Wednesday, 10 August 2016

تھانہ پائی خیل سے چارکلومیٹرکے فاصلے پرمیانوالی کالاباغ بنوں روڈپرسرِشام ڈاکہ ،واپڈاآفیسرسے اسلحہ کی نوک پرموٹرسائیکل ،نقدی اورسروس کارڈچھین کرلے گئے

پائی خیل (نامہ نگار)تھانہ پائی خیل سے چارکلومیٹرکے فاصلے پرمیانوالی کالاباغ بنوں روڈپرسرِشام
ڈاکہ ،واپڈاآفیسرسے اسلحہ کی نوک پرموٹرسائیکل ،نقدی اورسروس کارڈچھین کرلے گئے ۔تفصیلات کے مطابق تھانہ پائی خیل کی حدودمیں تھانہ سے چارکلومیٹرکے فاصلے میانوالی بنوں کالاباغ روڈپرسرِشام پائی خیل محلہ علی خان خیل کارہائشی گریڈاسٹیشن ماڑی پرتعینات سنیئرسپریٹنڈنٹ آفیسرواپڈاخان محمدڈیوٹی دینے کے بعدواپس اپنے گھرپائی خیل آرہاتھاکہ دونامعلوم ڈاکوؤں نے اسلحہ تان کرراستہ روک لیااوراسلحہ کی نوک پرموٹرسائیکل نمبرMIL-14-1935، نقدی3500روپے ،سروس کارڈاورشناختی کارڈچھین کرفرارہوگئے ۔تاہم سنیئرسپریٹنڈنٹ آفیسرواپڈاخان محمدنے دونامعلوم ڈاکوؤں کے خلاف رپورٹ درج کروادی ہے تاہم پورے علاقہ میں نوعمربگڑے لڑکوں کاڈاکہ مارنامشغلہ بن چکاہے۔علاوہ ازیں میانوالی کالاباغ بنوں زیرتعمیرروڈہونے کی وجہ سے ایسی وارداتیں روزکامعمول بن چکی ہیں۔ڈی پی اومیانوالی صادق علی ڈوگرسے نوٹس لینے اورپولیس گشت کامؤثرنظام بنانے کامطالبہ کیاہے۔
پائی خیل (نامہ نگار)معروف مذہبی راہنما حافظ کریم اللہ چشتی نے کہاکہ زندہ آزادومختارقومیں اپنے وطن سے کھل کرمحبت اوراپنی آزادی کاجشن شایان شان طریقے سے مناتی ہیں۔کیونکہ آزادی کی خوشیاں مناناان خوشیوں میں شریک ہوناان کی رونقیں دوبالاکرنایقینازندہ اورمحب وطن قوموں کاشیوہ ہے۔خالق کائنات مالکِ ارض وسماوات قرآن مجیدمیں بھی ہمیں یہی حکم دیتاہے کہ جب بھی کسی نعمت کاتم پرحصول ہوتواس پرخوب خوشی کااظہارکرو۔یعنی سجدہ تشکربجالاؤ۔ ’’اگرتم میراشکراداکروگے تومیں تمہیں اوردونگااوراگرناشکری کروگے تومیراعذاب سخت ہے‘‘۔وطن عزیزپاکستان کی آزادی اللہ تعالیٰ کی کسی بڑی نعمت اورفضل وکرم سے کم نہیں ۔کیونکہ اللہ رب العالمین نے 14اگست1947کے دن مسلمانوں کوانگریزوں کی غلامی سے نجات دلاکرانہیں ایساخطہ ارضِ پاک عطاکیاجوہرقسم کے معدنی وسائل سے مالامال ہے۔۔تواِ س لئے ہرمحبت وطن پاکستانی کایہ حق بنتاہے کہ اپنے پیارے وطن پاکستان سے محبت کرے ۔کیونکہ لاکھوں مسلمانوں نے اس ملک کے حصول کے لئے اپنی قیمتی جانوں کانذرانہ اوربے شمارقربانیاں پیش کیں۔دوسرا ہم نئی نسل کوجوپاکستان کاقیمتی اثاثہ ہیں جنہوں نے اس وطن عزیزکی باگ دوڑسنبھالنی ہے اس لئے نئی نسل کوقیامِ پاکستان کے لئے دی جانیوالی قربانیوں سے روشناس کراناان کی یادتازہ کرناہماراملی فریضہ ہے۔کیونکہ یہ بات ہرکسی پرروزِروشن کی طرح عیاں ہے کہ یہ ملک لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں کاثمرہے اگرہمارے بزرگ یہ قربانیاں نہ دیتے توشایدآج بھی ہم آزادنہ ہوتے؟تحریک پاکستان میں صرف مردنہیں بلکہ خواتین کاکرداربھی ہماری تاریخ کاسنہری باب ہے۔
پائی خیل (نامہ نگار)پائی خیل اورگردنواح میں گرانفروشوں نے اُت مچارکھی ہے ۔تفصیلات کے مطابق پائی خیل اورگردنواح میں سبزیات،فروٹس، گوشت اوردیگرخوردونوش کی اشیاء کے من مانے ریٹ مقررکرکے شہریوں کوفروخت کرکے دونوں ہاتھوں سے لوٹاجارہاہے ۔کریانہ دکانوں پرکہیں بھی ریٹ لسٹ آویزاں نہیں کی جاتی زیادہ ریٹ سے اشیاء کوفروخت کرنااپناحق سمجھتے ہیں جبکہ ریٹ لسٹ آویزاں نہ کرنااپنی توہین سمجھتے ہیں ۔ایک دوسرے سے سبقت لینے کے لئے اندھیرنگری مچارکھی ہے ۔خریدزائدنرخوں پراحتجاج کرے تواسے طرح طرح کی دھمکیوں دی جاتی ہیں اورلوگوں کے سامنے خریدارکی عزت وتوقیرکی پامالی کی جاتی ہے ۔تگڑھے اورمنہ زورخریدارکوخوش کرنے کے لئے رعایتوں پراشیاء فروخت کی جاتی ہے ۔عوامی وسماجی حلقوں نے ڈی سی اومیانوالی اورارباب اختیار سے نوٹس لینے کامطالبہ کیاہے ۔

وطن کاگیت


علامہ مفتی سطان احمدقادری پائی خیل،میانوالی03017803657

وطن کاگیت
اے پیارے وطن تیری ہرچیزپیاری ہے 
دیکھوجشن آزادی کی ہرگھرمیں تیاری ہے
پرچم کاسماں آیا جھنڈیوں کی بہارآئی 
پرچم لہراتے ہیں خواہ گھرہویاگاڑی ہے
جب ماہِ اگست آئے فورٹی سیون(1947)پلٹ آئے
بدلہ خون شہیدوں کا یہ دھرتی ساری ہے
ہرفردپہ لازم ہے احترام آزادی کا
جس کی خاطرلاکھوں نے جان اپنی واری ہے
سب شکربجالاؤ اس نعمت باری پر
پاکستان ملاہم کو یہ نعمت باری ہے
ہرچیزمیسرہے جوچیزطلب میں ہو
زندگی کی ضرورت کا ہرچشمہ جاری ہے
ہم اس کی حفاظت پر دل وجان سے قربان ہوں
سلطان احمدقادری اک ادنیٰ لکھاری ہے
یہ قومی نغمہ چودہ اگست کی نسبت سے چودہ مصرعے لکھے گئے ۔

اگست اور نوجوانوں کا رویہ؟


اگست اور نوجوانوں کا رویہ؟

وہ جو در بدر خاک بسر ہوئے
وہ جو لٹ گئے بے گھر ہوئے
1947کی آزادی کے بعد ہمارے آباؤ اجداد اور مسلمانوں نے جو صعوبتیں سہیں، جو قربانیاں دیں، جن مصیبتوں کا سامنا کیااور ہندوؤں، سکھوں کے جس جبر کو اپنے سینوں پر برداشت کیا تاریخ میں ایسی مثال نہیں ملتی۔ لاکھوں فرزندان توحید نے بے سروسامانی کی حالت میں اپنے بھرے پرے آبائی گھروں، زمینوں اور کھیتوں کو دشمنانِ اسلام کے رحم و کرم پر چھوڑ کر پاک دھرتی کا رخ کیا۔ ان مہاجروں کے آباؤ اجداد کی قبریں، بزرگان دین کے مزار، مسجدیں، خانقاہیں سب کی سب ہندوستان میں ہی رہ گئیں۔ ہجرت کے دوران لاکھوں مسلمان مرد، عورتیں اور بچے ہندوؤں اور سکھوں کے ظلم و ستم کی بلی چڑھ گئے۔ نوجوان مسلمان لڑکیوں نے کنوؤں میں کود کر اپنی جانیں گنوا دیں تاکہ ہندوؤں اور سکھوں سے اپنی عصمت کو محفوظ رکھ سکیں مگر اس کے باوجود لاتعداد لڑکیاں اور عورتیں اغوا ہو گئیں۔جنکا نام و نشان بھی نہ مل سکا ۔اُنکو آج بھی ہماری نگاہیں دیکھنے کو ترستی ہیں...
وہ کڑا وقت، وہ تلخیاں، وہ گردشیں، وہ بجلیاں
وہ کیا تھا ؟وہ تھا ہمارے رب کا امتحاں
دوستو! 14 اگست تو ہر سال ہی آتا ہے ۔ سارے پاکستان میں چراغاں ہوتا ہے۔ گلی،کوچوں، محلوں ،سرکاری و پرائیویٹ دفاتر اور عمارتوں کو بجلی کے قمقموں سے دلہن کی طر ح سجایا جاتا ہے اور ملک کے طول و عرض میں پرچم لہرائے جاتے ہیں۔ لاہور تو خیر ہر لحاظ سے تعلیم، کاروبار، سیاست اور سیاسی تحریکوں کا گڑھ ہے ۔ اس لیے ملک کے طول و عرض سے لوگ جشن آزادی منانے اور آزادی کی تقریبات میں حصہ لینے کے لیے جوق در جوق یہاں آتے ہیں۔
میں ہر سال اِس رات کو اپنی آنکھوں سے مناظر دیکھتا ہوں ۔ویگنوں، بسوں، موٹر سائیکلوں پر اور پیدل ہر سمت ہجوم ہی ہجوم نظر آ تاہے ۔کاروں، بسوں کی چھتوں او ر موٹر سائیکلوں پر بہت بڑی تعداد میں نوجوان ہوتے تھے۔ جنہوں نے موٹر سائیکلوں کے سائلنسر نکالے ہوئے تھے اور موٹر سائیکلوں کی گڑگڑاہٹ اور نعروں کی آوا زیں مل کر کچھ ایسا سماں پیدا کر رہی تھیں کہ اِرد گرد کوئی بھی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ قریب بیٹھے لوگ بھی بات کرنے کے لیے ایک دوسرے کے کان سے منہ لگا کر بات کرنے پر مجبور ہوتے۔ ایک ، ایک موٹر سائیکل پرچار ، چار نوجوان بھی براجمان تھے اوربعض پر تو پانچ یا چھے بھی دکھائی دیئے ۔ ٹریفک کا ہجوم توبے تحاشا تھا اور موٹر سائیکلوں کے پھٹے ہوئے سائلنسروں سے نکلنے والا کثیف دھواں بھی فضائی آلودگی میں اس قدر اضافہ کر رہا تھا کہ سانس لینا بھی دشوار تھا۔کچھ نوجوان تو جب خواتین کے پاس سے گزرتے تو مزید پر جوش انداز میں کرتب اور فن دکھاتے، عجیب و غریب اشارے کرتے اور تنگ کرتے تھے۔
میرے ہم وطنو!ہماری نوجوان نسل کو اس امر کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ خواتین ہم سب کے لیے یکساں قابل احترام ہوتی ہیں اور بعض با پردہ گھرانوں کی خواتین کو تو صرف اس طرح کے خاص موقعوں پر ہی زندگی کی روانی سے لطف اندوز ہونے کے لیے گھروں سے نکلنے کا موقع ملتا ہے۔ ان سے چھیڑ چھاڑ اور بدتمیزی کر کے انہیں یہ تاثر نہ دیں کہ انگریزوں اور ہندوؤں سے آزادی حاصل کرنے کے بعد وہ پاکستان میں اپنی ہی نوجوان نسل کے ہاتھوں میں یرغمال ہیں۔
لٹ گیا وہ تیرے کوچے میں رکھا جس نے بھی قدم 
اِس طرح کی بھی راہ زنی ہوتی ہے کہیں ؟
میرے پاکستانی بھائیو!ہر سال اِس موقع پر لاہور کی تمام سڑکوں پر ہر طرف ٹریفک وارڈن اور پولیس اہلکار تعینات ہوتے ہیں ۔ مگر وہ بھی بے بس۔ موٹر سائیکلوں پر سوار نوجوان سرکاری اہلکاروں کو بھی تنگ کرنے سے باز نہیں آتے۔ کچھ ایسے ’’بہادر ‘‘ نوجوان بھی تھے کہ جو اس رش میں بھی موٹر سائیکلوں پر کرتب دکھانے سے باز نہیں آتے تھے۔ تیز موٹر سائیکل چلاتے ہوئے ون ویلنگ اور ہاتھ چھوڑ کرموٹر سائیکل چلاتے ہوئے مختلف کرتب دکھاتے تھے۔
اے پاکستا نیو! ہاتھ چھوڑ کر موٹر سائیکل چلانا اور ون ویلنگ سے باز آئیں۔ اگر آپ کسی حادثہ کا شکار ہو گئے تو یہی جشن آزادی ہمارے لیے ماتم اور عذاب بھی ہے ۔ آپ کی یہ بے ہنگم ڈرائیونگ دوسرے لوگوں کو بھی غم میں مبتلا کر دے گی۔ موٹر سائیکلوں کے سائلنسر مت نکالیں یہ فضائی آلودگی کے ساتھ ساتھ شور کی آلودگی میں بھی اضافہ ہیں اور صحت و سماعت کے لیے خطرہ ہیں۔اپنی اوردوسروں کی صحت و زندگی کے لیے ایسی منفی حرکتوں سے پرہیز کریں۔
اُس قوم میں ہے شوخی اندیشۂِ خطرناک
ہماری حکومت نے 14 اگست کے موقع پر پولیس کو خاص ہدایات کی ہوتی ہیں کہ عوام الناس کے لیے جشن آزادی کی تقریبات اور خوشی و مسرت منانے کی راہ میں حائل نہ ہوا جائے ۔لیکن !ہمارے کھلنڈرے نوجوان اِس دن بھی پولیس و ٹریفک اہلکاروں کو مفت میں پریشان کرتے ہیں۔حالانکہ اِس دن ہم سب کو ایک دوسرے میں تحائف بانٹنے چاہیں ،ایک دوسرے کے گلے مل کر خوشیاں بانٹنی چاہیں۔ہمیں اِس دن مسجدوں میں جا کر نوافل، قرآن پاک کی تلاوت اور خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہم ایک آزاد وطن میں جی رہے ہیں۔
میرے ہم وطنو !یاد رکھو!پاکستان ہو یا دنیا کا کوئی بھی ملک ہو اُس کی معاشی، معاشرتی، اقتصادی اور سیاسی ترقی میں اہم کردار اور انقلاب برپا کرنے میں سب سے زیادہ اختیار نوجوان نسل کے پاس ہوتا ہے۔ اگر نوجوان ایک اور متحد ہوں ان کی سوچ اور نظریات ایک جیسے ہوں ۔ وقت اور قانون کے پابند ہوں تو وہ ملک نوجوان نسل کی انگلیوں کے اشاروں پر چلتا ہے۔ ایسے نوجوان جب چاہیں اپنے ملک کو پستی سے بلندی پر لے جا کھڑا کریں اور جب چاہیں اک مختصر سے وقت میں ملک میں تباہی و بربادی مچا کے ملک کا بیڑا غرق کر دیں اور ترقی کا پہیہ جام کر کے رکھ دیں۔ تو اب ہماری جوان نسل کے کاندھوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اپنے اس ملکِ پاکستان کے لیے کیا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔پستی یا بلندی؟فیصلہ آ پکا؟
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر 
ہر فرد ہے مِلت کے مقدر کا ستارہجس قوم کے افراد ہوں ہر بند سے آزاد

