Friday, 27 May 2016

مہمند ایجنسی: سکیورٹی فورسز سے جھڑپ مں چار 'دہشت' گرد ہلاک


مہمند ایجنسی: سکیورٹی فورسز سے جھڑپ مں چار 'دہشت' گرد ہلاک

 27 May, 2016                                                                                                                                                             voice of society
حملہ آوروں نے خوئیزئی کے علاقے میں چیک پوسٹ پر حملہ کیا جس پر سکیورٹی فورسز نے جوابی کاررروائی کرتے ہوئے چار مشتبہ دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔پاکستان کے شمال مغرب میں افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے مہمند میں سکیورٹی فورسز سے جھڑپ میں مبینہ طور پر سرحد پار افغانستان سے حملہ کرنے والے چار مشتبہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں۔سرکاری ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے خوئیزئی کے علاقے میں چیک پوسٹ پر حملہ کیا جس پر سکیورٹی فورسز نے جوابی کاررروائی کرتے ہوئے چار مشتبہ دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔جہاں یہ واقعہ پیش آیا وہاں ذرائع ابلاغ کی رسائی نہ ہونے کی وجہ سے اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق تقریباً ناممکن ہے۔مہمند ایجنسی وفاقی کے زیر انتظام سات قبائلی علاقوں میں سے ایک ہے اور یہ افغان سرحد سے ملحق ہے۔ماضی میں بھی شدت پسند یہاں سکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتے رہے ہیں لیکن سکیورٹی فورسز کی طرف سے عسکریت پسندوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں سے ایسے واقعات میں قابل ذکر کمی دیکھی گئی ہے۔اس سے قبل بھی پاکستانی فوج یہ کہہ چکی ہے کہ مبینہ طور پر سرحد پار افغانستان سے شدت پسند قبائلی علاقوں میں حملے کرتے رہے ہیں اور حالیہ برسوں میں باجوڑ ایجنسی میں ایسے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں۔دونوں ملکوں کے درمیان ڈھائی ہزار کلومیٹر سے زائد طویل سرحد ہے جس کا ایک بڑا حصہ دشوار گزار ہے اور وہاں سکیورٹی فورسز کی موجودگی نہیں ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ شدت پسند اکثر ایسے ہی دشوار گزار علاقوں کے علاوہ باقاعدہ سرحدی گزرگاہوں سے عام شہریوں کے بھیس میں سرحد کے آر پار نقل و حرکت کرتے ہیں۔حال ہی میں پاکستان اور افغانستان نے سرحد پر نگرانی کو موثر بنانے کے لیے اقدام پر اتفاق کیا ہے۔

Thursday, 19 May 2016

جہنم کیاہے


حافظ کریم اللہ چشتی پائی خیل 0333.6828540
جہنم کیاہے
ارشادباری تعالیٰ ہے۔لَھَاسَبْعَۃُ اَبْوَابِِ لِکُلِّ بَابِِ مِّنْھُمْ جُزْء’‘مَّقْسُوْم’‘۔ترجمہ۔اُس (جہنم)کے سات دروازے ہیں ہردروازے کے لئے ان میں سے ایک حصہ بناہواہے۔اللہ رب العزت نے کافروں،مشرکوں،منافقوں اوردوسرے گناہ گار،مجرموں کوعذا ب اورسزادینے کے لئے آخرت میں نہایت ہی خوفناک مقام تیارکررکھاہے جس کانام جہنم ہے ۔اسی کودوزخ بھی کہتے ہیں جہنم ساتویں زمین کے نیچے ہے اس کے سات طبقات ہیں۔
۱۔ جہنم ۲۔ لَظٰی ۳۔ حُطَمَہ ۴۔ سَعیر ۵۔ سَقَر ۶۔ جحیم ۷۔ ہاویہ
مطلب یہ ہے کہ شیطان کی پیروی کرنے والے بھی سات حصوں میں منقسم ہیں ان میں سے ہرایک کے لئے جہنم کاایک طبقہ معین ہے۔جہنم کی خوفناک شکل
آقاعلیہ الصلوٰۃ والسلام کاارشادپاک ہے ۔جہنم جب قیامت کے دن اپنی جگہ لائی جائے گی تواسکوسترہزارلگامیں لگائی جائیں گی اورہرلگام کوسترہزار فرشتے کھینچتے ہوں گے۔جہنم کے داروغہ کانام مالک(علیہ السلام)ہے یہ ایک فرشتہ ہے ان ہی کے زیراہتمام دوزخیوں کوہرقسم کاعذاب دیاجائے گا ۔ جہنم کے عذاب کی چندصورتیں ہیں ۔جہنم میں دوزخیوں کوطرح طرح کے خوفناک اوربھیانک عذاب میں مبتلاکیاجائے گاان عذابوں کی قسموں اوران کی کیفیتوں کوخداوندعلامُ الغیوب کے سواکوئی نہیں جانتاجہنم میں دی جانے والی سزاؤں کودنیامیں کوئی سوچ بھی نہیں سکتاعذاب کی چندصورتیں ہیں جن کاتذکرہ حدیثوں میں آیاہے ان میں سے بعض یہ ہیں۔ 
آگ کاعذاب
جہنم میں دوزخیوں کوجہنم کی آگ میں باربارجلایاجائے گاجب جل کرکوئلہ ہوجائیں گے توپھرانکونئے گوشت اورنئے چمڑے کے ساتھ زندہ کیاجائے گا پھرانکوآگ میں جلایاجائے گایہ عذاب باربارہوتارہے گا۔آقاعلیہ الصلوٰۃ والسلام کاارشادپاک ہے ۔کہ فرشتوں نے ایک ہزارسال تک جہنم کی آگ کو بھڑکایاتووہ سرخ ہوگئی پھردوبارہ ایک ہزارسال تک بھڑکائی گئی تووہ سفیدہوگئی پھرجب تیسری بارایک ہزاربرس تک جب بھڑکائی گئی تووہ کالے رنگ کی ہوگئی نہایت ہی خوفناک سیاہ رنگ کی ہے ۔نبی کریمﷺکاارشادپاک ہے جہنم کی آگ کی گرمی دنیاکی آگ کی گرم سے انہتردرجے زیادہ گرم ہے۔ (مشکوٰۃ شریف)ایک روایت میں ہے کہ جہنم میں ایک تنورہے جواندرسے بہت چوڑااوراوپرسے بہت کم چوڑاہے اس میں زناکارمردوں اور عورتوں کوڈال دیاجائے گاتووہ آ گ شعلوں میں وہ سب جلتے ہوئے تنورکے منہ تک اوپرآجائیں گے پھرایک دم وہ شعلے بجھ جائیں گے توسب اوپرسے نیچے تنورکی گہرائی میں گرپڑیں گے۔(بخاری شریف)ایک اورروایت میں ہے کہ دوزخی جہنم کی آگ میں جھلس کرایسے مسخ ہوجائیں گے کہ اوپرکاہونٹ سکڑکرآدھے سرتک پہنچ جائے گااوراسی طرح نچلاہونٹ لٹک کرناف تک پہنچ جائے گا۔
خونیں دریاکاعذاب
کچھ دوزخیوں کوخون کے دریا میں ڈال دیاجائے گاتووہ تیرتے ہوئے کنارہ کی طرف آئیں گے توایک فرشتہ پتھرکی چٹان انکے منہ پراس زورسے مارے گاکہ وہ پھردریاکے بیچ میں پلٹ کرچلے جائیں گے یہی عذاب باربارانکودیا جائے گایہ سودخوروں کاگروہ ہوگا۔(بخاری)
گلپھڑے چیرنے کاعذاب
ہم دنیامیں لوگوں کودھوکادینے کے لئے دن میں ہزاروں جھوٹ بولتے ہیں جھوٹ بولنے والوں کاانجام یہ ہوگا۔جہنم میں جولوگ ہونگے انکو اسطرح عذاب دیاجائے گاکہ ایک فرشہ انکولٹاکرایک سنسی انکے منہ میں ڈال دے گااورایک گلپھڑے کواس قدر پھاڑدے گاکہ اسکاشگاف اسکے سرکے پچھلے حصہ تک پہنچ جائے گاپھراسی طرح دوسرے گلپھڑے کوپھاڑدیاجائے گایہاں تک پہلاگلپھڑا درست ہوجائے گاپھراسکوپھاڑدیا جائے گااسی طرح گلپھڑے درست ہوتے رہیں گے اوروہ فرشتہ انکوسنسی کی پکڑسے چیرتااورپھاڑتارہے گایہ جھوٹ بولنے والوں کاگروہ ہوگا۔(بخاری)
منھ نوچنے کاعذاب
حضورﷺمعراج کی رات ایک ایسی قوم کے پاس سے گزرے جو(جہنم میں) تانبے کے ناخنوں سے اپنے چہرے اورسینوں کونوچ رہے تھے توآپ ﷺنے پوچھااے جبرائیل امین یہ کون لوگ ہیں؟توجبرائیل ؑ نے کہایہ وہ لوگ ہیں جوآدمیوں کاگوشت کھاتے تھے یعنی لوگوں کی غیبت کرتے تھے اور لوگوں کی آبروریزی کرتے تھے۔(مشکوٰۃ)
سانپ بچھوکاعذاب
آقاﷺکافرمان عالی شان ہے کہ عجمی اونٹوں کے مثل بڑے بڑے سانپ ہونگے جوجہنمیوں کوڈستے ہونگے وہ ایسے زہریلے ہونگے کہ اگر ایک مرتبہ کاٹ لیں توچالیس سال تک انکے زہرکادردنہیں جائے گااورلگام لگائے ہوئے خچروں کے برابربڑے بچھودوزخیوں کوڈنک مارتے رہیں گے انکی تکلیف بھی چالیس سال تک باقی رہے گی۔
بعض دوزخیوں کے گلے میں سانپوں کاطوق پہنادیاجائے گاجونہایت ہی زہریلے ہونگے اوروہ لگاتارکاٹتے رہیں گے۔(القرآن)
گرم پانی اورپیپ کاعذاب
دوزخیوں کوگرم پانی جوروغن زیتوں کے تلچھٹ کی طرح گندہ ہوگاپیناپڑے گاجومنہ کے قریب لاتے ہی چہرے کی پوری کھال کوپگھلاکرگرادے گااوریہی گرم پانی انکے سروں میں ڈالاجائے گاتویہ پانی پیٹ میں داخل ہوکرپیٹ کے اندرتمام اعضاء کوٹکڑے ٹکڑے کرکے انکے قدموں میں گرادے گا۔(مشکوٰۃ شریف)اللہ پاک سے دعاگوہوں کہ اللہ پاک ہمیں اعمال صالح کرنے کی توفیق عطافرمائے اورنبی کریمﷺکی شفقت ومحبت عطافرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین

شب براء ت بخشش ومغفرت کی رات

حافظ کریم اللہ چشتی پائی خیل ضلع میانوالی6828540 ۔0333
شب براء تبخشش ومغفرت کی رات 
شعبان المعظم کی پندرہویں رات کو"شب براء ت کہاجاتاہے۔شب کے معنی رات اوربراء ت کے معنی چھٹکارے کے ہیں اس رات میں اللہ رب العزت قبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعدادسے زیادہ گناہ گاروں کی بخشش فرماتاہے۔ عرب قبائل میں سے سب سے زیادہ بکریاں پالنے والاقبیلہ قبیلہ بنی قلب تھا اس رات اللہ رب العزت کی اپنی مخلوق پرخصوصی رحمتیں ہوتی ہیں اللہ رب العزت کی رحمت دوطرح کی ہے ایک عام اوردوسری خاص اللہ تعالیٰ کی رحمت عام!جو ہرخاص وعام کے لئے ہے،خواہ وہ مسلمان ہویاکہ کافر،یہودی ہویاکہ نصرانی ،حیوان ہویاکہ پتھرآپ خوداندازہ کریں کہ جب بارش ہوتی ہے توہرایک کے کھیت چاہے امیرکاہویاکہ غریب کا،نیک کاہویاکہ بُرے کا سب میں پڑتی ہے یعنی وہ ہرایک کے لئے یکساں ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی رحمت خاص یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنے حالات کے مطابق مانگتاہے ۔اللہ پاک اسے بھی عنایت فرماتاہے۔شب براء ت ایک ایسی رات ہے جس میں اللہ پاک دونوں طرح کی رحمتوں کانزول فرماتاہے جسکا ہرذی روح کوفائدہ پہنچتاہے۔پندرہ شعبان کی رات کتنی نازک رات ہے۔ انسان بعض اوقات غفلت میں پڑارہتاہے اوراسکے بارے میں کچھ کاکچھ ہوچکاہوتاہے اس رات سال بھرمیں ہونے والے تمام امورکائنات،عروج وزوال ، اوبارواقبال،،کامیابی،ناکامی رزق میں وسعت وتنگی موت وحیات اورکارخانہ قدرت کے دوسرے شعبہ جات کی فہرست مرتب کی جاتی ہے۔اورفرشتوں کواپنے اپنے کاموں کی تقسیم کردی جاتی ہے۔یوں توشعبان المعظم کا سارامہینہ برکت والاہے مگراسکی پندرہویں رات بڑی برکت والی ہے اس رات اللہ رب العزت گناہ گاروں کودوزخ کی آگ سے نجات دیتا ہے۔قرآن مجید فرقان حمیدمیں اس رات کو"لیلۃمبارکہ"یعنی برکتوں والی رات ،کہا گیاہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے۔حٰمٓ وَالْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ اِنَّا اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃٍمُّبٰرَکَۃٍ اِنَّاکُنَّامُنْذِ رِیْنَ فِیْھَایُفْرَقُ کُلُُّّ اَمْرٍحَکِیْمٍ اَمْرًامِّنْ عِنْدِنَا اِنَّا کُنَّا مُرْسِِلِیْنَ رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَ اِنَّہ‘ ھُوَالسَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(سورۃ الدخان آیت نمبر۱تا۶)حآ قسم اس روشن کتاب کی بے شک ہم نے اسے برکت والی رات میں اتارابے شک ہم ڈرسنانے والے ہیں اس میں بانٹ دیاجاتاہے ہرحکمت والاکام ہمارے پاس کے حکم سے بے شک ہم بھیجنے والے ہیں تمہارے رب کی طرف سے رحمت بے شک وہی سنتاہے اورجانتاہے .آقاعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی امت کے لئے اللہ رب العزت کی طرف سے شب براء ت ایک نعمت عظمٰی ہے۔حدیث پاک میں ہے اللہ کے رسولﷺ نے شعبان المعظم کی تیرہویں رات کوبارگاہ خداوندی میں اپنی امت کے لئے شفاعت کی درخواست کی توایک تہائی امت کی بخشش قبول ہوئی۔پھرچودھویں رات میں دعاکی تودوتہائی امت کی شفاعت عطاکی گئی۔ پھرپندرہویں رات"شب براء ت"میں دعاکی تو ساری امت کے حق میں شفاعت قبول ہوگئی ہے۔سوائے ان نافرمان بندوں کے جواللہ تعالیٰ کی اطاعت سے اونٹ کی طرح بدک کربھاگتے ہیں۔یعنی نافرمانی کرکے اللہ سے دوربھاگے۔ (مکاشفۃ القلوب)ام المومنین سیدتناحضرت عائشۃ الصدیقۃؓ فرماتی ہیں۔کہ اللہ تعالیٰ کے محبوب ﷺپورے ماہ شعبان میں روزے رکھتے یہاں تک کہ اسے رمضان المبارک سے ملادیتے۔میں نے عرض کیایارسول اللہﷺ ماہ شعبان کے روزے آپ ﷺکودوسرے مہینوں کی بہ نسبت زیادہ محبوب وپسندیدہ ہیں؟ توآپ ﷺنے ارشادفرمایاہاں اے عائشہؓ !جوبھی سال بھرمیں فوت ہوتاہے اسکاوقت(وفات) شعبان ہی کے مہینے میں لکھ دیاجاتاہے تویہ بات مجھے محبوب ہے کہ میرے وصال کاوقت اس حال میں لکھاجائے کہ میں اپنے رب کی عبادت اورنیک کام میں مشغول ہوں ایک روایت میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایااے عائشہؓ اسی مہینے میں ملک الموت فوت ہونے والوں کے نام لکھ لیتے ہیں تومجھے یہ پسندہے کہ میرانام روزہ کی حالت میں لکھاجائے۔(درمنثور)
حضرت علاء بن حارثؓ سے روایت ہے کہ ام المومنین حضرت عائشۃ الصدیقہؓ نے فرمایاکہ رسول اللہﷺ رات کواٹھے اورنمازپڑھنے لگے اوراتنے لمبے سجدے کیے کہ مجھے یہ خیال ہواکہ آپﷺ کی وفات ہوگئی ہے۔میں نے جب یہ معاملہ دیکھاتومیں اٹھی آپﷺکے پاؤں کے انگوٹھے کوحرکت دی اس میں حرکت ہوئی میں واپس لوٹ آئی جب آپ ﷺنے سجدے سے سراٹھایا اورنمازسے فارغ ہوئے توفرمایااے عائشہ!یافرمایااے حمیراء!کیا تمہارے دلمیں یہ سوچ پیداہوگئی کہ اللہ تمہاراخیال نہ کریں گے تومیں نے عرض کیایارسول اللہﷺ بخدایسی بات نہیں درحقیقت مجھے یہ خیال ہواکہ شایدآپکی وفات ہوگئی ہے کیونکہ آپ نے سجدے بہت لمبے کیے آپﷺ نے فرمایاجانتی بھی ہویہ کیسی رات ہے؟ میں نے عرض کیااللہ اوراسکے رسولﷺ ہی زیادہ جانتے ہیں فرمایایہ شعبان کی پندرہویں رات ہے۔اللہ پاک اس رات اپنے بندوں پرنظرِرحمت فرماتاہے اور بخشش چاہنے والوں کی مغفرت فرمادیتاہے رحم مانگنے والوں پررحم کردیتاہے مگردل میں عنادرکھنے والوں کوان کے حال پرچھوڑدیتاہے۔(بیہقی فی شعب الایمان )
ام المومنین سیدتنا حضرت عائشۃ الصدیقۃؓ سے روایت ہے کہ بیشک رسول اللہﷺ نے فرمایاکہ (اے عائشہؓ )تم جانتی ہوکہ یہ کونسی رات ہے میں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ نصف شعبان کی رات اسمیں خاص بات کیاہے؟توآپ ﷺ نے فرمایااس (رات) سال بھرمیں پیداہونے والے اورمرنے والے لوگوں کی فہرست مرتب کی جاتی ہے اس رات بندوں کے اعمال اٹھائے جاتے ہیں اس رات لوگوں کارزق اتاراجاتاہے۔ام المومنین سیدتناحضرت عائشۃ الصدیقۃؓ فرماتی ہیں میں نے عرض کیایارسول اللہ ﷺ کیاہرکوئی اللہ کی رحمت سے جنت میں داخل ہوگا؟تو سرکارعلیہ الصَّلوٰۃ والسَّلام نے فرمایاہاں؟ کوئی شخص ایسانہیں جواللہ کی رحمت کے بغیرجنت میں داخل ہواوریہ کلمات آپﷺ نے تین مرتبہ فرمائے میں نے عرض کیااورآپ بھی یارسول اللہﷺ ؟ توآپﷺ نے اپنا دست مبارک سرپررکھ کرفرمایااورمیں بھی جب تک اللہ تعالیٰ کی رحمت میرے شامل حال نہ ہویہ کلمہ بھی آپﷺ نے تین بارفرمایا۔(بحوالہ بیہقی ) حدیث مبارکہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سال میں جوکام ہوناہے اسے متعلقہ فرشتے کے جوانجام دینے والاہوتاہے اس کے سپرد کردیا جاتا ہے۔حضرت عثما ن بن محمدبن مغیرہ بن اخنسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ زمین والوں کی عمریں ایک شعبان سے دوسرے شعبان تک لکھ دی جاتی ہیںیہاں تک کہ انسان شادی بیاہ کرتاہے اسکے بچے پیداہوتے ہیں حالانکہ اسکانام مُردوں میں داخل ہوچکاہوتاہے۔(تفسیرابنِ کثیر) یہی حدیث ایک اورمضمون کی ساتھ آئی ہے جسکے راوی حضرت ابوہریرہؓ ہیں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایاکہ ایک شعبان سے دوسرے شعبان تک مدت حیات کاختم ہونالکھ دیا جاتاہے یہاں تک کہ آدمی شادی کرتاہے۔ا سکے بعدبچہ پیداہوتاہے حالانکہ اسکانام مرنے والوں میں لکھاجاچکاہوتاہے۔ام المومنین سیدتناحضرت عائشۃ الصدیقہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کویہ فرماتے ہوئے سناکہ چارراتوں میں اللہ تعالیٰ رحمت کے دروازے کھول دیتاہے انہی میں سے ایک شعبان کی پندرہویں رات ہے اس رات میں وفات کے اوقات روزیاں اورحج کرنیوالوں کے نام لکھے جاتے ہیں۔(درِمنثور)
