Thursday, 30 June 2016

وزیراعلیٰ خیبرپختو نخوا پرویزخٹک کا کہنا ہے کہ محمود خان اچکزئی کے بیان کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے

وزیراعلیٰ خیبرپختو نخوا پرویزخٹک کا کہنا ہے کہ محمود خان اچکزئی کے بیان کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے،کیا محمود اچکزئی خیبرپختونخوا کے بغیر ایک مکمل پاکستان کا تصور کرسکتے ہیں۔محمودخان اچکزئی کے افغان جریدے کودیئے گئے انٹرویو پر سخت ردعمل کااظہارکرتے ہوئے
وزیر اعلیٰ کے پی کے کا کہناہے کہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود اچکزئی نے آج تمام پاکستانیوں کا سر شرم سے جھکا دیا ہے، خیبرپختونخوا کے عوام نے1947ء میں پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا نہ کہ افغانستان کے، جبکہ محمود اچکزئی کے بیان کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ انکا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام محمود خان اچکزئی کے بیان کو مسترد کرتے ہیں۔اس سے قبل تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے محمود خان اچکزئی کی جانب سے دیئے جانے والے بیان کو حیران کن قرار دیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ اچکزئی صاحب کو افغانستان سے الفت ہے تو انہیں افغانستان مبارک ہو۔و۱ئس آف سوسائٹی نیوز ویب

برِصغیر کا بوڑھا شیر؟؟؟

برِصغیر کا بوڑھا شیر؟؟؟

برِ صغیر پاک و ہند کی سر زمیں پر ایک ایسا دلیر اور بہادرحکمران گزرا ہے جو اُن چند حکمرانوں سے تھا جنہوں نے اپنی سلطنتوں کو تمام سہولیات سے نواز اور کبھی کسی غیر سے بھیک نہ مانگا۔اُس نے ظالم اور جابر بادشاہوں پر حملے کر کے تمام علاقے فتح کیے اور وہاں کی رعایا کو آزادی اور امن بخشا۔ کئی حملہ آوروں سے بھی مقابلے کیے اور کامیابیاں سمیٹیں۔قوانین ،عدل و انصاف اور نظم وضبط کا اتنا سخت کہ مجرموں کو کٹہرے میں کھڑا کر کے سخت سے سخت سزا دیتا تھا۔
( ایک لاکھ تیرہ ہزار گاؤں )پر مشتمل ایک وسیع سلطنت کا حکمران اگر چاہتا تو سونے،چاندی کے انبار لگا لیتا۔بلکہ خالص سونے،چاندی کی اینٹوں سے محل بنا لیتا۔لیکن کیا تھا کہ اسلام کا متوالا و شیدائی اور فرض شناس فرماں روا تھا۔ خوفِ خدا وررعایا کی خبر گیری یہ دو کام ہی تو اُسکی زندگی کا حصہ تھے۔ سادگی کی مثال یہ تھی کہ سرکاری عمارتیں اور قلعے وغیرہ تعمیر کرتے وقت خود سپاہیوں کے ساتھ پھاوڑا،کدال چلاتا اور گارا مٹی ڈھوتا۔
اُسکو دنیا کی کسی چیز سے دل بستگی نہ تھی اور نہ ہی کوئی رغبت اور لالچ۔خاندان کی محبت ،عزیز و اقارب اور بیوی ،بچوں کی محبت نے کبھی بھی اُسکو اپنی طرف ہمہ تن متوجہ نہ کیا۔البتہ اپنے فرائض پوری ذمہ داری سے ادا کر دیتا تاکہ روزِ قیامت جواب دہی سے بچ جائے۔وہ اکثر کہتا تھا کہ بادشاہ رعایا کا نگہبان ہوتا ہے اور رعایا کے ہر ایک فرد کی ذمہ داری بادشاہ پر پر لازم ہے۔اگر میں یہ ذمہ داری ادا نہ کروں گا تو کل خدا کے ہاں کیا جواب دوں گا؟
میں تو جیتا ہوں فقط تیری رضا کے واسطے 
ورنہ مجھ کو اِس جہاں سے کوئی دلچسپی نہیں
(1540ء تا 1545 ء)اُس نے صرف ( 5 سالہ ) ریکارڈ دورِ حکومت میں اپنی طاقت اور سخت قوانین کے ذریعے برِصغیر کی تاریخ ہی بدل کے رکھ دی۔ جس کے عظیم کارناموں کی مثالیں آج بھی بڑے بڑے موؤخین دیئے بغیر نہیں رہ سکتے ۔ اُن کارناموں کی وضاحت کچھ یوں ہے۔ 
1۔ملک میں پڑھے لکھے ، غیرت مند اور ذمہ دار حکام بھرتی کئے اور کسی کو زیادہ مدت کسی ایک جگہ ڈیوٹی پر مامور نہیں رکھتا تھا۔
2۔رعایا کی جان و مال اور فصلوں کو نقصان پہنچانے والے حکام اور سپاہیوں کو سخت سے سخت سزا دیتا تھا ۔ بعض کے ناک،کان چھدوا کر دھاگہ ڈال کر اُلٹا باندھ دیتا تھا اور بعض کو تو پھانسی پر لٹکا دیا جاتا تھا ۔
3 ۔اگر کسی قتل کا سرغ نا ملتا تو وہاں کے حکام کو گرفتار کر لیا جاتا جب قاتل کا سراغ ملتا تب حکام رہا ہوتا۔ 
4 ۔ زراعت و تجارت کو ترقی دی اور ملک کو خوشحال کر دیا۔ تاجروں سے ٹیکس معمولی وصول ہوتا۔
5۔بے ایمانی ، ناپ تول میں کمی ،ملاوٹ ، ذخیرہ اندوزوں اور حکومت کی طے کردہ قیمتوں سے زیادہ وصول کرنے والے تاجروں کو سخت جرمانے اور سزا دیتا ۔6۔ہر دو کوس پر کنوئیں اور سرائیں تعمیر کرائیں ۔
7ہر مقام پر ہندو اور مسلمانوں کے ٹھہرنے کا علیٰحدہ علیٰحدہ انتظام تھا اور تمام مسافروں کو اشیائے ضرورت مفت ملتی تھیں۔
8۔ہر مقام پر سرکاری ملازم تعینات کیے جو مسافروں کو کھانا ، بستر اور سردیوں میں گرم پانی مہیا کرتے اور مسافروں کے جانوروں کو بھی پانی ، چارہ اور دانہ وغیرہ ڈالتے ۔
9 ۔ہر مقام پر ایک مسجدبمعہ موذن وغیرہ کی سہولت دی۔ 
10 ۔ تمام مقامات پر ذمہ دار اور غیرت مند سرکاری عملہ اور انتظا میہ و چو کیدار تعینات کئے۔
11 ۔تمام سرکاری و پرائیویٹ ادارے اپنے دائرے میں رہتے ہوئے کام کرتے تھے۔
12 ۔بیوہ عورتوں ، اپاہجوں ، محتاجوں اور بے بس افراد کے لئے ماہانہ وظیفے جاری کئے۔
13۔محتاجوں اور غریبوں کے لئے لنگر خانوں کا وسیع انتظام کیا۔جس سے روزانہ ہزاروں افراد اپنی بھوک مٹاتے ۔ 
14 ۔ہنگامی صورتحال میں رعایا کی حفاظت کے لئے ملک کے مختلف گوشوں میں بے شمار قلعے تعمیر کرائے۔
15۔ڈاک کا نظام اتنا بہترین تھا کہ کوسوں دور سے خطوط بہت جلد اپنے مقام پر پہنچ جاتے۔
16۔ملک میں اجنبی ،امیر،غریب یا کسی بھی چھوٹے بڑے کے ساتھ مذہب،فرقہ،نسل،قبیلہ اور ذات،پات کا ذرا بھی امتیاز نا رکھا۔
17۔کوئی جاگیر دار یا زمیندار اپنے سے چھوٹے کسی کسان یا کاشتکار پر زیادتی نہیں کر تا تھا۔
18۔جب بھی کوئی کمزور اور مظلوم شخص اپنی فریادلے کر بادشاہ کے پاس آتا تو وہ اپنا ہر کام چھوڑ کر پہلے اُس کی فریاد سنتا۔
19۔اپنے اُمراء اور حکام کو ہر لمحہ رعایا کی خبر گیری اور عدل و انصاف کی تلقین کرتا تھا اور رعایا کو حقیر جاننے سے منع کرتا تھا۔
20۔اپنے پہرے داروں کو حکم دے رکھا تھا کہ جب بھی کوئی ضرورت مند ہمارے دروازے پر آئے تو میں جتنا بھی مصروف ہوُں اُسے میرے پاس لے آنا خواہ رات کا پچھلا پہر ہی کیوں نہ ہو۔کیونکہ میرے نزدیک ظالم سب سے بڑا مجرم اور گنہگار ہے۔
21۔سڑکوں کے دونو ں اطراف پھل دار اور سایہ دار درخت لگوائے۔ کسی کی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ کوئی کسی سرکاری درخت سے مسواک بھی کاٹ جائے۔
22۔رعایا کی سہولت کے لیے سڑکوں کے جال بچھا دیئے۔سب سے بڑی چار جرنیلی سڑکیں بھی بنوائیں جو پچھلی (پانچ صدیوں) سے آج بھی زیرِ استعمال ہیں ۔ایک سڑک پشاور سے سنار گاؤں( بنگال) تک ، دوسری آگرہ سے برہان پور (سرحد دکن) تک ، تیسری آگرہ سے جودھپور اور چتھوڑھ گڑھ تک ، چوتھی لاہور سے ملتان تک۔
میرے ہم وطنو!وہ عدل و انصاف کا اتنا سخت تھا کہ ایک دفعہ( اٹاوہ )کے علاقہ سے ایک کاشتکار کا قتل ہو گیا جس کے قاتل کا سراغ نہ ملا تو ایک خفیہ سپاہی کو جائے واردات پر ایک درخت کاٹنے کا حکم دیا ۔وہاں کے حاکم نے سپاہی کو درخت کاٹنے سے روکا تو پیچھے کھڑے سپاہیوں نے اُسے گرفتار کر لیا اور اُس حاکم کے ذریعے اصل مجرم (قاتل) مل گیا جسے پھانسی دے دی گئی۔ایک دفعہ ( تھانیشور)کے پڑاؤسے رات کے پہر وقت کے حکمران کا گھوڑا چوری ہو گیا ۔چھان بین کے لیے پچاس ،پچاس کوس کے فاصلے تک زمینداروں کو بلوایا اور سخت الفاظ میں حکم دیا کہ تین دن تک چور کا سراغ نہ ملا تو سب کو پھانسی پر لٹکا دیا جائے گا۔تو جلد ہی لوگوں نے چور کو پیش کر دیا جسے پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ اِن واقعات کے بعد اُس حکمران نے اتنے سخت قوانین بنائے کہ کسی حکام یا وزیر کو ذرا بھر جرأت نہ ہوئی کہ کوئی اپنی من مانی کر جائے اور ملک میں بد امنی کو فروغ دے یا اُسکے بنائے اصولوں کو توڑ سکے۔ملک میں مکمل امن و امان تھا۔کوئی چوری ڈاکہ،راہزنی قتل و غارت اور دہشتگردی کا نشان تک نہ تھا۔
آ تجھ کو بتاؤں تقدیرِ اُمم کیا ہے؟ 
شمشیرِ سناں اول طاؤس و رباب آخر
میرے نوجوانو!اُس بادشاہ نے (صرف 5سال ) میں ایک صحیح اور حقیقی اسلامی و فلاحی مملکت کا جو نمونہ پیش کیا اُسکے بعد آج تک کوئی دوسرا حکمران ایسا کردار ادا نہ کرسکا۔وہ حکمران کون تھا؟وہ عظیم حکمران ( برِصغیر کا بوڑھا شیر ) پٹھان حکمران ،فرید خان (شیر شاہ سوریؒ ؒ )تھا۔واہ!سبحا ن اللہ...کیسا نیک اور درد مند حکمران تھا۔آہ! کاش کوئی ایسا حکمران آج بھی ہوتا...آج میرے دیس کی سر زمیں پر غربت ، بھوک ، افلاس ، بیروزگاری ، خود کشی،چوری،ڈاکے،راہزنی جیسے ہزاروں مسائل ہیں اور عوام بیچاری ذلیل و خوار ہو رہی ہے۔اآج انسانیت سسک رہی ہے... انسانیت تڑپ رہی ہے ...انسا نیت ذلیل وخوار ہو رہی ہے...لیکن!انسانیت کے علمبردار آنکھوں پر خود غرضی کی پٹی باندھے بے حِسی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب؟
شرم تم کو مگر نہیں آتی...

باہمت نوجوان کی داستان...؟؟؟

باہمت نوجوان کی داستان...؟؟؟
نامناسب ما حول ،ما یوسی ،نا امیدی اور احساسِ کمتری کے سائے تلے پل کر جوان ہونے والا محبِ وطن پاکستانی جسکی میٹرک (پانچ مقامات)پر ہوئی، (چھے سال بعد )ایف،اے کیا ۔ چھٹی سے دسویں تک اپنی کلاس کا (سیکند مانیٹر ،خزانچی اور سٹیج سیکرٹر ی ) بھی رہا۔ لکھنے ،پڑھنے کا بے حد شوق تھا۔جب نویں کلاس میں پہنچا تو دل میں اک خواہش نے جنم لیا کہ پڑھ ،لکھ کر ذمہ دار،بہادر اور محبِ وطن پولیس افسر بن کر محکمہ پولیس میں ایک بہت ہی اچھا اور احسن نظام متعارف کرا کر عوام کو امن و سکون بخشے گا۔ لیکن!اعلیٰ تعلیم حاصل نہ کر سکا اور مجبوری نے (کالم نگار) بنا دیا۔
تعارف: فرض کریں اُسکا نام (م)ہے۔ (راجپوت خاندان)سے وابستہ (کامیانہ برادری) کے نام سے پہچانا جاتا ہے ۔ 1988قصبہ نور شاہ کے قریب ضلع ساہیوال میں واقع ہے۔
2005(سٹی رینالہ خورد )اوکاڑہ سے میٹرک کر کے اپنی فیملی کے پاس لا ہورہجرت کر گیا۔ (ٹیکسٹائل ڈیزائیننگ )کا کورس کر کے فیکٹری میں جاب کر لی۔ ساتھ اپنا (مبشر انسٹیٹیوٹ آف ڈیئزائیننگ )سنٹر بنا لیا ۔
2006 تعلیم کی کمی محسوس کی تو اپنا انسٹیٹیوٹ بند کر دیا اور (ایکسپریس اخبار) لگوا لیا۔ (اوپن یو نیورسٹی )ایف،اے کا داخلہ بھیج دیا۔کتابیں آ گئیں۔مشقیں وغیرہ لکھ کر رکھ لیں اور (ٹیوٹر) کا لیٹر نہ پہنچ سکا۔آس پاس کو ئی مدد گار بھی نہ ملا تو اِس طرح یہ سال ضائع ہو گیا۔
2007دوسری دفعہ پھر داخلہ بھیج دیا ۔ چونکہ گھریلو رہائش کرائے کی تھی اور (جاب) بھی گھر سے بہت دور تھی تو تعلیم کی خاطر جاب چھوڑ کر گھر کے قریب اک فیکٹری میں جاب کر لی تو پھر گھر کی رہائش بدلنا پڑی تو اِس طرح اُسکا تعلیم حاصل کرنے کا خواب اک دفعہ پھر ادھورا رہ گیا ۔لیکن!ا ردو بازار کیساتھ جڑا رہا اورر اچھی، اچھی کتابیں لا کر مطالعہ کرتا رہتا۔
2008 (مبشر انسٹیٹیوٹ آف ڈیئزائیننگ سنٹر) بنا لیا ۔ ماہانہ (60 تا 80ہزار )روپے کمانے لگ پڑا ۔ساتھ(تیس ہزار ) کی جاب بھی تھی اور انکم (ایک لاکھ )تک پہنچ گئی۔وہ ہزاروں روپے میں کھیل رہا تھا۔حقیقت میں اتنا پیسہ کما کر بھی اُس کو سکون محسوس نہ ہوا تو اُس نے(چند ماہ بعد ) خود ہی اپنا انسٹیٹیو ٹ بند کرکے پھر سے تعلیمی میدان میں اُتر نے کا عزم کر لیا اور پاکستان کے لیے کچھ کر دکھانے کو من چاہا۔
2009چونکہ (ایکسپریس اخبار)بالخصوص (صفحہ ایڈیٹیورل )شوق سے پڑھتا تھا ۔ جس وجہ سے اُسے (نئی جدت، نئی سوچ )ملی۔ ملکی حالات دیکھ کر وطن کی سر زمین اور پاکستانیوں سے حقیقی پیار اور عشق ہو گیا اور(ایک عظیم ادیب و مصنف ،کالم نگار اور ڈرامہ نگار ) بننے کا عزم کر لیا۔ حتمی شکل دینے کے لیے عملی طور پہ جدو جہد شروع کر دی (اُردو بازار) سے بڑی،بڑی ڈائریاں خریدلایااور(2005تا 2009) تک کی تمام اخباریں اکٹھی کر کے(نوازشریف ،شہبازشریف صاحب اور جسٹس افتخار چوہدری کی نا اہلی سے بحالی تک ،سیاسی خبریں بمعہ تصاویر، دہشتگردی، بم دھماکے ،سیلاب ،زلزلے ،غربت،بھوک،افلاس اور سبق آموز کالم) کاٹ کر( ملکی )حالات پہ بہت بڑی (4ڈائریاں) بنالیں ۔ساتھ ( ٹھوکرنیاز بیگ ) ادیبوں کی صحبت اختیار کر لی ۔ اک سال تک جاتا رہا ۔
2010 تیسری دفعہ پھر لاہور بورڈ سے (ایف ،اے)کرنے کا مشورہ ملا۔ (دونوں پارٹ )کی (تین ماہ) میں تیاری کر کے سالانہ امتحان

