Tuesday, 5 July 2016

عیدالفطرکاچاندنظرآگیا،کل ملک بھرمیں ایک ساتھ عید ہوگی

لاہور:عیدالفطرکاچاندنظرآگیا ہے۔کل پاکستان میں عید ہوگی۔وائس آف سوسائٹی نیوزکی جانب سےپاکستانیوں کوعید مبارک کراچی میں عید
الفطرکاچاند دیکھنے کے لئے  مرکزی زونل رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس  محکمہ موسمیات کے دفترمیں ہوا۔جبکہ لاہور،اسلام آباد،پشاور اور کوئٹہ میں بھی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں شوال کے چاند کے نظر آنے کی شہادتوں کے بعد کل بروز بدھ 6جولائی کوعیدالفطرمنانے کا اعلان کیا گیا۔تاہم یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس بارنہ صرف پاکستان بھر میں ایک ساتھ بلکہ اسلامی برادر ملک سعودی عرب کسیاتھ پہلی بار عید منائی جائیگی۔وائس آف سوسائٹی نیوز ویب

شریف فیملی کے بیشتر ممبران عیدمنانے وزیراعظم کےپاس پہنچنےلگے

لاہور:وزیراعظم نے لندن میں قیام کیا تو شریف فیملی کے بیشتر ممبران
 بھی عید منانے ان کے پاس پہنچنے  لگے۔دوسری  جانب  شہباز شریف ،عمران خان  اس مرتبہ عید لاہور میں منائیں  گے۔گوروں کے دیس میں سجنے لگا ہے ہاؤس فل عید ہفتہوزیراعظم  نواز شریف تو پہلے ہی لندن میں تھےاب مریم نواز اور ان کے بچےبھی عید  کیلئےپی آئی اے کی پرواز757 کے ذریعے   لندن روانہ ہوگئے۔جبکہ حمزہ شہباز نے بھی  لندن کی پرواز پکڑ لی ہےاس  سے پہلے  شہباز شریف کے  دوسرے صاحبزادےسلمان شہبازاور انکےبچے  بھی لندن روانہ  ہو چکے ہیں۔ادھرسابق صدر آصف زرداری بھی پہلے سے لندن میں موجود ہیں او ر عید وہیں منائیں  گے۔بلاول بھٹو کے بارے میں بھی پیپلزپارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ  وہ بھی لندن یاترا کے لیے تیا ر بیٹھے ہیں۔عمران خان آج رات بنی گالہ سے لاہور کیلئے روانہ ہونگے اور 2سے تین روز تک لاہور میں قیام کریں گے۔لاہورمیں قیام کے دوران وہ  پارٹی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کریں گے اورعید کے بعد ایک ہفتے کے دورے پر برطانیہ جائیں گے۔و۱ئس آف سوسائٹی نیوز ویب