حضرت راشدبن سعدؓسے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایاپندرہ شعبان کواللہ تعالیٰ سال بھرمیں قبض کی جانیوالی روحوں کی فہرست ملک الموت کے حوالے کردیتاہے۔(روح المعانی)حضرت عطاربن یسارؒ فرماتے ہیں کہ جب شعبان کی پندرہویں رات ہوتی ہے توخداکی طرف سے ایک فہرست ملک الموت کودی جاتی ہے اورحکم دیاجاتاہے کہ ان لوگوں کی روحوں کواس سال قبض کرلیناہے جن کے نام اس فہرست میں شامل ہیں خواہ ان میں سے کوئی باغ کے درخت لگارہاہویاکوئی شادی کررہاہو یا مکان کی تعمیرکررہاہو۔غرض یہ کہ انکانام مردوں کی فہرست میں لکھاجاچکاہوتاہے۔اللہ تعالیٰ کے نظام کے اصول بڑے احسن طریقے سے مقررشدہ ہیں اور انکی حکمت اللہ ہی کومعلوم ہے۔دنیامیں انسان ہروقت کسی نہ کسی کام میں لگارہتاہے۔مگراللہ پاک کی بارگاہ میں اس کانام مرنے والوں کی فہرست میں لکھاہوتاہے اللہ پاک یہ نہیں دیکھتاکہ (انسان) کسی بڑے سے بڑے کام میں مصروف ہے۔یہ تواللہ ہی کومعلوم ہے کہ اس کادنیاسے فوت ہوجانے کاسب سے بہتروقت کونساہے۔اس رات کی فضیلت کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس رات میں اللہ رب العزت بے شمارلوگوں کے گناہ بخش دیتاہے جوآدمی اللہ تعالیٰ سے صدق دل سے معافی مانگ لیتاہے اللہ پاک اس کی سب خطائیں معاف کردیتاہے۔اللہ رب العزت کایہ فرمان عبرت نشان ہے کہ "فیغفرلمنیشاء ویعذب من یشاء"تو جسے چاہے گا بخشے گا جسے چاہے عذاب دیگا۔لہذاہم سب کوچاہیے کہ اس رات صدق دل سے اپنے ر ب کی بارگاہ سے توبہ کرلیں اللہ پاک کی طرف سے توبہ کادروازہ ہروقت کھلارہتاہے ۔
حضرت عثمان بن العاصؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایاجب شعبان کی پندرہویں رات ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک پکارنے والاپکارتاہے کہ کیاکوئی مغفرت کاطالب ہے کہ میں اسکی مغفرت کروں۔کیاکوئی مانگنے والاہے کہ میں اسے عطاکروں اس وقت جوشخص اپنے رب سے جوکچھ مانگتاہے اسے مل جاتاہے لیکن زانیہ اورمشرک کوکچھ بھی نہیں ملتا۔(بیہقی، فی شعب الایمان) اس مقدس رات میں بھی اللہ کی رحمت سے خالی رہنے والاشخص مشرک
اورزناخوربھی ہے۔حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایاجب شعبان کی پندرہویں رات ہوتی ہے تواللہ تعالیٰ سب کی بخشش فرمادیتاہے سوائے مشرک اورکینہ پرورکے(مجمع الزوائدجلد۸صفحہ۶۵)
ام المومنین حضرت عائشۃ الصدیقہؓ فرماتی ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ ﷺ کواپنے پاس نہ پایاتومیں آپﷺ کی جستجومیں نکلی کیا دیکھتی ہوں کہ آپ ﷺ جنت البقیع میں تشریف فرماہیںآقاعلیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تمہیں یہ خوف ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اسکارسولﷺ تمہارے ساتھ زیادتی کریں گے آپؓؓنے عرض کیایارسول اللہ ﷺ مجھے گمان ہواکہ آپﷺ کسی دوسری بیوی کے پاس چلے گئے ہیں۔پھرنبی کریم ﷺ نے فرمایابیشک اللہ تبارک وتعالیٰ پندرہ شعبان کی رات آسمان دنیاپر(اپنی شان کے مطابق )جلوہ گرہوتاہے۔اورقبیلہ بنوقلب کی بکریوں کے بالوں کی تعدادسے زیادہ گناہ گاروں کی مغفرت فرماتاہے۔(ترمذی جلدنمبر۱صفحہ ۱۵۶،ابن ماجہ صفحہ ۱۰۰،مسنداحمدجلد۶صفحہ۲۳۸،مشکوٰۃ ص ۲۷۷)حضرت عبداللہ بن عمر،عمروبن العاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاپندرہ شعبان کی رات اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف نظرِ رحمت فرماتے ہوئے سب کی بخشش فرماتاہے سوائے دوآمیو ں کے۔1۔کینہ پرور2۔کسی کوناحق قتل کرنیوالا.قاتل کے بارے میں ارشادباری تعالیٰ ہے۔ترجمہ۔ جوکسی مسلمان کوجان بوجھ کرقتل کرے اس کی سزاجہنم ہے اورمدتوں اس میں رہے اللہ پاک نے اس پر غضب کیااورلعنت کی اوراس کے لئے بڑاعذاب تیارکرکھا ہے ۔( النساء آیت نمبر۹۳ )قاتل کے بارے میں حدیث پاک میں آیاہے کہ قیامت کی دن مقتول (جوقتل ہوگیاتھا)اللہ کی بارگاہ میں اس طرح آئے گاکہ قاتل کے سرکااگلا حصہ مقتول کے ہاتھ میں ہوگااوریہ کہتاہواآئے گاکہ یااللہ اس نے مجھے قتل کیاتھا۔وہ اپنامقدمہ اللہ کی بارگاہ میں پیش کریگا۔(مشکوٰۃ)
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کی نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایاکہ میرے پاس جبرائیل امین ؑ شعبان کی پندرہویں رات کوتشریف لائے اورمجھ سے فرمایا اے صاحب مدحِ کثیر!اپناسرآسمان کی طرف اٹھائیے میں نے پوچھایہ کونسی رات ہے؟جبرائیل امین ؑ نے فرمایایارسول اللہ ﷺ یہ وہ رات ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے تین سودروازے کھول دیتاہے کافراورمشرک کے سواسب کوبخش دیتاہے مگریہ کہ وہ جادوگر ہویاکاہن،شراب کاعادی ہویاسودکاعادی ہو یازناکاعادی ہوان مجرموں کواپنے اپنے گناہ سے توبہ کرنے سے پہلے نہیں بخشتا(یعنی توبہ کرلیں توتوبہ قبول کرتاہے)پھررات کاجب چوتھائی حصہ ہواتو جبرائیل ؑ میرے پاس آئے اورعرض کیااے صاحب مدح عظیم!اپناسر اٹھائیے سرکارﷺ نے اپناسراٹھاکردیکھاکہ جنت کے سب دروازے کھلے ہیں پہلے دروازے پرایک فرشتہ ندادے رہاہے کہ اس رات میں رکو ع کرنے والوں کوبشارت ہو،دوسرے دروازے پرایک فرشتہ آوازدیتاہے۔اس رات میں سجدہ کرنیوالوں کوبشارت ہو،تیسرے دروازے پرایک فرشتہ آوازدیتا ہے کہ اس رات میں دعاکرنیوالوں کے لئے بھلائی ہو،چوتھے دروازے پرایک فرشتہ آوازدیتاہے کہ اس رات میں ذکرکرنیوالوں کومبارک ہو۔ پانچویں دروازے پرایک فرشتہ آوازدیتاہے کہ اس رات میں خداکے ڈرسے رونے والوں کومبارک ہو،جنت کے چھٹے دروازے پرایک فرشتہ آوازدیتاہے کہ اس رات تمام مسلمانوں پرخداکی رحمت ہو۔ساتویں دروازے پرایک فرشتہ پکارتاہے کہ ہے کوئی بخشش چاہنے والاکہ اسے بخش دیاجائے۔آٹھویں دروازے پرایک فرشتہ پکارتاہے کہ ہے کوئی کچھ مانگنے والاکہ اسے منہ مانگی مراددی جائے۔میں نے پوچھااے جبرائیلؑ یہ دروازے کب تک کھلے رہتے ہیں!توانہوں نے فرمایارات کے شروع ہونے سے لیکر صبح کے نمودارہونے تک کھلے رہتے ہیں پھر فرمایااے حمدوالے!اس رات میں اللہ تعالیٰ قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بال کی تعدادمیں لوگوں کوجہنم سے آزادکرتاہے۔(غنیہ الطالبین)اس حدیث مبارک میں جن لوگوں کاذکرآیاہے کہ یہ لوگ اللہ کی رحمت اوربخشش سے محروم رہتے ہیں ۔1۔مشرک!جوجوخدائے وحدہ لاشریک کے ساتھ دوسرے کواس کاشریک سمجھے اوراللہ تعالیٰ کے علاوہ اسکومستحق عبادت سمجھے۔2۔ ماں باپ کانافرمان کوبھی اللہ پاک نہیں بخشتا.3۔کاہن جوآئندہ کی باتیں اٹک پچّوسے بتائے یابتانے کامدعی ہو۔4۔نجومی جو غیب کی خبردے عالم غیب ہونے کادعوٰی کرے 5۔جادوگر یہ لوگوں کوایذادیتاہے اورزمین میں فسادمچاتاہے ۔اسکی بخشش تب تک نہ ہوگی جب تک توبہ نہ کرے۔6۔فال نکالنے والے 7۔سنت کے خلاف عمل کرنیوالے.8۔قاتل جوکسی محترم یامعصوم جان کومارڈالے۔9۔ جلاد10 ۔قرابت داروں سے رشتہ کاٹنے والے11۔کینہ پرور جسکاسینہ کسی مسلمان سے کینہ کی آلودگی میں ملوث ہو۔12۔سودکاعادی جس نے تین بارسودلیاہو 13۔سوددینے کاعادی14۔ناچ گانیوالے15۔زنا کے عادی مردہوں یاعورت 16۔ شراب کاعادی،ان بدنصیبوں کوچاہیے کہ بارگاہ لم یزل سے صدق دل سے توبہ کرلیں اورآئندہ کوئی گناہ نہ کریں ۔ضروراللہ پاک کوبخشنے والامہربان پائیں گے۔
حضرت ابوثعلبہ خشنیؓ نبی کریم ﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایاجب شعبان کی پندرہویں رات ہوتی ہے تواللہ پاک اپنی مخلوق پرنظررحمت ڈال