دیا تو (پارٹ ٹو ) کی (انگلش،اردو) میں دو ،تین نمبروں سے (فیل)ہو گیا ۔ پھر (مکان)بدلنا پڑا تو نئی جگہ گھریلو مسائل نے گھیر لیا ۔دو مضامین میں ناکامی کا بھی دکھ تھااور اخبار وغیرہ بھی بند ہو گیا ۔ملکی حالات پہ ڈائریاں بنانے کا عمل بھی رُک گیا۔ ( 2ڈائریاں،2 توڑے اخبار،میگزینز )بھی گُم ہو گئے۔ جسکا (تا حال افسوس) ہے۔ اِس دفعہ دلی صدمہ ہوا ۔سخت (سر درد) میں مبتلا ہو کر( 3ماہ)بیمار رہا۔
2011(ایف اے،سی ڈی)پھر (سالانہ امتحان ) میں آخر کار اُسنے (چھے سال ) کی طویل جدوجہد کے بعد (ایف ،اے ) کر لیا ۔ پھر اک نئی ترکیب سوجھی کہ ملکی حالات پہ (شاعری، موسیقی، تصویریں، ویڈیو) وغیرہ( نیٹ) سے ڈاؤن لوڈ کر کے موجودہ حالات پر ( سبق آموز ) (سی،ڈی) تیار کرنے لگ پڑا۔(سی،ڈی)کی تیاری کا مرحلہ شروع ہی تھا کہ کسی( مجبوری )کی بنا پر رہائش نئی جگہ منتقل کرنا پڑ ی جہاں ساری فیملی (ڈینگی بخار) کا شکار ہو گئی تو اِسطرح اِس مقصد میں بھی ناکام ہو گیا۔
2012(کتاب کی اشاعت،سانحہ )ٓپھر (م) نے کچھ بڑا کارنامہ دکھانے کا ذہن بنا یا اور دن رات ایک کر کے بڑی مشکل جھیل کر (24سال کی عمر )میں ایک (کتاب ) (سچ تو یہ ہے) تیار کر لی ۔پہلے کی طرح اِس میں بھی ناکامی نے پیچھا نہ چھوڑا۔کتاب کا سارا مواد ابھی (پریس) پر تھا تو (م) نے اشاعت کا مکمل کام اپنے اک( دوست) کو سونپ دیا ۔کیونکہ ( بڑے بھائی) کے ساتھ اک (عجیب و غریب سانحہ ،بزنس فراڈ ) ہو گیا ۔اپنا کاروبار ،گھر بار،سب کچھ تباہ ہو کر (لاکھوں ،کروڑوں)کا مقروض ہو گیا تو فیملی کو مجبوراََ پیچھے (ساہیوال)منتقل ہونا پڑا اور قرض داروں نے بھائی کو (جیل )بھیجوا کر سب کچھ راکھ کر ڈالا ۔پھر تمام( تعلیمی سرگرمیاں) چھوڑ، چھاڑ کے اک دم (تین فیکٹریوں) میں (جاب)کر کے ا پنی فیملی کے سر سے لاکھوں کا قرضہ اُتارنے کی کوشش میں مجبوراََ مصروف ہو نا پڑا... اور زندگی عذابِ مسلسل بن گئی ۔ہاہ!
تنکا تنکا چُن کرمیں نے ایک آشیاں بنایا تھا...
چھوٹے چھوٹے خوابوں سے اپنا جھونپڑ سجایا تھا...
میری کُل کائنات؟؟؟
ایک میلی چادر،کچھ پُرانے کپڑے ...
ایک ٹپکتی چھت اور اُکھڑی دیواریں ہیں...
2013 (رہنما کی تلاش) اپنے بوسیدہ حالات کو سدھارنے کی خاطر کسی اچھے، کامل (رہنما) اور مسیحا کی تلاش میں اپنی کتاب بمعہ خطوط مختلف (اینکرز،اد بی و سیاسی اور مذہبی )شخصیات کو (tcs) کرانا شروع کر دی تا کہ اُسکی کوشش رنگ لے آ ئے ۔یہ سلسلہ ابھی تک جاری و ساری ہے۔
1۔(اک سیاسی شخصیت) کو (7مرتبہ) اپنی کتاب (tcs)کرائی۔ لیکن!جواب (صفر)...
2۔مختلف (اخباروں )کے (ایڈ یٹرز)کو کتاب (tcs)کرائی۔ جواب(صفر)...کئی بار اُنکے دفاتر بھی گیا۔ لیکن!کسی نے کچھ نہ سُنی...
3۔پھر ہر اتوار مختلف شخصیات سے ملاقاتیں کرنے کا سوچا ۔اپنی (کتاب ،لیپ ٹاپ میں سی ڈی کا ڈیٹا اور ملکی حالات پہ ڈائریوں ) کا بوجھ
اُٹھا ئے کسی نہ کسی کو ملنے چلا جاتا۔ لیکن! ناکامی پہ ناکامی. ..سخت گرمی میں بھوک ،پیاس سے نڈھال ہو کر واپس آ جاتا۔ کسی نے گھر پہ بُلا کر وعدے کر کے ذہن سے نکال دیا تو کسی نے میلوں دور کی مسافت طے کروا کر پھر مصروفیت کا بہانہ لگا کر ٹال دیا۔
4۔دو دفعہ (عمران خان صاحب) کی بیمار پُرسی کرنے شو کت خانم گیا ۔بارش اور عملے نے ملنے نہ دیا اورخالی منہ لٹکائے واپس آ گیا۔
5۔دو دفعہ (سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور،وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف صاحب )اور تین دفعہ ( طاہر القادری صاحب)کو ملنے گیا تو اُ نکی مصروفیت کے باعث ناکام ہو کر گھنٹوں وقت ضائع کر کے واپس آ گیا۔
6۔اک دفعہ ایڈیٹر(روزنامہ نئی بات) (چوہدری عطا ء الرحمٰن صاحب )کو ملنے گیا ۔ گھنٹوں وقت ضائع کر کے جب بھوک نے ستایا تو تھک ہار کرخالی پیٹ (رات )کو واپس آ گیا۔( 10دن ) تک (PTCL)پہ رابطے کیے۔ لیکن!کسی نے بات نہ کرائی ۔
7۔پھر اِن تمام شخصیات کو(فیس بُک) پہ (میسج)کے ذریعے اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی۔لیکن! جواب(صفر)
8۔دوبارہ پھر اِن سبھی کو اپنا یہ( کالم )(بذریعہ فیس بُک)(میسج )بھیجتا رہا۔ لیکن!کسی نے کوئی (جواب) نہ دیا۔
9۔پھرآخر کار ٹی وی چینلز کے مختلف (مورننگ شوز) کو اپنا یہی کالم (بذریعہ ڈاک) بھیجتا رہا۔لیکن!کسی کا جواب نہ آیا۔
10۔پھر خودپر( فلم) بنانے کی سوجھی تو پاکستان اور انڈین (فلمی اداکا روں اور فلم انڈسٹریز )کوبذریعہ (فیس بک) یہی کالم بھیجتا رہا۔لیکن!جواب( صفر)
11۔اک (عیسائی دوست)سے کسی اخبار میں( کالم نگار) بننے کی بات کی تووہ بھی (10ہزار روپے ) ہڑپ کر کے رفو چکر ہو گیا ۔
افسوس کہ !ایک سچے ،مخلص،محنتی، محبِ وطن پاکستانی کی آواز مختلف شعبۂِ زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور خصوص باالخصوص(تحریکِ انصاف کی مختلف اعلیٰ شخصیات ) کے کانوں نے سُن کر بھی نہیں سُنی...؟ شائد اِسے ہی کہتے ہیں بے بسی اور بے حسی کی انتہا...؟ہاہ!ہائے!
اگست 2013(کالم نگار)جب کوئی بشر بھی کام نہ آیا تو آخرکار (قدرت) ہی اُسکی سچی محنت اور لگن پر مہربان ہو ئی۔(یکم رمضان)کی صبح (پتوکی) سے گزر ہوا۔ بارش آگئی تو اک دوکان پہ رک گیا۔ اک آدمی قصور سے (روزنامہ !حق کی آواز)لایا۔ جس پہ لکھا تھا (عملے کی ضرورت ہے) تو(م)نے رابطہ کیا ۔اپنی کتاب (tcs)کرائی اوریوں( ستائیس رمضان) کو (25 سال کی عمر) میں پہلا کالم شائع ہوا... (8سالہ )محنت کے بعد کالم نگار بن گیا۔ ( عمیر علی انصاری صاحب)نے اک (اجنبی نوجوان) کو آگے لانے میں اپنا کلیدی کردار بخشا۔ جس پر اُنکا بے حد شکریہ۔خدااُنکی حفاظت فرمائے۔آمین۔
بھائیو!(م) نے کالم نگار بننے کے لیے (2005تا2013) تک یہ اخراجات کیے۔ مطالعاتی کتب ، اخبار،میگزین،ملکی حالات پر ڈائریاں ،500بکس کی اشاعت، (55)شخصیات کو (tcs) ، لیپ ٹاپ وغیرہ تمام اخرا جات ملا کر کل رقم یہ ہے۔(179520)۔
2014 (12ربیع الاول ) ( آن لائن روزنامہ! تحریکِ انصاف ) 25 ستمبر (ہفت روزہ ! نیشن ریڈراٹک)اور (آن لائن روزنامہ! افکارِ اٹک) میں(کالم نگار) بن گیا۔(ستمبر )میں (اوپن یونیورسٹی) (بی اے )کا داخلہ بھیجا۔مشقیں لکھ کربھیج دیں ( نومبر) میں موٹر سائیکل حادثہ ہوا سر پہ چوٹ آ گئی تو 4 ماہ بیماررہا اور پیپر نہ دے سکا۔۔20فروری روزنامہ سماء میں کالم نگار بن گیا۔تو کتاب tcs کرائی اور شائد پہلی مرتبہ کسی اخبار نے اِس کتاب پر تبصرہ شائع کیا ۔جس پر اعجاز مہاروی،ظہیر سلہری صاحب کا بھی بے حد شکریہ کہ اُنہوں نے۔ م ۔کے حوصلے بلند کیے۔مئی میں شادی ہو گئی اور اِس طرح ایک بار پھر پہلے کی طرح تعلیم جاری نہ رکھ سکا۔31 جولائی پی ایف یو سی کا ممبر بن گیا۔
2016 اکیس اپریل کو صدائے وطن اور مختلف اخبارات میں کالم نگار بن گیا۔جس پر میاں انوار الحسن کامیانہ صاحب کا بے حد شکریہ جنہوں مزید آگے بڑھنے کے لیے اک نیا میدان بخشا۔
پاکستانیو! سچ تو یہ ہے کہ ۔م ۔اپنی ڈیزائننگ کی فیلڈ میں 2005تا حال ماہانہ تقریباََ 80 ہزار تا 1لاکھ روپے کا نقصا ن جھیل رہا ہے اور مختلف اخباروں میں فی سبیل للہ کالم لکھ رہا ہے۔ اُسکو پیسے کے ضیاع کا ذرا بھی دکھ نہیں ۔کیونکہ وہ اپنے دیس کے لوگوں کی خاطر کچھ کرنے کا عزم رکھتا ہے۔ اِس لیے اُس نے جو مقصد سوچا وہ اتنی طویل مدت اور جدوجہد کے بعد آخر پا لیا ...اگرچہ ابھی تک وہ کوئی قابل رشک کامیابی حاصل نہیں کر سکا ۔البتہ! اُس نے اب تک جو محنت کر لی ہے یہی اُسکے نزدیک ایک بہت بڑی کامیابی اور نوجوان نسل کے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے۔ لہٰذا!ہر انسان کو اپنے مقصد میں سچی محنت کے ساتھ ڈٹے رہنا چایئے۔کامیابی اک دن ضرور ملتی ہے...اِسی لیے قرآن پاک میں لکھا ہے اور انسان کے لیے وہی کچھ ہے جسکی وہ کوشش کرے۔م۔ کو اِن تمام کاموں پر بڑے بھائی ، اور دوستوں سے کئی دفعہ سخت ڈانٹ بھی پڑی۔ لیکن!اُس نے اپنا مقصد پھر بھی نہیں چھوڑا اور ڈٹا رہا...کیونکہ وہ جانتا ہے کہ خدانے اُسکو رائیگاں نہیں بلکہ کسی خاص مقصد کے لیے پیدا کیا ہے ۔ اگرچہ گزشتہ چند سال میں م کی راہ میں مسائل پیدا نہ ہوتے تو آج وہ اِس سے بھی چھے گنا محنت کر کے کم عمری کی ایک نئی تاریخ رقم کر چکا ہوتا۔ہاں!پر شائد اللہ کا حکم نہیں ہوا۔
سچ تو یہ ہے کہ م آج بھی دن ہو یا رات تنہائی میں بیٹھ کر اپنے ( لیپ ٹاپ )میں ملکی حالات دیکھ کر روتا ہے اور دیس کے ویرانوں کو دیکھ کر نڈھال ہوا جا رہا ہے۔ حالانکہ وہ خود4سال سے ایک فیکٹری کے اک چھوٹے سے کمرے میں مقیم ہے ۔جس میں سردیوں میں سخت سردی اور گرمیوں میں سخت گرمی،سورج کی تپش اور آگ برستی ہے ۔ ہوٹلوں کے گلے، سڑے کھانے کھا کر اُس نوجوان کی حالت اب یہ ہو گئی ہے جیسے کسی کباڑیے کی دوکان پہ رکھے پھٹے،پرانے پلاسٹک، لوہے اور باسی،سوکھی روٹی کے ٹکڑے ہوتے ہیں یارنگ والا پرانا ڈبہ زنگ آلو دپڑا کسی گندگی کے ڈھیر تلے دِکھائی دے رہا ہو،جسے شائد کوئی کباڑیہ)بھی اُٹھانے سے پہلے سو بار سوچنے پر مجبور ہو جا تا ہو ہاہ!ہائے!شائد!شائد
ہاں وہی شخص ہوں میں !!! 
دل میں جسکے اب کوئی تمنا نہیں باقی...
میرے ہم وطنو ! یہ تھی اک باہمت نوجوان کی داستان...جسکی کالم نگار بن کر قوم کی خدمت کرنے کی خواہش پوری ہو گئی ۔ اب بقیہ سانسیں انشاء اللہ اُمتِ مسلمہ ،ملکِ پاکستان اور اِس پاک دھرتی پر بسنے والی غیور مگر مجبور عوام کے نام کر رکھی ہیں ۔ مجھے یقین ہے وہ اک دن پاکستان کی چند مشہور شخصیات میں اپنانام پیدا کر یگا۔انشاء اللہ !ہم سب دعا گو ہیں۔اللہ پاک اُسکو محفوظ رکھے اور اپنے عظیم مقصد میں سخت
محنت اور جدوجہد کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین!
کشتی بھی نہیں بدلی،دریا بھی نہیں بدلا
ہم ڈوبنے والوں کا، جذبہ بھی نہیں بدلا
ہے شوقِ سفر ایسا ، عمر ہوئی ہم نے
منزل بھی نہیں پا ئی ،رستہ بھی نہیں بدلا