Monday, 4 July 2016

کیا آپ حج پر جانے کا ارادہ رکھتے ہیں؟

کیا آپ حج پر جانے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ 

حج کا مہینہ قریب آرہا ہے اور دل میں حج کی تڑپ رکھنے والے حج کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ اللہ تعا لیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے وارنا مناسکنا (البقرہ) ترجمہ : اور ہمیں ہمارے حج کے احکام بتادیجئے اور حضور نبی کریم ﷺ کا ارشادگرامی ہے خذواعنی مناسککم۔ ترجمہ: مجھ سے حج کے مناسک سیکھ لو:حج اورعمرہ کے مناسک سیکھنا قرآن و حدیث سے ثابت ہے تو پھر حج اور عمرہ سیکھ کر جانا ہمارے لیے فرض اور واجب ہو جاتا ہے ۔حج ا سلام کے پا نچ بنیادی ارکان میں شامل ہے لیکن ہمارے نصاب تعلیم میں اس بارے میں کوئی مضمون وغیرہ نہیں رکھا جاتا ۔ حالانکہ چاہیے تو یہ کہ جس طرح ابتدا ئی تعلیم سے ہی کلمہ ، نماز ، روزہ اور زکوٰۃ کے بارے میں بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے اسی طرح حج و عمرہ کے بارے میں آگاہی ہونی چاہیے۔حج اور عمرہ پر جانے والے اللہ تعالیٰ کے مہمان ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کے حج اور عمرہ کے لیے میرے گھر آؤ پچھلے گنا ہوں کی توبہ اور معافی مانگو اور آئندہ زندگی اللہ اور اسکے رسولﷺ کی تعلیمات پر چلنے کا وعدہ کرو تو میں تم کو اسی وقت ایسے واپس بھیجوں گا جیسے بچہ با لکل معصوم اور گناہوں سے پاک پیدا ہو تا ہے اللہ تعالیٰ نے ہماری زندگی میں ہی اپنے گناہ معا ف کروانے کا موقع دے دیا ہے اور ہمیں اس کا بھرپور فائدہ اٹھا نا چاہیے جب آپ حج کر کے واپس آئیں تو آپکو اپنے اندر اور دیکھنے والوں کو بھی آپکے اندر ایک واضح تبدیلی نظر آنی چاہیے کہ یہ اللہ کا بندہ حج کر کے آیا ہے تو یہ پہلے جیسا نہیں ہے اسکے قول و فعل میں کچھ تبدیلی نظر آرہی ہے اور یہی آپکے حج کی قبولیت کی نشانی ہے لیکن اگر بندہ جس طرح گیا تھا ویسا ہی واپس آگیا جو کام پہلے کرتا تھا واپس آکر بھی وہی کام کر رہا ہے تو پھر ایسے حج کا کوئی فائدہ نہیں ۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی باقی ماندہ زندگی میں اللہ اور اسکے رسولﷺ کی تعلیمات پرعمل کریں اور انکی خوشنودی حاصل کریں اور اپنے حج کوحج مبروربنایں۔
