برِصغیر کا بوڑھا شیر؟؟؟
برِ صغیر پاک و ہند کی سر زمیں پر ایک ایسا دلیر اور بہادرحکمران گزرا ہے جو اُن چند حکمرانوں سے تھا جنہوں نے اپنی سلطنتوں کو تمام سہولیات سے نواز اور کبھی کسی غیر سے بھیک نہ مانگا۔اُس نے ظالم اور جابر بادشاہوں پر حملے کر کے تمام علاقے فتح کیے اور وہاں کی رعایا کو آزادی اور امن بخشا۔ کئی حملہ آوروں سے بھی مقابلے کیے اور کامیابیاں سمیٹیں۔قوانین ،عدل و انصاف اور نظم وضبط کا اتنا سخت کہ مجرموں کو کٹہرے میں کھڑا کر کے سخت سے سخت سزا دیتا تھا۔
( ایک لاکھ تیرہ ہزار گاؤں )پر مشتمل ایک وسیع سلطنت کا حکمران اگر چاہتا تو سونے،چاندی کے انبار لگا لیتا۔بلکہ خالص سونے،چاندی کی اینٹوں سے محل بنا لیتا۔لیکن کیا تھا کہ اسلام کا متوالا و شیدائی اور فرض شناس فرماں روا تھا۔ خوفِ خدا وررعایا کی خبر گیری یہ دو کام ہی تو اُسکی زندگی کا حصہ تھے۔ سادگی کی مثال یہ تھی کہ سرکاری عمارتیں اور قلعے وغیرہ تعمیر کرتے وقت خود سپاہیوں کے ساتھ پھاوڑا،کدال چلاتا اور گارا مٹی ڈھوتا۔
اُسکو دنیا کی کسی چیز سے دل بستگی نہ تھی اور نہ ہی کوئی رغبت اور لالچ۔خاندان کی محبت ،عزیز و اقارب اور بیوی ،بچوں کی محبت نے کبھی بھی اُسکو اپنی طرف ہمہ تن متوجہ نہ کیا۔البتہ اپنے فرائض پوری ذمہ داری سے ادا کر دیتا تاکہ روزِ قیامت جواب دہی سے بچ جائے۔وہ اکثر کہتا تھا کہ بادشاہ رعایا کا نگہبان ہوتا ہے اور رعایا کے ہر ایک فرد کی ذمہ داری بادشاہ پر پر لازم ہے۔اگر میں یہ ذمہ داری ادا نہ کروں گا تو کل خدا کے ہاں کیا جواب دوں گا؟
میں تو جیتا ہوں فقط تیری رضا کے واسطے
ورنہ مجھ کو اِس جہاں سے کوئی دلچسپی نہیں
(1540ء تا 1545 ء)اُس نے صرف ( 5 سالہ ) ریکارڈ دورِ حکومت میں اپنی طاقت اور سخت قوانین کے ذریعے برِصغیر کی تاریخ ہی بدل کے رکھ دی۔ جس کے عظیم کارناموں کی مثالیں آج بھی بڑے بڑے موؤخین دیئے بغیر نہیں رہ سکتے ۔ اُن کارناموں کی وضاحت کچھ یوں ہے۔
1۔ملک میں پڑھے لکھے ، غیرت مند اور ذمہ دار حکام بھرتی کئے اور کسی کو زیادہ مدت کسی ایک جگہ ڈیوٹی پر مامور نہیں رکھتا تھا۔
2۔رعایا کی جان و مال اور فصلوں کو نقصان پہنچانے والے حکام اور سپاہیوں کو سخت سے سخت سزا دیتا تھا ۔ بعض کے ناک،کان چھدوا کر دھاگہ ڈال کر اُلٹا باندھ دیتا تھا اور بعض کو تو پھانسی پر لٹکا دیا جاتا تھا ۔
3 ۔اگر کسی قتل کا سرغ نا ملتا تو وہاں کے حکام کو گرفتار کر لیا جاتا جب قاتل کا سراغ ملتا تب حکام رہا ہوتا۔
4 ۔ زراعت و تجارت کو ترقی دی اور ملک کو خوشحال کر دیا۔ تاجروں سے ٹیکس معمولی وصول ہوتا۔
5۔بے ایمانی ، ناپ تول میں کمی ،ملاوٹ ، ذخیرہ اندوزوں اور حکومت کی طے کردہ قیمتوں سے زیادہ وصول کرنے والے تاجروں کو سخت جرمانے اور سزا دیتا ۔6۔ہر دو کوس پر کنوئیں اور سرائیں تعمیر کرائیں ۔
7ہر مقام پر ہندو اور مسلمانوں کے ٹھہرنے کا علیٰحدہ علیٰحدہ انتظام تھا اور تمام مسافروں کو اشیائے ضرورت مفت ملتی تھیں۔
8۔ہر مقام پر سرکاری ملازم تعینات کیے جو مسافروں کو کھانا ، بستر اور سردیوں میں گرم پانی مہیا کرتے اور مسافروں کے جانوروں کو بھی پانی ، چارہ اور دانہ وغیرہ ڈالتے ۔
9 ۔ہر مقام پر ایک مسجدبمعہ موذن وغیرہ کی سہولت دی۔
10 ۔ تمام مقامات پر ذمہ دار اور غیرت مند سرکاری عملہ اور انتظا میہ و چو کیدار تعینات کئے۔
11 ۔تمام سرکاری و پرائیویٹ ادارے اپنے دائرے میں رہتے ہوئے کام کرتے تھے۔
12 ۔بیوہ عورتوں ، اپاہجوں ، محتاجوں اور بے بس افراد کے لئے ماہانہ وظیفے جاری کئے۔
13۔محتاجوں اور غریبوں کے لئے لنگر خانوں کا وسیع انتظام کیا۔جس سے روزانہ ہزاروں افراد اپنی بھوک مٹاتے ۔