Wednesday, 29 June 2016

ٹویوٹا کا 30 لاکھ سے زائد کاریں واپس منگوانے کا اعلان

ٹویوٹا کی طرح کئی دیگر کمپنیوں کی کاروں کو بھی ائیر بیگ کے مسائل کا سامنا ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر
میں 10 کروڑ کاروں کو واپس لیا جا چکا ہے۔ جاپان کی گاڑیاں بنانے والی معروف کمپنی ٹویوٹا نے بدھ کو دنیا بھر سے اپنی تیس لاکھ سے زائد گاڑیو ں کو ناقص ائیر بیگ اور ایندھن کے اخراج کے نظام کی خرابی کی وجہ سے واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔ٹویوٹا نے ایندھن کے اخراج کے نظام کی خرابی کی وجہ سے 25 لاکھ سے زائد کاروں کو واپس لینے کا اعلان اس اعلان کی چند ہی گھنٹوں کے بعد سامنے آیا جس میں ٹویوٹا نے 15 لاکھ سے زائد کاروں کو ممکنہ طور پر ائیر بیگ میں خرابی کی وجہ سے واپس طلب کرنے کا بتایا تھا۔کاروں کی واپسی کے اس عمل کا تعلق ائیر بیگ فراہم کرنے والی کمپنی تاکتا سے نہیں ہے جو گزشتہ چند مہینوں کے دوران بڑے پیمانے پر کاروں کی واپسی کی ذمہ دار ہے۔ٹویوٹا کمپنی کی "پرائیس"، "پرائیس ان" اور "لیکسس سی ٹی 200ایچ" ماڈل کی وہ کاریں واپس منگوائی جارہی ہیں جو اکتوبر 2008 اور اپریل 2012 کے درمیان بنائی گئی تھی۔ا ن گاڑیوں میں نصب ائیر بیگ میں ہوا بھرنے والے کچھ ایک پمپوں میں شگاف پیدا ہوگئے جس کی وجہ سے ڈرائیور اور مسافر سیٹ کی طرف نصب ایئر بیگ جزوری طور پر پھیل سکتے ہیں۔ ٹویوٹا کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ وہ اس نقص کے نتیجے میں ہونے والے کسی جانی ںقصان سے آگاہ نہیں ہے۔پرائیس کے ایک دوسرے ماڈل اور ٹویوٹا کمپنی کے معروف کرولا ماڈل کی گاڑیاں جو 2006 اور 2015 کے درمیان بنائی گئی انھیں بھی واپس لینے کا بتایا گیا ہے۔ٹویوٹا کی طرح کئی دیگر کمپنیوں کی کاروں کو بھی ائیر بیگ کے مسائل کا سامنا ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر میں 10 کروڑ کاروں کو واپس لیا جا چکا ہے۔ ان ںاقص ائیر بیگ کی وجہ سے کم از کم 11 افراد ہلاک اور تقریباً ایک سو زخمی ہو چکے ہیں.وائس آف سوسائٹي نيوز ويب

Contact Us

Phone:03424652269
Email:voiceofsociety1@gmail.com
Facebook:@voiceofsociety1
Twitter:@voiceofsociety1
Join Us And Become Voice Of Your Society

Tuesday, 28 June 2016

لیلۃ القدر ، خیروبرکت کی رات

لیلۃ القدر ، خیروبرکت کی رات
رمضان المبارک بڑی برکتوں اورفضیلتوں والامہینہ ہے۔ اس کے دن بھی مبارک اوراس کی راتوں کی فضیلتوں کاکیاکہنا۔ اس ماہ مقدس کی پاک راتوں میں ایک ایسی رات ہے جولیلۃ ا لقدرکہلاتی ہے۔ یہ بڑی خیروبرکت اورمنزلت والی رات ہے۔ لیلۃ القدرماہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ایک رات ہے ۔ اس مبارک رات کولیلۃ القدرکہنے کی پانچ وجوہات ہیں قدرکامعنی عظمت ہے ۔چونکہ یہ رات بھی عظمت والی ہے۔ اس لئے اسے لیلۃ القدرکہتے ہیں ۔ قدرکا معنی عزت ہے یعنی جس کی کوئی قدروقیمت نہ ہووہ اس رات کی برکت سے صاحب قدرہوجاتاہے ۔قدرکامعنی حکم ہے چونکہ اس رات اشیاء کے متعلق ان کی حقیقتوں کے مطابق فیصلے کیے جاتے ہیں ۔قدرکے معنی تنگی ہے چونکہ اس رات زمین اپنی وسعت کے باوجودفرشتوں کی کثرت کی وجہ سے تنگ ہوجاتی ہے یااس میں قدروالی کتاب نازل ہوئی یاکہ اس میں قدروالے فرشتے نازل ہوتے ہیں یوں توماہ رمضان کاسارامہینہ مبارک ہے مگرلیلۃ القدرسارے رمضان پاک کی سردارہے اس کی شان تقدیس بیان کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے پوری سورۃ القدرنازل فرمائی۔ چنانچہ ارشادباری تعالیٰ ہے "بے شک ہم نے اس (قرآن)کو شب قدرمیں اتاراہے اورآپ کیاسمجھے ہیں (کہ) شب قدر کیاہے ؟شب قدر(فضیلت وبرکت اوراجرو ثواب میں)ہزارمہینوں سے بہترہے اس (رات)میں فرشتے اورروح الامین(جبرائیل ؑ )اپنے رب کے حکم سے (خیروبرکت کے)ہرامرکے ساتھ اترتے ہیں یہ(رات)طلوع فجرتک (سراسر)سلامتی ہے"۔ 
حضرت سیدناعبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ حضورنبی کریمﷺکے پاس بنی اسرائیل کے ایک شخص کاتذکرہ ہواجس نے ایک ہزارماہ اللہ پاک کی راہ میں جہادکیاصحابہ کرام علہیم الرضوان کواس سے بہت تعجب ہوااورتمناکرنے لگے کاش ان کے لئے بھی ایساممکن ہوتاتوآپﷺنے عرض کی اے میرے رب تونے میری امت کوکم عمر عطافرمائی ہے اب ان کے اعمال بھی کم ہوں گے تواللہ پاک نے آپﷺکوشب قدرعطافرمائی اورارشادفرمایا"اے محمدﷺشب قدرہزار مہینوں سے بہترہے جومیں نے تجھے اورتیری امت کوہرسال عطافرمائی ہے یہ رات ماہ رمضان میں تمہارے لئے اورقیامت تک آنے والے تمہارے امتیوں کے لئے ہے جوہزارمہینوں سے بہترہے ۔سورۃ القدرکے شان نزول کے بارے میں حضرت امام مالکؓ نے ایک معتبرراوی سے یہ روایت اپنی کتاب میں بیان کی ہے کہ حضورﷺ نے جب پہلی امتوں کی عمروں پرتوجہ کی تویہ بات معلوم ہوئی کہ اگلے لوگوں کی عمریں بہت زیادہ ہوتی تھیں توآپﷺکوخیال گزراکہ میری امت کی عمریں انکے مقابلہ میں کم ہیں تونیکیاں بھی کم رہیں گی اورپھردرجات اورثواب میں بھی کم ہونگے تواللہ تعالیٰ نے یہ رات آپﷺکوعنایت فرمائی اوراسکا ثواب ایک ہزارمہینے کی عبادت سے زیادہ دینے کاوعدہ فرمایا"۔(موطاامام مالک)یہ بہت ہی قدرومنزلت اورخیروبرکت کی حامل رات ہے قرآن کریم نے ہزارراتوں سے افضل قرار دیاہے۔لیلۃ القدرامت محمدیہؐ کے لئے ایک خاص انعام ہے جواس امت سے پہلے کسی امت کوعطانہیں کی گئی۔حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ آقائے دوجہاں سرورکون مکان ﷺ نے ارشادفرمایا "بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے لیلۃالقدرمیری امت ہی کوعطاکی اورتم سے پہلے لوگوں کو اس سے سرفرازنہیں کیا"۔شب قدر کے بارے میں پیران پیر حضرت سیدشیخ عبدالقادرجیلانیؓ فرماتے ہیں کہ سیدالبشرحضرت آدمؑ ہیں اورسیدالعرب حضور ﷺہیں اور حضرت سلمان فارسیؓ تمام اہل فارس کے سردارتھے اسی طرح سیّدالروم حضرت صہیب الرومیؓ سیّدالحبش حضرت بلال حبشی اسی طرح تمام بستیوں میں سروری مکہ مکرمہ کووادیوں میں سب سے برتری وادی بیت المقدس کوحاصل ہے دنوں میں جمعۃ المبارک سیّدالایام ہے راتوں میں شب قدرکوسروری حاصل ہے کتابوں میں قرآن کریم کواورقرآن پاک کی سورتوں میں سورہ البقرہ کواورسورۃ البقرہ میں آیت الکرسی کوسب آیات میں بزرگی اور سرداری حاصل ہے پتھروں میں سے حجراسودتمام پتھروں میں بزرگ ہے اورماہ زمزم کاکنواں ہرکنویں سے افضل ہے حضرت موسیٰ ؑ کاعصاہر عصا سے

برترتھااورجس مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونس ؑ رہے تھے وہ تمام مچھلیوں میں افضل تھی حضرت صالح ؑ کی اونٹنی تمام اونٹنیوں میں افضل تھی اوراسی طرح براق ہرگھوڑے سے افضل تھاحضرت سلیمان ؑ کی انگشتری تمام انگشتریوں سے برتراورافضل تھی اور ماہ رمضان تمام مہینوں کاسردارااوران سے بزرگ وافضل ہے اس سے معلوم ہواکہ لیلۃ القدر،سیداللیالی یعنی تمام راتوں کی سرداررات ہے ۔
حضرت سیدناابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺنے ارشادفرمایاکہ جوایمان کی وجہ سے اورثواب کے لئے شب قدرمیں قیام کرے اسکے گذشتہ گناہ بخش دیے جائیں گے۔درج بالاحدیث پاک میں لیلۃ القدرمیں عبادت کی تلقین کی گئی ہے ۔اوراس بات کی طرف بھی متوجہ کیاگیاہے کہ عبادت سے محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی مقصودہودکھاوااورریاکاری نہ ہواورآئندہ گناہ نہ کرنے کاعہدکرے اس شان سے عبادت کرنے والے کے لئے یہ رات سراپامغفرت بن کرآتی ہے لیکن وہ شخص محروم رہ جاتاہے جواس رات کوپائے اورعبادت نہ کرسکے ۔ حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ماہ رمضان المبارک کی آمدپر حضورﷺنے ارشادفرمایا۔"یہ ماہ جوتم پرآیاہے اس میں ایک رات ایسی ہے جوہزارمہینوں سے افضل ہے جوشخص اس رات سے محروم رہ گیاگویاوہ ساری خیرسے محروم رہااوراس رات کی بھلائی سے وہی شخص محروم رہ سکتاہے جوواقعتاََمحروم ہو"(ابن ماجہ)۔یہ رات کتنی عظمت والی ہے ۔واقعی وہ انسان کتنابدبخت ہے جواتنی بڑی نعمت کو غفلت کی وجہ سے گنوادے۔ہم معمولی معمولی باتوں کے لئے کتنی راتیں جاگ کر گزار لیتے ہیں تواَسّی80سال کی عبادت سے افضل بابرکت رات کے لئے جاگناکوئی زیادہ مشکل کام تونہیں"حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ حضورﷺنے لیلۃ القدرکی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشادفرمایا"جب لیلۃ القدرہوتی ہے تو جبرائیلؑ فرشتوں کی جماعت میں اترتے ہیں اورہر اس کھڑے بیٹھے بندے پرجواللہ تعالیٰ کاذکرکرتاہے،سلام بھیجتے ہیں۔ جب ان کی عیدکادن ہوتاہے یعنی عیدالفطرکادن تواللہ تعالیٰ ان بندوں سے اپنے فرشتوں پرفخرکرتے ہوئے فرماتاہے اے فرشتو!اُس مزدورکی اُجرت کیاہونی چاہیے جواپناکام پوراکردے؟َ توفرشتے عرض کرتے ہیں اے رب کریم!اس کی اُجرت یہ ہے کہ اسے پوراپورااجردیاجائے۔اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ میرے بندوں اوربندیوں نے اپنے اوپرلازم عمل (فریضہ) کو پوراکرلیااوراب وہ مجھے پکارتے ہوئے اوردعاکرتے ہوئے عیدگاہ کی طرف نکلے ہیں میرے عزت وجلال کرم اورعلومرتبت کی قسم! میں انکی دعاقبول کرونگااس وقت تک اللہ پاک فرماتاہے واپس ہوجاؤمیں نے تمہیں بخش دیاہے تمہارے گناہوں کونیکیوں میں تبدیل کردیاہے نبی کریمﷺنے فرمایا کہ جب یہ لوگ اپنے گھروں کولوٹتے ہیں توانکے گناہ بخشے جاچکے ہیں ۔(بیہقی)حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایاہے کہ"جب لیلۃ القدرہوتی ہے تواللہ تعالیٰ جبرائیل ؑ کوحکم دیتاہے اوروہ اللہ کے حکم سے فرشتوں کی جماعت کے ساتھ زمین کی طرف اترتے ہیں انکے پاس سبزپرچم ہوتاہے جسے وہ کعبے کی چھت پرنصب کردیتے ہیں حضرت جبرائیل ؑ کے سوپرَہیں جن سے وہ دوپرصرف اسی رات پھیلاتے ہیں جومشرق ومغرب سے آگے تک تجاوزکرجاتے ہیں حضرت جبرائیلؑ امین فرشتوں کوحکم دیتے ہیں کہ امت مسلمہ میں پھیل جاؤتوفرشتے ہرنمازی ،عبادت گزاراورذکرالٰہی کرنے والے کوسلام کرتے ہیں خواہ وہ بیٹھاہویا کھڑاہوان سے مصافحہ کرتے ہیں اوردعاکے وقت ان کے ساتھ آمین کہتے ہیں یہاں تک کہ صبح ہوجاتی ہے پھرجب صبح ہوجاتی ہے توجبرائیل امین ؑ فرشتوں کوآوازدے کرکہتے ہیں بس اب چلوفرشتے عرض کرتے ہیں کہ اے جبرائیلؑ !اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہﷺ کے مومنوں کی حاجتوں کے بارے میں کیافیصلہ فرمایا ہے ؟جبرائیل امینؑ جواب دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں نظررحمت سے سرفرازفرمایاہے اورانہیں معاف کردیاہے اوربخش دیا ہے سوائے چارشخصوں کے صحابہ کرام کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیایارسول اللہﷺ وہ چاراشخاص کون ہیں ؟آپ ﷺ نے فرمایاشراب کاعادی،ماں باپ کانافرمان رشتے توڑنے والا اور مشاحن ہم نے عرض کیایارسول اللہ ﷺ مشاحن کون ہے توآپؐ نے فرمایاکہ جومصارم ہویعنی دل میں بغض رکھتاہے۔(غنیۃ الطالبین)
اس رات کوباقی راتوں پرچندوجہ سے بزرگی حاصل ہے اول تویہ کہ اس رات میں شام سے لیکرصبح تک تجلی الٰہی بندگان خداکیطرف متوجہ ہوتی رہتی ہے ۔دوسرے یہ کہ اس رات میں روح الامینؑ اور ملائکہ آسمان سے صالحین اورعبادت کرنے والوں کی ملاقات کے لئے زمین پراترتے ہیں اورانکے آنے اورحاضرہونے کی وجہ سے عبادت میں وہ لذت اورکیفیت پیداہوتی ہے جودوسری راتوں کی عبادت میں پیدانہیں ہوتی تیسری یہ کہ قرآن مجیداسی رات
میں نازل ہوا،چوتھے یہ کہ فرشتوں کی پیدائش اسی رات میں ہوئی پانچویں یہ کہ اسی رات بہشت میں باغات لگائے گئے ۔یہ ایک ایسی مبارک رات ہے کہ جس میں دریائے شورکاکڑواپانی بھی میٹھاہوجاتاہے ۔حضرت عثمان بن العاصؓکے ایک غلام نے جوکئی سال ملاح رہاہے آپؓ کوبتایاکہ میں نے دریامیں ایک عجیب بات دیکھی ہے جس سے عقل حیران ہے وہ عجیب بات یہ ہے کہ سال میں ایک ایسی رات آتی ہے جس میں دریائے شورکاکڑواپانی میٹھاہوجاتاہے ۔حضرت عثمان بن العاصؓنے اُسے فرمایاکہ جسوقت وہ رات آئے تومجھے اطلاع دیناتاکہ میں معلوم کروں وہ کونسی رات ہے جب ستائیسویں رات رمضان پاک کی آئی توغلام نے اپنے آقاکوبتلایاکہ یہ وہ رات ہے جس میں دریائے شورکاپانی میٹھاہوجاتاہے۔(بحوالہ تفسیرعزیزی)۔
حضرت ابوسعیدخدریؓ روایت کرتے ہیں کہ بیشک رسول اللہﷺنے ابتدائے رمضان کے پہلے عشرے کااعتکاف کیاپھردوسرے عشرے کااعتکاف چھوٹے خیمہ میں کیااس اعتکاف کے دوران سرمبارک خیمہ سے نکال کرفرمایامیں نے پہلے عشرہ کااعتکاف کیاتومیں لیلۃ القدرکو تلاش کرتارہاپھرمیں نے دوسرے عشرے کا اعتکاف کیاتومجھ سے ایک فرشتہ نے آکرکہاکہ لیلۃ القدرتورمضان کے آخری عشرہ میں ہے اب جومیری سنت کے اتباع اعتکاف کاارادہ رکھتاہے اسکوچاہیے کہ آخری عشرہ میں اعتکاف کرے مجھے یہ رات خواب میں دکھائی گئی ہے لیکن بعدمیں اسکاخیال میرے ذہن سے محوکردیاگیااورصبح کومیں نے دیکھاکہ میں گیلی کیچڑ جیسی زمین میں محوسجدہ ہوں لہذا!تم اس (لیلۃ القدر) کوآخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلا ش کروراوی کہتے ہیں کہ اس وقت بارش ہوئی تھی اورمسجدنبویؐ کی کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی چھت کے ٹپکنے کی وجہ سے فرش پرکیچڑہوئی تھی اورمیں نے رسول اللہ ﷺکی پیشانی مبارک پرپانی اورمٹی کااثردیکھاتھااوریہ اکیسویں تاریخ کی صبح تھی۔حضرت ابن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے چنداصحاب نے خواب میں شب قدرکورمضان کی آخری سات راتوں کودیکھااس سلسلہ میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایامیں تمہارے خوابوں میں مماثلت دیکھتاہوں تم میں سے شب قدرکوتلاش کرنے والاماہ رمضان کی آخری سات راتوں میں تلاش کرے ۔ (مسلم شریف)حضرت زربن جیشؓ نے حضرت ابی بن کعبؓ سے کہاکہ آپؓ کے بھائی حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ جوشخص سال بھرمیں راتوں کوقیام کریگاوہ لیلۃ القدرکوپالے گاحضرت کعبؓ نے فرمایااللہ تعالیٰ ابن مسعودؓ پررحم فرمائیان کارادہ یہ تھاکہ کہیں لوگ ایک رات پرتکیہ کرکے نہ بیٹھ جائیں ورنہ وہ خوب جانتے تھے کہ لیلۃ القدر رمضان میں ہی ہے اوریہ رات ستائیسویں رمضان کی ہے پھرانہوں نے بغیراِن شاء اللہ کہے قسم کھاکرکہاکہ لیلۃ القدررمضان کی ستائیسویں شب ہی ہے ۔میں نے کہااے ابوالمنذر!تم یہ بات اتنے یقین سے کس وجہ سے کہہ رہے ہو؟انہوں نے کہاکہ اس دلیل یااس نشانی پرجورسول اللہﷺنے ہمیں بتائی ہے اوروہ یہ ہے کہ اس رات کے بعدجب سورج طلوع ہوتاہے تواس میں شعائیں نہیں ہوتیں‘‘۔(مسلم شریف)
حضرت معاویہ بن ابوسفیانؓ سے روایت ہے کہ حضورنبی کریمﷺنے فرمایاشب قدرستائیسویں رات کی ہوتی ہے ۔(ابوداؤد)
حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں حضرت عمرؓ کی خدمت میں حاضرہواوہاں دیگرصحابہ کرام علہیم الرضوان بھی تشریف فرماتھے حضرت عمرؓ نے ان سے سوال کیاکہ رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان "شب قدر "کورمضان کے آخری عشر ے کی طاق راتوں میں تلاش کرواس کے بارے میں تم لوگوں کاکیاخیال ہے وہ کونسی رات ہوسکتی ہے؟کسی نے کہااکیسویں،کسی نے کہاپچیسویں،کسی نے کہاستائیسویں،میں خاموش بیٹھاتھاحضرت عمرؓ نے فرمایابھائی تم بھی کچھ بولومیں نے عرض کیاجناب آپ ہی نے توفرمایاتھاکہ جب یہ بولیں توتم نہ بولناآپؓ نے فرمایابھائی تمہیں تواسی لئے بلوایاگیاہے کہ تم بھی کچھ بولومیں نے عرض کیاکہ میں نے سناہے کہ اللہ تعالیٰ نے سات چیزوں کاذکرفرمایاہے چنانچہ سات آسمان پیدا فرمائے سات زمینیں پیدافرمائیں انسان کی تخلیق سات درجات میں فرمائی انسان کی غذازمین سے سات چیزیں پیدافرمائیں(اس لئے میری سمجھ میں تویہ آتاہے کہ شب قدرستائیسویں شب ہوگی)حضرت عمرؓ نے فرمایاجوچیزیں تم نے ذکرکی ہیں انکاتوعلم ہمیں بھی ہے یہ بتلاؤجوتم کہہ رہے ہوکہ انسان کی غذازمین سے سات چیزیں پیدافرمائیں وہ کیاہیں؟میں نے عرض کیاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشادمیں موجودہیں (ترجمہ) ہم نے عجیب طورپرزمین کوپھاڑاپھرہم نے اس میں غلہ اورانگوراورترکاری اورزیتون اورکھجوراورگنجان باغ اورمیوے اورچارہ پیداکیا میں نے عرض کیاکہ حد ائق سےمرادکھجوروں درختوں اورمیوؤں کے گنجان باغ ہیں اوراَبّ سے مرادزمین سے نکلنے والاچارہ ہے جوجانور کھاتے ہیں انسان نہیں ۔حضرت عمرؓ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایاکہ تم سے وہ بات نہ ہوسکی جواس بچہ نے کہہ دی جس کے سرکے بال بھی ابھی مکمل نہیں ہوئے بخدامیرابھی یہی خیال ہے جوکہہ رہاہے۔(شعب الایمان جلد۳صفحہ ۳۳۰) حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاشب قدرکورمضان کے آخر ی عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ (بخاری شریف)حضرت عبادہ بن صامتؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا۔یارسول اللہﷺہمیں شبِ قدرکے بارے میں بتائیں توآپﷺنے فرمایایہ رات ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں ہوتی ہے ۔اس رات کوآخری عشرہ میں تلاش کرو۔بے شک یہ طاق راتوںیعنی اکیسویں، تئیسویں،پچیسویں،ستائیسویں،انتیسویں میں سے کوئی ایک یارمضان کی آخری رات ہوتی ہے جس شخص نے لیلۃ القدرمیں حالت ایمان اورطلب ثواب کی نیت سے قیام کیاپھراسے ساری رات کی توفیق دی گئی تواسکے اگلے اورپچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں ۔(احمد،طبرانی)حضرت عکرمہؓ، حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے شب قدرکے بارے میں ارشادفرمایا کہ یہ ایک خوشگوارومعتدل کھلی کھلی(گھٹن سے محفوظ)رات ہے نہ سردنہ گرم اوراسکی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس کے بعدصبح کوآفتاب شعاعوں کی تیزی کے بغیرطلوع ہوتاہے اوراس طرح ہوتاہے جیساکہ چودھویں کاچاندشیطان کے لئے روانہیں کہ اس دن کے سورج کے ساتھ نکلے۔(مسنداحمدبن حنبل)شب قدرتلاش کرنے کاخاص طریقہ اعتکاف ہے یعنی رمضان کے آخری عشرہ میں کسی مسجدمیں اللہ کویادکرنے کے لئے بیٹھ جائیں ۔ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے (ایک دفعہ)آقاﷺسے عرض کیایارسول اللہ ﷺاگرمیں لیلۃ القدرکو پالوں تواس میں کیادعاکروں؟آپ ﷺ نے ارشادفرمایا یوں کہواَللَّھُمَّ اِنَّکَ عَفُوّ’‘تُحِبُّ الْعَفْوَفَاعْفُ عَنِّیْ اے اللہ توبہت معاف فرمانے والاہے اوردرگزرکرنے کوپسندکرتاہے پس تومجھ کومعاف فرما ۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریمﷺکے پاس حاضرہوااورعرض کیا۔اے اللہ کے نبی میں ایک ضعیف اوربیمارآدمی ہوں،میرے لئے (طویل)قیام بہت مشکل ہے لہذامیرے لیے کسی ایسی رات میں قیام کاحکم فرمائیں کہ جس میں اللہ تعالیٰ مجھے لیلۃ القدرعطافرما دے آپﷺنے فرمایا(پھرتو)تیرے لئے (رمضان کے آخری عشرہ کی)ساتویں رات جاگناضروری ہے ۔(مسنداحمدبن حنبل)