حج کی عبادت روز مرہ کی عبادت نہیں ہے اس لیے عام طور پر لوگوں کو اس بارے میں کوئی علم نہیں ہوتا روز مرہ کی عبادات نماز ، روزہ اور زکوٰۃہے اس کے بارے میں سب کو علم ہوتا ہے لیکن حج ہزاروں کلو میٹر دور سعودی عرب میں جا کر ہوتا ہے اس لیے عام طور پر لوگو ں کو اس بارے میں زیا دہ پتہ نہیں ہوتا ۔ حج پر جانے سے پہلے دنیاوی اغراض اور مباہات سے دور رہیں۔ نما زپنجگانہ بروقت اور با جماعت اداکریں اور لوگوں کے ساتھ اخلاق حسنہ سے پیش آئیں۔ گناہوں اور نافرمانیوں سے توبہ کریں جو گناہ سر زد ہو چکے ہوں ان پر شرمسارہوں اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا وعدہ کریں۔ لوگوں کے حقوق لوٹا دیں ، ناراض لوگوں کو راضی کرلیں،دل کی کدورتیں اور نفرتیں صاف کر لیں۔ کسی کا دل دکھایا ہو تو اس سے معافی طلب کریں تمام گناہوں سے دور رہیں۔ اپنے حج کیلئے حلال اور پاک مال میں سے خرچ کریں۔ کہ اللہ تعالیٰ پاک چیزوں کو پسند فرماتا ہے اور قبول فرماتاہے۔ جھوٹ سے پرہیز کریں ،غیبت سے بچیں اور بغیر علم کے کوئی دینی بات نہ کہیں اور یہ سوچیں کہ آپ کس کے در پر حاضری دینے جا رہے ہیں آپ کو اپنے گھر کس نے بلایا ہے ۔حج کرنے والوں پر لازم ہے کہ وہ حج پر جانے سے قبل اللہ تعالیٰ کے گھر کی حاضری کیلئے مکمل تیاری کریں اپنا ذہن تیار کریں حج کے احکامات اور مناسک سیکھیں۔ حج کے متعلق لٹریچر کا مطالعہ کریں۔حج تربیتی پروگراموں میں زیادہ سے ز یادہ شرکت کریں۔ پیدل چلنے کی عادت ڈالیں کیونکہ دوران حج بہت زیادہ پیدل چلنا پڑتا ہے اور اگرپیدل چلنے کی عادت نہ ہوگی تو وہاں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔۔ حج پر جانے کے لیے احرام ، کپڑے ، جوتے اور بیگ وغیرہ خریدنا کوئی تیا ری نہیں ہے اصل تیاری وہ ہے کہ جو عبادت آپ نے وہاں جاکراداکرنی ہے اسکے متعلق آپکو مکمل معلومات اور آگاہی ہونی چاہیے حج کے فرض اورواجبات کا علم ہونا چاہیے۔ اگر باقی کاموں مثلا رہائش، سفر ، اور کھانے پینے میں کچھ کسر رہ جائے تو اس کا کوئی حرج نہیں ہے لیکن حج کے منا سک کی ادا یگی میں کوئی کمی نہیں ہونی چاہیے۔ عمر رسیدہ،بیمار اور معذور افراد اپنے ساتھ کسی معاون کو ضرور لیکر جائیں اور اولاد اپنے بوڑھے والدین کو ہرگز اکیلے حج پر روانہ نہ کریں ایسے لوگ دوران سفر اور دوران حج خود بھی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں اور اپنے گروپ کے دیگر افراد کیلئے بھی پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔ہمارے ہاں یہ رواج عام ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد اولاد اپنے والدین کو حج کیلئے اکیلے ہی روانہ کر دیتی ہے اور ایسے لوگ حج کے مناسک اور ارکان بھی صیحح طورپر ادا نہیں کر پاتے اور اسطرح انکا حج ناقص رہ جاتا ہے اور حج کا فریضہ بھی ادا نہیں ہوتا۔