بے بسی اور بے حسی کی انتہا ؟؟؟

بے بسی اور بے حسی کی انتہا ؟؟؟

میرے ہم وطنو!میرے دیس میں انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے غربت ،بھوک،افلاس،بیروزگاری،قتل و غارت اور دہشتگردی عروج پر ہے ۔ عوام نفسیاتی مریض بن کر رہ گئی۔ہر طرف افرا تفری کا سماں ہے،کسی شخص کو کسی دوسرے کی خبر نہیں،بلکہ ہر شخص اپنے آپ سے بھی ناواقف و اجنبی بن چکا ہے۔ آج کے اِس مشینی دور میں صنعتی انقلاب نے انسانیت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ سماجی ڈھانچے بدل گئے۔ انسان اپنے اعلیٰ جوہر یعنی خلوص و محبت اور مہرو وفا سے رشتہ توڑ کر مادہ پرست بن گیا۔پیسے کی ہوس اور مادی ترقی نے اس کی آنکھیں اس طرح چندھیا دی ہیں کہ انسانیت کا احساس و احترام ختم ہو کر رہ گیاہے ۔مصروفیت اِس قدر بڑھ گئی کہ ایک انسان دوسرے انسان سے بہت جلد دور ہو گیا... جس کی وجہ سے انسانی زندگی میں مایو سی و بے چینی اور بے اطمینانی سے بھر گئی اور بیکاری پھیل گئی ہے جس نے انسان سے جینے کا حق چھین لیا ہے۔ صرف مادی ترقی کا دیوانہ انسان خوش نہیں رہ سکتا۔ خوشی ایک ایسی کیفیت ہے جسے دولت سے خریدا نہیں جا سکتابلکہ سچی خوشی تو یہ ہے کہ انسان آپس میں سچی محبت سے پیش آئیں۔سچی خوشی کسی کو خوش کر کے بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔
آج ہمارے سرکاری و پرائیویٹ ادارے اپنی عیش پرستیوں ور اپنی ا تھارٹیوں کے اضافوں میں مشغول ہیں ،ہر سو افرا تفری کا عالم ہے، نوجوانوں نے کتابوں کی جگہ کلاشنکوف تھام لی ، ہر آنکھ اندھی ہو چکی ، ہر کان بہرا ہو چکا ، ہر زبان گونگی ہو چکی ، ہر دماغ ماؤف ہو چکا ، ہر دل نے دھڑکنا چھوڑ دیا ،ہر ضمیر بے ضمیر ہو چکا ، غیرت ختم ہو چکی...تو بقایا ہمارے پاس کیا بچا؟
دورِ جدید کی روشنی نے کر دکھائے دو کام
گھر کو روشن ، دل میں اندھیراکر دیا
ہمارے منتظمین نے اِس ملکِ پاکستان کو تمام تر سہولیات سے نوازنے اور اِسے اسلامی دنیا کی عظیم ریاست بنانے کی بجائے اپنی جنت بنا لیا...اور رعایا بیچا ی کو مسائل میں جکڑ دیا ۔ آ ج میں اپنے ارد گرد کیا دیکھتا ہُوں کہ میرے دیس میں بجلی،گیس کی لوڈ شیڈنگ ہے، پٹرول اور اشیائے ضرورت سستے داموں دستیاب نہیں ہیں اور بیروزگاری انتہا کو ہے ۔ہر شخص پریشان حال دکھائی دیتا ہے۔کسی کو ملازمت نہیں ملتی تو کسی کا اپنا کاروبار نہیں چل رہا۔ہر شخص مسائل میں جکڑا ہوا ہے۔ہر کوئی اپنی دو وقت کی روٹی کے چکروں میں دن رات اپنے اپنے کام میں مشغول ہو کر رہ گیا ۔لیکن! کسی کو ذرا بھی فرصت نہیں کہ کوئی اپنے آس پاس بھی کچھ دیکھ سکے کہ معاشرے میں کیا ہو رہا ہے؟کس غریب بیچارے کے ساتھ کیابیت رہی ہے ...؟کون کس کو لُوٹ کھسوٹ رہا ہے...؟کون کس کی بے بسی کو اپنا ہتھیار بنا کر مزے کے دن گزار رہا ہے...؟کون پیسے کی ہوس میں دوسروں کی گردنیں کاٹ رہا ہے...؟کسی کو کچھ معلوم نہیں۔
اور کوئی بیچارہ میری طرح (خاندان کا بوجھ )لیے ہر رات بھوکے پیٹ ہی سو جاتا ہے... (2012) میں اک شخص ہمیں اعتماد میں لے کر ہمارالاکھوں کا کاروبار تباہ کر گیا... فیملی اپنے گھر سے محروم ہو کر کرائے کے مکانوں میں خوار ہو رہی ہے ... بڑے بھا ئی کو ( جیل)ہو گئی .. .ہمارے سر پہ لاکھوں کا قرضہ ہے ... اپنے ذاتی کاروبار سے محروم ہو کر تعلیم چھوڑ کر پرائیویٹ ملازمت کر کے (لاکھوں کا قرضہ) اُتار نے کی کوشش کر رہے ہیں .. . لیکن! پھر بھی ایک سچے اور پکے مسلمان کی حیثیت سے صبر و شکر کے ساتھ دن گزاررہے ہیں... 

تنکا تنکا چُن کر ہم نے ایک آشیاں بنایا تھا!
چھوٹے چھوٹے خوابوں سے اپنا جھونپڑ سجایا تھا!
ہماری کُل کائنات؟؟؟
ایک میلی چادر،کچھ پُرانے کپڑے !
ایک ٹپکتی چھت اور اُکھڑی دیواریں ہیں!
آج جن کے پاس دولت ہے وہ بے حس ہو کر جی رہے ہیں اور اپنی عیاشیوں میں مشغول ہیں اور ہمارے حکام اپنے، اپنے کٹورے بھرنے کی دُھن میں دن رات مگن ہیں ... کوئی سُود ،بھتہ خوری، رشوت اور کرپشن کے بازار سجا کر بیٹھ گئے.. .تو کوئی زیادہ سے زیادہ پیسہ اکٹھا کرنے کی خواہش میں (چوبیس گھنٹے) مصروف ہیں... کوئی جگہ ،جگہ کاروبار پھیلانے میں مصروفِ عمل ہیں .. . تو کوئی لوگوں کو لُوٹ کھسوٹ کر راتوں رات امیر بننے کے سہانے خواب دیکھ رہے ہیں ... کوئی دنیا کی رنگینی میں کھو کر بے حسی کی نہج پر زندگی گزار رہے ہیں ...تو کوئی بیچارے فاقوں پر ہی جی کر بے بسی کے دن گزار رہے ہیں...آج میرے دیس میں ایک طرف بے بس لوگ مایوسی ،ناامیدی اور احساسِ کمتری کے سائے تلے پل رہے ہیں تو دوسری طرف بے حس لوگوں کی کھیپ پروان چڑھتی جا رہی ہے...ہاہ!ہائے!
دوستو !صرف پیسہ اکٹھا کرنے کی غرض اور لالچ میں ہم نے اپنا معاشرہ بے انتہا برائیوں سے بھر لیا۔ ہمارے معاشرے میں انسانیت کی تذلیل ہو رہی ہے ۔سرکاری و پرائیویٹ اداروں میں زندگی سے وابستہ تمام شعبوں میں بے حِسی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ میرے دیس میں یہ چیزیں انسان کی پیدائش سے قبر میں دفنانے تک ساتھ ساتھ چل رہی ہیں۔لیکن ! آج کا غافل انسان اپنے اعمال، قبر کے حساب و کتاب اور آخرت کے انجام سے کس قدر غافل ہے ۔
میرے پاکستانی بھائیو !ہمارا دین سلامتی کا دین ہے۔جہاں سب کو مساوی حقوق میسر ہیں۔جو محبت و روادار ی کا درس دیتا ہے۔جہاں حقوق العباد کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔لیکن!افرا تفری ، انتشار ،خود غرضی،ہوس و لالچ اور دولت و اقتدار کے نشے نے ہمیں اپنے فرائض کی ادائیگی سے کوسوں دور کر ڈالاہے ۔اور آج اِنہی جذبات کی موج انسانیت کے پرخچے اُڑا رہی ہے۔لہٰذا!اِن جذبوں کو پھر سے جگانے کی اشد ضرورت ہے۔سسکتی انسانیت کو سہارا دینے کی بھر پُور کوشش کیجئے ، لاچاروں کی داد رسی کیجئے ، خدا کے بندوں کا حق ادا کرنے کی بساط بھر کوشش کیجئے،انسانی جذبوں سے بھر پُور ایک خوبصورت معاشرہ ا پنی حقیقی تعمیر نو کا منتظر ہے۔
زمانہ پھر منتظر ہے نئی شیرازہ بندی کا
بہت ہو چکی اجزائے ہستی کی پریشانی