خلیفہ چہارم امیرالمومنین سیدناحضرت علی المرتضیٰؓ کی سیرت وشہادت

سپشل ایڈیشن یوم شہادت
خلیفہ چہارم امیرالمومنین سیدناحضرت علی المرتضیٰؓ کی سیرت وشہادت
اللہ پاک نے حضرت علی المرتضیٰؓ کی صفت وثناء قرآن پاک میں یوں بیان فرمائی ہے ارشادباری تعالیٰ ہے "وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًاوَّیَتِیْمًاوَّاَسِیْرًا"اورکھاناکھلاتے ہیں اس کی محبت پرمسکین اوریتیم اوراسیرکو"۔(پارہ ۲۹سورۃ الدھر)حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہردن میں سترمرتبہ فرشتوں کے سامنے علی المرتضیٰؓ کی ذات پرفخرفرماتاہے اورکہتاہے اے علیؓ !تمہارے لئے مبارکبادہے ۔
دامادِ رسول،فاتحِ خبیر،حاملِ ذوالفقارخلیفہ چہارم امیرالمومنین حضرت علی المرتضیٰؓ کے فضائل ومناقب محاسن ومحامدبے شمارہیں اورکیوں نہ ہوں جبکہ فضائل وکمالات برکات وحسنات کامخزن ومعدن آپؓ ہی کاگھرانہ ہے جس کسی کوبھی کوئی نعمت ملی ان ہی کاصدقہ اوران ہی کی بدولت ہے؂ لاَ وَرَبِّ الْعَرْش جس کوملاجوملاان سے مِلا بٹتی ہے کونین میں نعمت رسول اللہﷺکی
آپؓ کانام علیؓ کنیت ابوالحسن ،ابوتراب القابات مرتضیٰ ،اسداللہ ،حیدرکرار،شیرخدااورمولامشکل کشاہیں ۔آپؓ کے والدکانام ابوطالب جو حضرت عبدالمطلب کے بیٹے اورآقاﷺکے چچاہیں۔آپؓ کی والدہ ماجدہ کانام حضرت فاطمہ بنت اسدجوحضرت عبدالمطلب کی بھتیجی تھیں آپؓ کی والدہ کانکاح ابوطالب سے ہواتھا ۔آپؓ حضورنبی کریمﷺکے چچازادبھائی اوردامادبھی ہیں ۔آپؓ آقاﷺکی پیدائش کے تیسویں سال مکہ مکرمہ میں پیداہوئے اور حضورﷺسے عمرمیں تیس برس چھوٹے تھے ۔آپؓ کی پیدائش خانہ کعبہ میں ہوئی ۔آپؓ کی والدہ محترمہ کا بیان ہے کہ حضرت علی المرتضیؓ نے پیداہونے کے بعدتین دن تک دودھ نہیں نوش فرمایاجس کی وجہ سے آپؓ کے گھروالے سب پریشان ہوگئے اس بات کی خبرآقائے دوجہاں سرورکون ومکاں ﷺکودی گئی ۔آپﷺتشریف لائے اورحضرت علی المرتضیٰؓ کواپنی آغوش رحمت میں لیکرپیار فرمایااوراپنی زبان اطہرآپؓ کے دہن میں ڈال دی ۔حضرت علیؓ زبان اقدس کوچوسنے لگے اس کے بعدسے آپؓ دودھ نوش فرمانے لگ گئے۔ آپؓ نے صرف 5سال اپنے والدین کے زیرسایہ پرورش پائی ۔اس کے بعدنبی کریمﷺنے اپنے سایہ رحمت میں لے لیااورآپؓ کی تربیت فرمانے لگے ۔آپؓ بچوں میں سب سے پہلے ایمان لائے۔(مشکوٰۃ المصابیح ) 
آپؓ کاشمارعشرہ مبشرہ میں ہوتاہے۔آپؓ حضوراکرمﷺکی سیرت کاآئینہ تھے یہی وجہ ہے کہ میرے محبوب ﷺنے فرمایا"علیؓ کے چہرے کودیکھنابھی عبادت ہے"آپؓ قرآن مجیدکے حافظ تھے قرآن مجیدکے معانی ومطالب پرآپؓ کوعبورحاصل تھا۔آپؓ علم فقہ کے ماہرتھے مشکل سے مشکل فیصلے بھی قرآن وسنت کی روشنی میں حل کرلیتے ۔آقاﷺکافرمان عالی شان ہے "میں علم کاشہرہوں اورعلیؓ اس کادروازہ ہے"آپؓ سے پانچ سوچھیاسی احادیث مبارکہ روایت ہیں جن میں بیس متفق علیہ نوبخاری کی اورپندرہ مسلم میں ہیں ۔آپؓ نے ساری