Sunday, 3 July 2016

صدقہ فطر

صدقہ فطر

رحمتوں اوربرکتوں سے بھراہوارمضان المبارک کامقدس مہینہ ہم سے کوچ کاارادہ کیے ہوئے ہے ۔چنددن رہ گئے ہیں ماہِ رمضان المبارک کامہینہ ختم ہوجائے گا۔پتہ نہیں کہ اگلے سال یہ مقدس مہینہ ہمارے مقدرمیں ہے یاکہ نہیں ۔کیونکہ زندگی کاکوئی پتانہیں کب تک وفاکرتی ہے۔جس خوش نصیب کے ساتھ جب تک زندگی نے وفاکی وہ تواس عظمتوں والے مہینے کوپاتارہے گااس ماہ مقدس میں اللہ پاک کی رحمتیں اپنے دامن میں سمیٹتا رہے گا۔جس کے ساتھ زندگی نے وفانہیں کی تووہ قیامت تک اس ماہِ مقدس کی رحمتوں سے محروم رہ جائے گا۔یہ وہ مقدس مہینہ ہے جس میں نفل عبادت کاثواب فرض کے برابراورفرض کاثواب سترسے سات سوگناتک بڑھادیاجاتاہے۔جوشخص رمضان المبارک کے مقدس مہینہ میں ایمان اورحصولِ ثواب کی نیت سے صوم(روزہ رکھنا) اورقیام کرتاہے اسکے تمام سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔قرآن مجیداوراحادیث مبارکہ میں جہاں جہاں یہ لکھاہے کہ نیک کام سے گناہ مٹ جاتے ہیں وہاں گناہ سے مرادگناہ صغیرہ ہیں کیونکہ کبیرہ گناہ اس وقت معاف ہوتاہے جب بندہ بارگاہ الٰہی میں اخلاص کے ساتھ توبہ کرلے ۔ اب کوئی شخص بھی ایمان کے تقاضوں کی تکمیل میں اوربارگاہ الٰہی میں ایمان وثواب کی نیت سے ماہ رمضان کے ر وزے رکھتاہے اوراس کی راتوں میں قیام کرتا ہے تواپنے سابقہ تمام گناہوں سے پاک ہوجاتا ہے ۔کیونکہ روزہ داراللہ کے حکم کی تعمیل کرنے کے لئے دن بھرمیں کچھ نہیں کھاتاپیتا،رات کوقیام کرتاہے ۔سارادن اورساری رات اپنی تمام نفسانی خواہشات سے پرہیزکرتاہے تواللہ پاک بھی راضی ہوتاہے اورساراماہ اس پربابِ کرم کھول دیتاہے۔روزوں کے اختتام پرجوصدقہ دیاجاتاہے اسے صدقہ فطرکہتے ہیں ۔ صدقہ فطرنبی کریم ﷺنے اپنے غلاموں پرلازم قراردیاہے اسکے لازم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اگرہم نے روزہ کی حالت میں کسی کی غیبت کی، جھوٹ بولا،نظرکوغلط استعمال کیا،کسی کے بارے میں بدگمانی اوربُرااخیال کیااس قسم کی کوئی بھی حرکت جوروزہ کے تقدس کے خلاف تھی تواب روزہ ختم ہونے پرہم کچھ صدقہ کردیں کیونکہ صدقہ برائیوں کومٹاتاہے ہماراروزہ بھی اس سے صاف وستھراہوجائے گا۔
دوسری وجہ اسکی یہ بھی ہے کہ عیدکے دن ہم اورہمارے اہل وعیال خوشیاں مناتے ہیں نئے کپڑے پہنتے ہیں ایک دوسرے کوتحائف دیتے ہیں ۔جوغریب لوگ ہوتے ہیں وہ خوشی منانے سے محروم رہ جاتے ہیں ۔جب ہم صدقہ فطرسے غریبوں کی مددکریں گے تووہ بھی عیدکی خوشی منائیں گے اس سے اللہ پاک اوراسکے محبوبﷺکی ذات خوش ہوگی ۔
صدقہ فطرایک مالی انفاق ہے جسکاحکم حضورنبی اکرم ﷺ نے زکوٰۃ سے پہلے اس سال دیاجس سال رمضان المبارک کے روزے فرض ہوئے ۔صدقہ فطرغریبوں اورمسکینوں کودیاجاتاہے اس کوفطرانہ بھی کہتے ہیں اس کااداکرناہرمالدارشخص کے لئے ضروری ہے تاکہ غریب اورمسکین لوگ بھی عیدکی خوشیوں میں شریک ہوسکیں اسکے علاوہ صدقہ فطرروزے دارکوفضو ل اورفحش حرکات سے پاک رکھنے کاذریعہ ہے ۔حضرت سیدنا ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ آقائے دوجہاں سرورکون مکان ﷺنے صدقہ فطرمقررفرمایاتا کہ یہ روزہ دارکے بیہودہ کاموں اورفحش باتوں کی پاکی اورمساکین کے لئے کھانے کاباعث بنتاہے ۔(ابوداؤد،مشکوٰۃ شریف)
