Sunday, 8 May 2016

پاناما لیکس کا دوسرا دور، کئی سیاستدانوں اور اہم شخصیات کے نام شامل


پاناما لیکس کا دوسرا دور، کئی سیاستدانوں اور اہم شخصیات کے نام شامل

 09 May, 2016Voice Of Society
پانامہ لیکس کا دوسرا دور شروع ہوگیا۔ پانامہ لیکس نے اپنی چشم کشا رپورٹ کا دوسرا دھماکہ بھی کردیا ہے۔ عمر چیمہ کی جانب سے دی گئی تازہ رپورٹ منظر عام پر آگئی۔ کئی سیاستدانوں سمیت اہم شخصیات کے نام شامل ہیں۔پاکستان سمیت دنیا بھر ہلچل مچانے والی پانامہ لیکس کا خفیہ اکاؤنٹس رکھنے والوں کے خلاف چشم کشا رپورٹ کا دوسرا دور شروع ہوگیا ہے۔ پانامہ لیکس کی دوسرے دھماکے میں آئی سی آئی جے کے رکن پاکستانی صحافی عمر چیمہ کی جانب سے دی گئی رپورٹ میں 400 سے زائد سیاستدانوں، کارباری اور دیگر اہم شخصیات کے نام شامل ہیں۔عمر چیمہ کی رپورٹ میں عمران خان کے قریبی ساتھی، بے نظیربھٹوکے کزن، الطاف حسین اورآصف علی زرداری کے قریبی دوستوں کے نام شامل ہیں۔ فہرست میں سابق سیکیورٹی افسر کے بیٹے، پورٹ قاسم اتھارٹی کے ایم ڈی کے بیٹے اور چند ہفتوں قبل آسکر ایوارڈ جیتنے والی شرمین عبید چنائے کی والدہ کا نام بھی شامل ہے۔