زندگی رزق حلال کماکرکھایاآپؓ محنت مزدوری میں کچھ عارمحسوس نہیں کرتے تھے جس وقت آپؓ ایمان لائے اسوقت آپؓ کی عمردس بارہ سال تھی سواغزوہ تبوک کے سارے غزوات میں آپﷺکے ساتھ شریک ہوئے ۔غزوہ تبوک میں آپﷺنے مدینہ منورہ اوراپنے گھربارکاانتظام فرمانے کے لئے مدینہ میں چھوڑاتھا حضرت سعدبن ابی وقاصؓ سے روایت ہے کہ حضورنبی کریمﷺنے غزوہ تبوک کے موقع پرحضرت سیدناعلی المرتضیٰ کومدینہ منورہ میں اپناقائم مقام مقررفرمایا۔حضرت سیدناعلی المرتضیٰؓ آقاﷺسے عرض کرنے لگے یارسول اللہﷺ!آپ مجھے عورتوں اور بچوں پرخلیفہ بناکرجارہے ہیں ۔آقاﷺنے حضرت علیؓ سے فرمایااے علی!کیاتواس بات پرراضی نہیں کہ میں تمہیں اسطرح چھوڑے جارہا ہوں جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت ہارون علیہ السلام کوچھوڑافرق صرف اتناہے کہ میرے بعدکوئی نبی نہیں ہوگا۔ آقاﷺکی حضرت علیؓ سے بے پناہ محبت تھی ۔حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ حضورنبی کریمﷺ نے فرمایاکہ منافق علیؓ سے محبت نہیں رکھتااورمومن علیؓ سے بغض نہیں رکھتا۔حضرت ابن وقاصؓ فرماتے ہیں کہ حضورنبی کریمﷺمکہ مکرمہ سے واپس مدینہ منورہ تشریف لارہے تھے آپﷺنے مقام غدیرخم پراپنے تمام صحابہ کرام علہیم الرضوان کوجمع کیااورفرمایاتمہاراولی کون ہے صحابہ کرام علہیم الرضوان نے تین مرتبہ جواب میں کہاہماراولی اللہ اوراسکے رسول ﷺہیں ۔حضورنبی کریمﷺنے فرمایاکہ جس کاولی اللہ اوراسکارسولﷺ ہے اس کاولی علیؓ بھی ہے ۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضورنبی ﷺنے انصارومہاجرین میں بھائی چارہ قائم فرمایاتوحضرت سیدناعلی المرتضیٰؓ نے حضورنبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضرہوکرعرض کیایارسول اللہﷺآپﷺنے تمام صحابہ کرام علہیم الرضوان کے درمیان مساوات اخوت کارشتہ قائم کیالیکن میرے ساتھ ایساکچھ نہیں کیا؟آقاﷺنے فرمایااے علیؓ تم میرے دنیاوآخرت کے بھائی ہو۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے ارشادفرمایاحضرت ابوبکرصدیقؓ دین کاستون ،حضرت عمرفاروقؓ فتنوں کوبند کرنے والے، حضرت عثمان غنیؓ منافقوں کے لئے قیدخانہ اورحضرت علی المرتضیٰؓ مجھ سے ہیں اورمیں ان سے ہوں جہاں میں ہوگاوہاں علی المرتضیٰؓؓ ہوں گے اورجہاں وہ وہاں میں ۔
حضرت ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ آقاﷺنے ارشادفرمایااللہ تعالیٰ نے ہرنبی کی ذریات اسکی پُشت میں رکھی ہے لیکن میری ذریات علیؓ کی پشت میں ہے۔حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺنے جب حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراؓ کانکاح حضرت سیدناعلی المرتضیٰؓ سے کیاتوحضرت سیدہ فاطمہؓ نے عرض کیاکہ آپﷺنے میرانکاح اس شخص کے ساتھ کردیاجس کے پاس نہ مال ہے نہ گھر؟اس پرآپﷺنے حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراؓ سے فرمایاکہ اے فاطمہؓ میں نے تیرانکاح ایسے شخص سے کیاجومسلمانوں میں علم وفضل کے لحاظ سے سب سے دانااوربہترین ہے ۔
جس وقت مکہ مکرمہ میں مشرکین مکہ کے مظالم حدسے بڑھ گئے تھے توآقاﷺنے اللہ پاک کے حکم سے صحابہ کرام علہیم الرضوان کودعوت دی کہ مدینہ منورہ کی جانب ہجرت کرجائیں کئی صحابہ کرام علہیم الرضوان یکے بعددیگرے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرگئے تھے مشرکین مکہ کو جب معلوم ہواکہ آقاﷺنے مسلمانوں کے لیے ایک محفوظ آماجگاہ مدینہ منورہ کی صورت میں ڈھونڈلی ہے توکفارکے سرداروں نے یہفیصلہ کیاکہ (نعوذباللہ)آقاﷺکوقتل کردیاجائے ۔آقاﷺکوبذریعہ وحی مشرکین مکہ کے ناپاک ارادوں کی خبرہوئی تو آپﷺ نے حضرت علی المرتضیٰؓ کواپنے بسترپرلٹایاتھااورانہیں حکم دیاتھاکہ وہ صبح ہوتے ہی لوگوں کی وہ امانتیں جوآقاﷺکے پاس موجودتھیں وہ متعلقہ لوگوں کوواپس کرکے مدینہ منورہ پہنچیں ۔روایات میں آتاہے کہ آقاﷺنے حضرت سیدناعلی المرتضیٰؓ سے فرمایااے علیؓ!مجھے ہجرت کاحکم ہوگیاہے میں سیدناابوبکرصدیقؓ کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت کرنیوالاہوں ۔میرے پاس جولوگوں کی امانتیں ہیں وہ میں تمہارے حوالے کرتاہوں تم ان امانتوں کوان کے حقیقی مالکوں تک پہنچادینامشرکین مکہ نے میرے قتل کی منصوبہ بندی کی ہے اوروہ آج رات مجھے قتل کرنے کاناپاک ارادہ رکھتے ہیں تم بسترپرمیری چادراوڑھ کرلیٹ جاؤ۔حضرت علی المرتضیٰؓ آقاﷺکے حکم کے مطابق لیٹ گئے ۔آقاﷺسورۃ یٰسین کی تلاوت کرتے ہوئے گھرسے باہرتشریف لائے تھے ۔آقاﷺنے مٹھی بھرکرخاک کی کفارکے منہ پرماری جس سے وہ اندھے ہوگئے تھے ساری رات انتظارکرتے رہے آخرکارایک شخص نے ان کوبتایاکہ حضورﷺتومکہ مکرمہ سے جاچکے ہیں مشرکین مکہ میں سے ایک شخص نے اندرداخل ہوکرسوئے ہوئے آدمی کے اوپرسے چادراتاری توحضرت سیدناعلی المرتضیٰ کودیکھ کرپریشان ہوگئے انہوں نے حضرت علی المرتضیٰؓ سے آقاﷺکے بارے میں پوچھاتوحضرت علی المرتضیٰؓ نے جواب دیاکہ آقاﷺکی نگرانی تم کررہے تھے اس لئے تمہیں معلوم ہوناچاہیے کہ وہ کہاں ہیں؟مشرکین مکہ یہ جواب سن کرشرمندہ ہوکرواپس چلے گئے ۔حضرت علی المرتضیٰؓ نے آقاﷺکے فرمان کے مطابق صبح ہوتے ہی لوگوں کوامانتیں واپس کرکے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی جانب سفرہجرت شروع کردیا۔آپؓ قباکے مقام پرآقاﷺ اورحضرت ابوبکرصدیقؓ سے جاملے تھے آقاﷺنے قباکے مقام پرایک مسجدکی بنیادرکھی تھی جس کی تعمیرمیں آپؓ نے بھی آقاﷺکے شانہ بشانہ حصہ لیاتھاوہ مسجدجمعہ کے روزمکمل ہوئی آقاﷺنے جمعہ کی نمازبھی اسی مسجدمیں اداکی تھی اس لئے تاریخ میں یہ مسجد"مسجدجمعہ"کے نام پرمشہورہوگئی ۔غزوات نبوی میں خواہ وہ بدرواحدہوں یااحزاب وحنین بنوقریظہ کے خلاف معرکہ ہوہرموقع پر حضرت علی المرتضیٰؓ کے کارنامے اتنے نمایاں رہے کہ غزوات نبوی کاکوئی معرکہ آپ کے ذکرکے بغیرمکمل نہیں ہوتاہے اس کے علاوہ آپؓ کی سرگرمی میں کئی مہمیں بھیجی گئیں تھیں ۔جب حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت ہوئی تواس کے بعدتین دن مسندخلافت خالی رہی تھی ۔باغی پورے مدینہ منورہ میں دندناتے پھررہے تھے حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت کے چوتھے دن مدینہ منورہ کے اکابرصحابہ کرام علہیم الرضوان مہاجرین اورانصارنے حضرت علیؓ کو خلفیہ بننے کا مشورہ دیاتھاکہ آپؓ مسندخلافت کی تمام ترذمہ داریاں سنبھالیں آپؓ نے خلیفہ بننے سے یکسرانکارکردیاتھا۔اس دوران حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ حضرت زبیربن العوامؓ حضرت سعدابن وقاصؓ،حضرت عبداللہ بن عمرؓکوبھی خلیفہ بننے کی پیش کش کی گئی تھی۔لیکن ان تمام صحابہ کرام علہیم الرضوان نے خلیفہ بننے سے انکارکردیاتھا۔باغیوں نے اہل مدینہ کومخاطب کرکے یہ اعلان کیاکہ تم دودن کے اندراپناخلفیہ نامزدکرلو کیونکہ تمہاراحکم امت محمدیہﷺپرنافذالعمل ہے ہم اس خلیفہ کی بیت کرکے واپس چلے جائیں گے ورنہ ہم تمام اکابرکوقتل کردیں گے اہل مدینہ نے باغیوں کایہ اعلان سناتوحضرت علی المرتضیٰؓ کی خدمت میں دوبارہ حاضرہوئے تھے اورآپؓکوخلافت کرنے کے لئے قائل کرناشروع کردیایہاں تک کہ آپؓ نے منصب خلافت قبول کرلیا۔منصب خلافت سنبھالنے کے بعدآپؓ مسجدنبوی ﷺمیں تشریف لے گئے تھے اورمنبررسول ﷺپرکھڑے ہوکرخطبہ دیاتھا۔خطبہ خلافت سے فارغ ہونے کے بعدآپؓکے سامنے سب
سے اہم مسئلہ حضرت عثمان غنیؓکے قاتلوں کوتلاش کرکے ان کوسزادیناتھا آپؓ نے حضرت عثمان غنیؓ کے قاتلوں کی پہچان کے لئے حضرت عثمان غنیؓ کی زوجہ حضرت نائلہؓ سے ملاقات کی اوران سے قاتلوں کے بارے میں دریافت کیا۔جس گروہ سے قاتلوں کاتعلق تھاان پرکسی کاقابونہ تھا۔وہ جماعت جس میں حضرت عثمان غنیؓکے قاتل شامل تھے انہوں نے حضرت علیؓ کے ہاتھ پربیعت کرلی اوراپنے آپ کوحضرت علیؓ کازبردست حامی ظاہرکرنا شروع کردیاتھاان حالات میں قصاص لیناآسان نہیں تھا۔آپؓ کاسارازمانہ خلافت جنگوں اورفتنوں فسادکی نذر ہوگیاتھاجس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ آپؓ لوگوں کوحضرت ابوبکرصدیقؓ اورحضرت عمرفاروقؓ کے دورکے مطابق چلاناچاہتے تھے جب کی دولت کی فراوانی اورخوشحالی نیزاعمال کی بداعتدالیوں نے لوگوں کوایک مختلف طرززندگی کاعادی بنادیاتھا۔آپؓ کی دانش مشورے اوررائے پرحضرت عمرفاروقؓ جیساشخص اعتمادکرتاتھا۔آپؓ کی خلافت چارسال نوماہ اورچنددن رہی ۔
سترہ رمضان المبارک 40ہجری بروزجمعہ فجرکے وقت خارجی عبدالرحمن ابن ملجم مرادی اپنے دوساتھی شبیب اوروردان کے ہمراہ جامع مسجدکوفہ میں پہنچے اورتینوں مسجدکے ایک کونے میں چھپ گئے ۔جس وقت آپؓ نمازفجرکے لئے تشریف آئے تھے اس وقت شبیب نے آپؓ پرپہلاوار کیااوراس کے بعدعبدالرحمٰن ابن ملجم نے دوسراوارکیاواردن یہ دیکھ کربھاگ کھڑاہواتھاشبیب بھی وارکرنے کے بعدبھاگ نکلاتھااورخارجی عبدالرحمن ابن ملجم مرادی پکڑاگیاتھا۔حضرت علیؓ نے اپنے بھانجے حضرت ام ہانیؓ کے بیٹے حضرت جعدہؓ کونمازپڑھانے کاحکم دیاتھااس دوران سورج طلوع ہوچکاتھالوگ آپؓ کوزخمی حالت میں گھرلے گئے تھے اورخارجی عبدالرحمن ابن ملجم مرادی کوآپؓ کی خدمت میں پیش کیاتوآپؓ نے اس بدبخت سے پوچھاکہ تجھے کس چیزنے مجھے مارنے پرآمادہ کیا؟خارجی عبدالرحمن ابن ملجم مرادی نے آپؓ کے سوال کونظراندازکرتے ہوئے کہاکہ میں نے اس تلوارکوچالیس روزتک تیزکیااوراللہ تعالیٰ سے دعاکی کہ اس سے وہ شخص مارا جائے جوخلق کے لئے شرکاباعث ہوآپؓ نے فرمایامیں دیکھ رہاہوں تواس تلوارسے ماراجائے گا۔اس کے بعدآپؓ نے حاضرین محفل بالخصوص حضرت امام حسنؓ کومخاطب کرتے ہوئے فرمایااگرمیں جانبرنہ ہوسکاتوتم اسے قصاص کے طورپراسی تلوارکے ایک ہی وارسے قتل کر ڈالنا۔آپؓ نے حالت زخمی میں اپنے بچوں کوچندنصیحتیں اوروصیت کی ۔آپؓ نے بچوں کونصیحتیں اوروصیت کرنے بعدکلمہ توحیدپڑھااوراپنی جان اللہ کے سپردکردی ۔آپؓ نے 21رمضان المبارک ۶۳ہجری کواس جہان فانی سے کوچ فرمایاآپؓ کوحضرت سیدناامام حسنؓ حضرت سیدناامام حسینؓ اورحضرت عبداللہ بن جعفرؓ نے غسل دیا۔حضرت سیدناامام حسنؓ نے نمازہ جنازہ پڑھائی اورآپؓ نجف شریف میں مدفون ہیں ۔اناللّٰہ واناالیہ راجعون۔اللہ رب العزت آپؓ کی قبرانورپراپنی رحمتوں کانزول فرمائے ،انہی کے صدقے ہمارے گناہ معاف فرمائے ۔آمین 

******ختم شد******

Sunday, 26 June 2016

ام المومنین سیدتناحضرت عائشۃ الصدیقہؓ

ام المومنین سیدتناحضرت عائشۃ الصدیقہؓ 
آقاﷺکاارشادپاک ہے۔"تم سے بہترین وہ ہے جواپنے گھروالوں کے ساتھ اچھاہے اورمیں اپنے گھروالوں کے ساتھ سب سے اچھا ہوں"۔ازواج مطہرات کے ساتھ رسول اللہﷺکے لطف ومدارت کااندازہ آپ ﷺکی گھریلوزندگی کے واقعات سے ہوتاہے۔ آقاﷺکی پہلی بیوی حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ جو آپﷺسے عمرمیں25سال بڑی تھیں لیکن آپﷺنے ان کی زندگی میں دوسری شادی نہیں کی ۔حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ کے انتقال کے بعدآپﷺکے گھرکاانتظام چلانے کے لئے کوئی خاتون نہیں تھی۔ آپﷺ کی تبلیغی مصروفیات بڑھ گئیں توآپﷺنے ایک بڑی عمرکی خاتون حضرت سودہؓ اورایک نوعمرخاتون حضرت عائشۃ الصدیقہؓ سے نکاح کرلیاآپؓ کانکاح نبوت کے دسویں سال ماہ شوال میں ہجرت سے تین سال قبل ہواہمدم مصطفیﷺبننے کاشرف ماہِ شوال ہی میں ۲ہجری کوحاصل کیا۔اس وقت آپؓ کی عمرنوسال کی تھی آپؓ نے نوسال آقاﷺکے ساتھ بسرکیے یعنی جب آپﷺکاوصال ہوااس وقت حضرت عائشہؓ کی عمر۱۸سال تھی آپؓ واحدکنواری خاتون تھیں جوآپﷺکے نکاح میں آئیں۔
حضرت عائشۃ الصدیقہؓ کی ولادت مبارکہ آقاﷺکی بعثت کے چارسال بعدماہِ شوال میں ہوئی۔آپؓ کانام عائشہؓ لقب صدیقہ کنیت حضورﷺکی اجازت سے اپنے بھانجے یعنی عبداللہ بن زبیرؓ کے نام پرام عبداللہ اختیارکی ۔آپؓ امیرالمومنین حضرت سیدناابوبکرصدیقؓ کی بیٹی تھیں ۔آپؓ کی والدہ اُم رومان بنت عامرابن عویم ہیںآپؓ قبیلہ بنوتیم سے تعلق رکھتی تھیں ۔آپؓ کاسلسلہ نسب سیدۃ عائشہ بنت ابوبکرصدیق بن ابوقحافہ بن عامربن عمروبن کعب بن سعدبن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی ،آپؓعہدبچپن سے انتہائی ذہین اورسادگی پسندتھیں ۔آپؓ نے اپنی عمرمیں حضورﷺکوکبھی شکایت کاموقع نہ دیااورایک وفاشعاربیوی کی حیثیت سے رہیں گھرکاساراکام خودکرتیں اگرکبھی مال کی فراوانی ہوتی بھی توراہِ خدامیں تقسیم فرمادیتیں ۔حضرت عبداللہ بن زبیرؓ فرمایاکرتے تھے کہ میں نے ان سے زیادہ سخی کسی کونہیں دیکھا۔حضرت عبداللہ بن زبیرؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ امیرمعاویہؓ نے ان کی خدمت میں لاکھ درہم بھیجے توشام ہوتے ہی سب خیرات کردیے اور اپنے لئے کچھ نہ رکھااس وقت آپؓ خودروزے سے تھیں ۔آپؓ میں جذبہ سخاوت اسقدروسیع تھاکہ کوئی سائل خالی ہاتھ نہ لوٹتا۔آپؓ کاحافظہ بہت تیزاورحصول علم کابہت شوق تھا۔آقاﷺسے ہرطرح کے مسائل بے جھجک معلوم کرتیں اورخواتین کی رہنمائی کرتی تھیں ۔آپؓ نے معلم کائنات سے تعلیم حاصل کی اسی وجہ سے اتنی بلندپایہ عالمہ ہوگئیں کہ آقاﷺکے ظاہری وصال کے بعدبڑے بڑے صحابہ کرام علہیم الرضوان آپؓ سے مسائل دریافت فرماتے تھے۔آقاﷺپرجب وحی اترتی آپؓ اسے یادفرمالیتیں خلاصہ تہذیب میں ہے کہ آپؓ سے دوہزاردوسودس احادیث مبارکہ مروی ہیں اسی بناء پرآپؓ کوکثیرۃ الحدیث بھی کہاگیاہے آپؓ فن خطابت حدیث قرآن وفقہ میں بے حدماہرتھیں ۔(البدایہ والنہایہ)۔آپؓ بے حدزاہداورعابدہ تھیں ہرسال حج اداکرتیں غزوات میں زخمیوں کی مرہم پٹی اورزخمیوں کوپانی پلانے کی ذمہ داری اٹھاکرجہادمیں حصہ لیتی تھیں۔غزوہ بدرمیں آقاﷺنے آپؓ کادوپٹہ میدان جنگ میں بطورعلم لہرایااسی بناء پراللہ پاک نے فتح عطافرمائی جوکہ آپؓ کی عظمت کی دلیل ہے۔
سیدتناحضرت عائشۃ الصدیقہؓ فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہﷺاپنی نعلین مبارک میں پیوندلگارہے تھے جبکہ میں چرخہ کات رہی تھی۔میں نے