Sunday, 7 August 2016

بچو اور بچاؤ


بچو اور بچاؤ

چوہدری ذوالقرنین ہندل ۔گوجرانوالہ
بہت کٹھن وقت آن پہنچا ہے۔کوئی کسی پر بھروسا ہی نہیں کر سکتا ۔نہ جانے کون کب آپ کے ساتھ ہاتھ کر جائے۔کون کب آپ کو دھوکا دے جائے۔کب اپنا ہی وہشت پر اتر آئے اور آپ کو کسی دلدل میں دھکیل دے۔کسی دوست کسی عزیز و رشتہ دار حتی کہ اپنے سگوں پر بھی بھروسا کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ایسا دور آن پہنچا ہے کہ آپ اپنے سب سے بڑے دشمن کو ہی اپنا سب سے بڑا دوست تصور کرتے ہیں مگر وہ ایک دن آپ کو ایسا تباہ کرتا ہے کہ آپ دوبارہ آباد نہیں ہوتے۔ہمیں اس موجودہ دور میں بہت سنبھل کر چلنا ہوگا خود بھی ایسے عناصر سے بچنا ہوگا اور اپنے بال بچوں گھر والوں و دوستوں کو بھی ایسے عناصر سے بچانا ہوگا۔
کبھی ایسا وقت بھی ہوا کرتا تھا کہ سب آزادانہ زندگی بسر کیا کرتے۔دکھ فکر غم اور ڈر انسان سے کوسوں دور رہتا ۔زندگی سہل تھی۔پریشانیاں کم تھیں۔لوگ کم تھے سہولتیں نہ تھیں بلکہ لفظ سہولت سے لوگ آشنا ہی نہ تھے۔مشقت کی زندگی تھی۔مگر سکون تھا۔جو جتنی زیادہ مشقت کر لیتا اتنا زیادہ اچھا کھانا کھا لیتا۔دولت نام کی کوئی چیز نہ تھی لوگ عالم نہ تھے۔اتنی سادگی تھی کہ ہم تصور ہی نہیں کر سکتے۔وقت گزرتا گیا لوگوں میں محنت و مشقت کا جذبہ پیدا ہوا۔جو جتنی زیادہ محنت کر لیتا اتنی ہی بہتر زندگی بسر کرلیتا۔آہستہ آہستہ لوگوں میں مقابلہ بازی شروع ہو گئی۔مگر زندگی بہتر بنانے کے مقابلوں میں کبھی ذاتی دشمنی کو پروان نہ چڑھنے دیا۔لوگ سادہ تھے لڑائی جگھڑا بہت کم تھا۔انسان اکٹھے ہو کر دوسری بالاؤں کا مقابلہ کرتے۔انسانوں میں اتفاق تھا۔وقت گزرا بالائیں ٹلیں تو انسان آپس میں لڑنا شروع ہوئے۔وقت کے ساتھ ساتھ لڑائیاں بڑھتی گئیں۔زمین پر انسانوں کی بڑھتی تعداد کے ساتھ ساتھ کئی جرم بھی بڑھے۔حتی کہ یہاں تک نوبت آن پہنچی کہ انسان اپنا مال و زر بھی بڑی احتیاط سے رکھنے لگا صدیاں گزریں مال وزر کو فتنا بنتے دیکھا گیا۔انسان نے اپنے مال ودولت کو محفوظ رکھنے کے لئے کئی اقدامات کئے مگر محفوظ نہ رکھ سکا۔گھر سے باہر نکلتے وقت کوئی اپنے پاس زیادہ رقم نہ رکھتا کہ چھن نہ جائے۔اپنے مال کی حفاظت کے لئے انسان پریشان رہنے لگا۔مگر گزشتہ کئی سالوں سے انسانوں کی پریشانی میں مزید اضافہ ہوا۔جب سے انسانی اسمگلنگ کے واقعات سامنے آئے تب سے انسان خود کو کہیں بھی محفوظ نہیں سمجھتا۔گھر سے باہر جاتے ہر کوئی ڈرتا ہے کہ کہیں کوئی مجھے ہی نہ اٹھا لے۔پوری دنیا میں ایسے واقعات سامنے آئے انسانوں کو انسان ہی اٹھا لے جاتے ہیں۔میں جانتا ہوں ایسے لوگوں کو انسان کہنا گناہ ہے۔لیکن معذرت کے ساتھ یہ انسانی اسمگلر اور اغواء کار بھی ہم جیسے ہی ہیں کوئی اور مخلوق نہیں ہم میں سے ہی ہیں انکے بھی ہماری طرح عزیز و اقارب بھی ہیں۔پوری دنیا میں انسانی اسمگلنگ کئی طریقوں سے کی جاتی ہے۔جن میں نشہ آور چیزوں کے استعمال سے اغوا سب سے زیادہ ہے۔جہاں دنیا بھر میں انسانی قدروں کا خاتمہ ہوا انسانیت کو پامال کیا گیا وہیں پاکستان بھی کسی سے پیچھے نہ رہا۔گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان میں بھی انسانی اسمگلنگ کے کئی واقعات سامنے آئے۔بچوں بڑوں بوڑھوں اور عورتوں کو بھی اغواء کیا جاتا رہا۔انسانی اسمگلر لوگوں کو اغوا کر کے روپے کے عوض فروخت کر دیتے۔با اثر لوگ انسانوں کو خرید کر ان سے طرح طرح کے دھندے کرواتے ہیں۔کچھ اسمگلرز انسانوں کو اغواء کر کے انکے جسمانی اعضاء نکال کر فروخت کرتے ہیں ایسے لوگوں کے ساتھ ڈاکٹرز بھی ملوث ہیں۔کچھ اغوا کار روپے(تاوان) حاصل کر کے مغوی لوگوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔جن کے چھوٹنے پر ہمارے ادارے اپنا جعلی کریڈٹ لے جاتے ہیں۔گزشتہ کئی روز سے پنجاب بھر میں بچوں کے اغواء کے کئی واقعات سامنے آئے۔سینکڑوں بچے پنجاب سے اغوا ہوئے جن میں سے زیادہ کو بازیاب کروا لیا گیا مگر ابھی بھی بہت زیادہ غائب ہیں۔یہ سلسلہ تھما نہیں ہر گزرتے دن کے ساتھ بچوں کے اغواء میں مزید اضافہ ہوتا جارہا ہے۔بہت سے سوالات ہیں جو لوگوں کے دل و دماغ میں گردش کر رہے ہیں۔اغوا کار کون ہیں کیوں اغوا کرتے ہیں؟بچے آسانی سے کیسے اغوا ہوتے ہیں ؟اغوا کے واقعات کو روکا کیوں نہیں جاتا؟اور حکومت اسکی روک تھام ک لئے کیا کر رہی ہے؟آخر کہاں ہے وہ میڈیا اور سیاسی و سماجی نمائندگان جو وزیر اعظم گورنر اور چیف جسٹس کے بیٹے کے اغواء پر تو چیختے ہیں مگر عام غریب لوگوں کی آواز کیوں نہیں بنتے؟کسی بھی معاشر میں غربت و جہالت ایسے فیکٹر ہیں جو انسان کو برائی کے کسی بھی درجے پر لے جاتے ہیں۔غربت و جہالت انسان کو انسانیت کے درجے سے گرا کر شیطان کے برابر بھی کھڑا کر سکتی ہے۔پاکسان میں غربت جہالت و عدم انصاف کی وجہ سے کئی جرم پروان چڑھے جس میں اغواء کاری چوری ڈکیتی جسم فروشی قتل و غارت بہت عام ہیں۔اغواء کار بھی روپے کے لالچ میں ایسے گناؤنے کام کو انجام دے رہے ہیں۔غربت و جہالت ان لوگوں میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔غربت کے ستائے ہوئے یہ لوگ بااثر اسمگلروں ک ہتھے چڑھ کر روپے کے عوض اپنے اور دوسروں کے گھر اجاڑ رہے ہیں۔ روپے کے لالچ میں اپنا انجام بھول بیٹھے ہیں کہ دنیا و آخرت میں انہیں سخت سزاؤں سے کوئی بچا نہیں سکے گا ۔چھوٹے بچے انکا آسان ہدف ہوتے ہیں۔کیونکہ پاکستان میں لوگ بچوں کو جنم دے کر بھول جاتے ہیں کہ انکا خیال بھی رکھنا ہے۔سکول داخل کروا کر بھول جاتے ہیں کہ بچہ سکول بھی جاتا ہے اور اغواء کار بچوں کو کھانے کے لالچ میں نشا آور اشیاء کھلا کر سکولوں گلی محلوں سے با آسانی اٹھا کر اپنے غلط مقصد میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔اغواء کے واقعات کو اس لئے روکا نہیں جا سکا کیوں کہ ہمارے ادارے سوئے ہوئے ہیں کوئی بھی ادارہ اپنے فرض سے واقف نہیں۔ہمارے سیکورٹی اداروں کے اہلکار حکومتی نمائندوں کی خدمت میں مصروف و معمور ہوتے ہیں اور عام شہریوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں کہ ان کے ساتھ کیا کچھ ہو رہا ہے۔یقین مانئے بے حد افسوس ہوتا ہے ایسے دہرے معیار پر حکومتی وسیاسی اور سماجی نمائندوں کی بے حسی پر جونامور شخصیات کے بچوں کے اغواء پر دن رات چیختے رہتے ہیں مگر عام شہریوں کے بچوں کے اغواء پر خاموش بیٹھے ہیں۔یہ دہرا معیار کیوں؟آخر کب اسکا خاتمہ ہوگا؟ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لوگ روپے کے عوض راگ الاپتے ہیں یا پھر انسانی اسمگلروں سے ان کے اچھے مراسم ہیں۔ہمیں ان ماؤں کے غم کا کیا پتہ جن کے معصوم پھول مر جھا گئے جن کی آنکھوں کے آنسو اور روشنی ختم ہوگئی جو اپنے پیاروں کی شکل دیکھنے کو تڑپ رہی ہیں۔ہمیں اس باپ کے غم کا کیا علم جس کے سامنے اس کے بچوں کو اغواء کیا گیا اور وہ کچھ نہ کر سکا وہ ساری زندگی کیسے جی سکے گا۔آہ ان عورتوں کو کون پوچھے گا جن کو اغواء کر کے بھی زندہ رکھا گیا آہ یہ بے حس معاشرہ۔ہمیں کسی کے غم کا کیا اندازا کسی اپنے بلکہ جگر کے ٹکڑے کے چھن جانے کا کیا غم ہے۔کیا یہ وہی پاکستان ہے جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا جہاں لوگ اپنی آزادانہ زندگی بسر کر سکتے کبھی بھی نہیں میں اسے اسلام سے کیسے منصوب کر دوں جہاں کوئی کسی کا درد بھانٹنے والا نہیں جہاں اخوت نہیں انصاف نہیں قانون نہیں۔جہاں ہر کوئی دولت کے لالچ میں ڈوبا ہوا ہے کیسے وہ اسلامی ملک ہو سکتا ہے۔خدارا خود بھی بچو اور دوسروں کو بھی بچاؤ۔آج کسی کا بیٹا اغواء کرو گے تو کل کوئی تمہارا اغواء کرے گا۔آج تمہیں کسی کے غم کی کوئی پروا نہیں تو کل کو اللہ نہ کرے تمہارے ساتھ ایسا ہوجائے تو کسی کو تمہارے غم کی بھی کوئی پروا نہیں ہوگی۔یاد رکھو جو بیج بویا جائے گا اسی کو کاشت کرو گے۔حکمرانوں اور اداروں سے امیدیں وابستہ کرنا چھوڑ دیں یہ آپ کے زخموں پر نمک ہی چھڑک سکتے ہیں۔خود ایک اچھا معاشرہ بن جاؤ ایک دوسرے کے ہاتھ بن جاؤ اتنے مضبوط ہاتھ کے کوئی تمہاری طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہ سکے۔دوسروں کی مدد کر کے ان کو بچائیں اور اللہ کے حضور خود بھی بچیں یعنی بخشش پائیں۔

Sunday, 31 July 2016

چلو اب کارکردگی دکھاؤ

چلو اب کارکردگی دکھاؤ
چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔03424652269

سب جماعتوں و سیاسی پارٹیوں میں جو وفاقی یا صوبائی حکومتوں میں ہیں ’چلو اب کارکردگی دکھاؤ‘ مہم کا آغاز ہو گیا ہے۔آپ سب جانتے ہیں کہ موجودہ حکومتی مدت میں صرف بائیس ماہ کا وقت باقی بچا ہے۔اور سب کی کارکردگی بھی آپ کے سامنے ہے کوئی بھی پارٹی کرپشن اور دوسری بدعنوانیوں سے پاک نہیں۔سب کے سب اپنے اپنے منشور و وعدوں سے خاصے دور نظر آئے۔بعض نے تو اپنے مفادات کی خاطر موقع کی مناسبت سے منشور ہی بدل ڈالے۔2013سے اب تک کوئی بھی پارٹی اپنے حامیوں کے علاوہ باقی عوام کو متاثر نہ کر سکی بلکہ عوام کے دل نہ جیت سکی۔اس گزرے وقت میں سیاسی پارٹیوں کے کچھ اپنے حامی بھی نالاں نظر آئے۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ عوام کی ناراضگی کے باوجود بھی سیاسی پارٹیاں اور انکے وزراء صرف اپنے مشن میں ہی مگن رہے عوام کو صرف وقفوں میں ٹرخاتے رہے۔اب حکومتی مدت میں تھوڑا عرصہ باقی ہے اور سیاسی سربراہ جانتے ہیں کہ عوام انکی کتنی قدر کرتی ہے اس لئے اب2018 کے الیکشنزکی تیاریوں اور عوام کی حمایت کے لئے سب پارٹیوں کے سربراہان نے اپنے اپنے نمائندوں کو حکم جاری کر دیا ہے کہ چلو اب کارکردگی دکھاؤ۔سوچنے کی بات ہے کہ 2013 سے اب تک اس مہم کا آغاز کیوں نہیں کیا گیا۔دوستو آپ ذرا اس پر سوچئے گا۔پاکستان 14 اگست 1947 کو آزاد ہوا۔آج پاکستان کو آزاد ہوئے67 سال کے قریب کا عرصہ ہو گیا ہے۔مگراپنے وطن کی حالت آپ کے سامنے ہے۔جب پاکستان آزاد ہوا تو پاکستان کی شرح خواندگی بہت کم تھی۔مگر لوگوں میں آگے بڑھنے کی ہمت و جذبہ تھا۔کام کرنے کی لگن تھی۔پاکستان نے آزادی کے کچھ عرصہ بعد ہی ترقی کی راہ چن لی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے حالات بہتر ہوئے لوگوں نے پڑھنا لکھنا شروع کیا اور پاکستان کو دنیا نے تسلیم کرلیا۔مگر پتہ نہیں کیوں اور کس کی نظر پاکستان کو لگی اور اکسویں صدی میں پاکستان بدعنوانیوں کا شکار رہا۔ملک میں کرپشن لوٹ مار اور دہشتگردی جیسی جڑوں نے مظبوطی پکڑ لی۔افسوس کے اکیسویں صدی میں شرح خواندگی میں اضافہ ہوا مگر لوگوں کے ولولے اور ہمت دم توڑ گئی۔لوگوں میں کام کرنے کی لگن ختم ہوگئی۔آج بھی پاکستان میں غربت کا خاتمہ نہ ہو سکا۔ملک دشمن غربت سے ستائے لوگوں کو استعمال کرنے لگے۔دیہاتوں میں غربت کی شرح 60فیصداور شہروں میں 10فیصد ہے۔گزشتہ سیلابوں نے دیہاتوں اور دیہاتیوں کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔افسوس کے ہر سال سیلاب کی روک تھام کے لئے تعلیم کے لئے صحت کے لئے رقم مختص ہوتی ہے مگر صرف کاغذی کاروائی تک ۔گزشتہ کئی حکومتوں نے دیہاتیوں کے روپے کھائے ہیں۔حکومتی کرپشنز کی وجہ سے بہت سی بد عنوانیوں نے جنم لیا ہے۔میں دیہاتیوں کی پسماندگی کی وجہ کرپٹ سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ پڑھے لکھے با شعور لوگوں کو بھی ٹھہراتا ہوں جو دیہاتیوں کی آواز نہیں بنتے۔پاکستان میں جتنی بھی حکومتیں آئیں سب پر کرپشن کے الزامات ہیں۔مگر افسوس کے ہم پھر بار بار انہیں لوگوں کو اقتتدار میں لاتے ہیں۔کیا ہم بے حس ہیں؟کیا ہمارے اندر شعور نہیں؟یا پھر ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں؟کب پاکستان ان بدعنوانیوں سے چھٹکارا حاصل کر سکے گا؟کون سچائی کی مشعل لے کر آگ بڑھے گا؟آخر کون!؟کیا ہماری عوام میں کسی چیز کی کمی ہے؟آخر کس چیز کی کمی ہے!ہمیں سوچنا ہوگا۔جی قارئین آپ نے گزشتہ دنوں سے دیکھا ہوگا کہ سندھ حکومت میں اچانک ایک تبدیلی لائی گئی ۔سابق وزیر اعلی قائم علی شاہ کو اقتدار سے الگ کر کے مراد علی شاہ کو نیا وزیر اعلی سندھ مقرر کر دیا گیا۔اس کے ساتھ ساتھ صوبائی کابینہ میں صوبائی وزارتوں میں بھی تبدیلیاں کر دی گئیں۔اور ہمیشہ کی طرح سندھ حکومت میں اس تبدیلی کا فیصلہ بھی آصف علی زرداری نے کیا۔عوام کو اچانک کی تبدیلی سمجھ میں نہ آئی۔مگر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ’ چلو اب کارکردگی دکھاؤ‘ مہم کا ہی ایک شاخسانہ ہے۔ورنہ اس سے قبل یہ تبدیلی یاد نہ آ جاتی۔کچھ کے نزدیک مراد علی شاہ بھی گزشتہ کرپشنز کی ری ہیسلز کر چکے ہیں اور انکے خیال میں مراد علی شاہ کو وزیر اعلی تعین کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اپنے مفادات بھی حاصل ہوتے رہیں اور لوگوں کو بھی کچھ تبدیلی نظر آتی رہے۔یعنی زرداری صاحب پھر ایک تیر سے دو شکار کھیلنے کے لئے میدان میں ہیں۔جی قارئین اسی طرح وفاق صوبہ پنجاب اور صوبہ بلوچستان میں بر سر اقتتدار پارٹی مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد نواز شریف صاحب کی گزشتہ مری میں بریفنگ سے پتہ چل ہی گیا ہو گا کہ ’چلو اب کار کردگی دکھاؤ‘ مہم کا حکم مسلم لیگ ن کے سربراہان و وزراء کو بھی جاری کر دیا گیا ہے۔اور ساتھ میں یہ اشارہ بھی کیا گیا ہے کہ جو کار کردگی نہیں دکھائے گا اس کا حال بھی قائم علی شاہ جیسا ہوگا۔اور حکم جاری کیا کہ زیر تکمیل پرجیکٹس عین انتخابات سے قبل مکمل ہو جانے چا ہیے۔اور اب ان پراجیکٹس کی نگرانی خود میاں نواز شریف کریں گے۔اسی طرح خیبر پختونخوا میں زیر اقتدار تحریک انصاف میں بھی کار کردگی دکھاؤ مہم کے اثرات نظر آرہے ہیں۔ِ عمران خان نے باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ اب کارکردگی میں تاخیر برداشت نہیں ہوگی۔اور خیبر پختونخوا حکومت میں بھی تبدیلیاں متوقع ہیں۔لوگ حکومتوں کی کار کردگی میں تیزی پر انہیں سراہ رہے ہیں سراہنا بھی چاہئے۔دیر آئے درست آئے کچھ نہ کرنے سے تو بہتر ہے کہ باقی بائیس مہینوں میں ہی اپنے وطن کے لئے کچھ کرنے کا ارادہ تو کیا۔اور یہ صرف عوام کی بدولت ہے یعنی اب عوام کو پیسے سے خریدنے کا دور ختم اثر و رسوخ سے ووٹ ختم۔اب کار کردگی کی بنا پر ووٹ ملیں گے۔ مگر افسوس کے کار کردگی الیکشنز کے قریب آنے پر ہی کیوں یاد آتی ہے۔میں ایک بار پھر کہہ رہا ہوں جب تک تمام ادارے آزادانہ سیاسی مداخلت کے بغیر کا م نہیں کر سکیں گے تب تک یہ لوگ نت نئے طریقوں سے ہمیں اور ہمارے وطن کو لوٹتے رہیں گے۔اب انہیں عوامی خدمت یاد آ گئی ہے صرف اور صرف ووٹ کی خاطر ۔ذرا سوچئے جو لوگ انکی کرپشن کی وجہ سے بد عنوانیوں کا شکار ہوئے انکا ذمہ دار کون ہے؟ جن کے گھر غربت سے اجڑ گئے انکا ذمہ دار کون ہے ۔؟

Saturday, 30 July 2016

پیسے کی ہوس قومیں اُجاڑدیتی ہے...