کسان کہاں جائیں؟

Kisan Kidher Jaein


کسان کہاں جائیں؟
03424652269چوہدری ذوالقرنین ہندلگوجرانوالہ
۔۔۰
گندم کی کٹائی بھی مکمل ہو گئی۔اور اپنے ساتھ کسانوں کی خوش فہمی کو بھی نگل گئی۔کسانوں کی امیدیں اور منصوبے سب ختم ہو گئے۔سب خواہشیں دری کی دری رہ گئیں۔اور کچھ بچا ہوا صبر اور حوصلہ بھی ختم ہو گیا۔قرض پہلے سے بڑھ گئے۔کسانوں کے سب ارمان ٹوٹ گئے۔گھرانے پہلے سے بھی ویران نظر آنے لگے۔فکریں اب بوجھ بن گئیں اور زہن نے سوچ سوچ کر کسانوں کو بڑھاپے میں داخل کر دیا۔آباؤ اجداد کا پیشہ اب زہر کی طرح زہریلا بن گیا۔کھیتی باڑی سے محبت ختم ہو گئی۔اور دل و دماغ گردش میں رہنے لگے طرح طرح کے وسوسے تنگ کرنے لگے۔کچھ نے تو یہ سوچ کر دل کو تسکین دی کہ نفع ہو یا نقصان سب کچھ بیچ باچ کر شہر یا کسی ٹاؤن میں منتقل ہو کر کوئی کاروبار شروع کریں گے اور زراعت کو ہمیشہ کے لئے خیر آباد کہیں گے آخر اس نے ہمیں دیا ہی کیا ہے بلکہ ہمارا خون ہی چوسا ہے۔نہ جانے ہمارے دل میں ایسی سوچ پہلے کیوں نہ آئی ہماری عقل پر پردہ جو پڑا تھا۔مگر بے چارے وہ کسان جن کے پاس نہ تو مویشی ہیں نہ ہی کوئی آباؤ اجداد کی جائیداد انکا تو کلیجہ ہی پھٹ گیا قلب نے جیسے حرکت کرنا ہی چھوڑ دیا۔اور اوپر سے فصل پر لگے اخراجات اور خرچ جو کسی ڈیلر سے قرض کے تور پر لئے تھے وہ ستانے لگے۔افسوس کے بہت ساروں نے خودکشی کا بھی سوچا ہوگا مگر کیسے خودکشی کریں گھروں میں بیٹھی ماؤں بہنوں بیویوں اور بیٹیوں کا وارث کون ہوگا۔بس دل میں یہی خیال ہے کہ جائیں تو کہاں جائیں کریں تو کیا کریں؟۔قارئین یہ سب لکھنے کا مقصد بتانا ہے کہ بالخصوص چھوٹے کسان تو پس چکے ہیں ان کا ہمدرد کوئی نہیں۔کچھ تو اللہ تعالی پر توکل قائم رکھے ہوئے ہیں اور کجھ تو زندگی کی ہمت ہار چکے ہیں بس انکا دل ہے کہ آخری آرام گاہ کا سکون لیں۔موجودہ گندم کی کٹائی کے بعد کسانوں کو بہت زیادہ ذلیل کیا گیا۔کہنے کو تو حکومت گندم کی خریداری ۰۰۳۱ روپے فی من میں کر رہی ہے مگر اصل میں جو رقم کسان کو ملتی ہے وہ ۰۰۲۱ روپے فی من ہے۔اوپر والا سو روپیہ معزز حکومت کے گوداموں تک گندم پہنچانے کا خرچ جس میں سے باردانہ کی قیمت کرایہ اور کچھ رقم محترم فوڈ انسپکٹر اور باقی عملے کی نظر۔یہ تو صرف انکے لئے تھا جو صاحب وافر مقدار میں روپیہ رکھتے ہوں مگر غریب کسان بے چارے روز باردانہ کے حصول کے لئے آتے اور سارا دن لائنوں میں کھڑے ہو کر شام کو خالی ہاتھ واپس لوٹ جاتے یعنی ہفتوں ذلالت انکا مقدر ٹھہری اور آخر کار پھر وہی ڈیلروں کو ۰۱۱ ۰روپے فی من کے عوض گندم فروخت کرنی پڑی۔مگر اس کے بر عکس ایم این ایز و ایم پی ایز فوڈ انسپکٹر اور انکے حامی و عزیزواقارب بغیر کسی لائن میں کھڑے ہزاروں کی تعداد میں توڑے و باردانہ سب سے پہلے ہی لے گئے اور انہوں نے وافر مقدار میں باردانہ لے کر بعد میں اپنا ریٹ بنا کر بلیک میں دوسرے ڈیلروں کو فروخت کیا۔بقول ہماری گورنمنٹ ساڑھے بارہ ایکڑ اور اس سے کم اراضی والے چھوٹے کاشتکاروں کو سب سے پہلے باردانہ دیا گیا اور میں نے ایسے اشتہارات بھی اخبارات میں دیکھے جن میں لکھا ہوا تھا کہ باردانہ کی منصفانہ تقسیم ہوئی۔