کرمسلمانوں کی بخشش فرمادیتاہے اورکافروں کومہلت دیتے ہیں اورکینہ پرورو ں کوانکے کینہ کی وجہ سے چھوڑدیتے ہیں تاوقتیکہ کہ وہ کینہ پروری چھوڑدیں۔(بیہقی، فی شعب الایمان)اللہ رب العزت کی صفت رحمان اوررحیم ہے اس لئے پندرہ شعبان کی رات اپنے بندوں خصوصاََاہل ایمان پراپنی رحمت نازل فرماتاہے ان کے گناہوں کوبخش دیتاہے یادرہے گناہوں سے مغفرت وبخشش اسکی ہوتی ہے جواپنے گناہ پرنادم ہوکراللہ کی بارگاہ سے توبہ کرلیتاہے اوراپنی اصلاح کرلیتاہے یعنی اپنے اعمال کوٹھیک کرلیتاہے۔ توبہ کادروازہ موت سے قبل ہروقت کھلاہے جوآدمی دروازہ کھٹکالیتاہے وہ کچھ نہ کچھ پالیتاہے۔جونہ کھٹکائے گاوہ ناکام ہوجائے گا۔ْحضرت معاذبن جبلؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایااللہ تعالیٰ پندرہ شعبان کی رات اپنی مخلو ق کی طرف اپنی نظررحمت فرماکرتمام مخلوق کی سوائے مشرک اوربغض رکھنے والے کے بخشش فرمادیتاہے۔(بیہقی،طبرانی)اس رات کی فضیلت کی سب سے بڑی ایک اوروجہ قبول شفاعت ہے یعنی جوآدمی اس رات میں اللہ پاک کی عبادت کریگااوراللہ کوراضی کرلیگاتو اس آدمی کوبروزقیامت آقاﷺ کی شفاعت نصیب ہوگی شفاعت کے متعلق آقاﷺ کے ارشادات مبارک ہیں۔حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ آقائے دوجہاںﷺنے ارشادفرمایا" اورمجھے کچھ ایسے فضائل ملے ہیں جومجھ سے پہلے کسی نبی کونہیں ملے اور مجھے شفاعت دی گئی.(بخاری،مسلم)حضرت عبداللہ بن عمرؓ اورحضرت ابوموسیٰ اشعریؓسے روایت ہے کہ آقاﷺ نے ارشادفرمایا"اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیاردیاکہ یاتوآپ شفاعت لے لو۔یایہ کہ تمہاری آدھی امت جنت میں جائے۔ میں نے شفاعت لی کہ وہ زیادہ عام اورزیادہ کام آنے والی ہے کیاتم یہ سمجھتے ہوکہ میری شفاعت پاکیزہ مسلمانوں کے لئے ہے نہیں بلکہ وہ ان گناہ گاروں کے واسطے ہے جوگناہوں سے آلودہ اورخطاکارہیں۔ (مسنداحمد،ابن ماجہ)
شب براء ت میں عبادت کاثواب
حضرت علی المرتضیٰ شیرِخداؓروایت کرتے ہیں کہ حضورﷺنے فرمایا!"جب شعبان المعظم کی پندرہویں رات ہوتواس رات کوقیام کرواوردن کوروزہ رکھو کیونکہ اس رات میں اللہ تعالیٰ کی تجلی آفتاب کے غروب ہونے کے وقت سے ہی آسمانِ دنیاپرظاہرہوتی ہے۔اوراللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ کوئی بخشش مانگنے والا ہے کہ میں اُسے بخش دوں،کیاکوئی رزق مانگنے والاہے کہ میں اُسکوعطاکروں،کیاکوئی مصیبت زدہ ہے کہ میں اسے چھوڑوں،کیاکوئی فلاں فلاں حاجت والا ہے کہ میں اسکی حاجت پوری کروں،حتیٰ کہ صبح ہوجاتی ہے۔(ابن ماجہ)
شب براء ت کی رات دورکعت نمازنفل اسطرح پڑھیں۔کہ ہررکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعدآیت الکرسی ایک بارسورۃ اخلاص پندرہ پندرہ مرتبہ بعد سلام کے درودشریف ایک سوبارپڑھ کرترقی رزق کی دعاکریں انشاء اللہ اس نمازکی برکت سے رزق میں برکت ہوگی۔
شب براء ت بعدازنمازمغرب چھ رکعت نمازدودورکعتیں کرکے پڑھے۔پہلی دو رکعت درازی عمرکے لئے ،دوسری دورکعت دفع بلاکے لئے، تیسری دورکعت حصول رزق کی نیت سے پڑھیں،ہردورکعت کے بعدسورۃ یٰسین ایک باریاسورۃ اخلاص 21بارپڑھیں اسکے بعددعائے نصف شعبان المعظم ایک بارپڑھیں۔
اس رات سورکعت نمازاسطرح پڑھیں کہ ہررکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعدسورۃ اخلاص دس دس بارپڑھیں اس نمازکوصلوٰۃ الخیرکہتے ہیں ۔ حضرت حسن بصریؓ نے فرمایاکہ مجھ سے سرورکائنات ﷺ کے 30صحابہ کرامؓ نے بیان کیا کہ جوشخص یہ نمازپڑھتاہے اللہ تعالیٰ اسکی طرف 70مرتبہ نگاہِ کرم فرمائے گااورہرنگاہ میں اسکی 70حاجتیں پوری فرمائے گا،اورادنی حاجت اسکی بخشش ہوگی ۔پندرہ شعبان کی رات سورۃ الدخان پڑھنابہت افضل ہے،انشاء اللہ اس کوپڑھنے والے کی اللہ تعالیٰ سترحاجات دنیاکی اورسترحاجات عقبیٰ کی پوری فرمائیگا۔ 
میرے مسلمان بھائیو!ہم نے اس رات کوکیاسمجھاہم نے اپنے آپ کواس رات کی فضیلت سے محروم رکھاہوا ہے۔اس رات عبادت کی بجائے سب برے شیطانی کام کرتے ہیں۔ہم نے اس رات میں کفارومشرکین والی رسم کواپنالیاہے ،ہم اس رات آگ سے بچنے کی دعانہیں کرتے بلکہ اپنے گھرمحلہ شہرمیں سڑکوں پرآگ جلاکراس بات کاثبوت دیتے ہیں کہ ہم مسلمان ہوکرکفارومشرکین والی رسموں کواپنائے ہوئے ہیں جسکی شریعت اجازت ہی نہیں دیتی اس رات کے علاوہ بھی یہ کام آگ جلانا، پٹاخے چھوڑنا ،بم وغیرہ پھٹاناحرام ہے۔اس سے ہمارا ذاتی کتنانقصان ہوتاہے کتنی جانیں چلی جاتی ہیں اس نقصان کااندازہ ہم اخبارات اورٹیلی ویژن وغیرہ سے لگاسکتے ہیں اللہ رب العزت ہم کواس بری رسم سے بچنے کی توفیق عطافرمائے اورآقائے دوجہاں سرورکائنات فخرموجوداتﷺ کی سچی اورپکی محبت عطافرمائے۔ اللہ رب العزت ملکِ پاکستان کوامن وسلامتی کاگہوارہ بنائے۔دشمنان اسلام ودشمنا ن ملک پاکستان کونیست ونابودفرمائے ۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللّٰہ

آقاﷺکامحبوب ترین مہینہ شعبان المعظم فضیلت وعبادت ماہ شعبان المعظم

حافظ کریم اللہ چشتی پائی خیل 0333.6828540
آقاﷺکامحبوب ترین مہینہ شعبان المعظم
فضیلت وعبادت ماہ شعبان المعظم 
شعبان المعظم قمری سال کاآٹھواں مہینہ ہے۔یہ سارامہینہ برکتوں اورسعادتوں کامجموعہ ہے۔ اس مہینہ کی پندرہویں رات کوشب براء ت کہا جاتاہے ۔ماہ شعبان آقاﷺکامحبوب ترین مہینہ ہے آپﷺاس ماہ مبارک میں اکثر روزے رکھاکرتے تھے اورفرمایا کرتے تھے کہ اپنی استطاعت کے مطابق عمل کروکہ اللہ پاک اس وقت تک اپنافضل نہیں روکتاجب تک تم اکتانہ جاؤبے شک اس کے نزدیک پسندیدہ نفل نمازوہ ہے جس پرہمیشگی اختیارکی جائے اگرچہ کم ہوتوپس جب آپﷺکوئی نفل نمازپڑھتے تواس پرہمیشگی اختیارفرماتے۔ 
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ روایت فرماتی ہیں کہ حضورنبی کریمﷺپورے شعبان کے روزے رکھاکرتے تھے آپؓ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیایارسول اللہﷺکیاسب مہینوں میں آپﷺکے نزدیک زیادہ پسندیدہ شعبان کے روزے رکھناہے تونبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ رب العزت اس سال مرنے والی ہرجان کولکھ دیتاہے اورمجھے یہ پسندہے کہ میراوقت رخصت آئے اورمیں روزہ دارہوں (مسندابویعلیٰ) حضرت سیدنااسامہ بن زیدؓ فرماتے ہیں میں نے عرض کی یارسول اللہﷺمیں آپﷺکوشعبان کے روزے رکھتے ہوئے دیکھتاہوں کہ آپﷺ کسی بھی مہینے میں اسطرح روزے نہیں رکھتے فرمایارجب اوررمضان کے بیچ میں یہ مہینہ ہے لوگ اس سے غافل ہیں اس میں لوگوں کے اعمال اللہ رب العزت کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اورمجھے یہ محبوب ہے کہ میراعمل اس حال میں اٹھایا جائے کہ میں روزہ دارہوں ۔(سنن نسائی)
لفظ شعبان میں پانچ حروف ہیں ۔ش،ع،ب،ا،ن ۔ش سے مرادشرف یعنی بزرگی ، ع سے مرادعُلُوّیعنی بلندی،ب سے مرادبریعنی بھلائی واحسان ،اسے اُلْفت اورنسے مرادنورہے۔یہ تمام چیزیں اللہ پاک اپنے بندوں کواس ماہ مبارک میں عطافرماتاہے ۔اس ماہ مبارک میں نیکیوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں برکات کانزول ہوتاہے خطائیں معاف کردی جاتی ہیں گناہوں کاکفارہ اداکیا جاتاہے آقائے دوجہاں ﷺپر درودکی کثرت کی جاتی ہے اوریہ نبی مختارﷺپردرودبھیجنے کامہینہ ہے ۔
سیدناحضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ ماہ شعبان المعظم کاچاندنظرآتے ہی صحابہ کرام علیہم الرضوان تلاوت قرآن پاک میں مشغول ہوجاتے اپنے اموال کی زکوٰۃ نکالتے تاکہ کمزورومسکین لوگ ماہ رمضان المبارک کے روزوں کی تیاری کرسکیں حکام قیدیوں کوطلب کرکے جس پرحدقائم کرناہوتی اس پرحدقائم کرتے اوربقیہ کوآزادکردیتے تاجراپنے قرضے اداکردیتے دوسروں سے اپنے قرضے وصول کرلیتے اوررمضان المبارک کاچاندنظرآتے ہی غسل کرکے (بعض حضرات سارے ماہ کے لئے )اعتکاف میں بیٹھ جاتے ۔(غنیہ الطالبین )
آقائے دوجہاں سرورکون ومکاں ﷺکاارشادپاک ہے ۔شَعْبَانُ شَھْرِیْ وَرَمَضَانُ شَھْرُاللّٰہ ترجمہ! شعبان میرامہینہ ہے اور رمضان اللہ تعالیٰ کامہینہ ہے۔ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ نبی کریمﷺکوتمام مہینوں سے زیادہ پیارامہینہ شعبان کامہینہ تھا۔(نزہۃالمجالس)اس ماہ مبارک کی پندرہویں رات کتنی نازک رات ہے نہ جانے قسمت میں کیالکھ دیاجاتاہے انسان بعض اوقات غفلت میں پڑارہ جاتا ہے اوراسکے بارے میں کچھ کاکچھ ہوچکاہوتاہے۔شب براء ت جہنم کی آگ سے نجات پانے کی رات ہے مگرآج کل ہم مسلمانوں کوکیاہوگیا ہے آگ سے چھٹکاراحاصل کرنے کے بجائے پیسے خرچ کرکے خوداپنے لئے آگ یعنی آتشبازی کاسامان خریدتے ہیں حکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمیؒ فرماتے ہیں کہ آتشبازی نمرودبادشاہ نے ایجادکی جب اس نے حضرت ابراہیم خلیل اللہ ؑ کو آگ میں ڈالااورآگ گلزارہوگئی تو اس کے آدمیوں نے آگ کے اناربھرکران میں آگ لگاکرحضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی طرف پھینکے ۔
یہ بڑی عظمت والی رات ہے اس رات اللہ پاک گناہ گاروں کودوزخ کی آگ سے نجات دیتاہے ہم اس رات آگ سے بچنے کی بجائے گھروں میں شیطانی کام (پٹاخے،شرکنیاں،ٹائر وغیرہ جلانا) کرتے ہیں حکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمیؒ فرماتے ہیں آتشبازی بنانا،بیچنا،خریدنااور خریدوانا ، چَلانااورچلواناسب حرام ہے ۔ لہذاہم خود بھی ان کاموں سے بچیں،دوسروں کوبھی بچائیں اوراللہ پاک کی رحمت کے حقداربن جائیں۔ شعبان کامہینہ برکتوں اورسعادتوں کامجموعہ ہے مگراسکی پندرہویں رات بڑی برکت والی ہے۔قرآن مجیدفرقان حمید میں اس رات کو"لیلۃِِِمُبارکۃ" کہا گیا ہے ارشادباری تعالیٰ ہے۔ترجمہحمٓ اس کتاب روشن کی قسم،ہم نے اس کومبارک رات میں اتاراہم توڈرسنانے والے ہیں بانٹ دیاجاتا ہے اس رات میں ہرحکمت والاکام ہمارے پاس کے حکم سے بیشک ہم بھیجنے والے ہیں تمہارے رب کی طرف سے رحمت بیشک وہ سنتاہے جانتاہے۔
مفسرین کرام نے"لیلۃِِ مبارکۃ"سے مرادشعبان المعظم کی پندرہویں رات لی ہے۔ماہ شعبان کی پندرہویں رات کو"شب براء ت ‘‘کہاجاتاہے شب کے معنی رات اوربراء ت کے معنی چھٹکارے کے ہیں اس رات میں اللہ رب العزت قبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعدادسے زیادہ گناہ گاروں کی بخشش فرماتاہے۔قبیلہ بنی کلب کے بارے میں آتاہے کہ عرب قبائل میں سے سب سے زیادہ بکریاں پالنے والاقبیلہ قبیلہ بنی قلب تھا۔ام المومنین حضرت عائشہ الصدیقہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے ارشادفرمایااللہ پاک شعبان کی پندرہویں شب میں تجلی فرماتاہے استغفاریعنی توبہ کرنے والوں کوبخش دیتاہے اورطالب رحمت پررحم فرماتاہے عدوات والوں کوجس حال پرہیں اسی پرچھوڑدیتاہے (شعب الایمان)حضرت سیدنامعاذبن جبلؓ سے روایت ہے کہ سلطان مدینہ راحت قلب وسینہ جناب احمدمجتبیٰ محمدمصطفیﷺکاارشادپاک ہے شعبان کی پندرہویں شب میں اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کی طرف تجلی فرماتاہے اورسب کوبخش دیتاہے مگرکافراور عدوات والے کو(نہیں بخشتا)۔ (صحیح ابن حبان)