پیسے کی ہوس قومیں اُجاڑدیتی ہے...

میرے پاکستانیو! قانون، دولت ،طاقت،پیسہ اور قلم کے ناجائز اور غلط استعمال سے قوموں کا تشخص بگڑ جاتا ہے۔معاشرے میں افرا تفری مچ جاتی ہے۔ مال و دولت اور روپے،پیسے کی ہوس قومیں اُجاڑ دیتی ہے۔جس طرح آج میری قوم کا شیرازہ بکھرا پڑا ہے ۔یہاں کا نظام درہم برہم اور تہس نہس ہو کر رہ گیاہے۔ رشوت اور کرپشن کا سے معاشرے میں لاقانونیت ، نقص، بگاڑ، خرابی، بد چلنی، فساد، گمراہی، بد عنوانی، اخلاقی گمراہی ، بے ایمانی و بد دیانتی پیدا ہو جاتی ہے ۔اب ذرا ہم خود ہی سوچیں کہ جس معاشرے میں اتنی خرابیاں ہوں وہ معاشرہ کیسے چل سکتا ہے؟
رشوت اور کرپشن کا مطلب ہے لاقانونیت ، نقص، بگاڑ، خرابی، بد چلنی، فساد، گمراہی، بد عنوانی، اخلاقی گمراہی ، بے ایمانی و بد دیانتی کے ہیں ۔اب ذرا ہم خود ہی سوچیں کہ جس معاشرے میں اتنی خرابیاں ہوں وہ معاشرہ کیسے زند ہ رہ سکتا ہے؟قرآ ن پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ رشوت دینے والا اور لینے والا دونوں جہنمی ہیں ۔اب ذ را ہم خود ہی اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ ہم میں سے کون غلط راہ پر گامزن ہے اور کون درست سمت پر؟بد قسمتی سے آج ہم سبھی مال و دولت اور روپے ، پیسے کی ہوس میں رشوت اور کرپشن کے بازار سجا کر بیٹھ گئے۔ صرف پیسہ اکٹھا کرنے کی غرض اور لالچ میں ہمارے معاشرے میں بے انتہا انسانیت کی تذلیل ہو رہی ہے۔ ایک دوسرے کو لوٹ کھسوٹ کر اپنے اپنے کٹورے بھرنے کی دوڑ لگی ہے۔ہمارے سرکاری و پرائیویٹ اداروں میں انتہا کی کرپشن اور رشوت کا کاروبار ہو رہا ہے۔لیکن ! اپنے اعمال اور قبر کے حساب و کتاب سے غافل ہیں۔میرے دیس میں یہ چیزیں انسان کی پیدائش سے قبر میں دفنانے تک ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔
1۔باالفرض کوئی آدمی بیمار ہو گیا اور ہسپتال لے جائیں تو جب تک وہاں کسی نرس یا ڈاکٹر کو چند روپے نہ تھما دیئے جائیں تو تب تک کوئی بھی ڈاکٹر مریض کا علاج نہیں کرے گا ، نہ ہی سرکاری دوائی ملے گی۔اور اگر کوئی مریض سسک، سسک کر تڑپ ،تڑپ کر مر بھی جائے تو پھر بھی ان انسانیت کے مسیحاؤں کو ذرا بھر بھی فکر اور پرواہ نہیں کیونکہ ان کو تو صرف پیسے سے غرض ہے۔اور اگر کوئی خدا ترس ڈکٹر ہے بھی تو وہ مریض کو دیکھ کر پرچیوں کا پلندہ لواحقین کے ہاتھ میں تھما کر کہے گا یہ فلاں ٹیسٹ فلاں لیبارٹری سے کروانا اور فلاں دوائی فلاں ڈاکٹر سے اور فلاں سیرپ فلاں میڈیکل سٹور سے لانا اور مزید یہ کہ دوائی کے خالص ہونے کی گانٹی نہیں۔
جس رزق سے پرواز میں کوتاہی کا ڈر ہو
وہ رزق اب بڑے شوق سے کھاتے ہیں ہم
2۔ا گر آپ ڈلیوری کیس میں کسی ہسپتال چلے جائیں تو وہاں اِس سے بھی زیادہ انسانیت کی تذلیل کی جا رہی ہے۔کسی سے بھاری رقم لے کر آپکا لڑکا اُن کو تھما کر اُنکی لڑکی آپکی گود میں ڈال دی جائیگی اور آپکا کا زندہ بچہ کسی کو تھما کر آپکو مردہ بچہ تھما دیا جائے گا ۔قابلِ افسوس بات ہے یہ ہمارے لیے کہ ہم لوگ مسلمان ہو کر انسانوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں اور یہ سارا کھیل تماشا دنیا والے دیکھ کر ہمارے بارے کیا سوچتے ہونگے؟3۔ڈاکٹری شعبہ سے ذرا باہر نکلیں تو آپکی رہی سہی کسر وہ ہمارے قبرستان میں بیٹھے گورکن نکال کے رکھ دیں گے ۔ہم تو مر کر بھی اپنے نعرۂ کرپشن کے ہاتھ مضبوط کر جاتے ہیں۔پہلے تو گورکن قبرستان سے نعش نکال کے میڈیکل کالجوں کو بیچ دیں گے اور اگر ان پیسوں سے بھی اُنکا پیٹ نہیں بھرے گا تو کسی کی قبر کھودنے پر لاکھوں کی ڈیمانڈ کر دی جائیگی اور اگر آپ نے پیسے کم دے د یے تو کسی دوسری قبر کا مردہ ٹھکانے لگا کر وہ قبر آپکے نام کر دی جائیگی۔
ہونکو نام جو قبروں کی تجارت کر کے
کیا نہ بیچو گے اگر جو مل جائیں صنم پتھر کے
4۔علم کی دولت پھیلانے والے اب علم بیچ کر پیسہ اکٹھا اور جہالت پھیلا رہے ہیں۔اگر کوئی اپنا بچہ کسی انگلش میڈیم سکول میں داخل کرانے جائے تو اُسے یہ کہا جائے گا کہ یہ کلاس زیادہ فیس اور یہ تھوڑی فیس ادا کرنے والوں کی ہے اور یہ کلاس متوسط طبقہ کے چشم و چراغ کے لیے ہے۔ایسی جگہ پر (میرے جیسے ) غریب آدمی کی کیا مجال کہ وہ پھٹک بھی جائے۔اور سرکاری سکول تو اب ویسے ہی گاؤں بھینسوں کے لیے رہ گئے ہیں اور جس سکول میں ایسی سہولت میسر نہیں تو وہاں گاؤں کے نمبر دار نے اپنا بھُس بھرا ہو گا۔
میرے دیس کے لوگ ایک طرف مہنگائی و بیروزگاری سے تنگ ہیں تو دوسری طرف پرائیویٹ سکولوں کی انتظامیہ نے اِن کی زندگی اور بھی اجیرن بنا دی ہے۔ (سٹی رینالہ خورد)ایک انگلش سکول کے سربراہ نے بچوں کی فیس خود جمع کرنے کی بجائے بچوں کے والدین کو بینک کا رستہ دکھایا ہوا ہے۔غریب عورتیں بیچاری صبح سویرے شہر سےkm 20د ور گاؤں ،دیہاتو ں سے لمبی مسافت طے کر کے وہاں بینک ذلیل ہوتی میں نے خود دیکھی ہیں ۔افسوس...
خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کر دے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تُو
کتاب خواں تو ہے مگر صاحبِ کتاب نہیں
5۔آپ اپنے گھرکے لیے بجلی کا میٹر لگوانے کی غرض سے واپڈا دفتر چلے جائیں تو وہ آپکو اضافی چارجز ،جرمانے،لیٹ فیس اور نجانے کتنے اضافی چارجز سنا کر آپکو وہیں پر ہی بیہوش کر ڈالیں گے ۔ میٹر ریڈر آپکے گھر کے باہر آپکی آنکھوں کے سامنے میٹر کے ہندسے پیچھے گھما کر آپ کو ہزاروں روپے کا جرمانہ کر ڈالیں گے۔پھر آپ میٹر لگوانا ہی بھول جائیں گے۔
6۔۔سوشل سکیورٹی یا ایل ڈی اے کے آفیسر آپکی تیار رہائشی یا کاروباری بلڈنگ کو کسی نہ کسی بہانہ سے تالا لگا دیں گے۔ پھر آپکو زندہ رہنے کی خاطر اضافی ٹیکس و جرمانے بھر نے پر مجبور کر دیں گے اور آپ اپنا تن،من ،دھن سب کچھ بیچ ،بچا کے اُن سے اپنی جان چھڑوائیں گے۔ یہ حال ہے ہمارے سرکاری اداروں میں ملازمت کرنے والوں کا جنکی اولادوں کو بھی علم نہیں یا پھر ہونے کے باوجود بھی وہ نسلیں حرام کھا ،کھا کر پل رہی ہیں اور بے ضمیر ہوچکے ہیں۔ ایسے افراد کی وجہ سے معاشرہ تباہ ہوچکا ہے۔7۔اگر(ہماری طرح) آپ کے ساتھ کوئی فراڈ ہو گیا ہے تو آپ اپنی سچائی پیش کرنے اور اپنا نقصان پورا کرانے کی خاطر کسی تھانے ،عدالت، کسی،جج یا وکیل کے پاس جائیں تو وہاں آپکی خیر نہیں۔آپکی رہی سہی کسر اور عزت بھی چھن جائیگی اور آپکا مکان بھی داؤ پر لگ جائے گا۔وہاں کے منشی،اردلی،چپڑاسی مشوروں اور دھمکیوں سے ہی آپکے ہاتھوں آپکی جیب خالی کروا لیں گے۔اگر آپ نے اُن کی ایک نہ سُنی تو آپکے کپڑے بھی اتر جائیں گے اورآپکی عزتِ نفس سلاخوں کے پیچھے شرمندہ ہوتی ہوئی نظر آئیگی صر ف چند ٹکوں کی خاطر... ہاہ! ہائے ...
8۔mpa,mna,sاور تمام بڑے بڑے سرکاری عہدوں پر فائز حکام اور ذمہ داران کو حکومت کی طرف سے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے جو( بھاری رقم) نازل ہوتی ہے تو یہ سارا پیسہ (قوم کی امانت)یہ لوگ ہڑپ کر جاتے ہیں اور نچلے طبقے تک ذرا بھی سہولت نہیں پہنچتی اور عوام بیچاری ان اداروں کے پیدا کردہ مسائل کی وجہ سے نفسیاتی مریض بن گئی۔
مجھے دکھ ہوتا ہے دیکھ کر دیس کے ویرانوں کو
مجھے دکھ ہوتا ہے دیکھ کر بیچارے پاکستانیو ں کو
الغرض!ہمارے تمام سرکاری و پرائیویٹ اداروں میں جتنی انسانیت کی تذلیل اور بے حُرمتی ہو رہی ہے ایسا اور کہیں بھی نہیں ہوتا۔ہم لوگ صرف پیسے کی ہوس میں قوانین و ضوابط کی دھجیاں اُڑا رہے ہیں۔ہم بغیر پیسے کسی بھی فرد کا کوئی بھی کام کرنے کو تیار نہیں۔ اگر ہماری آنکھوں کے سامنے کسی بیچارے کی تڑپ ،تڑپ کر جان بھی نکل جائے تو ہم تب بھی اُس کی مدد کرنے کو تیار نہیں ہوتے جب تک ہماری جیب گرم نہیں ہو جاتی۔افسوس!...ہم کیسے بے حس اور بے عقل لوگ ہیں ۔
ہمارے حکمران، منتظمین اور سرکاری و پرائیویٹ ادارے اپنی عیش پرستیوں ور اپنی ا تھارٹیوں کے اضافوں میں مشغول ہیں ،ہر سو افرا تفری کا عالم ہے، نوجوانوں نے کتابوں کی جگہ کلاشنکوف تھام لی ، ہر آنکھ اندھی ہو چکی ، ہر کان بہرا ہو چکا ، ہر زبان گونگی ہو چکی ، ہر دماغ ماؤف ہو چکا ، ہر دل نے دھڑکنا چھوڑ دیا ،ہر ضمیر بے ضمیر ہو چکا ، غیرت ختم ہو چکی...تو بقایا ہمارے پاس کیا بچا؟آج ہم سب نے پیسے کی ہوس و لالچ میں اپنا معاشرہ بے پناہ برائیوں سے بھر لیا....کیا ہم دنیا کو منہ دکھانے کے قابل ہیں؟لہٰذا! آج ہمیں اپنی اِس ناقص سوچ اور لالچی ہوس پر قابو پانے کی اشد ضرورت ہے۔فیصلہ آپکا؟
نابینا جنم لیتی ہے اولاد بھی اُس کی
قوم جو دیا کرتی ہے تاوان میں آنکھیں