مگر پتا نہیں انہیں نظر کیوں نہیں آتا؟کہ ان کے اپنے ایم این ایز و ایم پی ایز اور آفیسران ہی غریبوں کا حق کھا جا تے ہیں۔خدارا حضرت عمر رضی اللہ کی حیات و حکمرانی کے بارے ضرور پڑھیں شاید آپ کو خدا کا خوف آجائے۔کسانوں کے ساتھ عرصہ دراز سے ہی نا انصافی ہو رہی ہے کہیں کسانوں(زراعت) کا بجٹ میٹرو ٹرین کی نظر اور کہیں دوسرے پراجیکٹس کی نظر۔اور اگر کچھ حصہ آبھی جائے تو وہ محکمہ زراعت اور ایم پی ایز و ایم این ایز کی نظر۔کیا کسان اس وطن کا حصہ نہیں ؟اگر ہے تو ان کے ساتھ سوتیلوں سے بھی بد تر سلوک کیوں؟کیا حکمرانوں کی کسانوں سے کوئی دشمنی ہے؟اگر نہیں تو بے گانوں سا سلوک کیوں؟ کیا کوئی سازش پاکستانی کسانوں(زراعت) کا خاتمہ چاہتی ہے؟اور کیا حکومت اس میں سازشیوں کے ساتھ ہے؟پاکستان میں ہر چڑھتے سورج کے ساتھ زراعت کا پیشہ ٹھپ ہوتا جا رہا ہے۔ایسا صرف کسانوں کے ساتھ نا روا سلوک کی بدولت ہو رہا ہے۔کسان بے چارے طرح طرح کے ٹیکس دیں کہیں زرعی ٹیکس کہیں آبی ٹیکس کہیں کھادوں دواؤں کے ٹیکس یہ سب کسان کو ہی ادا کرنے ہوتے ہیں ۔اور دن بدن کھادوں دواؤں اور دوسری ضرورت کی اشیاء کے آسمانوں کو چھوتے ہوئے ریٹ اور بے چارے کسانوں کی فصل وہی کوڑی کے بھاؤ۔ آخر حکومت خود ہی بتا دے کہ کسان ایسے میں کہاں جائیں اور کیا کریں؟میں آپکو بتانا چاہتا ہوں ہمارے وطن کی زراعت کو خطرہ لاحق ہے اگر وطن سے کسان کم ہوتے گئے تو ایک دن ایسا آئے گا ہمیں بیرون ممالک سے زرعی اجناس منگوانی پڑیں گی۔اور پھر موجودہ زرعی اجناس سے چار گنا زیادہ رقم ادا کرنا پڑے گی اور پھر ایسی مہنگائی سامنے آئے گی کہ دوسرے شعبوں اور صنعت کا بھی بیڑہ بھی غرق ہو جائے گا یعنی سب کچھ اجڑ جائے گا۔ ملک میں توازن قائم نہیں رہے گا اور جرائم پہلے سے بھی چار گنا زیادہ بڑھ جائیں گے۔اگر کسانوں کی خوشحالی کے لئے کچھ نہ کیا گیا تو خوش کوئی بھی نہیں رہے گا کسان خوشحال تو پاکستان خوشحال۔ذرا سوچئے جو دہقاں و کسان آپکو کھانے پینے کی بہت ضروری اشیاء فراہم کرتا ہے اگر وہ خود اپنی ضروریات پوری نہ کر سکے تو یہ کتنی بڑی نا انصافی ہے۔محکمہ زراعت۔خدارا یا تو اس محکمے کو ختم کر دیں یا اس کو فعال بنائیں ۔ یوں ہی یہ بھی قومی خزانے پر بوجھ ہے اور وزارت زراعت کا تو اللہ ہی حافظ۔اور وزیر اعظم صاحب کہاں گئی وہ تین سو چالیس ۰۴۳ ارب کی امداد جو کسانوں کے لئے مختص تھی کہاں گئے وہ وعدے جو کسانوں ک ساتھ کئے۔اللہ تعالی سے ڈریں آخر سب نے مرنا ہے ۔مجھے غصہ آتا ہے ان ڈیلروں اور صنعت کاروں پر جنہیں کسانوں کی فصلوں کا ریٹ بڑھتا ہوا چبھتا ہے مگر اپنی چیزوں کے ریٹ بھلے معلوم ہوتے ہیں۔اصل میں کسان انکی بنائی ہوئی چیزوں کی مہنگائی اور حکومت کی کرپشن کی وجہ سے پس گیا ہے۔وزیر اعظم صاحب کسانوں کے ساتھ کئے ہوئے وعدوں کو پورا کریں ورنہ ہم یاد کرواتے رہیں گے اور میری صحافیوں و لکھاریوں سے گزارش ہے کہ کسانوں کا حال ایوانوں تک پہنچائیں اللہ تعالی اجر دے گا۔
نہ رہے دہقاں و کسان اس دیس میں تو
نہ رہیں گی حکومتیں سلامت نہ صنعتیں۔