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم نورمجسمﷺنے کھجوروں اورجَوکاایک صاع صدقہ فطرمسلمانوں کے ہرغلام ،آزادمرد، عورت ، چھوٹے اوربڑوں پرمقررکیااورحکم دیاکہ نمازعیدپڑھنے سے پہلے پہلے اداکردیاجائے ۔(مسلم شریف)
حضرت عمروبن شعیب عن ابیہ عن جدہٖؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرمﷺنے ایک شخص کوبھیجاکہ مکہ کی گلی کوچوں میں اعلان کردے کہ صدقہ فطر واجب ہے ہرمسلمان مردوعورت ،آزاد،غلام،چھوٹے اوربڑے پردومُدّ گندم یاایک صاع کھانا۔(ترمذی)
حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے ماہ رمضان کے آخرمیں لوگوں سے فرمایااپنے روزے کاصدقہ اداکرورسول اللہﷺنے یہ صدقہ فطرواجب قراردیا ہے ایک صاع کھجوریاجَویاآدھاصاع گندم ہرآزاد،غلام ،مردوعورت اورچھوٹے بڑے پر(ابوداؤد،نسائی)
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺنے ارشادفرمایابندے کاروزہ زمین وآسمان کے درمیان معلق رہتاہے یعنی قبول نہیں ہوتاجب تک اس کے ذمہ صدقہ فطرواجب ہے اورعمربھراس کے اداکرنے کاوقت ہے ۔(ابن عساکر،ویلمی)
حضرت ابن عمرؓسے روایت ہے "رسول اللہ ﷺ نے غلام اورآزاد،مرداورعورت،چھوٹے اوربڑے سب مسلمانوں پرصدقہ فطرکھجوریاجوکا ایک صاع فرض کیاہے"حضورنبی کریم ﷺ کافرمان مبارک ہے کہ نمازکی طرف جانے سے پہلے زکوٰۃ فطراداکرلی جائے۔لیکن اگرکوئی شخص صدقہ فطرکسی مجبوری کیوجہ سے عیدکے روزادانہ کرسکااوربعدمیں اداکیاتواسکاشمارقضامیں نہیں ہوگا۔صدقہ فطرکسی بھی وقت اداکیا جائے تووہ اداہی ہوگا۔ہم کوبھی چاہیے کہ صدقہ فطراداکرنے میں سستی نہ کریں بلکہ عیدکاوقت آنے سے پہلے اداکردیں ۔تاکہ غریب لوگ بھی عیدکی خوشی میں شامل ہوسکیں ۔حضرت ابن عمرؓ کی ایک روایت ہے "کہ صحابہ کرام علہیم الرضوان صدقہ فطرعیدسے ایک دودن پہلے اداکردیا کرتے تھے"صدقہ فطرہرشخص پرواجب ہے اس کے لئے روزہ رکھناشرط نہیں مثلاََسفر،مرض،بڑھاپے کی وجہ سے یامعاذاللہ بلاعذربھی روزہ نہ رکھاتب بھی صدقہ فطرواجب ہے ۔عیدکے دن صبح صادق طلوع ہوتے ہی صدقہ فطرواجب ہوجاتاہے لہذاجوشخص صبح صادق سے پہلے مرگیایاغنی تھافقیرہوگیاصبح طلوع ہونے کے بعدکافرمسلمان ہوایابچہ پیداہوایافقیرغنی ہوگیاتوواجب نہ ہوااوراگرصبح صادق طلوع ہونے کے بعدمرایاصبح طلوع ہونے سے پہلے کافرمسلمان ہوایابچہ پیداہوایافقیرتھاغنی ہوگیاتوواجب ہے ۔(فتاویٰ عالمگیری)
صدقہ فطرہرمسلمان آزادمالک نصاب پرجس کی نصاب حاجت اصلیہ سے فارغ ہوواجب ہے اس میں عاقل بالغ اورمال نامی ہونے کی شرط نہیں ۔مالک نصاب ہونے سے مرادیہ ہے کہ اس شخص کے پاس ساڑھے سات تولے سونایاساڑھے باون تولے چاندی یااتنی مالیت کی رقم یااتنی مالیت کامالِ تجارت یااتنی مالیت کاحاجت اصلیہ یعنی ضروریات زندگی سے زائدسامان ہو۔(بہارشریعت )حاجت اصلیہ یعنی ضروریات زندگی سے مرادوہ چیزیں ہیں جن کی عموماًانسان کوضرورت ہوتی ہے اوران کے بغیرگزراوقات میں شدیدتنگی و دشواری محسوس ہوتی ہے ۔جیسے رہنے کاگھر،پہننے کے کپڑے، سواری ،علم دین سے متعلق کتابیں اورپیشے سے متعلق اوزاروغیرہ۔(الھدایہ)صدقہ فطراداکرنے کے لئے مال کاباقی رہنابھی شرط نہیں مال ہلاک ہونے کے بعدبھی صدقہ واجب رہے گاساقط نہ ہوگابخلاف زکوٰۃ عشرکے یہ