ہاتھوں میں کشکول تھام لیے... ؟


ہاتھوں میں کشکول تھام لیے... ؟

جس زمانے میں مصر کا حکمران ( مقوقس ) تھا تو اُس وقت (ٹیونس) مصر کا صوبہ تھا۔جسکا گورنر ابو ثوب تھا ۔ ایک وقت ایسا آیا کہ مقوقس کے بیٹے نے اپنے باپ کو قتل کر دیا اور مصر کی حکمرانی کا تاج اپنے سر سجا لیا تو اُدھر ابو ثوب نے بھی اِس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے صوبہ ٹیونس میں خود مختاری کا اعلان کر دیا اور شان و شوکت سے حکمرانی کرنے لگا۔کچھ عرصہ بعد( 641 ء ) میں ایک اِسلامی لشکر حضرت عمر بن العاصؓ کی سرپرستی میں اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرتے ہوئے مصر پر چڑھ دوڑا اور مقوقس کے بیٹے سے اقتدار چھین کر اِسلام کا الم بلند کر دیا۔اور اسلامی قانون نافذ کر دیا۔
اُدھر ٹیونس کے حکمران ابو ثوب نے بہت تیزی سے رعایا کی دیکھ بھال اور بحالی کے لیے اقدامات شروع کر دیے تھے ۔ اُسنے زراعت کا نظام مضبوط کرنے کے لیے بہت بڑے بڑے اور گہرے تالاب غیرہ بنا رکھے تھے۔ جو بارشوں کے موسم میں بھر جاتے اور خشک موسم میں زراعت کے کام آتے تھے ۔اُن تالابوں سے ابو ثوب اپنی رعایا کے کھیتوں اور مال مویشیوں کو سیراب کرتا تھا۔ 
لیکن! ایک دفعہ ایسا ہوا کہ قدرت نے بارشیں نہ برسائیں اور تمام تالاب وغیرہ خشک پڑ گئے ۔ جس سے ابو ثوب اور رعایا سبھی بہت سخت پریشانی میں مبتلا ہو گئے۔ اور اِس امید پر آسمانوں کی طرف اپنی نظریں جما لیں کہ شائد قدرت اُنہیں بارش عطا کر دے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ اِنہی دنوں( حضرت یزید بن عامرؓ )ابو ثوب کے پاس خیرات وصول کرنے چلے آئے ۔ابنِ عامرؓ نے جونہی ابو ثوب کو امداد کا کہا تو ابو کے چہرے پر سخت غصہ آ گیا ۔ اور طیش میں آ کر بول اُٹھے!(تم میرے صوبہ کی حالت نہیں دیکھتے ؟اور چلے آئے ہو خیرات وصول کرنے ...افسوس کہ تم کیسے مسلمان ہو جو بھیک مانگنے لگ گئے ہو ۔ اگر تم مسلمان سچے اور ایماندار ہو اور تمہارا رسولﷺ بھی سچا ہے تو اُسکے وسیلہ سے دعا کرو کہ بارش آ جائے )
میرے مسلمان بھا ئیو ! ابنِ عامر کے لیے یہ بہت بڑا امتحان تھا تو اُنہوں نے نہایت ہی عاجز ی و انکساری سے اک کونے میں جانماز بچھایا اور خشو ع و خضو کے ساتھ دو رکعت نماز نفل پڑھ کر خدا کے حضور سچے دل سے دعا کی۔ دعا ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ اُدھر تیز دھار بارش شروع ہو گئی ۔ یہ واقعہ دیکھ کر ٹیونس کے باشندوں نے اِسلام قبول کر لیا اور وہاں اِسلامی حکومت قائم ہو گئی ۔واہ! سبحان اللہ ! 
شائد اِسے ہی کہتے ہیں ! 
کوئی اندازاہ کر سکتا ہے اُنکے زورِ بازو کا ؟
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں 
میرے پاکستانیو! میں اکثر سوچتا ہوں کہ آج ہماری تقدیر کیوں نہیں بدلتی ؟؟؟جبکہ میرا دیس دنیا کی تمام تر نعمتوں سے مالا مال اور نہایت حسین و جمیل ہے ۔ 
1۔ بلند و بالا، خوبصورت اور دلکش پہاڑی سلسلے ہیں ، جن کا شمار دنیا کی بہترین چوٹیوں میں ہوتا ہے ۔
2۔ دنیا کا ساتواں بڑا ملک اور ایٹمی طاقت ہے ۔ 3 ۔ فوج دنیا کی بہترین دس افواج میں شامل ہے ۔ 
4۔ کوئلہ جس سے بجلی پیدا کر کے صرف اپنی ضرورت ہی نہیں بلکہ دنیا کو فروخت بھی کر سکتے ہیں ۔
5۔ نمک کی بہت بڑی کانیں ہیں ۔ 
6۔ پہاڑوں میں سونا ، چاندی ، ہیرے ، لعل و جواہرات اور ان گنت خزانے ا ور معدنیات دفن ہیں ۔
7۔ دریاؤ ں کا وسیع پانی اور پہاڑوں سے بہتے ان گنت چشمے ہیں۔ 
8۔اِس ملک کا نہری اور آبپاشی نظام دنیا کا بہترین نظام ہے۔ یہاں نہروں کا جال بچھاہوا ہے ۔ 
9۔یہاں کی مٹی بہت ہی نرم اور ذرخیز ہے جس میں فصلوں کی پیداوار بہت اچھی ہے ۔
10۔پھل اور سبزیاں بہت زیادہ مقدار میں پائی جاتیں ہیں ۔ 
11۔ یہاں گنا ، مکئی ، کپاس، گندم اور چاول کی کاشت وسیع پیمانے پر ہوتی ہے ۔
12۔مِلوں اور کار خانوں سے بہترین اور معیاری کپڑا تیا ر ہوتا ہے ۔
13 ۔ اِس پاک دھرتی پر بسنے والی عوام غیور ، بہادر ، محنت کش اور محبِ وطن ہے ۔ وغیرہ ، وغیرہ 
لیکن !پھربھی ہم ترقی پذیر؟پھر بھی پسماندہ قوم ؟پھر بھی ہم بھوکے اور برہنہ؟ پھر بھی یوں ذلت کی زندگی جینے پر مجبور ؟ پھر بھی ہم سسک ،سسک کر بلک ،بلک کر زندگی کے دن کاٹنے پر مجبور ؟پھر بھی بھکاری قوم ؟؟؟ہاہ! ہائے !!!آج بھی میرے دیس کی سر زمیں پر کروڑوں غریب بیچارے ایسے ہیں جو میری طرح فاقوں پر زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ لاکھوں ایسے ہیں جنہیں رات کا کھانا بھی نصیب نہیں ہوتا اور بیچارے خالی پیٹ سو جاتے ہیں ۔ لاکھوں ایسے ہیں جو بھوک ، پیاس سے نڈھال ہو کر ڈھانچوں کی شکل اختیار کر گئے ۔ لاکھوں ایسے ہیں جنہیں جان توڑ محنت کے باوجود بھی مناسب معاوضہ نہیں ملتا ۔ آج بھی میرے دیس کی مائیں بس خواب ہی دیکھتی ہیں اور اِس اُمید کے سہارے جیتی ہیں کہ شائد کوئی مسیحا آئے اور اُنکے بھوکے بچوں کو بھوک اور افلاس سے نجات دلا دے... شائد کوئی آئے ؟ شائد کوئی آئے ؟مگر کوئی نہیں آتا ... میرے دیس کی سر زمیں پر نجانے اور کتنے لاکھو ں انسان ایسے ہونگے جو مجبور اور بے بس ہو کر روزانہ میری طرح یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ آج ہماری تقدیر کیوں نہیں بدلتی ؟؟؟شائد اِسی وجہ سے کہ ہم نے ہاتھوں میں کشکول تھام لیے اور وطنِ عزیز کو (آئی ایم ایف )کا مقروض اور غلام بنا ڈلا ...افسوس ! ذرا سوچنا ؟
گدائی میں بھی تھے وہ اللہ والے غیور اتنے 
کہ منعم کو گدا کے ڈر سے بخشش کا نہ تھا یارا 

Friday, 29 July 2016

دلیوالی قریشیاں کا قبرستان چاردیواری سے محروم،تجاوزات قائم

دلیوالی قریشیاں کا قبرستان چاردیواری سے محروم،تجاوزات قائم
جرائم پیشہ عناصرنے قبرستان کواپنی پناہ گاہیں بنارکھاہواہے۔ نشیؤں نے ڈیرے جمالیے اورمویشی بھی قبروں کی بے حرمتی کرنے لگے ۔
قبضہ مافیانے قبرستان کی جگہ پرتجاوزات کھڑی کررکھی ہیں۔انتظامیہ نے کاروائی کے بجائے چُپ سادھ رکھی ہے۔ ڈی سی اونوٹس لیں



پائی خیل(نامہ نگار)دلیوالی قریشیاں کا قدیم مرکزی اوربڑا قبرستان چاردیواری سے محروم،قبرستان کی جگہ قبضہ مافیانے تجاوزات کھڑی اورمویشی قبروں کی بے حرمتی کرنے لگے۔ تفصیلات کے مطابق نواحی علاقہ دلیوالی قریشاں کا قدیم مرکزی اور بڑا قبرستان چاردیواری سے محروم ہے ۔قبضہ مافیانے قبرستان کی جگہ پرتجاوزات کھڑی کررکھی ہیں۔انتظامیہ نے کاروائی کے بجائے چُپ سادھ رکھی ہے۔ مقامی لوگوں نے قبرستان میں بھیڑبکریوں اورمویشیوں کے ریوڑچھوڑرکھے ہیں جوقبروں پرگندگی اورغلاظت پھیلارہے ہیں۔جبکہ نشہ بازوں نے قبرستان میں اپنے ڈیرے جمارکھے ہیں۔جرائم پیشہ عناصرنے قبرستان کواپنی پناہ گاہیں بنارکھاہواہے۔ جس سے قبروں کی بے حرمتی ہورہی ہے ۔اس قبرستان میں اولیاء کرام عوامی حلقوں کے علاوہ 1965,1971کی جنگ آزادی کے علاوہ ضرب عضب کے فوجی شہداء کی قبروں پرپاکستانی پرچم لہرارہے ہیں۔قبرستان کے تقدس کی پامالی کے ساتھ ،پاکستانی پرچم کاتقدس بھی بے رحمی،بے دردی سے کیاجانے لگاہے ۔عوامی وسماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمدشہبازشریف،ڈی سی اومیانوالی سے قبرستان کی چاردیواری تعمیرکرانے ،قبضہ مافیاکے خلاف کاروائی کامطالبہ کیاہے ۔

پائی خیل(نامہ نگار)صحافی ملک محمدارشدندیم کواللہ تعالیٰ نے چاندسابیٹاعطاکیاہے۔جس پرڈسٹرکٹ پریس کلب موچھ کے صدررحمت اللہ خان ہزارے خیل،پائی خیل پریس کلب کے صدراحمدنوازخان نیازی،حافظ کریم اللہ چشتی،قاری آصف عنایت اللہ چشتی ودیگرنے صحافی وسماجی شخصیات نے ملک ارشدندیم کوبیٹے کی پیدائش پردل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکبادپیش کی اوربچے کی درازی عمربالخیرکے لئے دعاکی۔