حضر ت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایامیرے پاس جبرائیل ؑ آئے اورکہایہ شعبان کی پندرہویں رات ہے اسمیں اللہ تعالیٰ جہنم سے اتنوں کوآزادفرماتاہے جتنے بنی کلب کی بکریوں کے بال ہیں مگرکافر،عداوت والے،رشتہ کاٹنے والے،(تکبرکے ساتھ ٹخنوں سے نیچے)کپڑالٹکانے والے،والدین کی نافرمانی کرنے والے اورشراب کے عادی کی طرف نظررحمت نہیں فرماتا۔ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ پاک شعبان کی پندرہویں شب میں تمام زمین والوں کوبخش دیتاہے سوائے کافراورعداوت والے کے ۔
امیرالمومنین حضرت علی المرتضیٰ شیرخداؓ شعبان المعظم کی پندرہویں رات اکثرباہرتشریف لاتے ایک باراسی طرح شب براء ت میں باہرتشریف لائے اورآسمان کی طرف نظراٹھاکرفرمایاایک مرتبہ اللہ کے نبی حضرت سیدناابوداؤدؑ نے شعبان کی پندرہویں رات آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اورفرمایایہ وہ وقت ہے کہ اس وقت میں جس شخص نے اللہ پاک سے جودعامانگی اسکی دعااللہ پاک نے قبول فرمائی اورجس نے مغفرت طلب کی اللہ پاک نے اس کی مغفرت فرمادی بشرطیکہ دعاکرنے والاعُشّار(ظلماََ ٹیکس لینے والا)جادوگر،کاہن ،نجومی ،ظالم،حاکم کے سامنے چغلی کھانے والاگَویّااورباجابجانے والانہ ہوپھریہ دعاکی ۔اَللّٰھُمَّ ربَّ دَاو‘دَ اغْفِرْلِمَنْ دَعَاکَ فِیْ ھٰذِہٖ اللَّیْلَۃِ اَوِاسْتَغْفَرَکَ فِیْھَایعنی اے اللہعزوجل!اے داؤدعلیہ السلام کے رب جوکوئی اس رات میں تجھ سے دعاکرے یا مغفرت طلب کرے تواس کوبخش دے۔(ماثبت بالسنۃ ) 
ام المومنین حضرت عائشۃ الصدیقہؓ فرماتی ہیں۔کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایااللہ تعالیٰ چارراتوں کوخیروبرکت کے دروازے صبح تک کھول دیتاہے۔ 1۔ شب عیدالفطر2۔شبِ عیدالاضحی 3۔پندرہ شعبان کی رات(اس رات کومخلوق کی درازی عمر ،رزق میں برکت اورحاجیوں کے نام لکھے جاتے ہیں)4۔شب یوم عرفہ(نوذوالحجہ کی رات)اذان (فجر)تک ،فرشتوں کی آسمان میں دوعیدکی راتیں ہوتی ہیں جسطرح مسلمانوں کے لئے زمین پردوعیدیں ہوتی ہیں فرشتوں کی عیدیں شب براء ت اورلیلۃ القدرہیں مومنوں کی عیدیں عیدالفطر اورعیدالاضحی ہیں فرشتوں کی عیدیں رات کواسلئے ہوتی ہیں کہ وہ سوتے نہیں اورمومنوں کی عیدیں دن کواسلئے ہوتی ہیں کہ وہ سوتے ہیں۔
حضرت علی المرتضیٰ شیرِخداؓروایت کرتے ہیں کہ حضورﷺنے فرمایا"جب شعبان المعظم کی پندرہویں رات ہوتواس رات کوقیام کرواوردن کو روزہ رکھو کیونکہ اس رات میں اللہ تعالیٰ کی تجلی آفتاب کے غروب ہونے کے وقت ہی سے آسمانِ دنیاپرظاہرہوتی ہے۔اوراللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ کیا کوئی بخشش مانگنے والاہے کہ میں اُسے بخش دوں،کیاکوئی رزق مانگنے والا ہے کہ میں اُسکوعطاکروں،کیاکوئی مصیبت زدہ ہے کہ میں اسے چھوڑوں، کیاکوئی فُلاں فُلاں حاجت والاہے کہ میں اسکی حاجت پوری کروں،حتیٰ کہ صبح ہوجاتی ہے"۔ابن ماجہ
حضرت علی المرتضیٰؓ فرماتے ہیں کہ میں نے شعبان المعظم کی پندرہویں رات کوحضورﷺکودیکھاکہ آپﷺ نے چودہ رکعت نمازاداکی پھرآپﷺنے بیٹھ کرسورۃ الفاتحہ، سورۃ الاخلاص ،سورۃ الفلق اورسورۃ الناس چودہ مرتبہ پڑھیں۔پھرآیت الکرسی ایک بارپڑھ کر لَقَدْجَآءَ کُمْ رَسُوْل’‘مِنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْز’‘عَلَیْْہِ مَاعَنِتُّمْ حَرِیْص’‘ عَلَیْکُمْ بِالْمُءْومِنِیْنَ رَءُ وْف’‘ رَّحِیْم’‘۔فَاِنْ تَوَلَّوْفَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّاھُوَعَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ:پوری آیت کریمہ پڑھی پھراس سے فارغ ہوکرحضورﷺنے فرمایا"اے علی جو ایساعمل کریگاجیساکہ میں نے کیاتواس کو20مقبول حج اور20سال کے روزوں کاثواب ملیگا۔
جوشخص اس رات کوچاررکعت نمازنفل عبادت کی نیت سے پڑھے ۔اوردن کوروزہ رکھے تواللہ تعالیٰ اسکے 50سال کے گناہ معاف فرمادیتاہے۔
جو شخص اس رات کوآٹھ رکعت نمازنفل اس طرح اداکرے کہ ہررکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعدگیارہ ،گیارہ مرتبہ سورۃ الاخلاص پڑھے اورنمازپڑھ کراس نمازکاثواب سیدہ کائنات حضرت فاطمۃ الزہراؓکی روح کوبخشے تواُسکے متعلق سیدہ کائنات فاطمۃ الزہراؓ فرماتی ہیں کہ میں جنت میں اسوقت تک قدم نہیں رکھوں گی جب تک اسکی شفاعت نہ کروالوں۔
آقائے دوجہاں ﷺ نے ارشادفرمایاکہ جس نے بارہ رکعت نمازنفل اسطرح پڑھے کہ ہررکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعددس مرتبہ سورۃ الاخلاص پڑھے تواسکے تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اوراسکی عمرمیں برکت ہوگی۔
حضورﷺ نے ارشادفرمایاجوشخص پندرہ شعبان کوروزہ رکھتاہے اُسے دوسال ایک گذشتہ اورایک سال آئندہ کے روزوں کاثواب ملتاہے۔ ایک اورروایت میں ہے کہ پندرہ شعبان کوجن،پرندے،درندے اورسمندرکی مچھلیاں بھی روزہ رکھتی ہیں۔
( صلوٰ ۃ التسبیح )
ان نوافل کی تعلیم حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے چچاحضرت عباسؓ کودی۔اوریہ فرمایاکہ اس نمازکوپڑھنے والوں کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں آقاﷺنے فرمایا اس کوروزانہ پڑھوورنہ جمعہ کے دن پڑھواگریہ نہ ہوسکے تومہینہ میں ایک بارپڑھویہ بھی نہ ہوسکے توسال میں ایک بارپڑھواگریہ بھی نہ ہوسکے توعمرمیں ایک بارپڑھو۔