دونوں مال کے ہلاک ہوجانے سے ساقط ہوجاتے ہیں ۔(درمختار)ایک شخص کافطرہ ایک مسکین کودینابہترہے اورچندمساکین کودے دیاتب بھی جائزہے یونہی ایک مسکین کوچنداشخاص کافطرہ دینابھی بلاخلاف جائزہے اگرچہ سب فطرے ملے ہوئے ہوں۔(درمختار،ردالمختار)بھائی ،بہن ،چچا، ماموں،خالہ وغیرہ کوصدقہ فطردیناجائزہے لیکن اپنی اولادکویاماں باپ،نانا،نانی،دادا،دادی کوزکوٰۃ اورصدقہ فطرنہیں دے سکتے ۔صدقہ فطر/فطرانہ کے مصارف وہی ہیں جوزکوٰۃ کے ہیں یعنی جنکوزکوٰۃ دے سکتے ہیں انہیں صدقہ فطردے سکتے ہیں ۔زکوٰۃ کے مصارف سات ہیں ۔فقیر،مسکین ،عامل،رقاب،غارم،فی سبیل اللہ ،ابن السبیل۔اسکے علاوہ شوہربیوی کویابیوی ،شوہرکوبھی صدقہ فطرنہیں دے سکتی۔شوہرنے عورت کواپنافطرہ اداکرنے کاحکم دیااس نے شوہرکے فطرہ کے گیہوں اپنے فطرہ کے گیہوں میں ملاکرفقیرکودے دیے اورشوہرنے ملانے کاحکم نہ دیاتھاتوعورت کافطرہ اداہوگیاشوہرکانہیں مگرجب کہ ملادینے پرعرف جاری ہوتوشوہرکابھی اداہوجائے گا۔عورت نے شوہرکواپنافطرہ اداکرنے کااذن دیااس نے عورت کے گیہوں اپنے گیہوں میں ملاکرسب کی نیت سے فقیرکودے دیے جائزہے 
صدقہ فطرکی مقدار
صدقہ فطر کی مقداریہ ہے گیہوں یااس کاآٹایاستونصف صاع کھجوریامنقیٰ یاجَویااس کاآٹایاستوایک صاع ۔(درمختار،عالمگیری)گیہوں جَو،کھجوریں ،منقیٰ دیئے جائیں توان کی قیمت کااعتبارنہیں مثلاًنصف صاع عمدہ جَوجن کی قیمت ایک صاع جَوکے برابرہے یاچہارم کھرے گیہوں جوقیمت میں آدھے صاع گیہوں کے برابرہیں یانصف صاع کھجوریں دیں جوایک صاع جَویانصف صاع گیہوں کی قیمت کے ہوں یہ سب ناجائزہے جتنادیااتناہی اداہواباقی اس کے ذمہ واجب ہے اداکرے ۔(عالمگیری وغیرہ)نصف صاع جَواورچہارم صاع گیہوں دیئے یانصف صاع جَواورنصف صاع کھجورتوبھی جائزہے ۔گیہوں اورجَوملے ہوئے ہوں اورگیہوں زیادہ ہیں تونصف صاع دے ورنہ ایک صاع گیہوں اورجَوکے دینے سے ان کاآٹادیناافضل ہے اوراس سے افضل یہ کہ قیمت دیدے خواہ گیہوں کی قیمت دے یاجَوکی کھجورکی مگرگرانی میں خودان کادیناقیمت دینے سے افضل ہے اوراگرخراب گیہوں یاجَوکی قیمت دی تواچھے کی قیمت سے جوکمی پڑے پوری کرے ۔ان چارچیزوں کے علاوہ اگرکسی دوسری چیزسے فطرہ اداکرناچاہے ۔مثلاًچاول،جوار، باجرہ یاکوئی اورغلہ یاکوئی اورچیزدیناچاہے توقیمت کالحاظ کرناہوگایعنی وہ چیزآدھے صاع گیہوں یاایک صاع جَوکی قیمت کی ہویہاں تک کہ روٹی دیں تواس میں بھی قیمت کالحاظ کیاجائے گااگرچہ گیہوں یاجَوکی ہو۔(درمختار) صدقہ فطرگیہوں یاگیہوں کاآٹاآدھاصاع اورجَویاجَوکاآٹایاکھجورایک صاع دیں ۔موجودہ وزن میں ایک صاع کاوزن چارکلواورتقریباََ چورانوے گرام ہے اورآدھاصاع دوکلواورتقریباََ50 گرام کابنتاہے ۔اللہ پاک ہماری تمام عبادات کواپنی بارگاہ لم یزل میں قبول فرمائے۔ ملک پاکستان کوخوشحالی عطافرمائے ۔آمین بجاہ النبی الامینﷺ