Sunday, 24 July 2016

مقبوضہ جموں کشمیر؟؟

مقبوضہ جموں کشمیر؟؟

چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ
آخر بے چارے کشمیریوں کو کب آزادی ملے گی؟۔کب تک وہ بھارتی ظلم و ستم کا شکار بنتے رہیں گے؟۔کیوں کشمیریوں کا کوئی درد بھانٹنے والا نہیں کیوں؟۔کیوں کشمیریوں کو انسان نہیں سمجھا جاتا؟۔آخر کب کشمیری اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزار سکیں گے؟۔آخر کب ؟کشمیر کو عرصہ دراز سے بلکہ کئی دہائیوں سے ہی سوالیہ نشان بنایا گیا ہے۔ کوئی بھی صدق دل سے کشمیر کے معاملات کو حل کرنے کے لئے تیار نہیں۔انگریز حکومت کے دور میں انگریزوں نے کشمیر کو چند لاکھوں کے عوض ایک سکھ راجہ کو فروخت کر دیا ایک عرصہ تک سکھوں نے وہاں حکومت کی اور کشمیری مسلمانوں پر ظلم و جبر کی کئی تاریخیں قائم کیں۔کشمیر آبادی کے لحاظ سے ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست تھی اور جغرافیائی لحاظ سے بھی سب سے زیادہ اہمیت کی حامل۔1947 کی تقسیم سے پہلے ہی کشمیر کو حاصل کرنے کے لئے گاندھی اور جناح نے کوششیں شروع کر دیں۔کشمیر میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی تھی۔اسی لئے کشمیریوں نے پاکستان کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا۔مگر سکھ راجہ نے بھارت کے ساتھ مل کر کشمیریوں کی آواز کچلنے کی کوشش کی ۔بھارت جعلی الحاق کی دستاویزات بنا کر اپنی فوجیں کشمیر میں بھیجنے لگا جو دن بدن بڑھتی ہی گئیں۔کشمیری مسلمانوں نے متعدد بار بھارتی مظالم کے خلاف آوازیں بلند کیں مگر ہمیشہ ہی انہیں کچلنے کی کوشش کی گئی ۔کشمیری مجاہدین نے اپنی جدوجہد کی بدولت بھارتی فوج کے ساتھ جنگ لڑی اور کشمیر کا کچھ علاقہ و حصہ آزاد کروا لیا۔جسے آج آزاد کشمیر کہا جاتا ہے۔یہ دیکھ کر بھارت کے اوسان خطا ہو گئے اور بھارت اقوام متحدہ میں پہنچ گیا۔اقوام متحدہ میں رو کر بھارت نے جنگ بندی تو کروا لی مگر اپنے وعدوں سے مکر گیا نہ ہی ریفرنڈم کروایا نہ ہی اپنی فوجیں واپس بلائیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر بھارت بھاگتا ہوا اقوام متحدہ تک نہ جاتا تو آج پورا کا پورا کشمیر آزاد ہوتا۔کشمیر کا جو حصہ بھارتی قبضہ میں ہے اسے مقبوضہ کشمیر کہتے ہیں۔بھارتی فوج اس علاقہ میں ظلم و ستم کی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔معصوم بچوں عورتوں اور بوڑھوں پر بھی ظلم کیا جاتا ہے۔بھارت کی اس ہٹ دھرمی و گیم میں لاکھوں کی تعداد میں کشمیریوں کے گھر اجڑ چکے ہیں۔کئی یتیم بے آسراء اور بے سہارا ہوئے ہیں۔واقعی میں عرصہ سے مقبوضہ کشمیر کو سوالیہ نشان بنا کر رکھ دیا ہے اور بنایا جا رہا ہے۔اور اس میں شامل بھارت کے ساتھ اقوام متحدہ بھی ہے۔اقوام متحدہ نے کئی بار کشمیر میں استصواب رائے یعنی ریفرینڈم کروانے پر قرار دادیں منظور کیں مگر اقوام متحدہ ایسا کروانے میں ناکام رہا ۔بھارت کی ہٹ دھرمیوں کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ نے بھی ماضی میں اپنی ہٹ دھرمی کے کئی ثبوت پیش کئے ہیں۔بہت افسوس کی بات ہے کہ عالمی طاقتوں کو یورپ میں ایک قتل پر ایک عرصہ افسوس رہتا ہے مگر کشمیر میں ہر گزرتے دن کئی زندگیاں بج رہی ہیں مگر عالمی طاقتیں خاموشی سادھے ہوئے ہیں۔آخر یہ دہرا معیار کیوں؟کیا کشمیری بے جان ہیں؟ مقبوضہ کشمیر میں انسان نہیں رہتے؟بھارتی اور اقوام متحدہ کی ہٹ دھرمی سے لگتا ہے کہ کشمیری ان کے نزدیک انسان نہیں بلکہ بے جان ہیں۔وہ بھی انسان ہیں۔انسانیت کی پامالی کی جا رہی ہے اور اس میں کہیں نہ کہیں انسانیت کے نمبردار بھی ملوث ہیں۔گزشتہ روز میاں محمد نواز شریف نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا اس اجلاس میں کہا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں کشیدہ صورتحال کو وہاں کی حکومت کی طرف سے اندرونی معاملات قرار دینا بین الاقوامی قوانین اور کشمیر کے معاملات پر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی شدید خلاف ورزی ہے۔اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ بھارت کا یہ دعوی کہ یہ اس کا اندرونی معاملہ ہے دراصل حقائق کے برعکس ہے۔اجلاس میں حریت پسند رہنما برہان وانی کی شہادت اور اس کے بعد احتجاج کرنے والوں پر بھارتی فوج کے مظالم کی شدید مذمت کی گئی۔اور اجلاس میں یہ کہا گیا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل سے رابطے کر کے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں فیکٹ فائینڈنگ کمیٹی بھجوانے کا کہے گا۔ تاکہ وہ کشمیریوں کے قتل عام اور ان پر ظلم و جبر کے واقعات کی تحقیقات کرے۔اور اجلاس میں بین الاقوامی برادری پر زور دیا کے وہ بھارتی مظالم کی مذمت کرے اور کشمیری عوام سے وعدے کے مطابق انہیں استصواب رائے کا حق دینے پر زور دے۔بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے اسلام آباد کو آزاد کشمیر خالی کرنے کی گیدڑ بھبھکی اس بات کی علامت ہے کہ وہ بو کھلا چکا ہے۔آزاد کشمیر میں آج بھی کوئی پاکستانی باشندہ جائیداد نہیں خرید سکتا البتہ بھارت دن بدن مقبوضہ کشمیر میں اپنے فوجیوں کے گھر بسا رہا ہے۔بھارت مقبوضہ کشمیر میں انتہا پسند ہندؤں اور ایسے کئی عناصر اور پنڈتوں سمیت سابق فوجیوں کے گھر اور بستیاں بسا رہا ہے۔جوکہ سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی خلاف ورزی ہے۔متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کی ہیئت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا نہ ہی وہاں غیر کشمیریوں کو بسایا جا سکتا ہے۔کیونکہ رائے شماری میں صرف ریاستی باشندے ہی حصہ لے سکتے ہیں۔بھارت جانتا ہے کہ کشمیری عوام پاکستان کے حق میں ووٹ دے گی اسی لئے بھارت ایسے اقدامات کرکے اپنا اسر و رسوخ بڑھانے کی سازشیں کر رہا ہے زبردستی اپنی فوجیں اتار کر مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنے پنجے گاڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔اس سب کے باوجود دن بدن بھارت کشمیریوں کے دلوں میں اپنی نفرت میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔مکروہ بھارت آزاد کشمیر کے الیکشن دیکھ کر اندازہ لگا لے کہ کیسے منظم انتخابت تھے اور دوسری طرف مقبوضہ جموں و کشمیر میں زبردستی ڈنڈے کے زور پر کٹھ پتلی حکومت کا قیام بھارتی ظلم کا منہ برلتا ثبوت ہے۔بھارت اور اقوام متحدہ مزید کشمیریوں کو سوالیہ نشان بنانا بند کرے۔سن لو بھارتی سورمو۔ اگر اپنی ہٹ دھرمیوں سے باز نہ آئے تو اللہ رب العزت ایک دن تمہارے ٹکڑ ٹکڑے کر دے گا۔کشمیر کی اس ظلم و ستم کی تاریخ میں ہم پاکستانی بھی اپنا کردار ادا نہیں کرسکے ہم کشمیر کی آواز صحیح طریقے سے دنیا تک نہیں پہنچا رہے ہمیں یہ کرنا ہوگا ۔روز قیامت کیا کہیں گے کہ ہمارے سامنے ہی ہمارے مسلمان بھائیوں بہنوں پر ظلم کیا جاتا رہا اور ہم اپنے ہی کاموں اپنی ہی موج مستیوں میں مگن رہے۔پاکستان حکومت کو بین الاقوامی طاقتوں کوبھارت کی اصل سازشوں سے آگاہ کرنا چاہئے ۔صرف مذمت کے بیانات سے کچھ نہیں ہونے والا ہمیں اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں پر کشمیر کے حل کے لئے پریشر ڈالنا ہوگا۔

Friday, 22 July 2016

گوجرانوالہ: عالمی امن تحریک عہدیداران کی تقریب حلف برداری

فائل فوٹو
گوجرانوالہ: عالمی امن تحریک میں شامل ہونے والے نئے عہدیداران کی تقریب حلف برداری جی مگنولیہ ہاؤسنگ سوسائٹی میں عالمی امن تحریک کے وائس چئیرمین عتیق انور راجہ (کالم نگار روزنامہ نوائے وقت)کی رہائش پر منعقد کی گئی, جس میں تحریک کت تمام عہدیداران نے بھر پور شرکت کی تقریب حلف برداری سے پہلے تحریک کے چئیرمین محمد ادریس ناز, صدر ملک محمد اشرف نے شرکاء سے خطاب کرے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں یر شخص امن چاہتا ہے اس عالمی طاقتیں امن کے لیے اپنا کردار ادا کریں کشمیر, فلسطین, عراق,شام, بھارت اور جہاں بھی دنیا میں امن کو تباہ کرنے کے لیے جنگیں مسلط کی گئی ہیں وہاں جنگ بندی کے بعد پائیدار امن کو فروغ جائے. چئیرمین عالمی امن تحریک ادریس ناز نے تحریک میں شامل ہونے والے نئے عہدیداران نائب صدر صابر جاوید, نائب صدر عباس زیدی اور کلیم گوندل سے حلف لیا. وائس چئیرمین عتیق انور راجہ نے آئے شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور اس بات پر زور دیا کہ تمام عہدیداران تحریک کو مضبوط کرنے میں اپنا کردار ادا کریں. اس موقع پر نائب صدر عرفان نواز رانجھا (کالم نگار), سینئر نائب صدر اعجاز بیگ, سیکرٹری جنرل زبیر مغل, نائب صدر دلدار احمد ناصر, ڈاکٹر افتخار چوہدری, چیف آرگنائزر میاں تنظیم.حسین, نائب صدر حافظ عبدالقادر کے علاوہ محمد طیب اور معروف کالم نگارو تجزیہ کار چوہدری زولقرنین ہندل نے تقریب کو چار چاند لگائے..وائس آف سوسائٹی نیوز ویب 
فائل فوٹو


فائل فوٹو


فائل فوٹو


فائل فوٹو


فائل فوٹو

Thursday, 21 July 2016

Adds Policy

Voice Of Society Is A Project Of Hundal Brothers 
Advertise With Us
Website Adds Policy
1.Side Bar Right Top
Per Day: 500   Per Week: 2000   Per Month: 8000
2.Footer 1 Main
Per Day: 500   Per Week: 2000   Per Month: 8000
3.Footer 2-2 Right
Per Day: 300   Per Week: 1500   Per Month: 5000
4.Footer 2-1 Left
Per Day: 300   Per Week: 1500   Per Month: 5000
For More Info Contact
voiceofsociety1@gmail.com
03077271776

غزوہ اُحدحق وباطل کااہم ترین معرکہ

غزوہ اُحدحق وباطل کااہم ترین معرکہ

مدینہ منورہ کے شمال میں تین میل کے فاصلہ پرایک پہاڑہے جسے اُحدکہتے ہیں ۔یہ پہاڑشرقاًغرباًپھیلاہواہے کوہ احدکے دامن میں مسلمان اورکفارکے درمیان ایک جنگ ہوئی جوتاریخ اسلام میں غزوہ احدکے نام سے مشہورہے ۔
غزوہ بدرمیں مشرکین مکہ کومسلمانوں کے ہاتھوں سخت نقصان پہنچاتھاان کے بڑے بڑے سردارمارے گئے تھے اورپورے عرب میں ان کی رسوائی ہوئی تھی۔اس طرح ذلت آمیزشکست کازخم یوں توہرشخص کے دل میں تھالیکن جن لوگوں کے باپ ،بیٹے ،بھائی،بھتیجے،خویش اوراقارب جنگ بدرمیں مارے گئے تھے ان کورہ رہ کرجوش آتاتھاجذبہ انتقام سے ہرشخص کاسینہ لبریزتھاہجرت کاتیسراسال تھا۔ مکے کے کافرجنگ بدرکی شکست کابدلہ لینے کے لئے پورے ایک سال سے تیاریوں میں تھے۔ مشرکین مکہ نے چندے اکٹھے کیے اورسارامال جوابوسفیان بن حرب شام سے لایاتھامسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے کے لئے وقف کردیالڑائی کا سامان اکٹھاکیاتین ہزارکابھاری لشکرترتیب دیاگیالشکرکے ساتھ تین ہزاراونٹ اوردوسوگھوڑے تھے ۔اس لشکرکاسپہ سالارابوسفیان تھا۔ آپﷺکے چچاحضرت عباسؓ مکے میں تھے جوں ہی کفارکالشکرمدینے پرحملہ کرنے کے لئے روانہ ہواحضرت عباسؓ نے ایک قاصدکے ذریعے آپﷺکواطلاع دی۔مکے کے قریش ابوسفیان کی بیوی ہندہ کی سرکردگی میں عورتوں کوبھی ساتھ لے آئے تھے کہ وہ میدانِ جنگ میں مردوں کوغیرت دلاتی رہیں کافروں کے لشکرنے اُحدکے مقام پرجومدینہ منورہ سے شمال کی طرف تین میل پرایک پہاڑہے ڈیرہ ڈال دیاانہوں نے آتے ہی ہرے بھرے کھیت اجاڑدیے اورچراگاہیں اپنے قبضے میں کرلیں۔ آپﷺنے مشورہ کرنے کے لئے ایک اجلاس طلب کیاآپﷺکی رائے تھی کہ مدینہ منورہ کے اندررہ کرہی مقابلہ کیاجائے لیکن کچھ جانثاروں نے شہرسے باہرنکل کرمیدان میں جنگ کرنے کامشورہ دیا۔ رسول اللہﷺنے صحابہ کرام علہیم الرضوان کامشورہ قبول فرمالیا آپﷺایک ہزارکالشکرلیکر3ہجری شوال المکرم کے مہینہ جمعۃ المبارک کے دن نمازعصرکے بعدمدینہ سے روانہ ہوئے تھوڑی دورگئے تھے کہ منافقوں کے سردارعبداللہ بن اُبیّ نے حسبِ معمول اس موقع پرغداری کی اپنے تین سوساتھیوں کے ساتھ مدینہ واپس ہوگیا۔کیونکہ یہ شخص حضورﷺکے آنے سے پہلے مدینے کابادشاہ بننے کے خواب دیکھ رہاتھا۔لیکن اسلام کی وجہ سے اسکی ساری امیدوں پرپانی پھرگیا۔اس وجہ سے یہ ہمیشہ منافقت کرتارہتاتھااس موقع پربھی اس نے یہ حرکت کی ۔اب مسلمان لشکرکی تعدادصرف سات سو700رہ گئی ۔ہرطرف سے خطرہ ہی خطرہ تھادشمن کی طاقت بہت زیادہ تھی لیکن مسلمانوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔آقاﷺآگے بڑھے اوراُحدپہاڑکی گھاٹی کے قریب اترنے کاحکم دیا۔آپﷺنے لشکراسلام کومختلف حصوں میں تقسیم کیااوراُحدپہاڑکو پیچھے رکھ کر صفیں درست کیں۔لشکراسلام کی پشت کی طرف ایک درّہ تھاجہاں سے دشمن کے حملے کاخطرہ تھا۔ آپﷺنے حضرت عبداللہ بن جبیرؓ کی کمان میں پچاس تیراندازوں کواس درّہ پرمقرر فرمایا اورتاکیدفرمائی کہ کچھ بھی ہوجائے اس درّے کونہ چھوڑنا۔اُحدکی جنگ میں بھی کافروں نے پہل کی کافروں کے لشکرکے عَلم بردارطلحہ نے آگے بڑھ کرمسلمانوں کوللکارااسکے جواب میں سیدناعلی المرتضٰیؓ میدان میں اترے اوراسے زمین پرگراکرقتل کردیااسکے بعداسکابیٹانکلاجسے حضرت حمزہؓ نے قتل کردیااسی طرح مشرکین باری باری جھنڈااٹھاتے اورمارے جاتے رہے ۔حضرت حمزہؓ ،حضرت علیؓ اورحضرت ابودجانہ انصاریؓ دونوں ہاتھوں میں تلوارلیے دشمن کی لاشوں کے ڈھیرلگاتے رہے ۔کافروں نے پہل کی مسلمانوں کاجواب اس قدرسخت تھاکہ کافرمیدان جنگ سے بھاگ نکلے وہ مسلمان تیراندازجنہیں آقاﷺنے تاکیدفرمائی تھی کہ کسی حال میں بھی درہ نہ چھوڑیں اس خیال سے کہ