آقاﷺکے چہرہ پرنورکودیکھاکہ آپﷺکی پیشانی مبارک سے پسینہ بہہ رہاتھااوراس پسینہ سے آپﷺکے جمال میں ایسی تابانی تھی کہ میں حیران تھی آقاﷺنے میری طرف نگاہ کرم اٹھاکرفرمایاکس بات پرحیران ہو؟سیدتناحضرت عائشۃالصدیقہؓ فرماتی ہیں میں نے عرض کیایارسول اللہﷺ!آپﷺکے رخِ روشن اورپسینہ جبین نے مجھے حیران کردیاہے اس پرحضورﷺکھڑے ہوئے اورمیرے پاس آئے اورمیری دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیااورفرمایااے عائشہؓ!اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیردے تم اتنامجھ سے لطف اندوزنہیں ہوئی جتناتم نے مجھے مسرورکردیا۔(حلیۃ الاولیاء)آقاﷺنے حضرت سیدتنافاطمۃ الزہراؓ سے فرمایااے فاطمہؓ جس سے میں محبت کرتاہوں تم بھی اس سے محبت کروگی؟حضرت فاطمۃ الزہراؓ نے عرض کیاضروریارسول اللہﷺمیں محبت رکھوں گی اس پرحضورﷺنے فرمایاتوعائشہؓ سے محبت رکھو۔(صحیح مسلم)آپؓ کوساری امہات المومنین میں بعض خصوصی امتیازات حاصل تھے ۔آپؓ خودفرماتی ہیں کہ سب سے بڑی نعمت جس سے اللہ پاک نے مجھے سرفرازفرمایاوہ یہ ہے کہ وصال کے وقت میرالعاب دہن آپ ﷺکے لعاب دہن شریف میں جمع فرمادیااورآپﷺنے میرے ہی گھروصال فرمایااورآپﷺکاروضہ اقدس بھی آپﷺ کا گھربنا۔حضرت عائشۃ الصدیقہؓ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایاکہ تم مجھے تین رات خواب میں دکھائی گئیں تھیں تمہیں فرشتہ ریشمی ٹکڑے میں لاتاتھامجھ سے کہتاتھایہ تمہاری بیوی ہیں میں نے تمہارے رخ سے کپڑاہٹایاتوتم تھیں میں نے کہاکہ اگریہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تواسے جاری یعنی پورافرمادے گا۔(مسلم،بخاری)
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ لوگ اپنے تحفوں کے لئے جناب عائشہؓ کادن تلاش کرتے تھے اس سے وہ لوگ رسول اللہﷺکی مرضی چاہتے تھے فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺکی بیویاں دوگروہ تھیں ایک گروہ وہ جس میں جناب حضرت عائشہؓ ،حضرت حفصہؓ اورحضرت سودہؓ تھیں اوردوسری جماعت میں ام سلمہؓ اوررسول اللہﷺکی باقی بیویاں توام سلمہؓ کے گروہ نے گفتگوکی ان سے کہاکہ تم رسول اللہﷺسے کلام کروکہ آپﷺ لوگوں سے فرمادیں کہ جوبھی رسول اللہﷺ کی بارگاہ میں ہدیہ بھیجناچاہے توآپؓ کوہدیہ بھیج دیاکرے حضورﷺجہاں بھی ہوں چنانچہ حضرت ام سلمہؓ نے حضورﷺسے عرض کیاآپﷺنے ان سے فرمایاکہ مجھے عائشہؓ کے بارے میں تکلیف نہ دوکیونکہ سواء عائشہؓ کے کوئی بیوی نہیں جن کے بسترمیں ہوں اوروحی آئے ام سلمہؓ نے کہایارسول اللہﷺمیں آپ کی ایذارسانی سے اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتی ہوں پھرتمام بیویاں نے جناب فاطمہؓ کوبلایاانہیں رسول اللہﷺکی خدمت میں بھیجاانہوں نے حضورﷺسے عرض کیاتوفرمایااے بچی جس سے میں محبت کرتاہوں تم ان سے محبت نہیں کرتیں ؟بولیں ہاں فرمایاتوان سے محبت کرو۔(مسلم،بخاری)
غزوہ بنومصطلق جو۵ہجری میں پیش آیاتھاآپؓ آقاﷺکے ساتھ سفرکررہی تھیں واپسی پرقافلے نے راستے میں ایک جگہ قیام کیا۔صبح صادق سے پہلے ام المومنینؓ رفع حاجت کے لئے کسی گوشہ میں تشریف لے گئیں۔وہاں آپؓ کاہارٹوٹ گیااس ہارکی تلاش میںآپ کی دیرلگی آپؓ واپس آئیں توقافلہ روانہ ہوچکاتھاقافلہ والوں کوپتہ نہ لگاکہ ام المومنینؓ موجودنہیں ہیں ۔آپؓ قافلہ کی جگہ واپس آکربیٹھ گئیں ایک صحابی رسول حضرت صفوانؓ بڑے بلندکرداراورامانت دار صحابی رسولﷺتھے ۔وہ قافلہ کی گری ہوئی اشیاء کوسنبھالتے تھے اورشرکائے قافلہ کی نگہداشت کرناانکے ذمہ تھاوہ جب پڑاؤکے مقام پرپہنچے توام المومنین سیدتناعائشۃ الصدیقہؓ کودیکھ کرحیران ہوئے ادب احترام سے اونٹ پرسوارہونے کوکہاآپؓ سوارہوگئیں اورحضرت صفوانؓ اونٹ کی مہارپکڑے ہوئے آگے آگے چلنے لگے یہاں تک کہ قافلے میں پہنچادیا۔جب منافقوں کے سردارعبداللہ ابن ابی کوا س واقعے کاعلم ہواتواس نے حضرت عائشۃ الصدیقہؓ پرتہمت لگائی جس سے چندسادہ لوح مسلمان غلط فہمی کاشکارہوگئے ۔ام المومنینؓ کواس تہمت کابالکل پتہ نہ چلاآپؓ بیمارہوگئیں ایک ماہ تک بیماررہیں اس دوران میں ام مسطح کے ذریعے آپؓ کوپتہ چلاتوآپؓ کامرض اوربھی بڑھ گیا۔آپؓ اپنےمیکے تشریف لے گئیں اوراس غم میں اتناروئیں کہ کئی رات بالکل نیندنہ آئی ۔آخرکاررحمت خداوندی جوش میں آئی وحی نازل ہوئی جس سے حضرت عائشۃ الصدیقہؓ کی طہارت،عفت وعصمت کی خودرب نے گواہی دی اورالزام لگانے والوں کے جھوٹ کاپول کھل گیا۔سورۃ النورکی قریباًاٹھارہ آیتیں آپؓ کی برات میں نازل ہوئیں ۔ان آیات کے نزول سے پہلے تمام مومنوں اورحضورانورﷺکے دل ام المومنین کی پاکدامنی پرمطمئن تھے چنانچہ حضورﷺنے ارشادفرمایاکہ مجھے اپنی بیوی کی پاکیزگی بالیقین معلوم ہے ۔(بخاری) حضرت عمرؓ فاروق نے ارشادفرمایاکہ اللہ تعالیٰ نے حضورﷺکے جسم اطہرکومکھی سے محفوظ رکھاکہ وہ نجاست پربیٹھتی ہے۔کیسے ہوسکتاہے کہ رب تعالیٰ آپ کوبری عورت سے محفوظ نہ رکھتا۔حضرت عثمان غنی ذوالنورینؓ نے فرمایاکہ رب نے آپﷺکاسایہ زمین پرنہ پڑنے دیاکہ کسی کاپاؤں اس پرنہ پڑے توکیسے ہوسکتاہے کہ وہ رب آپ کی اہلیہ کومحفوظ نہ فرمائے۔حضرت علی المرتضیٰ شیرخداؓ نے فرمایاکہ ایک جوں کاخون لگ جانے پررب نے آپ نعلین شریف اتارنے کاحکم دیاتوکیسے ہوسکتاہے کہ اب آپ کی اہل بیت کی آلودگی منظورفرمائے ۔اسی طرح اورمخلص مومنوں اورمومنات نے آپؓ کی عصمت کے گیت گائے۔(خزائن وروح) قربان جاؤں جب حضرت مریم ؑ اورحضرت یوسفؑ کوبہتان لگاتوبچے گواہ مگرمحبوبہ ،محبوب رب العالمین کوبہتان لگاتوخودرب تعالیٰ گواہ،
یعنی ہے سورہ نورجن کی گواہ ان کی پُرنورصورت پہ لاکھوں سلام
پاک دامن عورتوں پرجوبہتان باندھتے ہیں اس کی سزاکے بارے میں سورۃ نورکی آیت کریمہ نازل ہوئیں۔ارشادباری تعالیٰ ہے۔ "اورجوپارساعورتوں کوعیب لگائیں پھرچارگواہ معائنہ کے نہ لائیں توانہیں اَسّی 80کوڑھے لگاؤاوران کی کوئی گواہی کبھی نہ مانواوروہی فاسق ہیں۔(سورۃ النورآیت۴)
غزوہ بنومصطلق میں حضرت عائشۃ الصدیقہؓ کے ہارکی گمشدگی کی وجہ سے نبی کریمﷺنے پڑاؤکے دوران قیام طویل کردیاتاکہ گمشدہ ہارمل جائے ۔ اس پڑاؤکی جگہ بھی پانی نہ تھااورنہ ہی مجاہدین کے پاس پانی تھاتمام صحابہ کرام علہیم الرضوان پریشان تھے کہ نمازکاوقت نکلاجارہاہے اورپانی کاکوئی انتظام نہیں اس وقت آپﷺپروحی نازل ہوئی اللہ تعالیٰ نے آیت تیمم نازل فرمادی اورلشکراسلام نے صبح کی نمازتیمم کرکے پڑھی ۔آپؓ کی برکت سے امت کوتیمم کی سہولت ہوئی۔ آپؓ کی یہ بھی خصوصیت ہے کہ قرآن حکیم میں پردہ کرنے کے احکامات جاری ہونے سے قبل بھی آپؓ پردہ فرماتی تھیں احادیث مبارکہ میں بکثرت آپؓ کاتذکرہ ملتاہے آپؓ نمازتہجدکی بے حدپابنداور نفلی روزہ بھی کثرت سے رکھتی تھیں ۔آپؓ کی طبیعت میں اسقدرحیاء واحترام نبیﷺتھاکہ حضرت عمرؓ کے دفن ہونے کے بعدقبرنبیﷺپرکبھی بے پردہ نہیں گئیں حضرت جبرائیلؑ بتوسط حضورﷺآپؓ کوسلام کیا۔حضرت ابوسلمہؓ سے روایت ہے کہ حضرت عائشۃ الصدیقہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایاکہ اے عائشہؓ یہ حضرت جبرائیلؑ ہیں تم کوسلام کہتے ہیں انہوں نے جواب دیاکہ ان پرسلام اوراللہ کی رحمت اوربولیں حضوروہ دیکھتے تھے جومیں نہ دیکھتی تھی(بخاری،مسلم)
آپؓ کاوصال حضرت امیرمعاویہؓ کے دورِحکومت میں17 رمضان المبارک 57ہجری بدھ کے روز۶۶سال کی عمرمیں مدینہ منورہ میں ہوابعض شب سہ شبنہ ۱۷رمضان ۵۸ ؁بیان کرتے ہیںآپؓمدینے کے قبرستان جنت البقیع میں مدفون ہوئیں آپﷺکے جلیل القدرصحابی حضرت ابوہریرہؓ نے آپؓ کی نمازہ جنازہ پڑھائی۔ آپؓ نے وصیت فرمائی تھی کہ میراجنازہ رات کواٹھایاجائے اوررات ہی کودفن کیاجائے چنانچہ ایساہی عمل میں لایاگیا۔*******************