رمضان المبارک میں عمرہ کی اہمیت


رمضان المبارک میں عمرہ کی اہمیت

(ڈاکٹر خالد محمود )
aap.hajj_umrah@yahoo.com
ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ رمضان میرا مہینہ ہے اور اس کے روزوں کا اجر روزے داروں کو میں خود دونگا۔قرآن مجید میں رمضان کے مہینہ کا زکرآیا ہے۔جنت میں ایک مخصوص دروازہ ہے جس کا نام باب الریان ہے اورروز قیامت روزے داروں کو کہا جائے گا کہ اس دروازے سے جنت میں داخل ہوں۔ جس طرح جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار دن کہلاتا ہے اسی طرح رمضان المبارک کا مہینہ تمام مہینوں کا سردار مہینہ کہلاتا ہے۔ یہ دین اسلام کا تیسرا اہم فرض رکن ہے جیسے نماز دن میں پانچ مرتبہ فرض کی گئی ہے،زکوٰۃ سال میں ایک مرتبہ صاحب نصاب پر فرض کی گئی ہے، حج زندگی میں ایک بار صاحب استطاعت مسلمان پر فرض کیا گیا اسی طرح روز ے سا ل میں ایک مہینہ فرض کئے گئے ہیں۔ رمضان المبارک میں نفل یا سنت کا ثواب فرض کے برابر ہے اور ایک فرض ادا کرنے کا ثواب ستر فرض ادا کرنے کے برابر ہے اور رمضان المبارک میں نیکیوں کا اجر سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے ۔یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔ ماہ رمضان نزول قرآن کا مہینہ ہے۔ رمضان المبارک میں قرآن مجید فرقان حمید نازل ہوا۔ رمضان المبارک میں روزے فرض ہوئے۔ رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ایک شب لیلتہ القدر کا نزول ہوتا ہے۔رمضان المبارک میں ہی جنگ بدر ہوئی۔رمضان المبارک میں ہی فتح مکہ نصیب ہوئی۔رمضان المبارک کے مہینہ میں ہی مسلمان زکوٰۃ،فطرانہ،صدقہ خیرات دل کھول کر ادا کرتے ہیں۔رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں مسلمان مساجد میں اعتکاف کرتے ہیں۔ اسی طرح رمضان المبارک میں عمرہ ادا کرنے کی فضیلت اور ثواب بھی بہت زیادہ ہے۔ عمرہ کی فضیلت کے متعلق بہت سی احادیث مبارکہ میں ذکر آیا ہے لیکن رمضان المبارک میں عمرہ ادا کرنے کے متعلق حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا رمضان المبارک میں عمرہ کرنا مستحب اور افضل ہے(بخاری ، مسلم )۔ حضرت ابو داؤد سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا رمضان کے عمرہ کا ثواب ایک حج کے برابر اور اس حج کے برابرجو میرے ساتھ کیا ہو۔ عمرہ ماسوائے 9ذی الحجہ سے13ذی الحجہ پورے سال میں اداکیا جا سکتا ہے۔عمرہ کی فضیلت کے بارے میں چند مزید احادیث مبارکہ کا ترجمہ درج ذیل ہے۔حضرت ابن مسعود اور حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا لگاتا ر حج و عمرہ فقراور گناہوں کو ایسے دور کرتے ہیں جیسے آگ کی بھٹی لوہے کی میل کو دور کرتی ہے۔(ترمذی ، نسائی )۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا ایک عمرہ دوسرے عمرے کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے۔(بخاری ، مسلم )۔حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جو شخص احرام کی حالت میں مرے گا وہ روز محشر لبیک پکارتا اُٹھے گا۔(نسائی ) عمرہ صا حب استطاعت مسلمان کو زندگی میں ایک دفعہ کرنا سنت موکدہ ہے عمرہ کے لغوی معنی زیارت کے ہیں۔ اور زیارت کرنے والاعامر اور معتمر کہلاتا ہے شریعت کی اصطلا ح میں عمرہ کی میقات سے احرام باندھ کر بیت اللہ کا طواف اور صفامرہ کی سعی کرنے کا نام عمرہ ہے ۔حج ا ور عمرہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کے خاص مہمان ہوتے ہیں ۔ عمرہ کرنے والوں پرواجب ہے کہ اپنے عمرہ میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کو اپنا مقصد بنائیں۔محض عمرہ کرنے سے حج فرض نہیں ہوجاتا۔ عمرہ پر جانے سے پہلے دنیاوی اغراض اور مباہات سے دور رہیں۔نمازبروقت اور با جماعت اداکریں اور لوگوں کے ساتھ اخلاق حسنہ سے پیش آئیں۔ گناہوں اور نافرمانیوں سے توبہ کریں جو گناہ سر زد ہو چکے ہوں ان پر شرمسارہوں اوْر آئندہ گناہ نہ کرنے کا وعدہ کریں۔ لوگوں کے حقوق لوٹا دے ، کسی کا دل دکھایا ہو تو اس سے معافی طلب کریں تمام گناہوں سے دور رہے اپنے عمرہ کیلئے حلال اور پاک مال میں سے خرچ کریں۔ کہ اللہ تعالیٰ پاک چیزوں کو پسند فرماتا ہے اور قبول فرماتاہے۔ جھوٹ سے پرہیز کریں ،غیبت سے بچےٖں اور بغیر علم کے کوئی دینی بات نہ کہیں اور یہ سوچیں کہ آپ کس کے دربار پر حاضری دینے جا رہے ہیں آپ کو اپنے گھر کس نے بلایا ہے ۔عمرہ کرنے والوں پر لازم ہے کہ وہ عمرہ پر جانے سے قبل اللہ تعالیٰ کے گھر کی حاضری کیلئے مکمل تیاری کریں اپنا ذہن تیار کریں عمرہ کے احکامات اور مناسک سیکھیں۔عمرہ کو حج اصغر بھی کہا جا تا ہے۔ عمرہ کے متعلق لٹریچر کا مطالعہ کریں ۔عمر ہ پر جانے والوں کو حج اور عمرہ میں فرق بھی معلوم ہوناچاہیے۔ حج اور عمرہ میںیہ فرق ہے :حج فرض ہے عمرہ سنت ہے،حج کی میقات حرم ہے جبکہ عمرہ کی میقات حِل ہے۔حج کیلئے ایک خاص وقت معین ہے۔ عمرہ کیلئے خاص وقت معین نہیں ہے۔حج کے ایام 8ذی الحجہ سے 12ذی الحجہ تک ہو تے ہیں عمرہ9 ذی الحجہ سے13 ذی الحجہ تک کرنا مکروہ ہے، عمرہ کے مناسک حرم شریف خانہ کعبہ میں ادا کیے جاتے ہیں۔حج کے مناسک خانہ کعبہ کے علاوہ منٰی عرفات اور مزدلفہ میں ادا کیے جاتے ہیں، حج کے تین فرض اور چھ واجب ہیں جبکہ عمرہ کے دو فرض اور دو واجب ہیں۔حج میں تلبیہ یعنی لبیک احرام باندھنے احرام کے نفل پڑھنے اورحج کی نیت کرنے کے بعد پکارنا شروع کی جاتی ہے۔ اور جمرہ عقبیٰ کی رمی کرنے سے قبل پکارنا بندکی جاتی ہے جبکہ عمرہ میں تلبیہ یعنی لبیک احرام باندھنے احرام کے نفل پڑھنے اورعمرہ کی نیت کرنے کے بعد پکارنا شروع کی جا تی ہے اور طواف بیت اللہ شروع کرنے سے قبل پکارنا بند کر دی جا تی ہے حج میں احرام ،احرام باندھنے ،احرام کے نفل پڑھنے اور حج کی نیت کرنے کے بعد قیام منٰی ، وقوف عرفات، وقوف مزدلفہ، رمی جمرہ عقبیٰ ،قربانی اور حلق /قصر کے بعد کھولا جا تاہے۔عمرہ میں احرام ،احرام باندھنے احرام کے نفل پڑھنے اورعمرہ کی نیت کرنے کے بعد طواف بیت اللہ، صفا مروہ کی سعی ،اور حلق/قصر کے بعد کھولا جاتا ہے۔حج میں وقوف عرفات اور وقوف مزدلفہ ہے جبکہ عمرہ میں یہ نہیں ۔ حج میں طواف وداع ہوتا ہے عمرہ میں نہیں ہوتا۔ حج پانچ دنوں میں مکمل ہو تا ہے جبکہ عمرہ تقریباََ پانچ گھنٹے میں مکمل ہو جاتا ہے۔جب آپ حج و عمرہ پر جانے کا ارادہ کر لیں تو پھر حج و عمرہ کے مناسک اور مسائل سیکھنا واجب ہو جاتے ہیں۔
پہلی با ر حج و عمرہ پر جانے والے مرد اور خواتین کو چاہیے کہ وہ سعودی عرب روانگی سے قبل مناسک حج و عمرہ کی ادائیگی کی سمعی و بصری تربیت لازمی لیکر جائیں تاکہ ان کا حج و عمرہ صحیح طور پر ادا ہوسکے ۔ حج و عمرہ کے منا سک سیکھنا انتہائی ضروری ہیں۔ عازمین عمرہ کی تربیت کے لئے عمرہ سیزن میں حکومتی یا پرائیویٹ سطح پر مناسک عمرہ کی تربیت کا کوئی انتظام نہیں کیا جاتا۔ عازمین عمرہ کی تربیت بھی اتنی ہی لازمی اور ضروری ہے جتنی کہ عازمین حج کی اور مناسک حج و عمرہ کی تربیت خواتین کے لئے بھی اتنی ہی لاز می اور ضروری ہے جتنی کہ مردوں کے لئے ۔ 
آخر میں عازمین حج و عمرہ سے گزارش ہے کہ وہ جب حرمین شریفین اور مقامات مقدسہ پر اپنے لئے دعائیں کریں وہاں اپنے ملک کیلئے اور امت مسلمہ کیلئے بھی دعائیں کریں۔اور جب آپ عمرہ یا حج کرکے واپس آئیں تو آپ کو اپنے اندر اور دیکھنے والوں کو بھی آپکے اندر ایک واضح تبدیلی نظر آنی چاہئیے اور یہی تبدیلی آپ کے حج اور عمرہ کی قبولیت کی نشانی ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سبکو حج و عمرہ ادا کرنے کی سعادت نصیبفرمائے اور رمضان المبارک کے فیوض و برکات سے نوازے۔ آمین۔