Thursday, 12 May 2016

سبین محمود قتل، صفورا گوٹھ حملے کے مجرموں کی سزائے موت کی توثیق


سبین محمود قتل، صفورا گوٹھ حملے کے مجرموں کی سزائے موت کی توثیق

 12 May, 2016                                                                                                                                                            Voice Of Society
بیان کے مطابق پانچوں مجرم القاعدہ کے سرگرم ارکان تھے اور انہوں نے مقدمہ شروع ہونے سے قبل اپنے جرائم کا اعتراف کیا تھا۔اسلام آباد —پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے پانچ دہشت گردوں کی سزا کی توثیق کر دی ہے۔فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق یہ دہشت گرد کراچی میں صفورا چورنگی میں اسمٰعیلی برادری کی بس پر حملے کے علاوہ سماجی کارکن سبین محمود کے قتل میں ملوث تھے۔بیان کے مطابق پانچوں مجرم القاعدہ کے سرگرم ارکان تھے اور انہوں نے مقدمہ شروع ہونے سے قبل اپنے جرائم کا اعتراف کیا تھا۔فوج کے بیان کے مطابق یہ شدت پسند کراچی میں سماجی کارکن سبین محمود کو قتل کرنے اور صالح مسجد کراچی کے نزدیک دیسی ساختہ بم سے دھماکہ کرنے کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بھی حملے میں شامل ہیں۔بیان کے مطابق مجرم طاہر حسین منہاس ولد خادم حسین منہاس پر نو الزامات، سعد عزیز ولد عبدالعزیز شیخ کو دس الزامات ، اسد الرحمٰن ولد عتیق الرحمٰن کو چار الزامات، حافظ ناصر ولد افضل احمد اور محمد اظہر عشرت ولد عشرت رشید احمد کو پانچ پانچ الزامات ثابت ہونے پر سزائے موت سنائی گئی ہے۔گزشتہ سال مئی میں کراچی کے علاقے صفورا گوٹھ میں اسماعیلی برادری کے ارکان کو لے جانے والی ایک بس پر حملہ کر کے لگ بھگ 45 کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا، جب کہ معروف سماجی کارکن سبین محمود کو بھی گزشتہ سال ہی اپریل میں قتل کیا گیا تھا۔2015ء کے اوائل میں ملک میں دہشت گردی کے مقدمات کی فوری سماعت کے لیے دو سال کے عرصے کے فوجی عدالتیں قائم کی گئیں تھیں جن سے اب تک متعدد افراد کو سزائیں دی جا چکی ہیں۔دسمبر 2014ء میں پشاور میں ایک اسکول پر ملک کی تاریخ کے بدترین دہشت گردی حملے کے مطابق انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل کے تحت دو سال کے لیے ملک میں خصوصی فوجی عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش غیر معمولی حالات سے نمٹنے کے لیے یہ خصوصی عدالتیں بنائی گئیں جن میں دہشت گردی میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات ہی چلائے جا رہے ہیں۔اب تک فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے متعدد شدت پسندوں کی سزاؤں پر عمل درآمد ہو چکا ہے جب کہ بعض نے ان سزاؤں کے خلاف ملک کی اعلیٰ عدالتوں میں نظر ثانی کی اپیل بھی دائر کی جن میں سے کچھ کی سزاؤں پر عمل درآمد معطل بھی کیا گیا۔

No comments:

Post a Comment