خطاب کی دعوت


پاکستانی خاتون جہاں آرا کو امریکی صدر کی جانب سے عالمی کانفرنس میں خطاب کی دعوت

 09 May, 2016Voice Of Society
واشنگٹن/ اسلام آباد (صباح نیوز)ٹیکنالوجی کے حوالے سے پاکستان کی ممتاز شخصیت جہاں آرا کو امریکی صدر باراک اوباما نے وائٹ ہائوس مدعو کیا ہے جہاں وہ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کیلیفورنیا میں منعقد ہونے والی ساتویں گلوبل انٹرپرنیئرشپ کانفرنس سے خطاب کریں گی۔ جہاں آرا پاکستان کے ایک بڑے سافٹ وئیر ہائوس کی سربراہ اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے ملک میں انتہائی سرگرم شخصیت کے حوالے سے پہچان رکھتی ہیں۔ انہیں اس کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ امریکی صدر باراک اوباما کے توسط سے موصول ہوا جو 23 اور 24 جون کو منعقد ہوگی۔ کانفرنس میں جہاں آرا جنوبی ایشیا میں سرمایہ کاری، بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش میں کاروباری تنظیم کاروں کیلئے مواقع کے موضوع پر اظہار خیال کریں گی۔

Friday, 6 May 2016

Baldyati Idary Gumshuda

Baldyati Idary Gumshuda



بلدیاتی ادارے گمشدہ
چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔۹۶۲۲۵۶۴۲۴۳۰
قارئین آپ جانتے ہیں کہ بلدیاتی الیکشنز کروانے کے لئے اپوزیشن جماعتوں نے کتنی کوششیں کیں صوبائی حکومتیں ہر گز نہ چاہتی تھیں کہ مقامی حکومتیں بنیں اور اقتدار لوکل سطح پر منتقل ہو۔یعنی اپنے وزراء اور ایم پی ایز کو خوش رکھنا ہی بس ان کی منشاء تھی۔مگر عدالت سپریم کورٹ آف پاکستان نے بہت کوشش و ہمت اور سوچ کے بعد بلدیاتی الیکشنز کروانے کا حکم جاری کیا۔حکومتیں ٹال مٹول سے کام کرتی رہیں مگر اپوزیشن جماعتوں نے عوام کی طاقت کا سہارا لیتے ہوئے حکومتوں کو بلدیاتی انتخابات کروانے پر مجبور کیا۔جی آخر کار قسطوں میں بلدیاتی انتخابات ہوئے۔اسی دوران الیکشن کمیشن لاچار نظر آیا۔قتل و غارت اسلحے کا استعمال اور سر عام روپے اور اسلحے کی نمائش اور ایسے ہی متعدد واقعات نظر آئے۔ کوئی دھاندلی کرتا نظر آیا اور کسی کو ووٹ نہ دینے پر کڑی سزائیں سہنی پڑیں۔کئی ہستے بستے گھر اجڑ گئے۔بہت ساری پرانی دشمنیاں دوبارہ تازہ ہوئیں۔بہت سی نئی دشمنیوں نے جنم لیا۔بہت سی رشتہ داریوں میں دراڑیں پڑیں۔ان سب کے بتانے کا مقصد ہے کہ صوبائی حکومتیں اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہیں۔ہمارے حکمران اور ادارے نااہل اور کرپٹ ہیں۔انتخابات مکمل ہوئے جیسے صوبائی حکومتیں چاہتی تھیں ویسے ہی ہوا بھاری اکثریت سے صوبائی حکومتوں کے اپنے ہی نمائندے منتخب ہوئے۔ بڑی بڑی دعوتیں جیت کی خوشیوں میں اڑائی گئیں۔جیت کی خوشیوں میں فائرنگ اور رقص کی محفلیں سجائی گئیں۔بلدیاتی انتخابات میں دوبارہ پرانا عکس نظر آیا وہی نمائندے وہی نظام۔قارئین بلدیاتی ادارے وہ ادارے ہیں جو کسی سیاستدان کے لئے بنیاد ہوتے ہیں۔یعنی کے سیاست کی پہلی سیڑھی۔جہاں بار بار پرانے لوگ بلا مقابلہ اپنی طاقت کے بل بوتے پر جیت جاتے ہیں وہیں بلدیاتی انتخابات میں کچھ نئے چہرے بھی سامنے آئے اور منتخب ہوئے۔جو لوگوں کی نئی امید ہیں۔بلدیاتی انتخابات کروانے کا مقصد اقتدار کو لوکل سطح پر منتقل کرنا تا کہ مقامی لوگ اپنے مقامی نمائندے سے اپنے مسائل حل کروا سکیں۔مگر گزشتہ بلدیاتی نمائندوں نے بھی ایم این ایز اور ایم پی ایز کی طرح لوٹ مار کا بازار گرم رکھا جس سے لوگوں کا اعتبار ہی سیاست دانوں سے اٹھ گیا۔