غزوہ بدرمیں صحابہ کرام علہیم الرضوان کی جاں نثاری

غزوہ بدرمیں صحابہ کرام علہیم الرضوان کی جاں نثاری
ارشادباری تعالیٰ ہے.وَلَقَدْنَصَرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدْرٍوَّاَنْتُمْ اَذِلَّۃ’‘"بے شک اللہ تعالیٰ نے میدان بدرمیں تمہاری مددکی حالانکہ تم بالکل کمزورتھے۔ارشادباری تعالیٰ ہے "بلاشبہ جنہوں نے کہاہمارارب اللہ ہے پھراس پرثابت قدم رہے ان پرفرشتے اترتے ہیں اور(بشارت دیتے ہیں) کہ نہ توتمہیں کسی( آنے والے خطرے) کاخوف ہوناچاہیے اورنہ ہی کسی (گذشتہ بات کا)رنج وملال اوراُس جنت کی خوشخبری سنوجس کاتم سے وعدہ کیاجاتاہے (حٰم السجدہ آیت ۲۳) 
حضرت رافع بن خدریجؓ سے روایت ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ یاکوئی اورفرشتہ نبی کریمﷺکے پاس آیااورعرض کیا’’یارسول اللہﷺ!آپ اپنے لوگوں کے درمیان اہل بدرکوکیامقام دیتے ہیں ۔اصحاب نے کہاوہ ہم سب میں بہترہیں اس فرشتے نے جواب دیاکہ ہمارے نزدیک بھی جوفرشتے بدرمیں حاضرہوئے وہ سب سے بہترہیں ۔(ابن ماجہ)
ماہ رمضان المبارک بڑی عظمت والامہینہ ہے ۔اس ماہ مقدس کے بارے میں ارشادباری تعالیٰ ہے "رمضان وہ مبارک مہینہ ہے جس میں قرآن کریم نازل کیاگیا"یہ مقدس مہینہ شروع ہوتے ہی ہمارے دلوں میں اس واقعے کی یادتازہ ہوجاتی ہے جسے تاریخ "غزوہ بدر " کے نام سے یادکرتی ہے ۔بدرایک کنوئیں کا نام ہے جومدینہ طیبہ سے تقریباً80میل کے فاصلے پرواقع ہے ۔یہ کنواں بہت ہی مشہورتھااس لئے اس کے آس پاس کی آبادی دیہات کوہی بدرکہاجاتا جہاں پریہ غزوہ ہوا تھا۔یہ کنواں مسمی بدرابن عامرنے کھوداتھا۔رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت کے بعدپہلے ہی رمضان کی17تاریخ2 ؁ ہجری جمعہ کومیدان بدرتاریخ اسلام کاانتہائی دردناک اوردلوں کوہلا کر رکھ دینے والا سانحہ رونماہوا۔قرآن کریم نے جن واقعات کواپنے اوراق میں محفوظ کیاہے ان میں سے غزوہ بدر بھی ہے ۔تاکہ قیامت تک مسلمانوں کے ذہنوں میں اس کی یادتروتازہ رہے مسلمانوں کے مکہ سے ہجرت کرجانے کے بعدبھی کفارمکہ نے ان کاپیچھانہ چھوڑا۔کفارکی ہروقت یہی خواہش ہوتی کہ مسلمان کہیں بھی امن وسکون سے نہ رہ سکیں ۔کفار مسلمانوں کومختلف طریقوں سے تنگ کرتے رہے ۔آخرمسلمانوں کومدینہ طیبہ میں پناہ گاہ مل گئی قریش کے لوگوں نے مدینہ کے اردگردچھاپے مارے اورمسلمانوں کے مویشی لوٹناشروع کردیے ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کوجہادکی اجازت دے دی جس کے نتیجے میں کفرواسلام کایہ پہلامعرکہ بدر کے مقام پرپیش آیا۔کفارمکہ اپنے سردارابوسفیان کی قیادت میں ملک شام سے تجارتی سامان لے کرواپس آرہے تھے اس قافلے میں ہزار اونٹوں پرپچاس ہزار دینارکی مالیت کاسازوسامان لداہواتھاقریش کی سب بڑی طاقت ان کی یہی تجارت اورتجارتی سامان تھاجومسلمانوں کے خلاف استعمال ہوتاتھا۔آقاﷺصحابہ کرام علہیم الرضوان کی جماعت لیکران کے مقابلہ کے لئے روانہ ہوئے تاکہ اس قافلے کامقابلہ کرکے قریش کی طاقت توڑدی جائے ۔ رسول اکرم ﷺ اللہ کے حکم سے تین سوتیرہ صحابہ کرام علہیم الرضوان کولے کرروانہ ہوگئے لیکن یہ جنگ کے لئے پوری طرح تیارہوکرنہ نکلے تھے پورے اسلامی لشکرمیں سواری کے لئے ستر اونٹ دوگھوڑے چھ زرہ آٹھ تلواریں تھیں ۔جب ابوسفیان کومسلمانوں کے مدینے سے نکلنے کاعلم ہواتو اس نے فوراًقریش مکہ کوپیغام بھیجوادیاکہ مددکے لئے پہنچو ورنہ تجارتی قافلہ مسلمانوں کے ہاتھوں لٹ جائے گا۔اس قافلہ میں قریباً مکے کے تمام گھرانوں کاسامان شامل تھاکفارمکہ نے ایک ہزار افرادکالشکرتیارکرکے ابوجہل کی قیادت میں مدینے پرحملے کے لئے نکل پڑے ان کے پاس ایک سوگھوڑے چھ زررہ اورسینکڑوں اونٹ تھے ۔ادھرابوسفیان بدرکے راستے سے کتراکردوسرے راستے سے بخیریت مکہ معظمہ پہنچ گئےاورکفارکوپیغام بھجوایاکہ قافلہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے بچ گیاہے تم واپس آجاؤلیکن کفارمکہ اپنی طاقت پرنازکرتے رہے اور بدرکے قریب پڑاؤڈال دیا۔چنانچہ اسلامی لشکربھی بدرکے قریب پہنچ کررک گیا۔ادھرمسلمانوں نے حضورﷺسے عرض کیاکہ ہم تو قافلہ روکنے کے لئے آئے تھے اس عظیم الشان جنگ کے لئے تیارنہ تھے آقاﷺکویہ عرض ناگوارگزری حضرت ابوبکرصدیقؓ وحضرت عمرفاروقؓ نے کھڑے ہوکر عرض کیاکہ ہم کسی طرح بھی مرضی مبارک کے خلاف کرنے والے نہیں حضورﷺجہاں چاہیں ہم کولے چلیں ہم تیارہیں اگرچہ آپﷺ فرمائیں توسمندرمیں کود جا ئیں حضورﷺنے فرمایا اللہ پرتوکل کرواورچلوفتح تمہاری ہوگی آقاﷺنے جنگ سے ایک دن پہلے زمین پرخط کھینچ کرفرمایاکہ یہاں فلاں کافرماراجائے گاا وریہاں فلاں چنانچہ ایسے ہی ہواجیساآپﷺنے فرمایا۔چنانچہ17رمضان 2 ؁ ہجری کودونوں لشکرآمنے سامنے ہوئے ۔اللہ پاک نے اسی میدان میں مسلمانوں کی مددکاتذکرہ کرتے ہوئے سورۃ الانفال میں فرمایا"بیشک اللہ تعالیٰ نے میدان بدرمیں تمہاری مددکی حالانکہ تم بالکل کمزورتھے"اس دن جبکہ مسلمان خداکے دین کی حفاظت کے لئے دشمن کے مقابل کھڑے تھے توبڑے کمزورتھے ہرظاہری اعتبارسے کمزورتھے ۔تعدادمیں بھی بہت کم تھے اللہ پاک نے غزوہ بدر میں کمزورمسلمانوں پرکرم فرماکران کی مددکرکے قیامت تک کے مسلمانوں کویہ بات تسلیم کرلینے کی عملی دعوت دی کہ کامیابی وکامرانی خداکی ہی مددسے نصیب ہوتی ہے صرف تم خودکواس قابل بنالوتاکہ خداتمہاری مددکرے ۔پہلی مدداس طرح ہوئی کہ مسلمانوں کوکافروں کی تعدادمیدان جنگ میں کم نظرآرہی تھی تاکہ اللہ کے یہ بندے دشمن کودیکھ کرگھبرائیں نہیں اورکافروں کومسلمانوں کی تعدادکم نظرآرہی تھی تاکہ وہ مسلمانوں سے ڈرکر میدان جنگ چھوڑنہ جائیں ۔حق وباطل کافرق ظاہرکرنے کے لئے اس جنگ کاہوناہی ضروری تھا۔دوسری مددیہ کہ جنگ کے دوران بعض اوقات کافروں کومسلمان اپنے سے دوگنے نظرآتے تھے جس کی وجہ سے ان پرمسلمانوں کاڈراورخوف طاری ہوتارہااوران کی ہمتیں پست ہوگئیں ۔میدان بدرمیں جنگ کی رات سب سوتے رہے لیکن آقاﷺنے پوری رات دعا میں بسرکی اسی رات اللہ تعالیٰ نے موسلادھاربارش برسائی ۔جب جنگ کی تیاریاں مکمل ہوئیں توپھراللہ کے محبوبﷺنے معبودحقیقی کے سامنے ہاتھ پھیلائے اور عرض کیا"اے اللہ ا ب تیری اس مددکے ملنے کاوقت آگیاہے جس کاتونے مجھ سے وعدہ فرمایاہے اے اللہ اگرمسلمانوں کی اس چھوٹی سی جماعت کوتونے ہلاک ہوجانے دیاتوپھرتیری بھی عبادت نہ کی جائے گی ۔آقاﷺکی دعاقبول ہوئی آپﷺنے اپنے رب کی اجازت سے غلاموں کویہ خوشخبری سناتے ہوئے فرمایا گھبراؤنہیں آگے بڑھوخداکے ایک ہزارفرشتے تمہاری مددکے لئے آرہے ہیں مسلمانوں نے ہمت وجراء ت کے ساتھ دشمن کامقابلہ شروع کردیا۔دوران جنگ یہ خبر مشہورہوئی کہ کافروں کی مددکے لئے ایک بھاری لشکرپہنچنے والاہے اس خبرسے مسلمانوں کوکچھ تشویش ہوئی پھرنبی کریمﷺنے اللہ کے حکم کے مطابق غلاموں کومژدہ سنایاکہ حسب ضرورت ایک ہزارتین ہزاراورپانچ ہزارفرشتوں سے مددکاوعدہ کیااورجب جنگ پورے زورپرآئی توان فرشتوں نے اپناکام پورا کیاکہ تلوارلگنے سے پہلے سرکٹتے نظرآئے ۔دوران جنگ آقاﷺنے ایک مٹھی خاک کفارکی طرف پھینکی کافروں کالشکرپھیلاہواتھاکوئی کہیں کھڑاتھاکوئی کہیں کھڑاتھا کوئی خیمہ کے اندرتھااللہ پاک نے اپنے حبیبﷺکایہ معجزہ ظاہرفرمایاکہ ایک مٹھی خاک ہرکافرکی آنکھوں تک پہنچ گئی سب کی نظریں دھندلاگئیں ۔دشمن ایساخوفزدہ اور پریشان حال ہواکہ سوابھاگنے کے کوئی چارہ نہ تھانہ سامان سمیٹنے اورنہ ہی ساتھیوں کی لاشیں اٹھانے کاہوش رہا۔اللہ پاک نے یہ اعلان فرمایا"پس تم نے انہیں نہیں قتل کیابلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا"غزو ہ بدر میں صحابہ کرام علہیم الرضوان نے جاں نثاری کے بے شمارکارنامے سرانجام دیے غزوہ بدرمیں کافروں کے سترآدمی قتل ہوئے جن میں اکثران کے سرداراوراس جنگ کی روح تھے کفارکی فوج سے ابوجہل عتبہ شیبہ ولیدبن عتبہ امیدبن خلف وغیرہ یہ سب ہی نہایت ذلت وخواری سے مارے گئے۔ابوجہل کافروں کابڑاسردار سمجھاجاتاتھانہایت متکبر مغروراورحضورﷺکا،اسلام کابدترین دشمن تھالیکن اس خبیث کودونوجوان لڑکوں حضرت معوذؓ اورحضرت معاذؓ نے قتل کرڈالااوران کے سرداروں کے مرجانے کے بعد کافروں کوزبردست شکست ہوئی کہ وہ اپنامال واسباباوراپنے مرُدے چھوڑ کربھاگ گئے۔حضرت عوف بن حارثؓ نے جوش جہادمیں اپنی زرہ اتارپھینکی اورتلوارلے کر دشمن پرٹوٹ پڑے یہاں تک کہ لڑتے لڑتے شہیدہوگئے حضرت عمرؓ نے عاص بن ہاشم کوقتل کیامیدان جہادمیں لڑتے لڑتے حضرت عکاشہؓ کی تلوارٹوٹ گئی آقاﷺنے حضرت عکاشہؓ کوایک لکڑی کاپھٹادیاآپؓ اسی پھٹے کوہاتھ میں پکڑکرلڑنے لگے۔جب کفارکی فوج سے عتبہ شیبہ اورولیدبن عتبہ نے باہرنکل کرمسلمانوں کوللکاراتوحضرت علی المرتضیٰ شیرخداؓ ،حضرت عبیدہ بن حارثؓ اورحضرت حمزہؓ نے ان کا مقابلہ کیااورتینوں کوواصل جہنم کیا ۔اللہ تعالیٰ نے لشکرِاسلام کوعظیم الشان فتح نصیب فرمائی کفارکواس جنگ میں بدترین شکست ہوئی کفارکے سترآدمی مارے گئے جن میں ان کے بڑے بڑے سرداربھی شامل تھے اور سترکافروں کومسلمانوں نے گرفتاربھی کرلیا کفارکے ان قیدیوں میں سے بعض کواحسان کے طورپر چھوڑدیا گیاجوباقی بچے ان کے متعلق یہ طے ہواکہ یاتوفدیہ دے کرآزادی حاصل کریں یادس دس مسلمان بچوں کولکھناپڑھناسکھادیں اس جنگ میں کافروں کاغرور خاک میں مل گیا۔اسلامی لشکرسے صرف چودہ صحابہ کرام علہیم الرضوان شہیدہوئے جن میں سے تیرہ میدان بدرمیں دفن ہیں اورحضرت عبیدہ بن حارثؓ جوشدید زخمی ہوئے تھے میدان بدرسے واپسی پرمیدان صغراء میں فوت ہوئے آپؓ کی قبرمبارکہ میدان صغراء میں ہے ۔غزوہ بدرہمیشہ کے لئے کفارکی ذلت وخواری کا نشان اوراسلام کی عظمت وحقانیت کااعلان بن گیامسلمانوں کی کامیابی کے بعددنیاکی نظریں کفرسے ہٹ کراسلام کی طرف اٹھنے لگیں دشمنوں نے پوری قوت سے اس کو دباناچاہالیکن یہ ابھرتاپھیلاتاچلاگیا۔
فانوس بن کرحفاظت جس کی ہواکرے وہ شمع کیابجھے جسے روشن خداکرے
میدان بدرمیں جوواقعات رونماہوئے وہ سب کے سب ایمان وافروزہیں آخرمیں عشق ومحبت سے بھرے ایک واقعہ پراپنے مضمون کااختتام کرتاہوں ۔غزوہ بدرکے دن آقائے دوجہاں سرورکون ومکاں ﷺجنگ کے لئے لائینیں سیدھی فرمارہے تھے کہ آپﷺایک صحابی حضرت سوادؓ کے پاس پہنچے ۔حضرت سوادؓ کاپیٹ کچھ بڑاتھا جولائن سے باہرنکلانظرآرہاتھا۔نبی کریمﷺنے اس صحابیؓ کے پیٹ پرچھڑی ماری اورفرمایااستواء یاسواداے سوادسیدھے کھڑے ہوجاؤ۔حضرت سوادؓ کوایک خاص موقع مل گیا۔آپؓ بول اٹھے یارسول اللہﷺ!آپ نے بلاوجہ میرے پیٹ پرچھڑی ماری ہے میں تواس چھڑی مارنے کاآپﷺسے بدلہ لوں گا۔آقاﷺنے حضرت سوادانصاریؓ کی بات سنتے ہی اپناکرتامبارکہ اٹھاتے ہوئے فرمایااے سوادؓ لومیراپیٹ حاضرہے آج تم اپنابدلہ لے لوحضرت سوادؓ نے دوڑکرآپﷺکے مبارک پیٹ کوچوما اورآپﷺسے چپٹ گئے ۔آقاﷺنے فرمایااے سوادؓ یہ کیاہے تم نے تواپنابدلہ لیناچاہالیکن اب آپؓ میرے پیٹ سے چپٹ گئے ہو۔قربان جاؤں اے سوادؓ! تیری قسمت پرحضرت سوادؓ نے عرض کیایارسول اللہﷺاس وقت میں میدان جنگ میں ہوں کیاپتہ موت کاپیغام آجائے اورمیں شہیدہوجاؤں ۔یارسول اللہﷺمیرے دل کی آخری تمنابھی یہی تھی کہ میراجسم آپﷺکے جسم مبارک سے چھوجائے رب تعالیٰ نے میری تمناپوری کردی اورمجھے آپﷺکے جسم مبارک سے چھوجانے کاموقع دے دیا(خداکی قسم)مجھے یقین ہے کہ اب میرے جسم پرجہنم کی آگ حرام ہوگئی پس جومیرامقصدتھاوہ پوراہوگیامیں اپنابدلہ معاف کرتاہوں ۔غزوہ بدرسے ہمیں یہ سبق ملتاہے کہ جولوگ اخلاص کے ساتھ اللہ کے دین کاکام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان مخلص ،متقی اورنیک بندوں کی ضرورمدد فرماتاہے ۔دنیاکی بڑی سے بڑی قوت ان پر غالب کردیتاہے ۔ ارشادباری تعالیٰ ہے"اے ایمان والو!اگرتم اللہ کے دین کی مددکروگے تووہ تمہاری مددفرمائے گااورتمہارے قدم جمادے گا"۔خداکایہ وعدہ قیامت تک کے اہل ایمان سے ہے ہم اس دنیامیں ذلیل ورسوااسی وجہ سے ہورہے ہیں کہ ہم نے اللہ اوراسکے رسولﷺکے بتائے ہوئے راستے کوچھوڑدیاہے دربدرکی ٹھوکریں اسی وجہ سے کھارہے ہیں کہ ہم نے اللہ پاک کی ذات پربھروسہ کرناچھوڑدیاہے ۔اللہ پاک ہم کوصراط مستقیم کے راستے پرچلنے کی توفیق عطافرمائے۔******