اب فتح ہوچکی ہے توانہوں نے اپنی جگہ چھوڑی دی ۔ان کے سردارنے کتناہی ان کوروکامگروہ یہ سمجھ کرکہ لڑائی ختم ہوچکی ہے درّے سے ہٹ گئے اورمال غنیمت سمیٹنے لگے ۔ درّے پراب صرف دس آدمی رہ گئے تھے۔ادھرخالدبن ولیدجوابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے دوسوآدمیوں کادستہ لیکردرّہ کی طرف سے گزرے درّ ہ کوخالی دیکھ کرلوٹ آئے اورحضرت عبداللہ بن جبیرؓ کوساتھیوں سمیت شہیدکرکے لشکرِاسلام پراچانک حملہ کردیا۔جنگ کانقشہ ہی پلٹ گیا۔کافرفتح مندنظرآنے لگے ۔حضرت مُصعب بن عمیرؓ کی شکل آپﷺسے ملتی جلتی تھی وہ آپﷺکوبچانے کی کوشش میں شہیدہوگئے کافروں نے یہ افواہ پھیلادی کہ (معاذاللہ )محمدﷺ!شہیدہوگئے ہیں اس سے مسلمانوں کے ہوش اڑگئے ۔مسلمانوں کالشکربکھرگیا۔حضرت ابوبکرؓ،حضرت علیؓ،حضرت سعدبن ابی وقاصؓ،حضرت زبیرؓ ،حضرت طلحہؓ اورحضرت ابودجانہؓ آپﷺکے گردجمع ہوگئے۔ کفارنے پتھرپھینکے تیربرسائے آپﷺکی پیشانی اوربازوزخمی ہوگئے اورآپﷺکے دودانت مبارک بھی شہیدہوئے تھے۔ بعض صحابہ کرام علہیم الرضوان نے آپﷺسے عرض کی کہ یارسول اللہﷺان مشرکین کے لئے بددعافرمائیں ۔ آپﷺنے فرمایا"میں لعنت کرنے کے لئے نبی نہیں بنایاگیامجھے تواللہ پاک کی طرف بلانے والااورسراپارحمت بنایاگیاہے ۔اے اللہ!میری قوم کوہدایت فرماکیونکہ وہ مجھے نہیں جانتی "۔حضرت عائشہؓ ،حضرت اُمِّ سُلیمؓ،حضرت اُمِّ عمارہؓ انصاری اوردیگرمسلمان خواتین پانی بھرکرلاتیں اورزخمیوں کوپلاتی تھیں۔حضرت ابودجانہؓ اورحضرت طلحہؓ ڈھال بن کرحضورﷺکے سامنے کھڑے تھے جوتیرآتاان صحابہ کرام علہیم الرضوان کے جسم مبارک میں پیوست ہوجاتا۔حضرت سعدؓ بن ابی وقاص سرکارِدوعالم نورِ مجسمﷺکے پہلومیں کھڑے ہوکردشمنوں پرتیرچلاتے رہے ۔حضورﷺخوداپنے ہاتھوں سے انہیں تیردے رہے تھے اورفرماتے جاتے "سعدتجھ پرمیرے ماں باپ قربان اورتیرچلاؤ"حضرت فاطمۃ الزہرانے آپﷺکے زخموں کودھویا۔حضرت علی المرتضیؓ اس وقت ڈھال میں پانی بھربھرکرلاتے تھے۔اس جنگ میں ستر70صحابہ کرام علہیم الرضوان شہیدہوئے تھے۔جن میں آپﷺکے پیارے چچاسیدالشہداء حضرت حمزہؓ بن عبدالمطلب بھی شامل تھے ۔چونکہ آپؓ نے جنگ بدرمیں چن چن کراکثرصنادیدقریش کوتہ تیغ کیاتھااس لئے تمام مشرکین قریش سب سے زیادہ آپؓ کے خون کے پیاسے تھے چنانچہ جبیربن مطعم نے ایک غلام کوجس کانام وحشی تھااپنے چچاطعیمہ بن عدی کے انتقام کے لئے خاص طورسے تیارکیاتھااور اس صلہ میں اسے آزادی کالالچ دلایاتھاغرض وہ جنگ احدکے موقع پرایک چٹان کے پیچھے گھات میں بیٹھاہواحضرت حمزہؓ کاانتظارکررہا تھااتفاقاًوہ ایک دفعہ قریب سے گزرے تواس نے اچانک اس زورسے اپناحربہ پھینک کرماراکہ آپؓ شہیدہوئے۔آپؓ کی شہادت پرکفارکی عورتوں نے خوشی ومسرت کے ترانے گائے۔کافروں نے آپؓ کے کان ،ناک اوردیگراعضاء کاٹ لیے یہاں تک کہ شکم چاک کرکے جگرنکالااورابوسفیان کی بیوی ہندہ نے اُسے چباڈالا۔لڑائی کے اختتام پرآپﷺاورصحابہ کرامؓ دوسرے شہیدصحابہ کرام علہیم الرضوان کی لاشیں تلاش فرماکران کی تجہیزوتکفین کاانتظام فرمارہے تھے کہ حضرت حمزہؓ کواس حالت میں دیکھاتونہایت صدمہ ہوااورایک چادرسے ان کوڈھانپ دیاآپﷺنے پوچھاکہ کیااس نے کچھ کھایابھی ہے صحابہ کرام علہیم الرضوان نے عرض کی نہیں آپﷺنے فرمایا!اے اللہ حمزہؓ کے کسی جزوکوجہنم میں داخل ہونے نہ دینا۔اتنے میں سیدالشہداء حضرت حمزہؓ کی حقیقی بہن حضرت صفیہ تشریف لائیں تاکہ اپنے بھائی کی حالت کودیکھیں آقاﷺنے اس خیال سے کہ آخروہ عورت ہیں اورایسے ظلم کوبرداشت نہ کرسکیں گی اورتحمل مشکل ہوگاان کے صاحبزادے حضرت زبیرؓ سے فرمایااپنی والدہ کودیکھنے سے منع کروانہوں نے والدہ سے عرض کی کہ آقاﷺنے دیکھنے سے منع فرمادیاانہوں نے کہامیں نے یہ سناہے کہ میرے بھائی کے کان اورناک کاٹ دیے گئے ہیں ہم اس پرراضی ہیں میں اللہ پاک سے ثواب کی نیت رکھتی ہوں اوران شاء اللہ صبرکروں گی حضرت زبیرؓ نے جاکرآقاﷺسے ذکرکیاتوآپﷺنے جواب سن کراجازت فرمادی ۔ ایک روایت میں ہے کہ غزوہ احدمیں جہاں نعشیں رکھی تھیں وہاں ایک عورت تیزی سے آرہی تھی آپﷺنے فرمایااس عورت کوروکو حضرت زبیرؓ کہتے ہیں کہ میں نے پہچان لیاکہ میری والدہ ہیں میں جلدی سے روکنے کے لئے بڑھامگرانہوں نے مجھے ایکگھونسامارااورکہاپیچھے ہٹ میں نے کہاکہ آقاﷺنے منع فرمایاہے توفوراًکھڑی ہوگئیں اسکے بعدانہوں نے دوکپڑے نکالے اورفرمایامیں اسے اپنے بھائی کے کفن کے لئے لائی تھی۔حضرت حمزہؓ کوکفن پہننانے لگے کہ برابرمیں ایک انصاری صحابیؓ کی میت پڑی تھی جن کانام حضرت سہیلؓ تھااورکفارنے ان کاحال بھی حضرت حمزہؓ جیساکررکھاتھاہمیں اس بات سے شرم آئی کہ حضرت حمزہؓ کودوکپڑوں کاکفن پہنایاجائے لیکن ساتھ انصاری کے پاس ایک بھی نہ ہوہم نے دونوں کے لئے ایک ایک کپڑاتجویزکیامگرایک کپڑابڑااورایک چھوٹاتھاہم نے قرعہ نکالنے کافیصلہ کیاتاکہ جوکپڑاجس کے حصے میں آئے اسے کفن پہنادیاجائے قرعہ میں چھوٹاکپڑاحضرت حمزہؓ کے حصے میں آیاجوان کے قدکے مطابق چھوٹاتھااگرسرڈھانپاجاتاتوپاؤں کھل جاتے اورپاؤں کی طرف کیاجاتاتوسرکیطرف سے کھل جاتاآقاﷺنے ارشادفرمایاسرکوکپڑے سے ڈھانپ دواورپاؤں پرپتے وغیرہ ڈال دواس طرح ایک ایک کپڑے میں دونوں صحابہؓ کودفن کیاگیا۔
ایک انصاری خاتون گھرسے آپﷺکے بارے میں معلوم کرنے نکلی لوگوں نے اسکوبتایاکہ اسکابھائی شہیدہوگیاہے اس نے کہاکہ رسول اللہﷺتوسلامت ہیں ؟پھراسے اسکے بیٹے کی شہادت کی خبردی گئی تواس نے پھروہی سوال کیاکہ رسول اللہﷺتوخیریت سے ہیں ؟پھر اسے اسکے شوہرکی موت کی خبرسنائی دی گئی توبھی اس نے رسول اللہﷺکے متعلق دریافت کیالوگوں نے کہاآقاﷺاللہ پاک کے فضل وکرم سے خیریت سے ہیں اس نے کہامجھے دکھاؤجب دورسے آپﷺکاچہرہ دیکھ لیاتوبے اختیارکہہ اٹھی "آقاﷺکے ہوتے ہوئے ہرایک مصیبت برداشت ہوسکتی ہے"
قریش کے واپس جانے کے بعدمسلمان بھی مدینہ لوٹ آئے ۔اس وقت مدینہ میں کہرام بپاتھا۔ہرگھرسے رونے کی آوازیں آرہی تھیں۔آقاﷺکادل بھرآیاکہ سب کے لئے رویاجارہاہے لیکن آپﷺکے چچاحضرت حمزہؓ کاکوئی رونے والانہیں ۔یہ انسانی فطرت تھی ۔چنانچہ انصارنے آپﷺکاتاثردیکھ کراپنی عورتوں کوحضرت حمزہؓ کاسوگ منانے کے لئے بھیجالیکن آپﷺنے شکریہ کے ساتھ واپس کردیاکہ مردوں پرنوحہ کرناجائزنہیں ۔(مسنداحمدبن حنبل جلد۳صفحہ۱۸۴)
غزوہ احددراصل ایک فیصلہ کن جنگ نہ تھی ۔جانی اعتبارسے ضرورمسلمانوں کوکفارکے مقابلہ میں زیادہ نقصان اٹھاناپڑاکیونکہ ۲۲کفارکے مقابلہ میں سترصحابہ کرام علہیم الرضوان شہیدہوئے ۔مگرکفارکویہ ہمت نہ ہوئی کہ وہ مدینہ پرحملہ کرکے اس پرقبضہ کرتے ۔اس جنگ میں مسلمانوں کویہ سبق مل گیاکہ رسول اللہﷺکی اطاعت نہ کرنے سے تائیدغیبی بھی ان کاساتھ چھوڑدیتی ہے اوروہ اپنی دنیوی زندگی میں بھی کامیاب نہیں ہوسکتے ۔آج بھی مسلمانوں کے زوال کاواحدسبب اللہ اوراس کے رسول ﷺکے احکامات پرعمل نہ کرنے کی وجہ سے ہے ۔ 
اللہ پاک ہم سب آقاﷺکے اسوہ حسنہ پرچلنے اوراسکے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطافرمائے ۔ہمارے تمام وہ گناہ جوہم نے اعلانیہ یاچُھپ کرکیے سب کومعاف فرمائے ۔بروزقیامت اپنے محبوبﷺکی شفاعت نصیب فرمائے۔مسلمان کوآپس میں اتفاق واتحادنصیب فرمائے ۔ملک پاکستان کوامن وسلامتی کاگہوارہ بنائے ۔آقاﷺکے غلاموں کوہرجہان میں کامیابی عطافرمائے اوردشمنانِ اسلام کونیست ونابودفرمائے اورملکِ پاکستان میں نظام مصطفیﷺلاگوفرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین 

Sunday, 17 July 2016

سب سے بڑی طاقت عوام مگر!


سب سے بڑی طاقت عوام مگر!