میں بار بار کہہ چکا ہوں کہ کم از کم حلف کی ہی پاسداری کر لیا کریں۔خیر چھوڑیں یہ سب لکھنے کا مقصد تھا کہ تھوڑا بلدیاتی انتخابات کا عکس دکھاؤں۔اب میں اپنے عنوان پر آتا ہوں ’’بلدیاتی ادارے گمشدہ‘‘۔قارئین کیسا لگے گا اگر آپ نے اپنی پسند کے مطابق شادی کے لئے ساری مشکلات جھیلنے کے بعد آخر کار سب کو رضا مند کرلیا اور اس کے بعدمہندی کی رات بھی خوب شور شرابا کیا۔صبح نکاح کے لئے شیروانی بھی تیار ہو۔شادی کی ساری خریداری بھی کی ہو۔ اور عین مقررہ وقت پر آپ بارات لے کر لڑکی والوں کے پاس پہنچے ہوں اور کسی وجہ سے یا بغیر کسی وجہ سے لڑکی والے انکار کر دیں تو سوچیں ہونے والے دلہے پر کیا قیامت گزرے گی یقین سے کسی کے لئے بھی اچھا نہیں ہو گا۔ لیکن ایسا ہوا۔افسوس کہ ہمارے بلدیاتی نمائندے جو منتخب ہو چکے جنہوں نے اپنے جیتنے کی خوشی میں بہت دھوم دھام سے دعوتیں اڑائیں ہلا گلا کیا۔حلف برداری کی تقریب بھی ہو چکی ہو۔مگر افسوس کے اختیارات نہ ملے ہوں۔ ایسا ہوا اور سارے بلدیاتی نمائندوں کے ساتھ ہوا۔ بے چارے اس دلہے کی مانند ہی ہیں سارے انتظامات جیت و جشن کے بعد بھی اپنا عہدہ سیٹ اور اختیارات حاصل نہ کرسکے۔وہ وعدے جو انہوں نے عوام کے ساتھ کئے تھے وہ ان کو سونے نہیں دیتے ہوں گے۔اور جو شوق سے یا برادری میں مقام بڑھانے کے لئے آگے آئے ان کو بھی یہ جیت مہنگی پڑی۔قارئین پنجاب اور سندھ میں تو سٹی تحصیل اور ضلعی حکومتوں کے الیکشن بھی نہیں ہوئے بس گورنمنٹ آج کل کے دلاسے دے رہی ہے اور جہاں تک میرا خیال ہے اب جن سیٹوں کے الیکشن رہ گئے نہیں ہوں گے کیوں کہ ایسا کوئی آثار نظر نہیں آتا۔بلدیاتی نمائندوں کے بارے میں بتا دوں جن میں سے بہت سے ایسے ہیں جو قرض تلے دب کر الیکشنز جیتے مگر اپنا مقام حاصل نہیں کر سکے۔میں سوچ کر حیران ہوتا ہوں کہ صوبائی حکومتوں کے اپنے ہی نمائندے اکثریت میں ہیں۔مگر پھر بھی اختیارات نہیں دیے جا رہے۔کیا ایسے میں ان کے نمائندے باغی نہیں ہو جائیں گے؟۔یا پھر انہیں چپ کی گولی دی جا چکی ہے؟۔یا فکسنگ ہو گئی ہے؟ کہ نمائندوں کو آخر میں دولت سے نوازا جائے گا۔اختیارات نمائندوں کو نہ سونپنے کا مقصد کیا ہے؟۔ کیا حکومتوں کے پاس مزید رقم نہیں کہ بلدیاتی اداروں کو فعال بنا سکیں ؟اگر ایسا ہے تو کیا وہ رقم ایم پی ایز کو نوازی گئی؟۔یا پھر صوبائی حکومتوں نے مقامی حکومتوں کے بارے میں کچھ سوچا ہی نہیں؟۔اصل فیکٹر کیا ہے عوام جاننا چاہتی ہے؟ اور جس کا جواب دینا حکومتوں پر لازم ہے؟ ۔آخر کار اتنا زیادہ روپیہ خرچ کروا کر الیکشنز کروائے گئے۔حکومتی خزانہ وامیدواروں کا خزانہ خرچ ہوا۔کیا یہ صرف نامی کلامی انتخابات تھے اس کا مقصد صرف اور صرف لوگوں کو ذلیل کرنا ہی تھا۔کدھر ہیں بلدیاتی ادارے نظر کیوں نہیں آتے؟۔کیا آپ کے چہیتے افسرز آپکے ایم این ایز اور ایم پی ایز کے ساتھ مل کر یونین کونسلز ٹاؤن میونسپل اور ضلعی ہالز پر قابض ہیں؟ یا سب کچھ بیچ کر کھا چکے ہیں؟۔بلدیاتی اداروں کو فعال بنانے میں رکاوٹ کیا ہے؟۔خدارا اگر قوم کا پیسا خرچ کیا ہے انتخابات پر تو بلدیاتی ادارے بھی فعال کریں۔یوں خود ہی نہ مقامی حکومتوں کے اختیارات بھی استعمال کریں۔قوم کو بے وقوف بنانا چھوڑ دیں اور اللہ تعالی سے ڈریں اور معافی مانگیں۔ورنہ جگہ جگہ یہ ہی لکھا ہوا دیکھیں گے’’ بلدیاتی ادارے گمشدہ‘‘۔اور آپ کے اپنے نمائندے ہی آپ سے بغاوت پر اتر آئیں گے۔