معمولی عارضہِ قلب کی علامات پر فوری اسپرین لینی چاہئے: تحقیق


معمولی عارضہِ قلب کی علامات پر فوری اسپرین لینی چاہئے: تحقیق

 20 May, 2016Voice of Society
لندن (بی بی سی) برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کے معروف محققین کا کہنا ہے اگر لوگوں میں معمولی عارضہِ قلب کی علامات ہوں تو انہیں فوری طور اسپرین لینی چاہیے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ نازک گھنٹوں کے دوران اور معمولی عارضہِ قلب کے بعد اسپرین لینے سے دل کے بڑے دورے کی شدت میں آٹھ فیصد کمی ہو جاتی ہے۔ یہ تحقیق جریدے لینسیٹ میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے نتائج کے مطابق دل کی بیماری کے دوران اسپرین کے فوائد کے بارے غلط اندازے لگائے گئے ہیں۔ خیال رہے اسپرین کے روزانہ استمال سے صحت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں جیسے السر، معدے یا دماغ سے خون رسنا وغیرہ تاہم عارضہِ قلب میں مبتلا بہت سے مریضوں کو روزانہ کی بنیاد پر اسپرین تجویز کی جاتی ہے۔

Tuesday, 17 May 2016

ہیں سب چور لٹیرے



!ہیں سب چور لٹیرے
چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ
پانامہ پانامہ پانامہ! سن سن کر اب عوام بھی تنگ آچکی ہے۔روز روز کوئی نہ کوئی بڑی اور اہم خبر اور پھر پانامہ کا دھماکہ۔کیا یہ دھماکہ پاکستان میں ٹھس ہو جاتا ہے؟قارئین ویسے تو آپ سب جانتے ہیں لیکن میں پھر بھی بتاتا جاؤں کے پانامہ لیکس میں جن آف شور کمپنیوں کا ذکر کیا جاتا ہے وہ کیا ہیں کس لئے ہیں اور کیوں ہیں؟سب سے بڑا مقصد تو ٹیکس بچانا ہوتا ہے۔ اور پاکستان سمیت مختلف ممالک کے امراء بزنس مین و سیاست دان اپنی بڑی رقوم ایسے ممالک میں انویسٹ کرتے ہیں۔جہاں ٹیکس کی شرح بہت کم ہو اور ان کی دولت یا کمپنی کو بھی صیغہ راز میں رکھا جائے۔پانامہ نے جن آف شور کمپنیوں کا زکر کیا ہے ان میں زیادہ تر بزنس مین شامل ہیں جن کے اپنے ممالک میں ٹیکس کی شرح بہت زیادہ ہے یا بہتر مواقع نہیں۔انہوں نے ایسے ممالک میں آف شور کمپنیاں بنائی ہیں جہاں ٹیکس سے بچت ہو جائے اور ان کے اس کام کو بھی صیغہ راز میں رکھا جائے۔یعنی ٹیکس سے بچنے کے لئے کافی سارے بزنس مین آف شور کمپنیاں بناتے ہیں۔اور جو سیاست دان آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں وہ سوالیہ نشان بن گئے ہیں۔وہ اس وقت مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ ملکی دولت کو کسی دوسرے ملک میں صیغہ راز میں رکھنا ایک جرم سمجھا جاتا ہے ایسے سیاستدان کو مشکوک نظروں سے دیکھا جاتا ہے اور اسکی تحقیقات ہوتی ہیں ۔لیکن ہمارے ہاں تو بڑے بڑ ے ڈھیٹ سیاستدان ہیں اور احمق عوام۔جن ممالک میں آف شور کمپنیاں بنائی جاتی ہیں انہیں کسی نہ کسی طرح فائدہ ضرور ملتا ہے۔ایسے ممالک ایشین لوگوں کو زیادہ پریفرینس دیتے ہیں کیونکہ ایشیائی لوگ سوال جواب بہت کم کرتے ہیں اور زیادہ تحقیقاتی بھی نہیں ہوتے۔پانامہ اور آف شور کمپنیوں کی معلومات لکھنے سے قاصر ہوں۔اب میں اپنے عنوان کی طرف آتا ہوں’’ہیں سب چور لٹیرے‘‘۔پانامہ نے کوئی بہت بڑا دھماکہ نہیں کیا بس بین الاقوامی سطح پر لوگوں کو بتایا ہے۔بہت سے لوگ ایسی معلومات پہلے بھی رکھتے تھے۔بہت سے صحافیوں تجزیہ کاروں اور لکھاریوں نے بار بار بتایا ہے کہ یہ سب چور لٹیرے ہیں۔ انکی دولت اور بزنس بیرون ممالک ہیں میرا خیال ہے کہ پاکستان کے با شعور لوگ یہ سب پہلے سے ہی جانتے تھے۔میں بھی بار بار چوروں لٹیروں کے بارے میں لکھ چکا ہوں۔میرے دوست احباب اسرار کرتے تھے پانامہ کے بارے لکھوں مگر میں جانتا تھا کہ فوری لکھنے کا کوئی فائدہ نہیں یہ سب وقتی ہے۔اس کی زد میں سب سیاستدان آنے والے ہیں۔کوئی ایک دو اس کی لپیٹ کا حصہ نہیں بلکہ سارے کا سارا آوہ ہی اس کی زد میں آئے گا۔سب چور اور لٹیرے ہیں یہ قوم کا پیسا کھاتے تھے کھاتے ہیں اور کھاتے رہیں گے۔یہ وقتی مظاہرے اور تنقیدیں صرف اپنے مفادات کی خاطر ہیں۔عوام کو تو صرف اور صرف بے وقوف بنایا جاتا ہے۔سب اپنے آپ کو صادق سمجھتے ہیں اور اپنے آپ کو صادق و امین ثابت کرنے کے لئے طرح طرح کے جھوٹ اور بہانے بنانے میں مصروف ہیں۔کوئی کہتا ہے میری آف شور جائز ہے کوئی کہتا نہیں صرف میری جائز ہے۔سب دھوکے باز اور اقتدار کے لالچی ہیں۔انہیں اسلامی حکمرانی کے بارے کچھ علم نہیں۔یہ ایک دوسرے کا احتساب نہیں ہونے دیں گے۔کیونکہ سب ہی احتساب کے شکار میں پھنس جائیں گے اور بے نقاب تو پہلے ہی سے ہیں ذلیل بھی ہو جائیں گے۔کیا دور ہے ایک مسلم ملک میں عدلیہ آزاد نہیں عدلیہ فیصلہ نہیں کرسکتی۔عدلیہ حکومتی بوجھ تلے دب گئی ہے۔اگر انصاف کرنے کا عہد کیا ہے تواس کی پاسداری بھی کرو۔ورنہ مستعفی ہو جاؤ انصاف نہیں کرسکتے تو آپکا موجود ہونا نہ ہونا ایک برابر ہے۔کیونکہ پھر آپ بھی چور لٹیروں کے یار نظر آتے ہیں۔میں بار بار لکھ چکا ہوں کے جس کا نام کرپشن یا دوسری بدعنوانیوں میں موجود ہو اسے تا حیات الیکشنز کے لئے نا اہل ٹھہرایا جائے۔میں پورے پاکستان سے ملک کی عوام ملک کے ایوان ملک کی انتظامیہ ملک کی عدلیہ نیز ہر فرد سے اور ملک کی افواج سے گزارش کرتا ہوں کے کوئی ایسا قانون ایسا نظام تشکیل دیں جس سے سارے کرپٹ دہشتگرد اور نا اہل سیاستدانوں کو ہمیشہ کے لئے سیاست سے دور پھینکا جائے اور انکے ساتھ ساتھ کرپٹ آفیسرز کا بھی کڑا احتساب کیا جائے تا کہ غلط کام کرتے وقت احتساب کا ڈر ضرور ہو۔پڑھے لکھے سادہ اور نیک ایمان دار لوگوں کو سامنے لایا جائے۔روپے اسلحے کا زور ختم کیا جائے۔قوانین پر عملدرآمد کروایا جائے۔سرکاری اداروں کو آزاد اور فعال بنایا جائے۔انصاف کے فیصلوں پر عملدرآمد کروایا جائے۔میری عوام سے گزارش ہے کہ اگر وطن کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ان سب چور لٹیروں کو تا حیات نااہل کروانے اور ان کے کڑے احتساب کے لئے صدا بلند کریں تاکہ ملک پاکستان بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔میں پورے وثوق سے کہتا ہوں سب چور لٹیرے ہیں۔اگر پانامہ کی ایک اور قسط جاری ہو جائے تو ان میں سے مزید آپکے سامنے ننگے ہو جائیں گے۔میرا آخر میں سوال ہے کہ آف شور کمپنیاں بنانے کی نوبت کیوں آئی؟اس کی بہت بڑی وجہ بھی ہمارے وطن کے چور لٹیرے ہی ہیں۔سب سے زیادہ آف شور کمپنیاں بزنس مین طبقہ کی ہیں۔ہمارے وطن میں سیاستدانوں اور انکے حامیوں نے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے۔سیاستدان اور انکے یار حکومتی ملازمین بزنس طبقہ کو ستاتے رہتے ہیں اور بھتہ مانگتے ہیں بھتہ نہ ملنے پر بے جا ٹیکسوں یا کسی اور خوف سے ڈراتے ہیں ۔ایسی کئی مشکلات کی وجہ سے بزنس مین خود کو یہاں محفوظ نہیں سمجھتا اور بیرون ممالک آف شور کمپنیاں بناتا ہے۔تحقیق تو سب کی ہونی چاہیے اور ہر لحاظ سے ہونی چاہیے اور بیرون ممالک رقوم ٹرانسفر کرنے کی وجوہات بھی معلوم کی جانی چاہیے۔ملکی رقم کو پاکستان واپس لانے کے لئے بھی سخت اقدامات اٹھانے ہوں گے۔لیکن ایسا ہونے کون دے گا ایسا کرنے کون دے گا ؟کیوں کہ سب لٹیرے یار ہیں۔ذرا سوچئے۔
یہ ان سب کو طماچہ ہے جو میں نے مارا ہے
اٹھو میری قوم کے لوگو ذرا تم بھی طماچہ دو۔

Thursday, 12 May 2016

آرمی چیف نے5دہشت گردوں کی سزائےموت کی توثیق کردی


آرمی چیف نے5دہشت گردوں کی سزائےموت کی توثیق کردی

 12 May, 2016Voice Of Society
اسلام آباد:امن دشمنوں منطقی انجام تک پہنچانے کا اقدام،آرمی چیف نے 5دہشتگردوں کی سزائےموت کی توثیق کردی۔سزاپانےوالوں میں صالح مسجدکےقریب دھماکےمیں ملوث دہشت گرد شامل ہیں۔پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر ‘ کے مطابق سزائے موت کی سزا پانیوالے دہشتگردوں میں سبین محمود کا قاتل ، صفورہ بس حملے کے ملزم اور صالح مسجد کے قریب بم دھماکے کا منصوبہ ساز بھی شامل ہے ۔ سزاپانیوالوں میں طاہرحسین منہاس ، سعد عزیز، اسد الرحمان ، حافظ ناصر اور محمد اظہر عشرت شامل ہیں جو القاعدہ کے فعال رکن ہیں ۔ان دہشتگردوں کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل کیاگیا اور تمام دہشتگردوں نے اپنا جرم قبول کیا جس کے بعد سزاسنائی گئی اور اب آرمی چیف نے بھی توثیق کردی۔آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گرد صفورا بس حملے اور سبین محمود کے قتل میں ملوث ہیں۔ سزا پانے والے پانچوں دہشت گردوں کا فوجی عدالت میں ٹرائل کیا گیا۔نیوویب ڈیسک

سبین محمود قتل، صفورا گوٹھ حملے کے مجرموں کی سزائے موت کی توثیق


سبین محمود قتل، صفورا گوٹھ حملے کے مجرموں کی سزائے موت کی توثیق

 12 May, 2016                                                                                                                                                            Voice Of Society
بیان کے مطابق پانچوں مجرم القاعدہ کے سرگرم ارکان تھے اور انہوں نے مقدمہ شروع ہونے سے قبل اپنے جرائم کا اعتراف کیا تھا۔اسلام آباد —پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے پانچ دہشت گردوں کی سزا کی توثیق کر دی ہے۔فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق یہ دہشت گرد کراچی میں صفورا چورنگی میں اسمٰعیلی برادری کی بس پر حملے کے علاوہ سماجی کارکن سبین محمود کے قتل میں ملوث تھے۔بیان کے مطابق پانچوں مجرم القاعدہ کے سرگرم ارکان تھے اور انہوں نے مقدمہ شروع ہونے سے قبل اپنے جرائم کا اعتراف کیا تھا۔فوج کے بیان کے مطابق یہ شدت پسند کراچی میں سماجی کارکن سبین محمود کو قتل کرنے اور صالح مسجد کراچی کے نزدیک دیسی ساختہ بم سے دھماکہ کرنے کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بھی حملے میں شامل ہیں۔بیان کے مطابق مجرم طاہر حسین منہاس ولد خادم حسین منہاس پر نو الزامات، سعد عزیز ولد عبدالعزیز شیخ کو دس الزامات ، اسد الرحمٰن ولد عتیق الرحمٰن کو چار الزامات، حافظ ناصر ولد افضل احمد اور محمد اظہر عشرت ولد عشرت رشید احمد کو پانچ پانچ الزامات ثابت ہونے پر سزائے موت سنائی گئی ہے۔گزشتہ سال مئی میں کراچی کے علاقے صفورا گوٹھ میں اسماعیلی برادری کے ارکان کو لے جانے والی ایک بس پر حملہ کر کے لگ بھگ 45 کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا، جب کہ معروف سماجی کارکن سبین محمود کو بھی گزشتہ سال ہی اپریل میں قتل کیا گیا تھا۔2015ء کے اوائل میں ملک میں دہشت گردی کے مقدمات کی فوری سماعت کے لیے دو سال کے عرصے کے فوجی عدالتیں قائم کی گئیں تھیں جن سے اب تک متعدد افراد کو سزائیں دی جا چکی ہیں۔دسمبر 2014ء میں پشاور میں ایک اسکول پر ملک کی تاریخ کے بدترین دہشت گردی حملے کے مطابق انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل کے تحت دو سال کے لیے ملک میں خصوصی فوجی عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش غیر معمولی حالات سے نمٹنے کے لیے یہ خصوصی عدالتیں بنائی گئیں جن میں دہشت گردی میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات ہی چلائے جا رہے ہیں۔اب تک فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے متعدد شدت پسندوں کی سزاؤں پر عمل درآمد ہو چکا ہے جب کہ بعض نے ان سزاؤں کے خلاف ملک کی اعلیٰ عدالتوں میں نظر ثانی کی اپیل بھی دائر کی جن میں سے کچھ کی سزاؤں پر عمل درآمد معطل بھی کیا گیا۔

