہ (سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور،وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف صاحب )اور تین دفعہ ( طاہر القادری صاحب)کو ملنے گیا تو اُ نکی مصروفیت کے باعث ناکام ہو کر گھنٹوں وقت ضائع کر کے واپس آ گیا۔
6۔اک دفعہ ایڈیٹر(روزنامہ نئی بات) (چوہدری عطا ء الرحمٰن صاحب )کو ملنے گیا ۔ گھنٹوں وقت ضائع کر کے جب بھوک نے ستایا تو تھک ہار کرخالی پیٹ (رات )کو واپس آ گیا۔( 10دن ) تک (PTCL)پہ رابطے کیے۔ لیکن!کسی نے بات نہ کرائی ۔
7۔پھر اِن تمام شخصیات کو(فیس بُک) پہ (میسج)کے ذریعے اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی۔لیکن! جواب(صفر)
8۔دوبارہ پھر اِن سبھی کو اپنا یہ( کالم )(بذریعہ فیس بُک)(میسج )بھیجتا رہا۔ لیکن!کسی نے کوئی (جواب) نہ دیا۔
9۔پھرآخر کار ٹی وی چینلز کے مختلف (مورننگ شوز) کو اپنا یہی کالم (بذریعہ ڈاک) بھیجتا رہا۔لیکن!کسی کا جواب نہ آیا۔
10۔پھر خودپر( فلم) بنانے کی سوجھی تو پاکستان اور انڈین (فلمی اداکا روں اور فلم انڈسٹریز )کوبذریعہ (فیس بک) یہی کالم بھیجتا رہا۔لیکن!جواب( صفر)
11۔اک (عیسائی دوست)سے کسی اخبار میں( کالم نگار) بننے کی بات کی تووہ بھی (10ہزار روپے ) ہڑپ کر کے رفو چکر ہو گیا ۔
افسوس کہ !ایک سچے ،مخلص،محنتی، محبِ وطن پاکستانی کی آواز مختلف شعبۂِ زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور خصوص باالخصوص(تحریکِ انصاف کی مختلف اعلیٰ شخصیات ) کے کانوں نے سُن کر بھی نہیں سُنی...؟ شائد اِسے ہی کہتے ہیں بے بسی اور بے حسی کی انتہا...؟ہاہ!ہائے!
اگست 2013(کالم نگار)جب کوئی بشر بھی کام نہ آیا تو آخرکار (قدرت) ہی اُسکی سچی محنت اور لگن پر مہربان ہو ئی۔(یکم رمضان)کی صبح (پتوکی) سے گزر ہوا۔ بارش آگئی تو اک دوکان پہ رک گیا۔ اک آدمی قصور سے (روزنامہ !حق کی آواز)لایا۔ جس پہ لکھا تھا (عملے کی ضرورت ہے) تو(م)نے رابطہ کیا ۔اپنی کتاب (tcs)کرائی اوریوں( ستائیس رمضان) کو (25 سال کی عمر) میں پہلا کالم شائع ہوا... (8سالہ )محنت کے بعد کالم نگار بن گیا۔ ( عمیر علی انصاری صاحب)نے اک (اجنبی نوجوان) کو آگے لانے میں اپنا کلیدی کردار بخشا۔ جس پر اُنکا بے حد شکریہ۔خدااُنکی حفاظت فرمائے۔آمین۔
بھائیو!(م) نے کالم نگار بننے کے لیے (2005تا2013) تک یہ اخراجات کیے۔ مطالعاتی کتب ، اخبار،میگزین،ملکی حالات پر ڈائریاں ،500بکس کی اشاعت، (55)شخصیات کو (tcs) ، لیپ ٹاپ وغیرہ تمام اخرا جات ملا کر کل رقم یہ ہے۔(179520)۔
2014 (12ربیع الاول ) ( آن لائن روزنامہ! تحریکِ انصاف ) 25 ستمبر (ہفت روزہ ! نیشن ریڈراٹک)اور (آن لائن روزنامہ! افکارِ اٹک) میں(کالم نگار) بن گیا۔(ستمبر )میں (اوپن یونیورسٹی) (بی اے )کا داخلہ بھیجا۔مشقیں لکھ کربھیج دیں ( نومبر) میں موٹر سائیکل حادثہ ہوا سر پہ چوٹ آ گئی تو 4 ماہ بیماررہا اور پیپر نہ دے سکا۔۔20فروری روزنامہ سماء میں کالم نگار بن گیا۔تو کتاب tcs کرائی اور شائد پہلی مرتبہ کسی اخبار نے اِس کتاب پر تبصرہ شائع کیا ۔جس پر اعجاز مہاروی،ظہیر سلہری صاحب کا بھی بے حد شکریہ کہ اُنہوں نے۔ م ۔کے حوصلے بلند کیے۔مئی میں شادی ہو گئی اور اِس طرح ایک بار پھر پہلے کی طرح تعلیم جاری نہ رکھ سکا۔31 جولائی پی ایف یو سی کا ممبر بن گیا۔