Zulqarnain Hundal Meeting With Munib Iqbal

Meeting With Munib Iqbal

تقریب میسج آف اقبال ٹو یوتھ ۔ملاقات منیب اقبال




چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔۹۶۲۲۵۶۴۲۴۳۰
بیس اپریل کو میں ڈیپارٹمنٹ میں موجود تھا ایک دوست حافظ امیرحمزہ بھاگتے ہوئے آئے اور بتانے لگے کہ آج منیب اقبال شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے پوتے یونیورسٹی ایڈی ٹوریم میں تشریف لا رہے ہیں میرے ساتھ چلو انکا خطاب سنیں گے۔میں بہت کم ہی تقریبوں میں جاتا ہوں مگر حافظ صاحب نے ہمیں علامہ محمد اقبال کی عقیدت میں قائل کر لیا ۔ڈیپارٹمنٹ سے اجازت مانگی اور ایڈی ٹوریم کی طرف چل دیے لگ بھگ دو بجے کا وقت تھا پانچ منٹ بیٹھنے کے بعد میں نے جائزہ لیا کہ ابھی سیمینار کے آغاز میں کچھ وقت ہے۔میں اٹھ کر سیمینار کے آرگنائزر الیکٹرونکس سوسائٹی کے صدر عتیق الرحمان ان کے پاس چلا گیا اور اپنے بارے میں بتایا کافی رسپیکٹ ملی اورپھر ایونٹ کے بارے معلوم کیا انہوں نے مجھے بتایا کہ ابھی منیب صاحب کے آنے میں کچھ وقت درکار ہے ہم ایونٹ کے فوری بعد ریفریشمنٹ کے دوران آپکی ملاقات منیب صاحب سے کروا دیں گے۔میں وہاں سے حافظ کو لے کر قریب ہی فلیٹ میں چلا گیا ایک گھنٹے بعد کچھ با ذوق دوستوں صدام ثاقب اور اظہر نے ہمیں زبردستی پھر ساتھ لیا اور سیمینار میں چلے گئے یونیورسٹی آف لاہور الیکٹرونکس سوسائٹی والوں نے اچھا انتظام کیا ہوا تھالوگ پورے نظم و نسق کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے منیب صاحب کے آنے میں کچھ وقت ابھی بھی تھا اس سیمینار و ایونٹ کا نام و عنوان تھا’’ میسج آف اقبال ٹو یوتھ بائے منیب اقبال‘‘۔ اس بار انتظار نہ کرنا پڑا تھوڑی ہی دیر بعد منیب اقبال تشریف لائے اور پر جوش استقبال کیا گیا تلاوت قرآن پاک سے باقاعدہ تقریب کا آغاز کیا گیا آپ سب جانتے ہی ہوں گے کہ اکیس اپریل۸۳۹۱ کو علامہ محمد اقبال اس دنیا سے رخصت ہوگئے مگر لوگوں کے دلوں میں ابھی تک زندہ ہیں۔یہ تقریب علامہ صاحب کی برسی کے سلسلہ میں منعقد کی گئی تقریب میں لڑکوں نے اقبال کی شاعری سنائی اور نغمہ پیش کیا جی منیب صاحب کے خطاب کی باری آگئی آپ کو بتاتا جاؤں کہ منیب اقبال کافی ہنسی مذاق والے انسان ہیں انہوں نے سٹیج پر آتے ہی کہا’’پائی میں ڈاکٹر ڈوکٹر کوئی نئی ایویں مینوں وی لوگ اقبال صاحب دی عقیدت نال ڈاکٹر کہہ دیندے نے‘‘ ان کے اس سٹارٹنگ جملے سے لوگ زرا پہلے سے زیادہ متوجہ ہو گئے۔