احکام ومسائل اعتکاف

احکام ومسائل اعتکاف

اعتکاف بناہے عَکْفجسکامعنی ہے ٹھہرنایاقائم رہناجبکہ اصطلاح شرع میں اس سے مراداللہ پاک کے گھرمیں عبادت کی نیت سے ٹھہرنے کوشرعی اعتکاف کہاجاتاہے۔حقیقی اعتکاف یہ ہے کہ ہرطرف سے یکسوہوکراورسب سے منقطع ہوکراللہ تعالیٰ سے لَولگاکے اس کے درپرمسجدکے کونہ میں بیٹھ جائے اورسب سے علیحدہ تنہائی میں عبادت اس کے ذکروفکرمیں مشغول ہوجائے یہ بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کاایک ایسا طریقہ ہے جس میں مسلمان دنیاسے لاتعلق ہوکراللہ پاک کے گھرمیں صرف اللہ پاک کی یادمیں متوجہ ہوجاتاہے۔معتکف اپنے عمل سے ثابت کرتاہے کہ میں نے حالت حیات ہی میں اپنابال بچہ اورگھربارسب کوچھوڑدیاہے اورمولاٰ!تیرے گھرہی میں آگیاہوں یہ قاعدہ قانون ہے کہ اگرگھروالاکریم اورعزت والاہوتووہ ضرورہراس شخص کی عزت واکرام کرتاہے جواسکے گھرمیں آئے خواہ وہ دشمن کیوں نہ ہو۔بھلاجوارحم الراحمین جوسب داتوں کاداتاہے خالق کائنات مالک ارض وسماوات ہے اسکے گھرمیں کوئی مسلمان جاکرپناہ لے تووہ کریم ذات اسکاکس قدراکرام فرمائیگا۔
قرآنِ پاک میں اعتکاف کاذکر
اعتکاف کی تاریخ بھی روزوں کی طرح بہت پرانی ہے۔اللہ رب العزت اپنی پاک کتاب قرآن مجیدفرقان حمیدمیں ارشادفرماتاہے۔ترجمہ! اورہم نے ابراہیم واسماعیل علیہم السلام کوتاکیدکی کہ میراگھرخوب صاف ستھرارکھناطواف کرنے والوں ،اعتکاف کرنے والوں اوررکوع وسجودکرنیوالوں کے لئے"۔ایک اورمقام پرارشاد باری تعالیٰ ہے"اورعورتوں کوہاتھ نہ لگاؤ جب تم مسجدوں میں اعتکاف کررہے ہو"۔(سورۃ البقرہ۱۸۷)
حدیث پاک میں اعتکاف کاذکر
حضرت علی (زین العابدین)بن حسین اپنے والدحضرت امام حسینؓ سے روایت کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا"جوشخص رمضان المبارک میں دس دن کااعتکاف کرتاہے اس کاثواب دوحج اوردوعمرے کے برابرہے"۔ (طبرانی فی المعجم الکبیر،بیہقی فی شعب الایمان)
حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ حضورنبی کریمﷺنے ارشادفرمایا’’جوشخص اللہ تعالیٰ کی رضاکے لئے (صدق وخلوص کے ساتھ)ایک دن اعتکاف بیٹھے اللہ تعالیٰ اس کے اوردوزخ کے درمیان تین خندقوں کافاصلہ کردیتاہے ہرخندق مشرق سے مغرب کے درمیانی فاصلہ سے زیادہ لمبی ہے ‘‘۔(طبرانی)حضرت عبداللہ ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺنے معتکف کے بارے میں فرمایاوہ گناہوں سے بازرہتاہے اورنیکیوں سے اسے اس قدرثواب ملتاہے جیسے اس نے تمام نیکیاں کیں۔(ابن ماجہ)حضورنبی کریم ﷺ اعتکاف کی خودپابندی فرمایاکرتے تھے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ حضورنبی کریمﷺہرسال رمضان المبارک میں دس دن اعتکاف فرماتے تھے اورجس سال آپﷺکاوصالِ مبارک ہوااس سال آپﷺ نے بیس دن اعتکاف کیا۔(متفق علیہ)حضورﷺ کے دنیاسے ظاہراََپردہ فرمانے کے بعدعام لوگوں نے اس سنت پرعمل کیااورآج تک کررہے ہیں لیکن خاص طورپرحضورﷺ کی یادمیں ازواج مطہرات نے اسکی پابندی کی۔حضرت عائشۃ الصدیقہؓ سے مروی ہے کہ حضورنبی اکرمﷺرمضان المبارک کے آخری دس دن اعتکاف کیاکرتے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپﷺکاوصال ہوگیا۔پھرآپﷺکے بعدآپ کی ازواج مطہرات نے بھی اعتکاف کیاہے ۔(متفق علیہ)ام المومنین سیدتناعائشہ الصدیقہؓ بیان کرتی ہیں"معتکف کے لئے شرعی دستوراور ضابطہ حیات یہ ہے کہ وہ کسی مریض کی عیادت نہ کرے،نہ کسی جنازے کے ساتھ جائے،نہ اپنی بیوی کوچھوئے اورنہ اس سے مباشرت کرے اورغیر ضروری حاجت کے علاوہ اعتکاف گاہ سے نہ نکلے۔(ہاں اگرگزرتے گزرتے بلاتوقف بیمارکی عیادت کی جائے توجائزہے)۔ ابوداؤد
معتکف کوچاہیئے کہ زیادہ سے زیادہ وقت اللہ کی عبادت میں گزارے ۔لیکن خاص کرشب قدرکوتلاش کرنے کے لئے ،اکیس ،تئیس،پچیس،ستائیس،انتیس کی راتیں جاگ کرگزارے کیونکہ جوشخص شب قدرمیں عبادت کرتاہے تواسکے بارے میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آقاعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا"جوشخص لیلۃ القدرمیں حالت ایمان اورثواب کی نیت سے قیام کرتاہے اس کے سابقہ گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں"۔حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ماہ رمضان المبارک کی آمدپرحضورﷺنے ارشادفرمایا۔"یہ ماہ جوتم پرآیاہے اس میں ایک رات ایسی ہے جوہزار مہینوں سے افضل ہے جوشخص اس رات سے محروم رہ گیاگویاوہ ساری خیرسے محروم رہااوراس رات کی بھلائی سے وہی شخص محروم رہ سکتا ہے جوواقعتاَ َمحروم ہو"یہ رات کتنی عظمت والی ہے ۔واقعی وہ انسان کتنابدبخت ہے جواتنی بڑی نعمت کوغفلت کی وجہ سے گنوادے۔ہم معمولی معمولی باتوں کے لئے کتنی راتیں جاگ کرگزارلیتے ہیں تواَسّی80سال کی عبادت سے افضل بابرکت رات کے لئے جاگناکوئی زیادہ مشکل کام تونہیں۔
اعتکاف کی تین قسمیں ہیں 1۔ اعتکاف واجب 2۔ اعتکاف سنت 3۔ اعتکاف نفل
اعتکاف واجب وہ ہوتاہے جوکوئی شخص کسی کام کے پوراہوجانے کے لئے مانے یعنی نذرمانے اسکی مدت کم ازکم ایک دن اورایک رات ہے اس میں روزہ رکھناشرط ہے نذرپوری ہوجانے کے بعداس شخص پراعتکاف کااداکرنالازم ہوجاتا ہے۔
اعتکاف سنت وہ اعتکاف ہے جوماہ ر مضان کے آخری دس دنوں میں کیاجاتاہے۔اس کے لئے روزہ شرط ہے یہ سنت کفایہ ہے یعنی اگربستی میں ایک مسلمان نے اس سنت کواداکرلیاتوسب کیطرف سے اداہوجائے گااورسب بستی والوں کوثواب ملیگا۔اگربستی میں کسی ایک شخص نے بھی اعتکاف نہ کیاتوپوری بستی گناہ گارہوگی۔لہذاہم سب مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وقت آنے سے پہلے کسی کواعتکاف کرنے کے لئے تیارکریں ۔جوشخص اعتکاف کررہاہوتاہے وہ پوری جماعت کی طرف سے نمائندہ کی حثیثت سے بیٹھااعتکاف کررہاہوتاہے ۔اُسے چاہیے سب مسلمانوں کے لئے دعاکرے اور اہل علاقہ کوبھی چاہیے وہ اپنے نمائندہ کی ہرطرح سے خدمت کریں سب مل کراسکی ضروریات کھانے پینے کاانتظام کریں اس کے کاروباروغیرہ کی حفاظت کریں۔
اعتکاف نفل وہ ہوتاہے کہ جب مسلمان مسجدمیں داخل ہوتواعتکاف کی نیت کرے اسکی کوئی مدت اورکوئی وقت مقررنہیں اورنہ ہی اسکے لئے روزہ شرط ہے۔اعتکاف کی نیت سے جتنی دیرمسجدمیں رہے گااسکوثواب ملتارہیگااوراس کے لئے وہ کام جائزہوجائے گاجواعتکاف کی نیت نہ کرنے والے پرجائزنہیں جیسے کھاناپینا،سوناوغیرہ۔
اعتکاف کارکن اعظم 
اعتکاف کارکن اعظم یہ ہے کہ انسان اعتکاف کے دوران مسجدکی حدودمیں رہے اورضروری حاجت کے سواایک لمحے کے لئے بھی مسجدکی حدودسے باہرنہ نکلے کیونکہ اگرمعتکف ایک لمحے کے لئے شرعی ضرورت (جیسے پاخانہ ،پیشاب وغیرہ)کے بغیرحدودمسجدسے باہرچلاجائے تواس کااعتکاف ٹوٹ جاتاہے ۔
اعتکاف بیٹھنے کی درج ذیل شرائط ہیں۔
مسلمان ہونا،اعتکاف کی نیت کرنا،حدث اکبر(یعنی جنابت) اورحیض ونفاس سے پاک ہونا ،عاقل ہونا،مسجدمیں اعتکاف کرنا،اعتکاف واجب (نذر) کے لئے روزہ بھی شرط ہے۔دوران اعتکاف درج ذیل امورسرانجام دینے چاہیں قرآن حکیم کی تلاوت،درودشریف پڑھتے رہنا،علوم دینیہ کاپڑھنایاپڑھانا،وعظ و نصیحت یااچھی باتیں کرنا،قیام اللیل،ذکرواذکارکی کثرت کرنا۔
اجتماعی اعتکاف میں حتی الامکان نوخیزلڑکے اورآپس میں گپ شب کرنے والے دوستوں کونیزامرداورناسمجھ بچوں کوانتظامیہ مسجدمیں اعتکاف کرنے سے روکنے کی کوشش کرے تاکہ مسجدمیں اودھم بازی اورہڑاہڑی کاماحول پیدانہ ہو۔اعتکاف میں تلاوت قرآن مجیدکرنا، نعت خوانی،ذکرودرود، مسائل فقہ کامطالعہ اورمسائل کی آپس میں تکرارکرناسب جائزہے ۔اگرنفلی عبادات بجانہ لاسکے توخاموش رہ کرمسجدکی بے حرمتی وغیرہ سے بچنابہترین عبادت
ہے ۔اعتکاف کرنے والااپنے پاس ضروری سامان کے علاوہ قرآن پاک کاترجمہ،نمازکے احکام،فیضان سنت،بہارِشریعت اوردیگرعلمائے اہلسنت کی مستندکتابیں ضروررکھے تاکہ یکسوئی سے انکامطالعہ کرکے انکی فیوض وبرکات حاصل کرتارہے ۔موبائل فون کابے جااستعمال ویسے بھی ممنوع ہے ۔ حالتِ اعتکاف میں ،مسجداوررمضان المبارک کی بے حرمتی کاسبب ہونے کی وجہ سے اورزیادہ ممنوع اورناجائزہے لہذااس سے اجتناب کریں ۔ناجائزباتیں مسجدسے باہربھی گناہ ہیں ۔ مسجدمیں غیرضروری جائزبات بھی نیکیوں کویوں کھاجاتی ہے جس طرح آگ خشک لکڑیوں کواورچوپایاگھاس کوکھاجاتاہے ۔لہذاجوباتوں سے نہیں بچ پاتااس کااعتکاف نہ کرناہی اسکے حق میں بہترہے ۔
شرعی ضروریات جن کے لئے معتکف کامسجدسے نکلناجائزہے وہ ضروریات درج ذیل ہیں 
وضوجبکہ مسجدمیں رہتے ہوئے وضوکرناممکن نہ ہواگرمسجدمیں وضوکی ایسی جگہ موجودہے کہ معتکف خودتومسجدمیں رہے لیکن وضوکاپانی مسجدسے باہرگرے تووضوکے لئے مسجدسے باہرجاناجائزنہیں اگرمسجدمیں ایسی جگہ موجودنہیں تووضوکے لئے مسجدسے کسی قریبی جگہ پرجاناجائزہے ،غسل جنابت جبکہ مسجدکے اندرغسل کرناممکن نہ ہومعتکف کوصرف احتلام ہوجانے کی صورت میں غسل جنابت کے لئے مسجدسے باہرجاناجائزہے ۔جبکہ مسجدکے اندرغسل کرناممکن نہ ہویامشکل ہوتوغسل جنابت کے لئے باہرجاسکتاہے ۔غسل جنابت کے علاوہ کسی اورغسل کے لئے مسجدسے باہرنکلناجائزنہیں جمعہ کے غسل یاٹھنڈک کی غرض سے غسل کرنے کے لئے مسجدسے باہرجاناجائزنہیں اگرجائے گاتواعتکاف ٹوٹ جائے گا۔پیشاب پاخانے کی ضرورت کے لئے مسجدسے باہرجاسکتاہے جہاں تک پیشاب کاتعلق ہے اس کے لئے مسجدکے قریب ترین جگہ جس جگہ پیشاب کرناممکن ہووہاں جاناچاہیے ۔ اگرمسجدکے ساتھ کوئی بیت الخلاء بناہواہے اوروہاں قضائے حاجت کرناممکن ہے تواس میں قضائے حاجت کرے کہیں اورنہ جائے ۔اگرکوئی اعتکاف میں بیٹھاہے اوراسے اذان دینے کے لئے مسجدسے باہرجاناپڑے تواسکے لئے جائزہے مگراذان کے بعدٹھہرے نہ فوراًمسجدمیں آجائے۔بہتریہی ہے کہ اعتکاف ایسی مسجدمیں بیٹھاجائے جس میں نمازجمعہ ہوتی ہوتاکہ جمعہ کے لئے باہرنہ جاناپڑے اگرکسی مسجدمیں نمازجمعہ نہیں ہوتی پانچ وقت کی نمازہوتی ہے اس میں بھی اعتکاف بیٹھناجائزہے ۔ایسی صورت میں نمازجمعہ پڑھنے کے لئے دوسری مسجدمیں جاناجائزہے لیکن نمازجمعہ کے لئے ایسے وقت میں نکلے جب اسے اندازہ ہوکہ جامع مسجدپہنچنے کے بعدچاررکعت سنت اداکرلے گاتواس کے بعدفوراًخطبہ عربی شروع ہوجائے گا،اگرکھانے پینے کی اشیاء لانے والاکوئی شخص نہ ہوتوکھانالینے کے لئے مسجدسے باہرجاسکتاہے لیکن کھانالیکرمسجدہی میں کھائے ،ہرمعتکف کے لئے ضروری ہے کہ جس مسجدمیں اعتکاف شروع کیااسی مسجدمیں ہی پوراکرے لیکن اگرکوئی شدیدایسی مجبوری آجائے کہ وہاں اعتکاف پوراکرناممکن نہ رہے یعنی مسجدمنہدم ہوجائے یاکوئی زبردستی وہاں سے نکال دے یاوہاں میں جان ومال کاخطرہ ہووہ دوسری مسجدمیں منتقل ہوکراعتکاف پوراکرسکتاہے بشرطیکہ وہاں سے نکلنے کے بعدراستے میں نہ ٹھہرے فوراًدوسری مسجدمیں چلاجائے ۔ان ضروریات کے علاوہ کسی اورمقصدکے لئے باہرجانامعتکف کے لئے جائزنہیں ۔
درج ذیل کام جن سے اعتکاف ٹوٹ جاتاہے۔
جن ضروریات کااوپرذکرکیاگیاہے ان کے سواکسی اورمقصد سے اگرکوئی حدودمسجدسے باہرنکل جائے چاہے یہ باہر نکلناایک ہی لمحے کے لئے ہوتواس سے اعتکاف ٹوٹ جاتاہے ۔مسجدسے نکلنااسوقت کہاجائے گاجب پاؤں مسجدسے اس طرح باہرنکل آئیں کہ اسے عرفاًمسجدسے نکلناکہاجاسکے لہذااگر صرف سرمسجدسے باہرنکال دیاجائے تواس سے اعتکاف فاسدنہیں ہوگا۔اس لئے بلاضرورت شرعی مسجدسے باہرنہیں نکلناچاہیے ورنہ جان بوجھ کرہویابھول کرغلطی سے ہرصورت میں اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔حالت اعتکاف میں جماع کرنے سے بھی اعتکاف ٹوٹ جاتاہے چاہے یہ جماع جان بوجھ کرکرے یابھول کر دن میں کرے یارات میں مسجدمیں کرے یامسجدسے باہراس سے انزال ہویانہ ہواعتکاف ٹوٹ جائیگا۔اگرعورت اعتکاف میں ہوتوحیض ونفاس کاجاری ہوجانے سے اعتکاف ٹوٹ جاتاہے ۔کسی عذرکے بغیراعتکاف گاہ سے باہرنکل کرضرورت سے زیادہ ٹھہرنا۔اعتکاف کے لئے چونکہ روزہ شرط ہے اس لئے روزہ توڑدینے سے بھی اعتکاف ٹوٹ جاتاہے ان سب صورتوں میں اعتکاف ٹوٹ جاتاہے۔وہ امور جومکروہات اعتکاف ہیں
بالکل خاموشی اختیارکرناکہ ذکرونعت اوردعوت و تبلیغ کی بجائے خاموش رہنے کوعبادت سمجھاتویہ مکروتحریمی ہے کیونکہ شریعت میں بالکل خاموش رہناکوئی عبادت نہیں اگربری باتوں سے خاموش رہاتووہ اعلیٰ درجہ کی چیزہے۔مال واسباب مسجدمیں لاکربغرض تجارت بیچنایاخریدنابھی مکروہ ہے ۔لڑائی جھگڑایابیہودہ باتیں کرنا۔اعتکاف کے لئے مسجدکی اتنی جگہ گھیرلیناجس سے دوسرے معتکفین یانمازیوں کوتکلیف ہو۔
درج ذیل صورتوں میں اعتکاف توڑناجائزہے
اعتکاف کے دوران کوئی ایسی بیماری لاحق ہوجائے جسکاعلاج اعتکاف گاہ سے باہرجانے کے بغیرممکن نہ ہوتواعتکاف توڑناجائزہے ۔
کسی ڈوبتے یاجلتے ہوئے آدمی کوبچانے یاآگ بجھانے کے لیے بھی اعتکاف توڑکرباہرنکل آناجائزہے۔
ماں ،باپ یابیوی میں سے کسی کی سخت بیماری کی وجہ سے اعتکاف توڑناجائزہے ۔
والدین،بہن بھائی یاکوئی عزیزاچانک فوت ہوجائے تواسکی تجہیزوتکفین کے لئے اعتکاف توڑدیناجائزہے۔
اگرکسی معتکف کوکوئی زبردستی مسجدسے نکال دے یاحکومت اعتکاف میں گرفتارکرلے تواعتکاف ٹوٹ جائے گامگراس صورت میں متعکف پراعتکاف توڑنے کاگناہ نہ ہوگا۔
اعتکاف ٹوٹنے کاحکم 
مذکورہ بالاوجوہات میں سے جس وجہ سے بھی اعتکاف مسنون ٹوٹاہوااس کاحکم یہ ہے کہ جس دن میں اعتکاف ٹوٹاہے ۔صرف اس دن کی قضاواجب ہوگی پورے دس دن کی قضاواجب نہیں ۔(شامی)اس دن کی قضاکاطریقہ یہ ہے کہ اسی رمضان میں وقت باقی ہوتواسی رمضان میں کسی دن غروب آفتاب سے اگلے دن غروب آفتاب تک قضاء کی نیت سے اعتکاف کرلیں ۔اگراسی رمضان میں وقت باقی نہ ہوتویاکسی وجہ سے اس میں اعتکاف ممکن نہ ہوتو رمضان المبارک کے علاوہ کسی بھی دن روزہ رکھ کرایک دن کے لئے اعتکاف کیاجاسکتاہے ۔اگلے سال رمضان میں بھی قضاء کرلے توصحیح ہوگا۔لیکن زندگی پربھروسہ نہیں اس لئے جلدقضاکرنی چاہیے۔اعتکاف مسنون ٹوٹ جانے کے بعدمسجدسے باہرنکلناضروری نہیں لیکن عشرہ اخیرہ کے باقی ماندہ ایام میں نفل کی نیت سے اعتکاف جاری رکھاجاسکتاہے ۔اس طرح سے سنت مؤکدہ توادانہیں ہوگی لیکن نفلی اعتکاف کاثواب ملے گا۔
عورت کے لئے اعتکاف کے مسائل
*عورت کومسجدمیں اعتکاف مکروہ ہے بلکہ وہ گھرہی میں اعتکاف کرے ۔جوجگہ گھرمیں نمازپڑھنے اورعبادت کرنے کے لئے بنائی ہوئی ہے اس جگہ میں اعتکاف بیٹھ جائے ۔*اگرعورت نے نمازکے لئے کوئی جگہ مقررنہیں کررکھی ہے توگھرمیں اعتکاف نہیں کرسکتی البتہ اگراس وقت یعنی جبکہ اعتکاف کاارادہ کیاکسی جگہ کونمازکے لئے خاص کرلیاتواس جگہ اعتکاف کرسکتی ہے ۔(درمختار،ردالمختار)*عورت کے لئے ضروری ہے کہ حیض اورنفاس سے پاک ہو۔*اگرعورت شادی شدہ ہے توشوہرسے اجازت لیناضروری ہے شوہرکی اجازت کے بغیراعتکاف میں بیٹھناجائزنہیں ۔فتاوٰی شامی
*اگرشوہرنے پہلے اعتکاف کی اجازت دے دی اورعورت نے اعتکاف شروع کردیااب اگرشوہرمنع کرناچاہے تواب منع نہیں کرسکتااگرمنع کرے گاتوبیوی کے ذمہ اس کی تعمیل واجب نہیں ۔*گھرمیں جہاں پرعورت نے اعتکا ف کیا۔وہاں سے شرعی ضرورت کے ہٹناجائزنہیں۔
*دوران اعتکاف بہتریہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ قرآن پاک کی تلاوت ذکرواذکاراورنفلی عبادات میں مصروف رہیں ۔
اللہ پاک ہم کوآقاﷺکے اسوہ حسنہ پرچلنے اورعمل کرنے کی توفیق عطافرمائے ۔آمین