چوہدری ذوالقرنین ہندل .گوجرانوالہ
افسوس سب سے بڑی طاقت عوام ہے مگر ہم عوام ہیں یا بھیڑ بکریاں؟کوئی نہیں جانتا۔گزشتہ جمعہ کی شب ترکی ساری رات فوجی بغاوت کی وجہ سے متشدد کاروائیوں کا شکار رہا۔ترکی فوج کے ایک مخصوص گروہ نے حکومتی تختہ الٹنے کی کوشش کی۔ترکی کی بہادر عوام اپنے صدر طیب اردوان کے کہنے پر گھروں سے باہر نکل آئی اور باغیوں کے راستے کی رکاوٹ بننا شروع کر دیا۔ترک عوام نے اپنی حکومت اور اپنے صدر رجب طیب اردوان کے خلاف فوجی بغاوت کے سامنے سینہ سپر ہو کر قومی شعور اور ملکی آئین اور جمہوری عمل کے ساتھ وابستگی کا مظاہرہ کیا۔ترکی گزشتہ 1960۔1971۔اور1980 میں بھی فوجی انقلاب کا شکار رہا مگر چوتھی دفعہ عوام نے فوج کو مسترد کر دیا۔1932 سے جدید ترکی کا آغاز ہوا مگر ترقی میں ہر حکومت کے ساتھ بدلاؤ آتا گیا۔مگر گزشتہ پندرہ سالوں سے ترکی دنیا کی نظر میں اپنا لوہا منوانے میں کامیاب رہا۔جس میں رجب طیب اردوان اور اسکی حکومت کے اقدامات قابل قدر ہیں۔طیب رجب اردوان تین دفعہ وزیر اعظم منتخب ہوئے اور اب صدر کے عہدے پر فائز ہیں۔یہ شخص شروع ہی سے دین اسلام کی طرف مائل تھا سب س پہلے استنبول کا میئر منتخب ہو کر عوام کی خدمت کی اور استنبول کو ایک بہتر شہر کے تور پر نمودار کیا۔عوام کا بھروسا اور یقین اردوان کے لئے اور بڑھا اور اگلی بار اسے وزیر اعظم منتخب کردیا یہ سب عوامی طاقت کی بدولت ہوا۔اس بہادر لیڈر نے عالمی سطح تک خود کو متعارف کروایا۔پوری دنیا میں مسلمانوں کی مدد کو پہنچا اور دنیا کے ساتھ اپنے وطن میں بھی مخالفین کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور عوامی دلوں پر چھایا رہا۔جی قارئین کہتے ہیں سب سے بڑی طاقت عوام ہے! آپ نے گزشتہ کئی ایسے واقعات بھی دیکھے ہونگے کہ جب عوام یکجا ہو جائے تو پھر صرف اور صرف عوام کا ہی لوہا مانا جاتا ہے۔عوام میں بڑی طاقت ہوتی ہے کیونکہ عوام جب اکٹھی ہوتی ہے تو پورے دل و جان سے اکٹھی ہوتی ہے۔گزشتہ رات ترکی کو مارشل لاء سے بچانے والی عوام ہے۔اردوان کے مخالفین نے عوام کو اردوان کے خلاف کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے اور بلا آخر فوجی بغاوت کے زریعے حکومت کو اقتدار سے علیحدہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر عوام نے اس بغاوت کو یکساں مسترد کر دیا اور اپنے لیڈر کی آواز پر لبیک کہا۔ اردوان کی عوام میں مقبولیت صرف اور صرف اس کے حقیقی لیڈر ہونے کی وجہ سے ہے نہ کبھی اردوان پر کرپشن کا کوئی کیس ثابت ہوا نہ کبھی کسی بدعنوانی میں نام آیا۔اور سب سے بڑی بات وہ عوامی نمائندہ ہے اردوان اور اسکی حکومت عوامی سطح تک تعلقات استوار کئے ہوئے ہے۔بلدیاتی ادارے بہت مضبوط ہیں۔لیڈرشپ براہ راست عوام سے منسلک ہے تبھی تو عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اپنے صدر کے کہنے پر بغاوت کو کچل گیا۔وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف ترک صدر کو اپناہم منصب سمجھتے ہیں۔مگر میرے خیال سے ان دونوں میں بہت سی چیزیں مختلف ہیں۔میاں محمد نواز شریف عوام میں اپنی مقبولیت کھو چکے ہیں مگر اردوان کی مقبولیت کا اندازہ آپکو ہو چکا ہے۔ہمارے ہاں عوام اور حکمران جمہوریت کے بڑے بڑے راگ الاپتے ہیں۔مگر حقیقت اس کے برعکس اور تکلیف دہ ہے۔میرے خیال میں پاکستان میں حقیقی معنوں میں ابھی تک کوئی جمہوری پارٹی نمودار نہیں ہوئی۔سب کے سب جمہوریت کی ایک اپنی ہی تعریف بنائے ہوئے ہیں۔اور اس میں موقعے کی مناسبت سے تبدیلیاں کرتے ہیں۔بلا شبہ گزشتہ شب ترک عوام اور حکومت کے لئے ایک کڑا امتحان تھا مگر ان کے حوصلے پست نہیں نہ ہی کسی کے دل میں باغیوں کے لئے کوئی سافٹ کارنر موجود تھا نہ ہی کوئی باغیوں کی حمایت میں نکلا کیونکہ ان کے دل صاف تھے کسی کے دل میں ذاتی مفاد اور کھوٹ موجود نہیں تھی وہ لوگ ون یونٹ تھے۔ اور ملکی مفاد کی خاطر گھروں سے باہر نکلے۔ادھر پاکستان میں سارے کا سارا آوا ہی بگھڑا ہے۔ہر پارٹی کا اپنا مفاد ہے اپنے ذاتی مفادات کے لئے قوم کو توڑتے ہیں کبھی وطن کی عوام کو ون یونٹ نہیں رہنے دیا۔عوام کو اسٹیبلشمنٹ بیروکریسی سیاسی پارٹیوں عدلیہ دوسرے اداروں کا اور اپنا باخوبی علم ہے کہ ملک کی بقاء کے لئے کسی نے کیا کردار ادا کیا ہے۔اگر کسی کو اپنی وطن کے ساتھ بے وفائی پر شک ہے تو ذرا خود کو پرکھو اور دیکھو کے ہمارے اندر اور ترکی کے عوام کے اندر کیا فرق ہے۔کیوں ہماری عوام ون یونٹ نہیں ہوتی؟ کیونکہ ہمارے ہاں اردوان جیسے لیڈر موجود نہیں؟۔کیوں ہم بار بار کرپٹ لوگوں کے جال میں پھنس جاتے ہیں؟۔کیوں ہماری افواج اپنے کام سے ہٹ کر سیاست میں دخل اندازی کرتی ہے؟۔کیوں ہماری عدلیہ انصاف کے علاوہ باقی سب کاموں میں ماہر؟ کیوں ہمارے وزیر نا اہل؟ کیوں ہماری اپوزیشن جماعتیں اپنے مفادات کی خاطر کسی بھی حد کو جانے کو تیار ہیں چاہے ملکی نقصان ہی کیوں نہ ہو؟ ۔کیوں ہم سب صرف اپنے مفادات کا سوچتے ہیں اور دوسروں کے مفادات کو کچلنے کی کوشش کرتے ہیں؟۔کیوں ہمارے اندر ہٹ دھرمی آچکی ہے؟۔کیا ہم مسلمان ہیں؟۔کیا ہم عوام ہیں یا بھیڑ بکریاں؟۔کیوں ہم باتوں میں تو دنیا فتح کرلیتے ہیں مگر حقیقت میں ناہل ہیں ؟کیوں آخر کیوں؟ ۔ذرا سوچئے۔ترکی پر جو گزشتہ شب قیامت ٹوٹی اس سے با خوبی نمٹنے کے لئے ترک عوام کی عظمت کو سلام بلا شبہ دنیا کی تاریخ کا یہ بہت بڑا واقع ہے ترکیوں نے ثابت کر دیا کہ انہیں اپنے اچھے برے کی تمیز ہے انہوں نے اپنے لئے اچھے لیڈروں کو چنا۔ انہوں نے بیرونی سازشوں کو بے نقاب کیا اور مسترد کیا۔ترک عوام ہماری عوام کے لئے مشعل راہ ہے۔ کچھ سیکھئے۔سیاستدانوں سے گزارش ہے کہ عوام کو سمجھیں عوام کو پرکھیں اور عوامی فلاح و بہبود کے لئے کام کریں اگر عوام آپ کے ساتھ ہے تو سمجھ لو تم بڑے مضبوط ہو کیوں کہ عوام سب سے بڑی طاقت ہے۔

Saturday, 16 July 2016

ماہِ شوال کے روزوں کی فضیلت


ماہِ شوال کے روزوں کی فضیلت

رمضان المبارک کامقدس مہینہ ختم ہوگیاہے۔یہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں ہماری گواہی دے گا۔جس نے اس مقد س مہینہ کاحق اداکیاقیامت کے دن یہ مقدس مہینہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں اس شخص کے لئے عزت ووقارکے تاج پہننانے کی درخواست کرے گا۔اس مقد س مہینہ کی درخواست قبول ہوگی خوش نصیب انسان کوعزت ووقارکاتاج پہنادیاجائے گا۔جس نے اس مقد س مہینہ کاحق ادانہیں کیاجیسے اس کی عزت ہم پرواجب تھی ؟وہ پچھتائے گازندگی کاکوئی بھروسہ نہیں شایدآئندہ یہ ماہِ مقدس ہمارے نصیب میں نہ ہواگر موت نے غافل کومہلت نہ دی توانسان نادم ہوگاپَراس دن صرف ندامت ہی ہوگی اورتوکچھ فائدہ نہیں ہوگا۔میرے مسلمان بھائیو!زندگی کوغنیمت جانوگناہوں سے بازآجاؤغفلت چھوڑدوکہیں ایسانہ ہوکہ قیامت کے دن افسوس کرناپڑجائے ۔
منقول ہے کہ جب رمضان المبارک کامقدس مہینہ آتاہے توجنت کوایک کنارے سے دوسرے کنارے تک سجایاجاتاہے یہاں تک کہ جب اسکی پہلی رات آتی ہے توعرش کے نیچے تیزہواچلتی ہے توجنتی درختوں کے پتے پھڑپھڑاتے ہوئے جنت کے دروازوں پرلگتے ہیں توان کی ایسی آوازسنائی دیتی ہے کہ کسی سننے والے نے اس سے زیادہ دلکش آوازکبھی نہ سنی ہوپھرزینت سے آراستہ بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں جنت کے بالاخانوں میں کھڑی ہوکرپکارتی ہیں کیاکوئی خوش نصیب ہے جواللہ پاک کوہمارے نکاح کاپیغام دے تاکہ اللہ پاک ہمارانکاح اس سے کردے پھردربان جنت سے پوچھتی ہے اے رضوان یہ کون سی رات ہے تووہ ان کولبیک کہتے ہوئے جواب دیتاہے یہ ماہ رمضان المبارک کی پہلی رات ہے اوراللہ پاک نے فرمایاہے کہ اے رضوان میرے محبوب ﷺکے امت کے روزہ داروں کے لئے جنت کے دروازے کھول دے ۔اے جبرائیل امینؑ زمین کی طرف جاؤمردو دشیاطین کوزنجیروں میں جکڑدواوران کے گلے میں طوق ڈال کرسمندرکی گہرائی میں پھینک دوتاکہ میرے محبوبﷺکی امت کے روزے فاسدکرنے کی کوشش نہ کریں اللہ پاک ماہ رمضان کی ہررات تین مرتبہ ارشادفرماتاہے ہے کوئی توبہ کرنیوالاکہ میں اسکی توبہ قبول کروں ہے کوئی مغفرت طلب کرنیوالاکہ میں اسے معاف کروں ہے کوئی سوال کرنیوالاکہ میں اس کوعطاکروں ہے کوئی دعاکرنیوالاکہ میں اس کی دعاقبول کروں اللہ پاک رمضان کی ہررات افطارکے وقت دس لاکھ جہنمی کہ جن پرعذاب واجب ہوچکاہوتاہے دوزخ سے آزادفرماتاہے جب ماہِ رمضان کاآخری دن آتاہے تواس دن مہینے کے شروع سے آخرتک آزادکئے ہوؤں کی تعدادکے برابرجہنم سے آزاد فرماتاہے ۔ماہ رمضان المبارک کامہینہ امت محمدیہﷺکو اللہ پاک کی طرف سے ایک خصوصی انعام ملاہواہے ۔ کیونکہ اس ماہِ مقدس میں ایک نفلی عبادت کاثواب فرض کے برابراورفرض کاثواب عام دنوں کے فرضوں سے سترتاسات سوگناتک ملتاہے۔
شوال شول سے ماخوذہے جس کے معنی ہیں باہرنکلنا۔چونکہ اہل عرب اس مہینہ میں سیروسیاحت کے لئے گھروں سے باہرنکل جایاکرتے تھے۔اس لئے اِس ماہ کانام شوال رکھاگیا۔ ماہِ شوال کے مہینے میں جوحرام ومعاصی سے پرہیز کرتاہے وہ جنت کامستحق ہوتاہے ۔حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پران کی بدکاری کی وجہ سے زمین کاجوطبقہ الٹ دیاگیاتھاوہ ہفتہ کادن اورماہِ شوال کی پہلی تاریخ تھی۔ حضرت صالح علیہ السلام کی امت یکم شوال جمعرات کے

دن مبتلائے عذاب ہوئی ۔حضرت نوح علیہ السلام کی امت پہلی شوال ہفتہ کے دن طوفان میں غرق ہوئی تھی۔قوم عادعلیہ السلام پریکم شوال بدھ کے دن عذاب صرصرآیاتھا۔
حدیث شریف میں واردہے کہ شوال کی پہلی رات میں جس کوصبح عیدہوتی ہے چندہزارفرشتے نازل ہوتے ہیں اوروہ نداکرتے ہیں کہ اے اللہ پاک کے بندو!خوشخبری ہوتم کواس بات کی اللہ پاک نے تم کواس لئے بخش دیاہے کہ تم نے ماہِ رمضان کے روزے رکھے ۔اگرتم چھ روزے شوال میں بھی رکھوتوتم کواللہ پاک جنت میں ایسابڑامکان دے گاجوکسی کونہ دے گاسوااسکے جوتمہارے موافق عمل کرے ۔
حضرت سیدناابوایوب انصاریؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺنے ارشادفرمایاجس نے رمضان کے روزے رکھے اورپھرشوال کے چھ روزے رکھے گویااس نے سارازمانہ روزے رکھے۔(نسائی)یہ اس وقت ہے کہ جب کہ وہ تمام عمریہ روزے رکھے اگراس نے صرف ایک ہی سال یہ روزے رکھے تواسے سال بھرکے روزوں کاثواب ملے گا۔ماہِ شوال کے چھ روزے اکٹھے یامتفرق رکھنا ہرطرح جائزہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایاکہ جوشخص رمضان شریف کے روزے رکھے اورپھرماہ شوال میں چھ روزے رکھے اس نے گویاپورے سال کے روزے رکھے ۔آپؓ نے اس حدیث پاک کی توضیح میں فرمایاکہ سال بھرکے روزے اس حساب سے ہوتے ہیں کہ رمضان شریف کے تیس روزے تین سوروزوں کے برابرہوئے اورشوال کے چھ روزے ساٹھ کے برابریوں سال کے تین سوساٹھ دنوں کے برابرروزے ہوئے ۔ایک روایت میں ہے کہ جوشخص ماہ شوال کے چھ روزے لگاتارماہِ رمضان سے ملاکررکھے (عیدکے دن کے علاوہ)تواس کے لئے چھ لاکھ برس کی عبادت ،چھ لاکھ اونٹ کی قربانی ،چھ لاکھ غلام آزادکرنے سے بھی افضل ہے 
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺنے ارشادفرمایاجوماہِ شوال کے چھ روزے رکھے گااللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن طوق اور زنجیروں سے بچالے گا۔ایک اورروایت کے مطابق جوشخص ماہِ شوال کے چھ روزے صدق وایمان سے رکھے گااسکے نامہ اعمال میں امت مصطفیﷺ کے برابرثواب لکھاجائے گااوربہشت میں حضرت امیرحمزہؓ ،حضرت عباسؓ ،حضرت امام حسنؓ اورحضرت امام حسینؓ کی ہمسائیگی میں جگہ ملے گی۔ 
حضرت علی المرتضیٰ شیرخداؓ فرماتے ہیں اے مسلمانو!شوال کے مہینے میں چھ روزے ضروررکھ کراپنے جسموں کوپاک وصاف کرلیاکروکیونکہ اللہ تعالیٰ رمضان میں روزہ رکھنے والوں کے اجسام دیکھتاہے لہذاجوشخص اس مہینے میں حرام ومعاصی سے پرہیزرکھے گاوہ جنت کاحقدارہے۔شوال کے پہلے روزے کے بدلے میں اللہ تعالیٰ اس کے چالیس سال کے گناہ بخش دے گاچالیس نبیوں کاثواب عطافرمائے گااوربہشت کی چالیس حوریں اس کی زوجیت میں دے گادوسرے روزے کے بدلے سترغزوات کاثواب اورعذاب قبرسے نجات ملے گی ۔تیسرے روزے کے بدلے میں ایک لاکھ شہیدوں کامرتبہ اورقیامت کی سختی سے محفوظ رہے گا۔چوتھے روزے کے بدلے میں دنیاوآخرت کی سترحاجتیں پوری ہوں گی اوراعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیاجائے گا۔پانچویں روزے کے بدلے میں بہشت کے سترحلے پہنائے جائیں گے اوردعاقبول ہوگی۔چھٹے روزے کے بدلے میں اسے قیامت کے دن ایک لاکھ گناہ گاروں کی شفاعت کاحق ملے گاساٹھ لاکھ برس کی عبادت نامہ اعمال میں لکھی جائے گی ۔ اگراسی سال جس میں روزے رکھے ہیں مرجائے گاتوشہیدہوگااوردیداربھی حاصل ہوگا۔حدیث پاک میں ہے کہ جوآدمی شوال کی پہلی رات یادن میں نمازعیدکے بعدچاررکعت نمازنفل اپنے گھرمیں پڑھے اورہررکعت میں الحمدشریف کے بعدسورۃ الاخلاص اکیس مرتبہ پڑھے اللہ تعالیٰ اس کیلئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیتاہے اوردوزخ کے ساتوں دروازے بندکردیتاہے اتنے تک وہ آدمی نہیں مرے گاجب تک وہ اپنامقام جنت میں نہ دیکھ لے ۔اللہ پاک ہم سب کی تمام جانی مالی عبادتیں اپنی بارگاہ لم یزل میں قبول فرماکربروزقیامت ذریعہ نجات بنائے اوراپنے پیارے محبوب ﷺکی شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین
******** ختم شد ********