منیب صاحب نے کافی لمبا خطاب کیا جس میں سے کچھ سرسری باتیں بتا دیتا ہوں انہوں نے بتایا کہ علامہ صاحب کی پیدائش فجر کی آذان کے وقت ہوئی اور جب وہ اس دنیا س رخصت ہوئے تب فجر کی جماعت کھڑی تھی یعنی انہوں نے اذان سے لے کر جماعت تک کا وقت پایا اور اس تھوڑے وقت میں لوگوں کے دلوں پر چھا گئے اور اللہ نے اتنا ذیادہ مقام عطا کیا۔بتایا کہ علامہ صاحب نے انگریز حکومت کی طرف سے ’’سر‘‘ کا خطاب لینے سے انکار کردیا اور خواہش ظاہر کی کہ جب تک میرے استاد سید میر حسن کو ’’شمس العلماء ‘‘ کا خطاب نہیں ملتا تب تک میں بھی یہ خطاب نہیں لے سکتا انگریز حکومت نے کہا کہ آپ کی نظمیں اور اشعار بہت سی اخبارات پر شائع ہوتے ہیں آپکو بہت سے لوگ جانتے ہیں مگر میر حسن ۔علامہ صاحب نے جواب دیا میں بذات خود چلتا پھرتا اپنے استاد کی ایک کتاب ہوں۔انہوں نے بتایا کہ علامہ صاحب نے انسانیت مسلمانوں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے لئے بھی شاعری کی اور نوجوانوں کو بیدار کیا کیونکہ نوجوان قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں منیب صاحب نے اپنے دادا کے یہ اشعار بھی پڑھے۔
کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں 
کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاج سر دارا
منیب صاحب نے ایک واقعہ بتایا کہ نہرو پنڈت ایک دفعہ ملاقات کے سلسلے میں علامہ صاحب کے پاس تشریف لائے اور نیچے زمین پر بیٹھ گئے علامہ صاحب بڑے حیران ہوئے اور کہا اوپر بیٹھیں جواب میں نہرو نے کہا ہم تو بہت چھوٹے درجے کے پنڈت ہیں آپ کے آباؤ اجداد بہت اعلی درجے کے پنڈت تھے اسی لئے ہماری جگہ یہیں بنتی ہے علامہ صاحب کو بہت غصہ آیا کیونکہ وہ ایک سچے مسلمان اور درجوں پر یقین نہیں رکھتے تھے خیر پنڈت نہرو نے باتوں باتوں میں اقبال صاحب کو کہا کہ آپ نے محمد علی جناح کو مسلمانوں کی قیادت کیوں سونپی بلکہ آپ کو تو خود ہی مسلمانوں کی قیادت سنبھالنی چاہیے تھی علامہ صاحب کو بہت غصہ آیا اور کہنے لگے میں تمہاری سازشوں کو اچھی طرح جانتا ہوں تم ہمارے اندر تفرقہ ڈالنا چاہتے ہو مگر میں ہر گز ایسا نہیں ہونے دوں گا جان لو کہ مسلمانوں کے اصل لیڈر جناح ہی ہیں میں انکا ایک عام سا سپاہی ہوں اور ساتھ ہی نہرو کو گھر سے چلتا کیا۔