مایہ ناز کرکٹ کمنٹیٹر ٹونی کوزیئر انتقال کر گئے


مایہ ناز کرکٹ کمنٹیٹر ٹونی کوزیئر انتقال کر گئے

 12 May, 2016Voice Of Society
بار باڈوس: (ویب ڈیسک) بارباڈوس سے تعلق رکھنے والے ٹونی کوزیئر ٹی وی، ریڈیو اور صحافت کے ساتھ 58 برس منسلک رہے۔ ان کی پیدائش سنہ 1940 میں برج ٹاؤن میں ہوئی تھی اور انھوں نے سنہ 1966 میں بی بی سی ٹیسٹ میچ سپیشل میں پہلی بار کمنٹری کی تھی۔ ٹونی کوزیئر کئی کتابوں کے مصنف بھی تھے۔ کرکٹ ماہرین کا کہنا تھا کہ ٹونی ٹی وی اور ریڈیو پر ہر بال پر کمنٹری کرنے کے استاد تھے۔ وہ دونوں شعبوں میں استاد تھے۔ گذشتہ 25 برسوں کے دوران دونوں شعبوں میں ان سے بہترین کارکردگی دکھانے والا شخص نہیں ملا۔ ٹونی کوزیئر کے والد بھی صحافت سے منسلک تھے۔ انھوں نے کینیڈا کے شہر اوٹاوا کی کارلٹن یونیورسٹی سے صحافت کی تعلیم حاصل کی تھی اور سنہ 1958 میں ویسٹ انڈیز میں کمنٹری اور مضامین نگاری کا آغاز کیا تھا۔ وہ بارباڈوس کی ہاکی ٹیم کے گول کیپر بھی رہے تھے۔ بار باڈوس کے دو کرکٹ کلبز وانڈررز اور کارلٹن کی ٹیم میں بطور اوپننگ بلے باز اور وکٹ کیپر بھی کھیلے تھے۔ دسمبر 2011 میں انھیں میرلبورن کرکٹ کلب کی اعزازی رکنیت دی گئی تھی اور بارباڈوس کے کینسنگٹن اوول میں میڈیا سینٹر کو ان کے نام سے منسوب کیا گیا تھا۔ ویسٹ انڈیز کے سابق فاسٹ بولر اور کرکٹ کمنٹیٹر مائیکل ہولڈنگ کہتے ہیں کہ میں نے ٹونی کوزیئر کے ساتھ گھنٹوں گزارے ہیں۔ انھوں نے بھرپور زندگی گزاری اور وہ ان کو بھی سخت جواب دیتے تھے جو ویسٹ انڈیز کرکٹ پر غیرمنصفانہ تنقید کرتے تھے۔

voc email address

Send Your Articles

Sunday, 8 May 2016

شہریوں کو چارپائی سے باندھنے کے بعد الٹا لٹکا کر تشدد


2 شہریوں کو چارپائی سے باندھنے کے بعد الٹا لٹکا کر تشدد

 09 May, 2016Voice Of Society
لاہور (کرائم رپورٹر) پنجاب پولیس کی روائتی پولیس گردی ،انویسٹی گیشن ونگ منہ زور ہوتے ہوئے بے گناہ افراد کو غیر قانونی حراست میں لے کر بدترین تشدد کرتے ہوئے پرعوام دوست پالیسی کو تباہ کرنے لگا ،انچارج انویسٹی گیشن نے بغیر مقدمہ درج کیے 2 معصوم شہریوں کو 6 روز تک حراست میں رکھ کر چارپائی سے باندھ کر مختلف طریقوں سے جھوٹے مقدمات کا الزام لنیے کو کہتا رہا ،تشدد سے ایک کے گردے خراب ہو گئے اور دوسرے کا سرپھٹ گیا ،حالت غیر ہونے پر پرائیویٹ ہسپتالوں میں بھگاتے رہے ،تشدد کی تصاویر جاری ہونے پر ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے نوٹس لیتے ہوئے روائتی کارروائی شروع کرتے ہوئے انچارج انویسٹی گیشن سمیت 5 اہلکاروں کو معطل کردیا تاہم کسی بھی اہلکارکے خلاف مقدمہ درج نہ ہوسکا۔تفصیلات کے مطابق تھانہ شالیمار کے انچارج انویسٹی گیشن حماد حسن بٹ نے 6 روز قبل اپنی نااہلی چھپانے اور افسران کو خو ش کرنے کیلئے فراز مسیح اور ڈویا مسیح نامی دو مقامی افراد کو ان کے مخالفین کے کہنے پر حراست میں لیا جہاں ان پر شراب سمیت مختلف نوعیت کے مقدمات کو قبول کرنے کیلئے زور دیتا رہا اور ان پر نوسربازی کرنے کا الزام عائد کیا جس سے انکار پر ان پر بدترین تشدد کرتے ہوئے انہیں چار پائی سے الٹا لٹکا کر ان پر روائتی تشدد اور رولا پھیر دیا جس کے باعث ڈویا مسیح کے گرد وں میں تکلیف شروع ہو گئی اور دوسرے کا سرپھٹ گیا تاہم پولیس کے روائتی تشدد سے دونوں افراد کی حالت غیر ہونے پر خود کو بچانے کیلئے انچارج انویسٹی گیشن حماد حسن بٹ اپنے دیگر اہلکاروں کے ہمراہ زخمی اور حالت خراب ہونے والے نوجوانوں کو مختلف کلینک اور ہسپتالوں میں لے کر پھرتا رہا جہاں کسی نے بھی ان کا علاج معالجہ کرنے سے انکار کردیا جس پر انہیں شالیمار ہسپتال لے گئے جہاںان کا علاج کیا جارہا ہے ،غیر قانونی طور پر زیر حراست افراد پر تشدد کرنے کے دوران کسی اہلکار نے دونوں کی تصاویر بنا لیں اور ذرائع ابلاغ کو جاری کردیں جس کے جاری ہونے کے بعد عوام دوست پالیسی کی دعوئے دار پولیس افسران کی جانب سے فوری کارروائی کا عمل شروع ہوتے ہوئے روائتی طریقہ کار میں انچارج انویسٹی گیشن کو معطل کردیا تاہم کسی بھی اہلکار کے خلاف مقدمہ درج نہ کیا گیا بلکہ واقعہ کو دبانے کی کوشش کرتے ہوئے واقعہ کی صرف انکوائری کمیٹی بنا دی گئی ،واضح رہے کہ چند روز قبل بھی تھانہ شفیق آباد میں انسپکٹر شاہد گجر نے موٹر سائیکل رکشہ چلانے والے افراد کو تشد د کا نشانہ بنایا تھا جہاں بھی تصاویر جاری ہونے پر ایس ایچ او سمیت 6 اہلکاروں کو معطل کیا گیا تھا مگر واقعہ کے چند رو ز بعد معطل ہونے والے ایس ایچ او سمیت تمام اہلکار بحال ہو گئے اور من پسند سیٹوں پر تعینات کردیا گیا اور کسی بھی اہلکار کے خلاف پولیس ایکٹ کے مطابق کارروائی نہ کی گئی۔شالیمار کے علاقے میں ملزمان فراز مسیح اور ڈویا مسیح پر تشدد کرنے کے حوالے سے ایس ایس پی عمر سلامت کا کہنا ہے متعلقہ انچارج انویسٹی گیشن کو معطل کر دیا گیا ہے۔ ایس ایس پی عمر سلامت کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ ملزمان کریمنل ہیں۔ تاہم تشدد نا قابل برداشت ہے، انکوائری کے بعد جو اہلکار ملوث ہو گا اس کے اوپر مقدمہ بھی درج کیا جائے گا۔

پاناما لیکس کا دوسرا دور، کئی سیاستدانوں اور اہم شخصیات کے نام شامل


پاناما لیکس کا دوسرا دور، کئی سیاستدانوں اور اہم شخصیات کے نام شامل

 09 May, 2016Voice Of Society
پانامہ لیکس کا دوسرا دور شروع ہوگیا۔ پانامہ لیکس نے اپنی چشم کشا رپورٹ کا دوسرا دھماکہ بھی کردیا ہے۔ عمر چیمہ کی جانب سے دی گئی تازہ رپورٹ منظر عام پر آگئی۔ کئی سیاستدانوں سمیت اہم شخصیات کے نام شامل ہیں۔پاکستان سمیت دنیا بھر ہلچل مچانے والی پانامہ لیکس کا خفیہ اکاؤنٹس رکھنے والوں کے خلاف چشم کشا رپورٹ کا دوسرا دور شروع ہوگیا ہے۔ پانامہ لیکس کی دوسرے دھماکے میں آئی سی آئی جے کے رکن پاکستانی صحافی عمر چیمہ کی جانب سے دی گئی رپورٹ میں 400 سے زائد سیاستدانوں، کارباری اور دیگر اہم شخصیات کے نام شامل ہیں۔عمر چیمہ کی رپورٹ میں عمران خان کے قریبی ساتھی، بے نظیربھٹوکے کزن، الطاف حسین اورآصف علی زرداری کے قریبی دوستوں کے نام شامل ہیں۔ فہرست میں سابق سیکیورٹی افسر کے بیٹے، پورٹ قاسم اتھارٹی کے ایم ڈی کے بیٹے اور چند ہفتوں قبل آسکر ایوارڈ جیتنے والی شرمین عبید چنائے کی والدہ کا نام بھی شامل ہے۔