Sunday, 8 May 2016

شہریوں کو چارپائی سے باندھنے کے بعد الٹا لٹکا کر تشدد


2 شہریوں کو چارپائی سے باندھنے کے بعد الٹا لٹکا کر تشدد

 09 May, 2016Voice Of Society
لاہور (کرائم رپورٹر) پنجاب پولیس کی روائتی پولیس گردی ،انویسٹی گیشن ونگ منہ زور ہوتے ہوئے بے گناہ افراد کو غیر قانونی حراست میں لے کر بدترین تشدد کرتے ہوئے پرعوام دوست پالیسی کو تباہ کرنے لگا ،انچارج انویسٹی گیشن نے بغیر مقدمہ درج کیے 2 معصوم شہریوں کو 6 روز تک حراست میں رکھ کر چارپائی سے باندھ کر مختلف طریقوں سے جھوٹے مقدمات کا الزام لنیے کو کہتا رہا ،تشدد سے ایک کے گردے خراب ہو گئے اور دوسرے کا سرپھٹ گیا ،حالت غیر ہونے پر پرائیویٹ ہسپتالوں میں بھگاتے رہے ،تشدد کی تصاویر جاری ہونے پر ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے نوٹس لیتے ہوئے روائتی کارروائی شروع کرتے ہوئے انچارج انویسٹی گیشن سمیت 5 اہلکاروں کو معطل کردیا تاہم کسی بھی اہلکارکے خلاف مقدمہ درج نہ ہوسکا۔تفصیلات کے مطابق تھانہ شالیمار کے انچارج انویسٹی گیشن حماد حسن بٹ نے 6 روز قبل اپنی نااہلی چھپانے اور افسران کو خو ش کرنے کیلئے فراز مسیح اور ڈویا مسیح نامی دو مقامی افراد کو ان کے مخالفین کے کہنے پر حراست میں لیا جہاں ان پر شراب سمیت مختلف نوعیت کے مقدمات کو قبول کرنے کیلئے زور دیتا رہا اور ان پر نوسربازی کرنے کا الزام عائد کیا جس سے انکار پر ان پر بدترین تشدد کرتے ہوئے انہیں چار پائی سے الٹا لٹکا کر ان پر روائتی تشدد اور رولا پھیر دیا جس کے باعث ڈویا مسیح کے گرد وں میں تکلیف شروع ہو گئی اور دوسرے کا سرپھٹ گیا تاہم پولیس کے روائتی تشدد سے دونوں افراد کی حالت غیر ہونے پر خود کو بچانے کیلئے انچارج انویسٹی گیشن حماد حسن بٹ اپنے دیگر اہلکاروں کے ہمراہ زخمی اور حالت خراب ہونے والے نوجوانوں کو مختلف کلینک اور ہسپتالوں میں لے کر پھرتا رہا جہاں کسی نے بھی ان کا علاج معالجہ کرنے سے انکار کردیا جس پر انہیں شالیمار ہسپتال لے گئے جہاںان کا علاج کیا جارہا ہے ،غیر قانونی طور پر زیر حراست افراد پر تشدد کرنے کے دوران کسی اہلکار نے دونوں کی تصاویر بنا لیں اور ذرائع ابلاغ کو جاری کردیں جس کے جاری ہونے کے بعد عوام دوست پالیسی کی دعوئے دار پولیس افسران کی جانب سے فوری کارروائی کا عمل شروع ہوتے ہوئے روائتی طریقہ کار میں انچارج انویسٹی گیشن کو معطل کردیا تاہم کسی بھی اہلکار کے خلاف مقدمہ درج نہ کیا گیا بلکہ واقعہ کو دبانے کی کوشش کرتے ہوئے واقعہ کی صرف انکوائری کمیٹی بنا دی گئی ،واضح رہے کہ چند روز قبل بھی تھانہ شفیق آباد میں انسپکٹر شاہد گجر نے موٹر سائیکل رکشہ چلانے والے افراد کو تشد د کا نشانہ بنایا تھا جہاں بھی تصاویر جاری ہونے پر ایس ایچ او سمیت 6 اہلکاروں کو معطل کیا گیا تھا مگر واقعہ کے چند رو ز بعد معطل ہونے والے ایس ایچ او سمیت تمام اہلکار بحال ہو گئے اور من پسند سیٹوں پر تعینات کردیا گیا اور کسی بھی اہلکار کے خلاف پولیس ایکٹ کے مطابق کارروائی نہ کی گئی۔شالیمار کے علاقے میں ملزمان فراز مسیح اور ڈویا مسیح پر تشدد کرنے کے حوالے سے ایس ایس پی عمر سلامت کا کہنا ہے متعلقہ انچارج انویسٹی گیشن کو معطل کر دیا گیا ہے۔ ایس ایس پی عمر سلامت کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ ملزمان کریمنل ہیں۔ تاہم تشدد نا قابل برداشت ہے، انکوائری کے بعد جو اہلکار ملوث ہو گا اس کے اوپر مقدمہ بھی درج کیا جائے گا۔

No comments:

Post a Comment