14 ۔ہنگامی صورتحال میں رعایا کی حفاظت کے لئے ملک کے مختلف گوشوں میں بے شمار قلعے تعمیر کرائے۔
15۔ڈاک کا نظام اتنا بہترین تھا کہ کوسوں دور سے خطوط بہت جلد اپنے مقام پر پہنچ جاتے۔
16۔ملک میں اجنبی ،امیر،غریب یا کسی بھی چھوٹے بڑے کے ساتھ مذہب،فرقہ،نسل،قبیلہ اور ذات،پات کا ذرا بھی امتیاز نا رکھا۔
17۔کوئی جاگیر دار یا زمیندار اپنے سے چھوٹے کسی کسان یا کاشتکار پر زیادتی نہیں کر تا تھا۔
18۔جب بھی کوئی کمزور اور مظلوم شخص اپنی فریادلے کر بادشاہ کے پاس آتا تو وہ اپنا ہر کام چھوڑ کر پہلے اُس کی فریاد سنتا۔
19۔اپنے اُمراء اور حکام کو ہر لمحہ رعایا کی خبر گیری اور عدل و انصاف کی تلقین کرتا تھا اور رعایا کو حقیر جاننے سے منع کرتا تھا۔
20۔اپنے پہرے داروں کو حکم دے رکھا تھا کہ جب بھی کوئی ضرورت مند ہمارے دروازے پر آئے تو میں جتنا بھی مصروف ہوُں اُسے میرے پاس لے آنا خواہ رات کا پچھلا پہر ہی کیوں نہ ہو۔کیونکہ میرے نزدیک ظالم سب سے بڑا مجرم اور گنہگار ہے۔
21۔سڑکوں کے دونو ں اطراف پھل دار اور سایہ دار درخت لگوائے۔ کسی کی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ کوئی کسی سرکاری درخت سے مسواک بھی کاٹ جائے۔
22۔رعایا کی سہولت کے لیے سڑکوں کے جال بچھا دیئے۔سب سے بڑی چار جرنیلی سڑکیں بھی بنوائیں جو پچھلی (پانچ صدیوں) سے آج بھی زیرِ استعمال ہیں ۔ایک سڑک پشاور سے سنار گاؤں( بنگال) تک ، دوسری آگرہ سے برہان پور (سرحد دکن) تک ، تیسری آگرہ سے جودھپور اور چتھوڑھ گڑھ تک ، چوتھی لاہور سے ملتان تک۔
میرے ہم وطنو!وہ عدل و انصاف کا اتنا سخت تھا کہ ایک دفعہ( اٹاوہ )کے علاقہ سے ایک کاشتکار کا قتل ہو گیا جس کے قاتل کا سراغ نہ ملا تو ایک خفیہ سپاہی کو جائے واردات پر ایک درخت کاٹنے کا حکم دیا ۔وہاں کے حاکم نے سپاہی کو درخت کاٹنے سے روکا تو پیچھے کھڑے سپاہیوں نے اُسے گرفتار کر لیا اور اُس حاکم کے ذریعے اصل مجرم (قاتل) مل گیا جسے پھانسی دے دی گئی۔ایک دفعہ ( تھانیشور)کے پڑاؤسے رات کے پہر وقت کے حکمران کا گھوڑا چوری ہو گیا ۔چھان بین کے لیے پچاس ،پچاس کوس کے فاصلے تک زمینداروں کو بلوایا اور سخت الفاظ میں حکم دیا کہ تین دن تک چور کا سراغ نہ ملا تو سب کو پھانسی پر لٹکا دیا جائے گا۔تو جلد ہی لوگوں نے چور کو پیش کر دیا جسے پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ اِن واقعات کے بعد اُس حکمران نے اتنے سخت قوانین بنائے کہ کسی حکام یا وزیر کو ذرا بھر جرأت نہ ہوئی کہ کوئی اپنی من مانی کر جائے اور ملک میں بد امنی کو فروغ دے یا اُسکے بنائے اصولوں کو توڑ سکے۔ملک میں مکمل امن و امان تھا۔کوئی چوری ڈاکہ،راہزنی قتل و غارت اور دہشتگردی کا نشان تک نہ تھا۔
آ تجھ کو بتاؤں تقدیرِ اُمم کیا ہے؟
شمشیرِ سناں اول طاؤس و رباب آخر
میرے نوجوانو!اُس بادشاہ نے (صرف 5سال ) میں ایک صحیح اور حقیقی اسلامی و فلاحی مملکت کا جو نمونہ پیش کیا اُسکے بعد آج تک کوئی دوسرا حکمران ایسا کردار ادا نہ کرسکا۔وہ حکمران کون تھا؟وہ عظیم حکمران ( برِصغیر کا بوڑھا شیر ) پٹھان حکمران ،فرید خان (شیر شاہ سوریؒ ؒ )تھا۔واہ!سبحا ن اللہ...کیسا نیک اور درد مند حکمران تھا۔آہ! کاش کوئی ایسا حکمران آج بھی ہوتا...آج میرے دیس کی سر زمیں پر غربت ، بھوک ، افلاس ، بیروزگاری ، خود کشی،چوری،ڈاکے،راہزنی جیسے ہزاروں مسائل ہیں اور عوام بیچاری ذلیل و خوار ہو رہی ہے۔اآج انسانیت سسک رہی ہے... انسانیت تڑپ رہی ہے ...انسا نیت ذلیل وخوار ہو رہی ہے...لیکن!انسانیت کے علمبردار آنکھوں پر خود غرضی کی پٹی باندھے بے حِسی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب؟
شرم تم کو مگر نہیں آتی...

No comments:
Post a Comment