2016 اکیس اپریل کو صدائے وطن اور مختلف اخبارات میں کالم نگار بن گیا۔جس پر میاں انوار الحسن کامیانہ صاحب کا بے حد شکریہ جنہوں مزید آگے بڑھنے کے لیے اک نیا میدان بخشا۔
پاکستانیو! سچ تو یہ ہے کہ ۔م ۔اپنی ڈیزائننگ کی فیلڈ میں 2005تا حال ماہانہ تقریباََ 80 ہزار تا 1لاکھ روپے کا نقصا ن جھیل رہا ہے اور مختلف اخباروں میں فی سبیل للہ کالم لکھ رہا ہے۔ اُسکو پیسے کے ضیاع کا ذرا بھی دکھ نہیں ۔کیونکہ وہ اپنے دیس کے لوگوں کی خاطر کچھ کرنے کا عزم رکھتا ہے۔ اِس لیے اُس نے جو مقصد سوچا وہ اتنی طویل مدت اور جدوجہد کے بعد آخر پا لیا ...اگرچہ ابھی تک وہ کوئی قابل رشک کامیابی حاصل نہیں کر سکا ۔البتہ! اُس نے اب تک جو محنت کر لی ہے یہی اُسکے نزدیک ایک بہت بڑی کامیابی اور نوجوان نسل کے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے۔ لہٰذا!ہر انسان کو اپنے مقصد میں سچی محنت کے ساتھ ڈٹے رہنا چایئے۔کامیابی اک دن ضرور ملتی ہے...اِسی لیے قرآن پاک میں لکھا ہے اور انسان کے لیے وہی کچھ ہے جسکی وہ کوشش کرے۔م۔ کو اِن تمام کاموں پر بڑے بھائی ، اور دوستوں سے کئی دفعہ سخت ڈانٹ بھی پڑی۔ لیکن!اُس نے اپنا مقصد پھر بھی نہیں چھوڑا اور ڈٹا رہا...کیونکہ وہ جانتا ہے کہ خدانے اُسکو رائیگاں نہیں بلکہ کسی خاص مقصد کے لیے پیدا کیا ہے ۔ اگرچہ گزشتہ چند سال میں م کی راہ میں مسائل پیدا نہ ہوتے تو آج وہ اِس سے بھی چھے گنا محنت کر کے کم عمری کی ایک نئی تاریخ رقم کر چکا ہوتا۔ہاں!پر شائد اللہ کا حکم نہیں ہوا۔
سچ تو یہ ہے کہ م آج بھی دن ہو یا رات تنہائی میں بیٹھ کر اپنے ( لیپ ٹاپ )میں ملکی حالات دیکھ کر روتا ہے اور دیس کے ویرانوں کو دیکھ کر نڈھال ہوا جا رہا ہے۔ حالانکہ وہ خود4سال سے ایک فیکٹری کے اک چھوٹے سے کمرے میں مقیم ہے ۔جس میں سردیوں میں سخت سردی اور گرمیوں میں سخت گرمی،سورج کی تپش اور آگ برستی ہے ۔ ہوٹلوں کے گلے، سڑے کھانے کھا کر اُس نوجوان کی حالت اب یہ ہو گئی ہے جیسے کسی کباڑیے کی دوکان پہ رکھے پھٹے،پرانے پلاسٹک، لوہے اور باسی،سوکھی روٹی کے ٹکڑے ہوتے ہیں یارنگ والا پرانا ڈبہ زنگ آلو دپڑا کسی گندگی کے ڈھیر تلے دِکھائی دے رہا ہو،جسے شائد کوئی کباڑیہ)بھی اُٹھانے سے پہلے سو بار سوچنے پر مجبور ہو جا تا ہو ہاہ!ہائے!شائد!شائد
ہاں وہی شخص ہوں میں !!! 
دل میں جسکے اب کوئی تمنا نہیں باقی...
میرے ہم وطنو ! یہ تھی اک باہمت نوجوان کی داستان...جسکی کالم نگار بن کر قوم کی خدمت کرنے کی خواہش پوری ہو گئی ۔ اب بقیہ سانسیں انشاء اللہ اُمتِ مسلمہ ،ملکِ پاکستان اور اِس پاک دھرتی پر بسنے والی غیور مگر مجبور عوام کے نام کر رکھی ہیں ۔ مجھے یقین ہے وہ اک دن پاکستان کی چند مشہور شخصیات میں اپنانام پیدا کر یگا۔انشاء اللہ !ہم سب دعا گو ہیں۔اللہ پاک اُسکو محفوظ رکھے اور اپنے عظیم مقصد میں سخت
محنت اور جدوجہد کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین!
کشتی بھی نہیں بدلی،دریا بھی نہیں بدلا
ہم ڈوبنے والوں کا، جذبہ بھی نہیں بدلا
ہے شوقِ سفر ایسا ، عمر ہوئی ہم نے
منزل بھی نہیں پا ئی ،رستہ بھی نہیں بدلا

No comments:

Post a Comment