منیب صاحب نے بتایا کہ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ اقبال اور جناح کی آپس میں بنتی نہیں تھی یہ انکی بھول ہے انہیں’’ لیٹرز آف اقبال ٹو جناح ‘‘بک پڑھنی چاہئے بہت کم لوگ اس بک کے بارے میں جانتے ہیں یہ بک اقبال نے لکھی اور جناح نے پبلش کروائی۔علامہ صاحب کے دوقومی نظریے کے بارے میں سب جانتے ہیں منیب صاحب نے کافی چیزیں بتائیں جو پھر کبھی تفصیل سے لکھوں گا۔تقریب کے فوری بعد ریفریشمنٹ تھی ریفریشمنٹ کے دوران میری منیب اقبال صاحب سے ملاقات ہوئی دعا
سلام کے بعد میں نے اپنا تعارف کروایا تھوڑی گپ شپ کے بعد میں نے منیب صاحب سے سوالات شروع کردیے۔میں نے بھی آغاز ہنسی مذاق سے کیا منیب اقبال ابھی غیر شادی شدہ ہیں شادی سے متعلق سوال کر دیا اور انہوں نے بڑی ہوشیاری سے یہ کہہ کر جان چھڑوا لی کہ اقبال بھی آزادی پسند تھے میں بھی ابھی آزادی چاہتا ہوں کچھ عرصہ بعد شادی کا سوچوں گا پھر میں نے یوتھ کے متعلق سوال کیا اور انہوں نے جواب میں کہا کہ ہمیں ساری امیدیں یوتھ سے ہی وابستہ کرنی چاہیے عمر رسیدہ لوگوں کو تو بار بار آزما چکے ہیں میں نے سیاسی پاٹیوں کے بارے میں پوچھا تو کہنے سب ایک جیسے ہیں۔پی ٹی آئی کے بارے پوچھا تو کہنے لگ جیسے پی ایم ایل نواز ویسے ہی پی ٹی آئی سب ایک جیسے ہیں سیاست کے بارے انہوں نے زرا محتاط ہو کر جوابات دئیے۔میں نے تبدیلی کے بارے پوچھا تو بتانے لگے کہ تبدیلی حقیقت میں سوچ کی تبدیلی ہے تبدیلی عوام کے شعور سے ہے ۔میں نے اقبال اکیڈمی کے بارے پوچھا تو کہنے لگے اقبال اکیڈمی کا نائب صدر ہوں اقبال اکیڈمی ہر کوئی جوائن کر سکتا ہے اسے جوائن کرنے کے لئے ایف اے بی اے تک تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے میں نے ان سے ذاتی زندگی اور سیاست کے بارے اور بھی بہت سے تیکھے سوالات پوچھے جن کویہاں بتانا ضروری نہیں سمجھتا کیونکہ میراا ن سے ملاقات کا مقصد فیوچر میں علامہ صاحب کے بار میں معلومات حاصل کرنا ہے تاکہ ان سے مل کر وہ معلومات حاصل کی جاسکیں جو بہت کم لوگ علامہ صاحب کے بارے میں جانتے ہیں اور انشاء اللہ بہت جلد علامہ صاحب کی پیدائش سے لے کر وفات تک کی اور منیب صاحب کے والد جاوید اقبال کے بارے میں بھی وقفوں میں لکھوں گا ۔فیوچر میں منیب صاحب سے ملاقاتوں کا مقصد صرف اور صرف معلومات حاصل کرنا ہے۔

آخر میں اقبال کا شعر
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پے روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا